Al-Risala · January 1981

They are just like Jesus and Moses

Al-Risala, January 1981, pp. 16–24

By Maulana Wahiduddin Khan

فیشن اور ٹپ ٹاپ میں اگر شان کا پہلو ہے تو سادگی میں اس سے بھی زیادہ بڑا ایک پہلو ہے اور وہ تقدس سادگی اگر روحانیت کے ساتھ ہو تو وہ دیکھنے والوں کے لئے مقدس چیز بن جاتی ہے اور لوگوں کے حق میں رداجی اہتمام سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے۔ فیشن اور میک اپ کے متعلق ہر آدمی جانتا ہے کہ یہ بازار سے خریدی ہوئی چیزیں ہیں اس لئے ان کو دیکھ کر کسی کے اوپر غیر معمولی تاثر قائم نہیں ہوتا۔ مگر سادگی کے انداز میں تقدس کا جو پہلو ہے اس کی وجہ سے سادگی کو دیکھ کر فوراً احترام کا جذبہ ابھر آتا ہے، جو یقیناً پہلے جذبہ سے کہیں زیادہ اہم ہے۔

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ بہت باندھے یا کہے کہ مجھ پر وحی آئی ہے حالاں کہ اس پر کوئی وحی نازل نہ کی گئی ہو۔ اور کہے کہ جیسا کلام خدا نے اتارا ہے میں بھی اتاروں گا۔ اور کاش تم اس وقت دیکھو جب یہ ظالم موت کی سختیوں میں ہوں گے اور فرشتے ہاتھ بڑھارہے ہوں گے کہ لاؤ اپنی جانیں نکالو۔ آج تم کو ذلت کا عذاب دیا جائے گا اس سبب سے کہ تم اللہ پر جھوٹی باتیں کہتے تھے۔ اور تم اللہ کی نشانیوں سے تکبر کرتے تھے۔ اور تم ہمارے پاس اکیلے اکیلے آگئے جیسا کہ ہم نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا۔ اور جو کچھ اسباب ہم نے تم کو دیا تھا سب تم پیچھے چھوڑ آئے۔ اور ہم تمہارے ساتھ ان سفارش والوں کو بھی نہیں دیکھتے جن کے متعلق تم سمجھتے تھے کہ تمھارا کام بنانے میں ان کا بھی تمھارا رشتہ ٹوٹ گیا اور تم سے جاتے رہے وہ دعوے جو تم کرتے تھے ۴ - ۹۳ اللہ جب اپنے کسی بندے کو اپنی پکار بلند کرنے کے لئے کھڑا کرتا ہے تو اسی کے ساتھ اس کو خصوصی توفیق بھی عطا کرتا ہے۔ اس کے کردار میں خوف آخرت کی جھلک ہوتی ہے۔ اس کی باتوں میں خدائی استدلال کی طاقت نظر آتی ہے بے پناہ مخالفتوں کے باوجود وہ اپنے پیغام رسانی کے عمل کو اعلیٰ ترین شکل میں جاری رکھنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ اپنے پورے وجود کے ساتھ خدائی زمین پر خدا کی نشانی ہوتا ہے۔ مگر جن کی نگاہیں دنیوی عظمت کی چیزوں میں گم ہوں وہ آخرت کے داعی کی عظمت کو سمجھ نہیں پاتے۔ حتیٰ کہ ان کے مادی پیمانہ میں ان کی اپنی ذات برتر اور اللہ کے دائی کی ذات کم تر دکھائی دیتی ہے۔ یہ چیز ان کو تکبر میں مبتلا کردیتی ہے اور جو لوگ تکبر کی نفسیات میں مبتلا ہو جائیں ان سے کوئی بھی نامعقول رویہ مستبعد نہیں رہتا۔ حتیٰ کہ وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو سکتے ہیں کہ وہ بھی ویسا ہی کلام تخلیق کر سکتے ہیں جیسا کلام خدا کی طرف سے کسی بندہ پر اترتا ہے ۔ وہ خدا کو طلسماتی نشانیوں میں دیکھنا چاہتے ہیں اس لئے وہ بشری نشانیوں میں ظاہر ہونے والے خدا کو پہچان نہیں پاتے۔

