Al-Risala · January 1981

سادگی کی اہمیت

Al-Risala, January 1981, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی یادیں (Lord Mountbatten Remembers) کے نام سے بی بی سی نے ایک ڈامنٹری فلم پیش کی ہے۔ اس میں بہت سے دلچسپ واقعات ہیں۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے بتایا کہ برطانیہ کی ملکہ الزبتھ کی شادی جب پرنس فلپ سے ہوئی تو گاندھی جی نے ملکہ الزبتھ کو اس موقع پر ایک تحفہ بھیجا تھا۔ یہ ایک میز پوش تھا جو گاندھی جی کے اپنے ہاتھ سے کاتے ہوئے سوت سے تیار کیا گیا تھا۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک بھدی چٹائی کی مانند تھا۔ برطانیہ نے اس کو قبول کر لیا۔

لارڈ ماؤنٹ بیٹن کہتے ہیں کہ کچھ سال بعد انہوں نے برٹش میوزیم میں گاندھی جی کی یادگاری اشیاء کی نمائش کی تو تلاش کے باوجود ان کو مذکورہ چٹائی نہ مل سکی۔ انہوں نے سوچا کہ شاید حفاظت کے خیال سے اس کو ٹاور آف لندن میں بھیج دیا گیا ہو۔ مگر ووہاں بھی اس کا سراغ نہ مل سکا۔ آخر اس کا ذکر ملکہ الزبتھ سے ہوا۔ ملکہ نے اپنا ایک خاص دراز کھول کر وہ چٹائی نکالی اور اس کو دیتے ہوئے کہا: آپ نے مجھ سے کیوں نہیں کہا۔ میں نے تو اس کو اپنے پاس حفاظت سے رکھ لیا تھا تاکہ کسی کا ہاتھ اس کو لگنے نہ پائے (ٹائمس آف انڈیا ۱۱ نومبر ۱۹۸۰)

Oh, why didn't you ask me, I let nobody else touch that. I keep that myself. ملکہ برطانیہ نے کھدر کی ایک بھدی چٹائی کو محفوظ رکھنے کا اتنا اہتمام کیوں کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے "بھدے پن" میں ان کو تقدس کی جھلک دکھائی دے رہی تھی۔

تبلیغی جماعت کے کچھ لوگ لندن گئے وہ اپنے لمبے کرتے، اونچے پائجامہ اور گول ٹوپی میں بظاہر ہاں عجیب سے معلوم ہوتے تھے۔ مگر اس کے باوجود انگریز ان کا بہت ادب کرتے تھے۔ ایک بار ان لوگوں نے کسی پارک میں نماز وہ نماز پڑھ کر بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک انگریز آیا اور ان کی پیٹھ پر اپنے دونوں ہاتھ پھیر کر اپنے ہاتھوں کو چوم لیا۔ ایک شخص نے پوچھا: تم ان لوگوں کا اتنا احترام کیوں کرتے ہو۔ اس نے جواب دیا: یہ لوگ اپنے اس حلیہ میں ہم کو عیسیٰ اور موسیٰ کی طرح دکھائی دیتے ہیں:

Printed page