مجھے آخرت تک جانا ہے
Al-Risala, April 1981, pp. 20–28
By Maulana Wahiduddin Khan
مولانا اشرف علی تھانوی ایک بار ٹرین سے سفر کر رہے تھے۔ ان کو اعظم گڑھ جانا تھا۔ گارڈ جوان کا معتقد تھا اسٹیشن پر ان سے ملنے کے لئے آیا۔ اتنے میں ایک دیہاتی آدمی بھی آگیا۔ اس نے گنے کا ایک گٹھا تحفہ کے طور پر مولانا کو پیش کیا۔ مولانا نے قبول کر لیا اور اپنے ساتھی سے کہا کہ ان گنوں کا وزن کرا کے ان کو بک کروالو۔ گارڈ نے کہا: بک کروانے کی کیا ضرورت ہے۔ اس ٹرین سے جو گارڈ جا رہا ہے میں اس سے کہہ وہ خیال رکھے گا۔ مولانا نے کہا کہ تمھارا گارڈ تو اسی ٹرین تک ساتھ رہے گا اور مجھے آگے جانا ہے ۔ گارڈ نے سمجھا کہ مولانا کو آگے کسی اسٹیشن پر یہ ٹرین بدل کر دوسری ٹرین پکڑنا ہے۔ اس نے کہا: کوئی حرج نہیں ۔ میں گارڈ کو بتا دیتا ہوں وہ آگے والے گارڈ سے بھی کہہ دے گا اور آپ کو کوئی زحمت نہ ہوگی۔ مولانا نے کہا: مجھے اس سے بھی آگے جانا ہے۔ گارڈ نے حیرت سے پوچھا : آخر آپ کہاں تک جائیں گے۔ ابھی تو آپ نے فرمایا تھا کہ آپ اعظم گڑھ جا رہے ہیں۔ مولانا نے کسی قدر خاموشی کے بعد کہا : مجھے آخرت تک جانا ہے، وہاں تک کون سا گارڈ میرے ساتھ جائے گا ۔
یہ معاملہ محض ریل کے سفر کا نہیں بلکہ تمام معاملات کا ہے۔ آدمی کا ہر معاملہ آخرت کا معاملہ ہے۔ کوئی "گارڈ"، وقتی طور پر آپ کا ساتھ دے سکتا ہے۔ مگر آخرت کی منزل پر پہنچ کر کوئی گارڈ ساتھ دینے والا نہیں۔ جس کا ذہن یہ ہو کہ مجھے آخرت تک جانا ہے وہ ہر اس چیز کو بے قیمت سمجھے گا جو آخرت میں بے قیمت ہو جانے والی ہو، خواہ آج وہ کتنی ہی قیمتی نظر آئے۔ اسی طرح وہ ہر اس چیز کو وزن دینے پر مجبور ہوتا ہے جو آخرت میں با وزن ثابت ہونے والی ہو، خواہ آج کی دنیا میں بظاہر وہ کتنی ہی بے وزن دکھائی دے ۔
آدمی حق کا انکار کرنے کے لئے آج خوبصورت الفاظ پالیتا ہے۔ مگر آخرت میں اس کو معلوم ہوگا کہ وہ اس کا ساتھ چھوڑ کر پیچھے رہ گئے ۔ آدمی طاقت کے بل پر بے انصافی کرتا ہے اور خوش ہوتا ہے کہ مظلوم اس کا کچھ بگاڑ مگر آخرت میں وہ دیکھے گا کہ اس کی طاقت پیچھے کی دنیا میں رہ گئی ہے، آخرت میں وہ اس کا ساتھ دینے کے لئے موجود نہیں ہے۔ آدمی کے سازو سامان اس کو دھوکا دیتے ہیں اور وہ اپنے گھمنڈ کا مینار کھڑا کرتا ہے۔ آخرت میں وہ پائے گا کہ اس کے وہ ساز و سامان اس سے بہت دور ہو چکے ہیں جن کے اوپر وہ گھمنڈ کیا کرتا تھا۔ مومن اور غیر مومن کا فرق ایک لفظ میں یہ ہے کہ غیر مومن یہ سمجھ کر زندگی گزارتا ہے کہ اس کو اسی دنیا میں اور مومن اس نفسیات کے ساتھ جیتا ہے کہ اس کو آخرت تک جانا ہے۔ نفسیات کا یہ فرق دونوں کی زندگیوں میں اتنا زیادہ عملی فرق پیدا کر دیتا ہے کہ ایک جہنم کا مستحق ہو جاتا ہے اور دوسرا جنت کا۔
اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو بہتر ہو یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے۔ اور ناپ تول میں پورا انصاف کرو۔ ہم کسی کے ذمہ وہی چیز لازم کرتے ہیں جس کی اسے طاقت ہو۔ اور جب بولو تو انصاف کی بات بولو خواہ معاملہ اپنے رشتہ دار ہی کا ہو۔ اور اللہ کے عہد کو پورا کرو۔ یہ چیزیں ہیں جن کا اللہ نے تمھیں حکم دیا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو۔ اور اللہ نے حکم دیا کہ یہی میری سیدھی شاہراہ ہے۔ پس اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ تم کو اللہ کے راستے سے جدا کر دیں گے۔ یہ اللہ نے تم کو حکم دیا ہے تاکہ تم بچتے رہو۔ ۵۳ - ۱۵۳ یتیم کسی سماج کا سب سے کمزور فرد ہوتا ہے۔ وہ تمام اضافی اسباب اس کی ذات میں حذف ہو جاتے ہیں جو عام طور پر کسی کے ساتھ اچھے سلوک کا محرک بنتے ہیں۔ ”یتیم“ کے ساتھ ذمہ داری کا معاملہ وہی شخص کر سکتا ہے جو خالص اصولی, بنیاد پر باکردار بنا ہو نہ کہ فائدہ اور مصلحت کی بنیاد پر۔ یتیم کسی سماج میں حسن سلوک کی آخری علامت ہوتا ہے۔ جو شخص یتیم کے ساتھ خیر خواہانہ سلوک کرے وہ دوسرے لوگوں کے ساتھ بدرجہ اولیٰ خیر خواہانہ سلوک کرے گا۔
کائنات کی ہر چیز دوسری چیز سے اس طرح وابستہ ہے کہ ہر چیز دوسرے کو وہی دیتی ہے جو اس کو دینا چاہئے اور دوسرے سے وہی چیز لیتی ہے جو اس کو لینا چاہئے۔ یہی اصول انسان کو اپنی زندگی میں اختیار کرنا ہے۔ انسان کو چاہئے کہ جب وہ دوسرے انسان کے لئے ناپے تو ٹھیک ناپے اور جب تولے تو ٹھیک تولے۔ ایسا نہ کرے کہ اپنے لئے ایک پیمانہ استعمال کرے اور غیر کے لئے دوسرا پیمانہ۔
زندگی میں بار بار ایسے مواقع آتے ہیں کہ آدمی کو کسی کے خلاف اظہار رائے کرنا ہوتا ہے۔ ایسے مواقع پر خدا کا پسندیدہ طریقہ یہ ہے کہ آدمی وہی بات کہے جو انصاف کے معیار پر پوری اترنے والی ہو۔ کوئی اپنا ہو یا غیر ہو۔ اس سے دوستی کے تعلقات ہوں یا دشمنی کے تعلقات، ایسا شخص ہو جس سے کوئی فائدہ وابستہ ہے یا ایسا شخص ہو جس سے کوئی فائدہ وابستہ نہیں، ان تمام چیزوں کی پروا کئے بغیر آدمی وہی کہے جو فی الواقع درست اور حق ہے۔ ہر آدمی فطرت کے عہد میں بندھا ہوا ہے۔ کوئی عہد لکھا ہوا ہوتا ہے اور کوئی عہد وہ ہوتا ہے جو لفظوں میں لکھا ہوا نہیں ہوتا مگر آدمی کا ایمان، اس کی انسانیت اور اس کی شرافت کا تقاضا ہوتا ہے کہ اس موقع پر ایسا کیا جائے۔ دونوں قسم کے عہدوں کو پورا کرنا ہر مومن و مسلم کا فریضہ ہے۔ یہ تمام باتیں انتہائی واضح ہیں۔ آسمانی وحی اور آدمی کی عقل ان کے برحق ہونے کی گواہی دیتے ہیں۔ مگر ان سے وہی شخص نصیحت پکڑے گا جو خود بھی نصیحت پکڑنا چاہتا ہو۔ یہ احکام (۵۳- ۱۵۱) شریعت الہی کے بنیادی احکام ہیں۔ ان پر ان کے سیدھے مفہوم کے اعتبار سے عمل کرنا خدا کی سیدھی شاہراہ پر چلنا ہے۔ اور اگر تاویل اور موشگافیوں کے ذریعہ ان میں شاخیں نکالی جائیں اور سارا زور ان شاخوں پر دیا جانے لگے تو یہ ادھر اُدھر کے متفرق راستوں میں بھٹکنا ہے جو کبھی آدمی کو خدا تک
پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب دی نیک کام کرنے والوں پر اپنی نعمت پوری کرنے کے لئے اور ہر بات کی تفصیل اور ہدایت اور رحمت تاکہ وہ اپنے رب کے ملنے کا یقین کریں۔ اور اسی طرح ہم نے یہ کتاب اتاری ہے، ایک برکت والی کتاب ۔ پس اس پر چلو اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم پر رحمت کی جائے۔ اس لئے کہ تم یہ نہ کہنے لگو کہ کتاب تو ہم سے پہلے کے دو گروہوں کو دی گئی تھی اور ہم ان کو پڑھنے پڑھانے سے بے خبر تھے۔ یا کہو کہ اگر ہم پر کتاب اتاری جاتی تو ہم ان سے بہتر راہ پر چلنے والے ہوتے۔ پس آ چکی تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل اور ہدایت اور رحمت۔ تو اس سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو اللہ کی نشانیوں کو جھٹلائے اور ان سے منہ موڑے۔ جو لوگ ہماری نشانیوں سے اعراض کرتے ہیں ہم ان کو ان کے اعراض کی پاداش میں بہت برا عذاب دیں گے۔ یہ لوگ کیا اس کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا تمھارا رب آئے یا تمھارے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ظاہر ہو۔ جس دن تمھارے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی آپہنچے گی تو کسی شخص کو اس کا ایمان نفع نہ دے گا جو پہلے ایمان نہ لا چکا ہو یا اپنے ایمان میں کچھ نیکی نہ کی ہو۔ کہو تم راہ دیکھو، ہم بھی راہ دیکھ رہے ہیں ۱۵۸ - ۱۵۵ خدا کی طرف سے جو کتاب آتی ہے اس میں اگرچہ بہت سی تفصیلات ہوتی ہیں مگر بالآخر اس کا مقصد صرف ایک ہوتا ہے یہ کہ آدمی اپنے رب کی ملاقات پر یقین کرے۔ یعنی دنیا میں وہ اس طرح زندگی گزارے کہ وہ اپنے ہر عمل کے لئے اپنے آپ کو خدا کے یہاں جواب دہ سمجھتا ہو۔ اس کی زندگی ایک ذمہ دارانہ زندگی ہو نہ کہ آزاد اور بے قید یہی پچھلی کتابوں کا مقصد تھا اور یہی قرآن کا مدعا بھی ہے۔
خدا نے بقیہ دنیا کو براہ راست اپنے جبری حکم کے تحت اپنا پابند بنا رکھا ہے۔ مگر انسان کو اس نے پورا اختیار دے دیا ہے۔ اس نے انسان کی ہدایت کا یہ طریقہ رکھا ہے کہ رسول اور کتاب کے ذریعہ دلائل کی زبان میں وہ لوگوں کو حق اور باطل سے باخبر کرتا ہے۔ دنیا میں خدا کی مرضی لوگوں کے سامنے دلیل کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ دلیل کو ماننا خدا کو ماننا ہے اور دلیل کو جھٹلانا خدا کو جھٹلانا۔
قیامت کا دھماکہ ہونے کے بعد تمام چھپی ہوئی حقیقتیں لوگوں کے سامنے آجائیں گی۔ اس وقت ہر آدمی خدا اور اس کی باتوں کو ماننے پر مجبور ہوگا۔ مگر اس وقت کے ماننے کی کوئی قیمت نہیں۔ ماننا وہی ماننا ہے جو حالت غیب میں ماننا ہو۔ ایمان دراصل یہ ہے کہ دیکھنے کے بعد آدمی جو کچھ ماننے پر مجبور ہوگا اس کو وہ دیکھے بغیر مان لے۔ دیکھ کر مانے اس نے گویا مانا ہی نہیں۔
جو لوگ آج اختیار کی حالت میں اپنے کو خدا کا پابند بنالیں ان کے لئے خدا کے یہاں جنت ہے۔ برعکس جو لوگ قیامت کے آنے کے بعد خدا کے آگے جھکیں گے ان کا جھکنا صرف ان کے جرم کو مزید ثابت کرنے کے ہم معنی ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ انھوں نے، خود اپنے اعتراف کے مطابق، ایک ماننے والی بات کو نہ مانا، انھوں نے ایک کئے جانے والے کام کو نہ کیا۔