یہ تکبر کسی آدمی کے اندر پیدا ہوتا ہے وہ اس دنیوی حیثیت اور مادی سامان کی بنا پر ہوتا ہے جو اس کو دنیا میں ملا ہوا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ دنیا میں جو کچھ اسے حاصل ہے وہ محض آزمائش کے لئے اور متعین مدت تک کے موت کا وقت آتے ہی اچانک یہ تمام چیزیں چھن جائیں گی۔ اس کے بعد آدمی اسی طرح محض ایک تنہا وجود ہوگا جس طرح وہ ابتدائی پیدائش کے وقت ایک تنہا وجود تھا - موت کے فوراً بعد ہر آدمی اپنی زندگی کے اس مرحلہ میں پہنچ جاتا ہے جہاں نہ اس کی دولت ہوگی اور نہ اس کی حیثیت ، جہاں نہ اس کے ساتھی ہوں گے اور نہ اس کے وہ ہوگا اور اس کا خدا ہوگا۔ دنیا میں اس کو جن چیزوں پر ناز تھا ان میں سے کوئی چیز بھی اس دن اس کو خدا کی پکڑ سے بچانے کے لئے موجود نہ ہوگی۔

دنیا میں ہر آدمی الفاظ کے طلسم میں جیتا ہے۔ ہر آدمی اپنے حسب حال ایسے الفاظ تلاش کر لیتا ہے جس میں اس کا وجود بالکل برقی دکھائی دے، اس کا راستہ سیدھا منزل کی طرف جاتا ہوا نظر آئے۔ مگر آخرت کا انقلاب حقیقتوں کے پردے پھاڑ دے گا تو لوگوں کے یہ الفاظ اس قدر بے معنی ہو جائیں گے جیسے کہ ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔

بے شک اللہ دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والا ہے۔ وہ جاندار کو بے جان سے نکالتا ہے اور وہی بے جان کو جان دار سے نکالنے والا ہے۔ وہی تمھارا اللہ ہے، پھر تم کدھر بہکے چلے جارہے ہو۔ وہی صبح آمد کرنے والا ہے صبح کا اور اس نے رات کو سکون کا وقت بنایا اور سورج اور چاند کو حساب سے رکھا ہے۔ یہ ٹھہرایا ہوا ہے بڑے غلبہ والے کا، بڑے علم والے کا۔ اور وہی ہے جس نے تمھارے لئے ستارے بنائے تاکہ تم ان کے ذریعہ سے خشکی اور تری کے اندھیروں میں راہ پاؤ۔ بے شک ہم نے دلائل کھول کر بیان کر دئے ہیں ان لوگوں کے لئے جو جاننا چاہیں ۹۵-۹۷ انسان کو جب ایک موٹر کار یا اور کوئی چیز بنانا ہوتا ہے تو وہ اس کے ہر جز کو الگ الگ بناتا ہے۔ اس کے اجزاء کو جوڑ کر مطلوبہ چیز تیار کرتا ہے، مگر خدا جب ایک درخت اگاتا ہے یا ایک انسان پیدا کرتا ہے تو اس کی نوعیت بالکل دوسری ہوتی ہے۔ وہ کسی چیز کو اس کے پورے مجموعے کے ساتھ بیک وقت بر آمد کر دیتا ہے۔ میں پورا کا پورا درخت یا پورا کا پورا انسان ایک ہی بیج یا ایک ہی بوند سے بتدریج نکل کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ یہ انتہائی انوکھی تکنیک ہے جس پر کسی بھی انسان کو قابو نہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہاں انسان سے برتر ایک ہستی موجود ہے جس کا منصوبہ تمام منصوبوں سے بلند ہے۔

سورج کی جسامت زمین سے بارہ لاکھ گنا زیادہ ہے۔ اور زمین چاند سے چوگنا زیادہ بڑی ہے۔ یہ سب اجرام مسلسل حرکت میں ہیں۔ چاند زمین سے تقریبا ڈھائی لاکھ میل دور رہ کر زمین کے گرد چکر لگا رہا ہے اور زمین سورج سے تقریبا ساڑھے نو کروڑ میل کے فاصلے پر رہتے ہوئے سورج کے گرد دو طریقے سے گھوم رہی ہے، ایک اپنے محور پر اور دوسرے سورج کے مدار پر۔ اسی طرح ستاروں کی گردش کا معاملہ ہے جو دہشت ناک حد تک بعید فاصلوں پر حد درجہ باقاعدگی کے ساتھ متحرک ہیں۔ اسی کائناتی تنظیم سے دن اور رات پیدا ہوتے ہیں۔ اسی سے اوقات کا نقشہ مقرر ہوتا ہے۔ اسی سے خشکی اور تری میں انسان کے لئے اپنی زندگی کی ترتیب قائم کرنا ممکن ہوتا ہے یہ اتنا بڑا نظام اتنی صحت کے ساتھ چل رہا ہے کہ ہزاروں سال میں بھی اس کے اندر کوئی فرق نہیں آتا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہاں ایک ایسی ہستی ہے جس کی طاقتیں لامحدود حد تک زیادہ ہیں۔

خدا کی یہ نشانیاں بہت بڑے پیمانے پر بتا رہی ہیں کہ اس کارخانہ کا بنانے والا بہت بڑے علم والا ہے ۔ کوئی بے علم ہستی اتنا بڑا ڈھانچہ قائم نہیں کر سکتی۔ وہ بہت غلبہ والا ہے ، اس کے بغیر اتنے بڑے کارخانہ کا اس طرح چلنا ممکن نہیں ہو سکتا۔ اس کی منصوبہ بندی انتہائی حد تک کامل ہے ۔ اگر ایسا ہو تو اتنی بڑی کائنات میں اس قدر معنویت اور ہم آہنگی کا وجود نا ممکن ہو جائے۔

خدا کی دنیا خدا کے دلائل سے بھری ہوئی ہے۔ مگر دلیل ایک نظری معقولیت کا نام ہے نہ کہ کسی ہتھوڑے کا ۔ اس لئے دلیل کو ماننا کسی کے لئے صرف اس وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ وہ فی الواقع سنجیدہ ہو، وہ شعوری طور پر اس کے لئے تیار ہو کہ وہ دلیل کو مان لے گا خواہ وہ اس کی موافقت میں جارہی ہو یا اس کے خلاف ۔

ار وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا ایک جان سے ، پھر ہر ایک کے لئے ایک ٹھکےنا ہے اور ہر ایک کے لئے اس کے سونپے جانے کی جگہ ۔ ہم نے دلائل کھول کر بیان کر دئے ہیں ان لوگوں کے لئے جو سمجھیں۔ اور وہی ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا، پھر ہم نے اس سے نکالی اگنے والی ہر چیز ۔ پھر ہم نے اس سے سر سبز شاخ نکالی جس سے ہم تہ بہ تہ دانے پیدا کر دیتے ہیں۔ اور کھجور کے گابھے میں سے پھل کے گچھے جھکے ہوئے اور باغ انگور کے اور زیتون کے اور انار کے ، آپس میں ملتے جلتے اور جدا جدا بھی۔ ہر ایک کے پھل کو دیکھو جب وہ پھلتا ہے۔ اور اس کے پکنے کو دیکھو جب وہ پکتا بے شک ان کے اندر نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان کی طلب رکھتے ہیں ۹۸-۹۹ انسانی کارخانے اس پر قادر نہیں کہ وہ ایک ایسی مشین بنا دیں کہ اس کے بطن سے اسی قسم کی بے شمار مشینیں خود بخود نکلتی چلی جائیں۔ ہمارے کارخانوں کو ہر مشین الگ الگ بنانی پڑتی ہے۔ مگر خدا کا کارخانہ میں یہ واقعہ ہر روز درخت کا ایک بیج بودیا جاتا ہے۔ پھر اس بیج سے بے شمار درخت نکلتے چلے جاتے ہیں۔ یہی معاملہ انسان کا ہے۔ ایک مرد اور ایک عورت سے شروع ہو کر کھرب ہاکھرب انسان پیدا ہوتے چلے جا رہے ہیں اور ان کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا۔ یہ مشاہدہ بتاتا ہے کہ جس خدا نے کائنات کو پیدا کیا ہے اس کی قدرت بے حد و وسیع ہے۔ وہ اس نادر تخلیق پر قادر ہے کہ ایک ابتدائی چیز وجود میں لائے اور پھر اس کے اندر سے بے حساب گنا زیادہ بڑی بڑی چیزیں مسلسل نکلتی چلی جائیں۔ اسی طرح خدا موجودہ دنیا سے ایک زیادہ شان دار اور زیادہ معیاری دنیا نکال سکتا ہے۔ آخرت کا عقیدہ کوئی دور کا عقیدہ نہیں بلکہ جس امکان کو ہم ہر روز دیکھ رہے ہیں اسی امکان کو مستقبل کے ایک واقعہ کی حیثیت سے تسلیم کرنا ہے۔ مٹی بظاہر ایک مردہ اور جامد چیز ہے۔ پھر اس کے اوپر بارش ہوتی ہے۔ پانی پاتے ہی مٹی کے اندر سے ایک نئی سر سبز دنیا نکل آتی ہے۔ اس کے اندر سے طرح طرح کی فصلیں اور قسم قسم کے پھل دار درخت وجود میں آجاتے ہیں۔ یہ واقعہ بھی موجودہ دنیا کے بعد آنے والی دنیا کی ایک تمثیل ہے۔ مٹی پر پانی پڑنے سے زمین کے اوپر رنگ اور خوشبو اور ذائقہ کا ایک سر سبز و شاداب چمن کھل اٹھتا اس امکان کو بتاتا ہے جو دنیا کے خالق نے یہاں رکھ دیا ہے۔ آج کی دنیا میں انسان جو نیک عمل کرتا ہے وہ اسی قسم کا ایک امکان ہے۔ جب خدا کی رحمتوں کی بارش ہوگی تو یہ امکان ہرا بھرا ہو کر آخرت کی لہلہاتی ہوئی فصل کی صورت میں تبدیل ہو جائے گا۔

انسان اولاً ماں کے بطن کے سپرد ہوتا ہے پھر موجودہ دنیا میں آتا ہے۔ قبر بھی گویا اسی قسم کا ایک "بطن" ہے۔ قبر کے سپرد کیا جاتا ہے اور اس کے بعد وہ اگلی دنیا میں آنکھ کھولتا ہے تاکہ اپنے عمل کے مطابق جنت یا جہنم میں داخل کر دیا انسان سے غیب کی جس دنیا کو ماننے کا مطالبہ کیا جارہا ہے اس کی جھلکیاں اور اس کے دلائل موجودہ محسوس کائنات میں پوری طرح موجود ہیں۔ مگر مانتا وہی ہے جو پہلے سے ماننے کے لئے تیار ہو۔ "ایمان" کی راہ میں آدمی جب آدھا سفر طے کر چکا ہوتا ہے اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتا ہے کہ ایمان کی دعوت اس کے ذہن کا جز بنے اور وہ اس کو قبول کرلے۔ شخص ایمان کے الٹے رخ پر سفر کر رہا ہو اس کو ایمان کی دعوت کبھی نفع نہیں پہنچا سکتی۔

اور انہوں نے جنات کو اللہ کا شریک قرار دیا۔ حالاں کہ اسی نے ان کو پیدا کیا ہے۔ اور بے جانے بوجھے اس کے لئے بیٹے اور بیٹیاں تراشیں۔ پاک اور برتر ہے وہ ان باتوں سے جو یہ بیان کرتے ہیں۔ وہ آسمانوں اور زمین کا اس کا کوئی بیٹا کیسے ہو سکتا ہے جب کہ اس کی کوئی بیوی نہیں۔ اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور وہ ہر چیز سے باخبر ہے۔ یہ ہے اللہ تمھار ار ب۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہی ہر چیز کا خالق ہے، پس تم اسی کی عبادت کرو۔ اور وہ ہر چیز کا کارساز ہے۔ اس کو نگاہیں نہیں پاتیں۔ مگر وہ نگاہوں کو پا لیتا ہے ۔ وہ بڑا باریک ہیں اور بڑا باخبر ہے۔ اب تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے بصیرت کی روشنیاں آچکی پس جو بینائی سے کام لے گا وہ اپنے ہی لئے، اور جو اندھا بنے گا وہ خود نقصان اٹھائے گا۔ تمھارے اوپر کوئی نگراں نہیں ہوں ١٠٢ ۔ قدیم ترین زمانہ سے انسان کی یہ کمزوری رہی ہے کہ جس چیز میں بھی کوئی امتیاز یا کوئی پراسراریت دیکھتا ہے اس کو وہ خدا کا شریک سمجھ لیتا ہے۔ اور اس سے مدد لینے یا اس کی آفتوں سے بچنے کے لئے اس کو پوجنے لگتا اسی ذہن کے تحت بہت سے لوگوں نے فرشتے اور کواکب اور جنات کو پوجنا شروع کر دیا۔ حالاں کہ ان چیزوں کے خدا نہ ہونے کا کھلا ہوا ثبوت یہ ہے کہ ان کے اندر "خلق" کی صفت نہیں۔ انھوں نے نہ اپنے آپ کو پیدا کیا اور نہ وہ کسی دوسری چیز کو پیدا کرنے پر قادر ہیں۔ ان کو خود کسی دوسری ہستی نے تخلیق کیا ہے۔ پھر جو خالق ہے وہ خدا ہوگا یا جو مخلوق ہے وہ خدا بن جائے گا۔

ایک درخت کو کمال درجہ موزونیت کے ساتھ وہ تمام چیزیں پہنچتی ہیں جو اس کی بقا کے لئے ضروری ہیں۔ اسی طرح کائنات کی تمام چیزوں کا حال ہے۔ جب یہ حقیقت ہے کہ ان چیزوں کو جو کچھ ملتا ہے کسی دینے والے کے دئے سے ملتا ہے تو یقیناً دینے والا ہر جزو و کل سے باخبر ہوگا۔ اگر وہ ان سے باخبر نہ ہو تو ہر چیز کی اس کی عین ضرورت کے مطابق کار سازی کس طرح کرے۔ اب جو خدا اتنی کامل صفات کا مالک ہو وہ آخر کس ضرورت کے لئے کسی کو اپنی خدائی میں شریک کرے گا۔

انسان خدا کو محسوس صورت میں دیکھنا چاہتا ہے۔ اور جب وہ اس کو محسوس صورت میں نظر نہیں آتا تو وہ دوسری محسوس چیزوں کو خدا فرض کر کے اپنی ظاہر پرستی کی تسکین کر لیتا ہے۔ مگر یہ خدا کی ہستی کا بہت کمتر اندازہ ہے آخر جو خدا ایسا عظیم ہو کہ اتنی بڑی کائنات پیدا کرے اور انتہائی نظم کے ساتھ اس کو مسلسل چلاتا رہے، وہ اتنا معمولی کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک کمزور مخلوق اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھے اور اپنے ہاتھوں سے چھوئے۔ البتہ انسان دل کی راہ سے خدا کو پاتا ہے اور یقین کی آنکھ سے اس کو دیکھتا ہے۔ جو شخص بصیرت کی آنکھ سے دیکھ کر ماننے پر راضی ہو وہی خدا کو جو بصارت سے دیکھنے پر اصرار کرے وہ خدا کو پانے سے اسی طرح محروم رہے گا جس طرح وہ شخص پھول کی خوشبو کو جاننے سے محروم رہتا ہے جو اس کو کیمیائی معیاروں پر پرکھ کر جاننا چاہے۔

اور اس طرح ہم اپنی دلیلیں مختلف طریقوں سے بیان کرتے ہیں اور تاکہ وہ کہیں کہ تم نے پڑھ دیا اور تاکہ ہم اچھی طرح کھول دیں ان لوگوں کے لئے جو جاننا چاہیں۔ تم بس اس چیز کی پیروی کرو جو تمھارے رب کی طرف سے تم پر وحی کی اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور مشرکوں سے اعراض کرو۔ اور اگر اللہ چاہتا تو یہ لوگ شرک نہ کرتے۔ ہم نے تم کو ان کے اوپر نگراں نہیں بنایا ہے اور نہ تم ان پر مختار ہو۔ اور اللہ کے سوا جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں ان کو گالی نہ دو ورنہ یہ لوگ حد سے گزر کر جہالت کی بنا پر اللہ کو گالیاں دینے لگیں گے۔ اسی طرح ہم نے ہر گروہ کی نظروں میں کے عمل کو خوش نما بنا دیا ہے۔ پھر ان سب کو اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے ۔ اس وقت اللہ انہیں بتادے گا جو وہ کرتے تھے ۱۰۸- ۱۰۵ ۔

ایک شخص وہ ہے جس کے اندر طلب کی نفسیات ہو، جو سچائی کی تلاش میں رہتا ہو۔ دوسرے لوگ وہ ہیں جو دولت یا اقتدار کا کوئی حصہ پا کر یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ وہ پائے ہوئے لوگ ہیں۔ ان کے اندر کوئی کمی نہیں ہے جو کوئی شخص آکر پوری کرے۔ حق کی دعوت جب اٹھتی ہے تو اس کو قبول کرنے والے زیادہ تر پہلی قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس جو دوسری قسم کے لوگ ہیں وہ اس کو کوئی قابلِ لحاظ چیز نہیں سمجھتے۔ وہ کبھی سنجیدگی کے ساتھ اس پر غور نہیں کرتے۔ اس لئے اس کی اہمیت بھی ان پر واضح نہیں ہوتی۔ ایسے حالات میں حق کی دعوت کا مقصد دو ہوتا جو سچے طالب ہیں ان کی طلب کا جواب فراہم کرنا۔ اور جو لوگ طالب نہیں ہیں ان پر حجت قائم کرنا۔ کے لوگوں کے لئے دعوت کا منشا یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کے ماننے والے بن جائیں۔ اور دوسری قسم کے لوگوں کے لئے یہ کہ وہ کہہ اٹھیں کہ ’’تم نے بتا دیا، تم نے بات ہم تک پہنچا دی‘‘ جو لوگ دعوت کا انکار کرتے ہیں وہ اپنے انکار کو برحق ثابت کرنے کے لئے طرح طرح کی باتیں نکالتے ہیں۔ ایسے موقع پر داعی کے دل میں یہ خیال آنے لگتا ہے کہ وہ دعوت کے انداز میں ایسی تبدیلی کردے جس سے وہ مدعو کے لئے قابلِ قبول بن جائے۔ مگر اس قسم کا انحراف درست نہیں۔ داعی کو ہمیشہ اسی اسلوب پر قائم رہ رہنا چاہئے جو براہ راست خدا کی طرف سے تلقین کیا گیا ہے۔ کیونکہ اصل مقصد انسان کو خدا سے جوڑنا ہے نہ کہ کسی نہ کسی طرح لوگوں کو اپنے حلقہ میں شامل کرنا۔ دوسری طرف یہ بات بھی غلط ہے کہ مدعو کے رویہ سے مشتعل ہو کر ایسی باتیں کی جائیں کہ اس کی گمراہی جاہلانہ بد کلامی تک جاپہنچے۔

آدمی جن خاص روایات میں پیدا ہوتا ہے اور جن افکار سے وہ مانوس ہو جاتا ہے، ان کے حق میں اس کے اندر ایک طرح کی عصبیت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کے مطابق اس کا ایک فکری ڈھانچہ بن جاتا ہے جس کے تحت وہ سوچتا ہے۔ یہی فکری ڈھانچہ حق کو قبول کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ آدمی اس فکری ڈھانچہ کو نہ توڑے اس کے ذہن میں وہ دروازہ نہیں کھلتا جس کے ذریعہ حق کی آواز اس کے اندر داخل ہو۔

اور یہ لوگ اللہ کی قسم بڑے زور سے کھا کر کہتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آجائے تو وہ ضرور اس پر ایمان کہہ دو کہ نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں۔ اور تمھیں کیا خبر کہ اگر نشانیاں آجائیں تب بھی یہ ایمان نہیں لائیں اور ہم ان کے دلوں اور ان کی نگاہوں کو پھیر دیں گے جیسا کہ یہ لوگ اس کے اوپر پہلی بار ایمان نہیں لائے ۔ اور ہم ان کو ان کی سرکشی میں بھٹکتا ہوا چھوڑ دیں گے۔ اور اگر ہم ان پر فرشتے اتار دیتے اور مردے ان سے باتیں کرتے اور ہم ساری چیزیں ان کے سامنے اکٹھا کر دیتے تب بھی یہ لوگ ایمان لانے والے نہ تھے الا یہ کہ اللہ چاہے مگر ان میں سے اکثر لوگ نادانی کی باتیں کرتے ہیں ۱۱۱ - ۱۰۹ حق ایک شخص کے سامنے دلائل کے ساتھ آتا ہے اور وہ اس کا انکار کر دیتا ہے تو اس کی وجہ ہمیشہ ایک ہوتی ہے۔ بات کو اس کے صحیح رخ سے دیکھنے کے بجائے الٹے رخ سے دیکھنا۔ کوئی بات خواہ کتنی ہی مدلل ہو ، آدمی اگر اس کو ماننا نہ چاہے تو وہ اس کو رد کرنے کے لئے کچھ نہ کچھ الفاظ پالے گا۔ مثلاً داعی کے دلائل کو دلائل کی حیثیت سے دیکھنے کے بجائے وہ یہ بحث چھیڑ دے گا کہ تمھارے سوا جو دوسرے بزرگ ہیں کیا وہ سب حق سے محروم تھے۔ اور اسی طرح دوسری باتیں ۔

جس آدمی کے اندر اس قسم کا مزاج ہو اس کا راہ راست پر آنا انتہائی مشکل ہے۔ وہ ہر بات کو غلط رخ دے کر اس کے انکار کا ایک بہانہ تلاش کر سکتا ہے۔ نظری دلائل کو رد کرنے کے لئے اگر اس کو یہ الفاظ مل رہے تھے کہ یہ اسلاف کے مسلک کے خلاف ہے تو حسی مشاہدہ کو رد کرنے کے لئے وہ یہ الفاظ پا لے گا کہ یہ نظر کا دھوکا ہے، اس کی حقیقت ایک فرضی طلسم کے سوا اور کچھ نہیں۔ جو مزاج نظری دلیل کو ماننے میں رکاوٹ بنا تھا وہی مزاج حسی دلیل کو ماننے میں بھی رکاوٹ بن جائے گا۔ آدمی اب بھی اسی طرح محروم رہے گا جیسے وہ پہلے محروم تھا۔

اس قسم کے لوگ اپنی نفسیات کے اعتبار سے سرکش واقع ہوتے ہیں۔ وہ ہر حال میں اپنے کو اونچا دیکھنا ایک داعی جب ان کے سامنے حق کا پیغام لے آتا ہے تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ ماحول میں اجنبی ہوتا ہے‘ وہ وقت کی عظمتوں سے خالی ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ اپنے کو منسوب کرنا اپنی حیثیت کو نیچے گرانے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ اس لئے برتری کی نفسیات رکھنے والے لوگ اس کو قبول نہیں کر پاتے۔ وہ طرح طرح کی توجیہات پیش کرکے اس کو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔

دانائی یہ ہے کہ آدمی خدا کے نقشہ کو مانے اور اس کے مطابق اپنے ذہن کو چلانے کے لئے تیار ہو۔ برعکس نادانی یہ ہے کہ آدمی خدا کے نقشہ کے بجائے خود ساختہ معیار قائم کرے اور کہے کہ جو چیز مجھ کو اس معیار پر ملے گی میں اس کو مانوں گا اور جو چیز اس معیار پر نہیں ملے گی اس کو نہیں مانوں گا۔ ایسے آدمی کے لئے اس دنیا میں صرف خدا کی اس دنیا میں آدمی خدا کے مقرر کئے ہوئے طریقوں کی پیروی کر کے منزل تک پہنچ سکتا ہے نہ کہ اس کے مقررہ طریقہ کو چھوڑ کر۔

اور اسی طرح ہم نے شریر آدمیوں اور شریر جنوں کو ہر نبی کا دشمن بنا دیا۔ وہ ایک دوسرے کو پر فریب باتیں سکھاتے ہیں دھوکا دینے کے لئے۔ اور اگر تیرا رب چاہتا تو وہ ایسا نہ کر سکتے۔ پس تم انھیں چھوڑ دو کہ وہ جھوٹ باندھتے رہیں، اور ایسا اس لیے ہے کہ اس کی طرف ان لوگوں کے دل مائل ہوں جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے۔ اور تاکہ وہ اس کو پسند کریں اور تاکہ وہ کمائی انھیں کرنی ہے وہ کر لیں ۱۳ - ۱۱۲ ابن جریر نے حضرت ابوذر سے نقل کیا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں شریک ہوا - یہ ایک لمبی مجلس تھی۔ آپ نے فرمایا اے ابوذر، کیا تم نے نماز پڑھ لی۔ میں نے کہا نہیں اے خدا کے رسول۔ آپ نے فرمایا: اٹھو اور دو رکعت نماز پڑھو۔ وہ نماز پڑھ کر دوبارہ مجلس میں آکر بیٹھے تو آپ نے فرمایا: اے ابوذر، کیا تم نے جن وانس کے شیطانوں کے مقابلہ میں اللہ سے پناہ مانگی۔ میں نے کہا نہیں اے خدا کے رسول، کیا انسانوں میں بھی شیطان ہوتے آپ نے فرمایا ہاں ، وہ شیاطین جن سے بھی زیادہ برے ہیں (نعم هم شرمن شياطين الجن، تفسیر ابن کثیر) یہاں شیاطین انس سے مراد وہ لوگ ہیں جو دعوت حق کو بے اعتبار ثابت کرنے کے لئے قائدانہ کردار ادا یہ وہ لوگ ہیں جو خود ساختہ مذہب کی بنیاد پر عزت و مقبولیت کا مقام حاصل کئے ہوئے ہوتے ہیں۔ جب حق کی دعوت اپنی بے آمیز شکل میں اٹھتی ہے تو ان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ ان کو برہنہ کر رہی ہے۔ ایسے لوگوں کے لئے سیدھا راستہ یہ تھا کہ وہ حق کی وضاحت کے بعد اس کو مان لیں مگر حق کے مقابلہ میں اپنا مقام ان کو زیادہ عزیز اپنی حیثیت کو بچانے کے لئے وہ خود داعی اور اس کی دعوت کو مشتبہ ثابت کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ مقصد کے لئے وہ خوش نما الفاظ کا سہارا لیتے ہیں۔ وہ داعی اور اس کی دعوت میں ایسے شوشے نکالتے ہیں جو اگرچہ بذات خود بے حقیقت ہوتے ہیں مگر بہت سے لوگ اس سے متاثر ہو کر اس کے بارے میں شبہ میں پڑ جاتے ہیں ۔ موجودہ دنیا میں جو امتحانی حالات پیدا کئے گئے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہاں صحیح بات کہنے والے کو بھی الفاظ مل جاتے ہیں اور غلط بات کہنے والے کو بھی۔ حق کا داعی اگر حق کو دلائل کی زبان میں بیان کر سکتا ہے تو اسی کے ساتھ باطل پرستوں کو بھی یہ موقع حاصل ہے کہ وہ حق کے خلاف کچھ ایسے خوش نما الفاظ بول سکیں جو لوگوں کو دلیل معلوم ہوں اور وہ اس سے متاثر ہو کر حق کا ساتھ دینا چھوڑ دیں۔ یہ صورت حال امتحان کی غرض سے ہے اس لئے وہ لازماً قیامت تک باقی رہے گی۔ اس دنیا میں بہرحال آدمی کو اس امتحان میں کھڑا ہونا ہے کہ وہ سچے دلائل اور بے بنیاد باتوں کے درمیان فرق کرے اور بے بنیاد باتوں کو رد کر کے سچے دلائل کو قبول کرلے۔ شیاطین انس اپنی ذہانت سے حق کے خلاف جو پر فریب شوشے نکالتے ہیں وہ انھیں لوگوں کو متاثر کرتے ہیں جو آخرت کے فکر سے خالی ہوں۔ آخرت کا اندیشہ آدمی کو انتہائی سنجیدہ بنا دیتا ہے اور جو شخص سنجیدہ ہو اس سے باتوں کی حقیقت کبھی چھپی نہیں رہ سکتی۔ مگر جو لوگ آخرت کے اندیشہ سے خالی ہوں وہ حق کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں ہوتے، اسی لئے وہ شوشہ اور دلیل کا فرق بھی سمجھ نہیں پاتے۔

کیا میں اللہ کے سوا کسی اور کو منصف بناؤں، حالانکہ اس نے تمھاری طرف واضح کتاب اتاری ہے۔ لوگوں کو ہم نے پہلے کتاب دی تھی وہ جانتے ہیں کہ یہ تیرے رب کی طرف سے اتاری گئی ہے واقعیت کے ساتھ۔ تم نہ ہو شک کرنے والوں میں۔ اور تمھارے رب کی بات پوری سچی ہے اور انصاف کی، کوئی بدلنے والا نہیں اس کی بات کو اور وہ سننے والا ، جاننے والا ہے۔ اور اگر تم لوگوں کی اکثریت کے کہنے پر چلو جو زمین میں ہیں تو وہ تم کو خدا کے راستہ سے بھٹکا دیں گے۔ وہ محض گمان کی پیروی کرتے ہیں اور قیاس آرائیاں کرتے ہیں۔ تمھار ارب خوب جانتا ہے ان کو جو ان کے راستہ سے بھٹکے ہوئے ہیں اور خوب جانتا ہے ان کو جو راہ پائے ہوئے ہیں قرآن میں ذبحہ کے احکام اترے اور یہ کہا گیا کہ مردہ جانور نہ کھاؤ، ذبیح کیا ہوا کھاؤ تو کچھ لوگوں نے کہا: مسلمانوں کا مذہب بھی عجیب ہے۔ وہ اپنے ہاتھ کا مارا ہوا جانور حلال سمجھتے ہیں اور جس کو اللہ نے مارا ہو اس کو حرام بتاتے ہیں۔ اس جملہ میں لفظی تک بندی کے سوا اور کوئی دلیل نہیں ہے۔ مگر بہت سے لوگ اس کو سن کر دھوکے میں آگئے اور اسلام کو شبہ کی نظر سے دیکھنے لگے۔ ایسا ہی ہمیشہ ہوتا ہے۔ ہر زمانہ میں ایسے لوگ کم ہوتے ہیں جو باتوں کو ان کی اصل حقیقت کے اعتبار سے سمجھتے ہوں۔ بیشتر لوگ الفاظ کے گورکھ دھندے میں گم رہتے ہیں۔ وہ خیالی باتوں کو حقیقی سمجھ لیتے ہیں، صرف اس لئے کہ ان کو خوبصورت الفاظ میں بیان کر دیا گیا

مگر یہ دنیا ایسی دنیا ہے جہاں تمام بنیادی حقیقتوں کے بارے میں خدا کے واضح بیانات آچکے ہیں۔ لئے یہاں کسی کے لئے اس قسم کی بے راہی میں پڑنا قابل معافی نہیں ہوسکتا۔ خدا کا کلام ایک کھلی ہوئی کسوٹی ہے جس پر جانچ کر ہر آدمی معلوم کر سکتا ہے کہ اس کی بات محض ایک لفظی شعبدہ ہے یا کوئی واقعی حقیقت ہے۔ ماضی، حال اور مستقبل کے تمام ضروری امور کی بابت سچا بیان دے دیا ہے۔ اس نے انسانی تعلقات کے تمام پہلوؤں کے بارے میں کامل انصاف کی راہ بتادی ہے۔ آدمی اگر فی الواقع سنجیدہ ہو تو اس کے لئے یہ جاننا کچھ بھی مشکل نہیں کہ حق کیا ہے اور ناحق کیا۔ اب اس کے بعد شبہ میں وہی پڑے گا جس کا حال یہ ہو کہ اس کی سوچ خدا کے کلام کے سوا دوسری چیزوں کے زیر اثر کام کرتی ہو۔ جو شخص اپنی سوچ کو خدائی حقیقتوں کے موافق بنالے اس کے لئے یہاں فکری بے راہ روی کا کوئی امکان نہیں۔

اس خدائی وضاحت کے بعد بھی اگر آدمی بھٹکتا ہے تو خدا کو اس کا حال اچھی طرح معلوم ہے۔ جانتا ہے کہ وہ کون ہے جس نے اپنی بڑائی قائم رکھنے کی خاطر اپنے سے باہر ظاہر ہونے والی سچائی کو کوئی اہمیت نہ دی۔ کون ہے جس کے تعصب نے اس کو اس قابل نہ رکھا کہ وہ بات کو سمجھ سکے کس نے سستی نمائش میں اپنی رغبت کی وجہ سے سچائی کی آواز پر دھیان نہیں دیا۔ کون ہے جو حسد کی نفسیات میں مبتلا ہونے کی وجہ سے حق سے نا آشنا رہا۔

Printed page