جنھوں نے اپنے دین میں راہیں نکالیں اور گروہ گروہ بن گئے تم کو ان سے کچھ سروکار نہیں۔ ان کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔ پھر وہی ان کو بتا دے گا جو وہ کرتے تھے۔ جو شخص نیکی لے کر آئے گا تو اس کے لئے اس کا دس گنا ہے۔ اور جو شخص برائی لے کر آئے گا تو اس کو بس اس کے برابر بدلہ ملے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا ۶۰-۱۵۹ دین یہ ہے کہ آدمی ایک خدا کے سوا کسی کو اپنی زندگی میں برتر مقام نہ دے۔ وہ حق شناسی کی بنیاد پر تعلقات قائم کرے نہ کہ مفاد کی بنیاد پر، جس کی پہلی علامت والدین ہیں۔ وہ رزق کو خدا کا عطیہ سمجھے اور خدائی نظام میں مداخلت نہ کرے، اس معاملہ میں آدمی کی گمراہی اس کو قتل اولاد اور تحدید نسل کی حماقت تک لے جاتی ہے۔ وہ فحش اور بے حیائی کے کاموں سے بچے تاکہ برائی کے بارے میں اس کے دل کی حساسیت زندہ رہے وہ کم زور کا استحصال نہ کرے جس کا قریبی امتحان آدمی کے لئے یتیم کی صورت میں ہوتا ہے۔ وہ حقوق کی ادائیگی اور لین دین میں ترازو کی طرح بالکل ٹھیک ٹھیک رہے۔ وہ اپنی زبان کا استعمال ہمیشہ حق کے مطابق کرے۔ وہ اس احساس کے ساتھ زندگی گزارے کہ ہر حال میں وہ عہد خداوندی میں بندھا ہوا ہے، وہ کسی بھی وقت خدائی عہد کی ذمہ داریوں سے آزاد نہیں ہے۔ یہی کسی آدمی کے لئے خدا کی پسند کے مطابق زندگی گزارنے کا سیدھا راستہ ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ دائیں اور بائیں بھٹکے بغیر اس سیدھے راستہ پر ہمیشہ قائم رہے۔
اوپر جو دس احکام (۱۵۳-۱۵۱) بیان ہوئے وہ سب سادہ فطری احکام ہیں۔ ہر آدمی کی عقل ان کے سچے ہونے کی گواہی دیتی ہے۔ اگر صرف ان چیزوں پر زور دیا جائے تو کبھی اختلاف اور فرقہ بندی نہ ہو۔ مگر جب قوموں پر زوال آتا ہے تو ان میں ایسے رہنما پیدا ہوتے ہیں جو ان سادہ احکام میں طرح طرح کی غیر فطری شقیں نکالتے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جو دینی اتحاد کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی ہے۔
توحید میں اگر یہ بحث چھیڑی جائے کہ خدا جسم رکھتا ہے یا وہ بغیر جسم ہے۔ یتیم کے معاملہ میں موشگافیاں کی جائیں کہ یتیم ہونے کی شرائط کیا ہیں۔ یا یہ نکتہ نکالا جائے کہ ان خدائی احکام پر اس وقت تک عمل نہیں ہو سکتا جب تک حکومت پر قبضہ نہ ہو۔ اس لئے سب سے پہلا کام "غیر اسلامی" حکومت کو بدلنا ہے۔ اس قسم کی بحثیں اگر شروع کر دی جائیں تو ان کی کوئی حد نہ ہوگی۔ اور ان پر عمومی اتفاق حاصل کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ اس کے بعد مختلف فکری حلقے بنیں گے۔ الگ الگ فرقے اور جماعتیں قائم ہوں گی۔ باہمی اتفاق باہمی افتراق کی صورت اختیار کرلے گا۔ اس سادہ اور فطری دین پر اپنی ساری توجہ لگانا سب سے بڑی نیکی ہے۔ مگر اس کے لئے آدمی کو نفس سے لڑنا ماحول کی ناسازگاری کے باوجود صبر اور قربانی کا ثبوت دیتے ہوئے اس پر جمے رہنا ہوتا ہے۔ یہ ایک بڑا پُر مشقت عمل ہے اس لئے اس کا بدلہ بھی خدا کے یہاں کئی گنا بڑھا کر دیا جاتا ہے۔ جو لوگ برائی کرتے ہیں، جو خدا کی دنیا میں خدا کے مقرر راستہ کے سوا دوسرے راستوں پر چلتے ہیں وہ اگرچہ بہت بُرا جرم کرتے ہیں تاہم خدا ان کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں کرتا۔ وہ ان کو اتنی ہی سزا دیتا ہے جتنا انھوں نے جرم کیا ہے۔
کہو میرے رب نے مجھ کو سیدھا راستہ بتا دیا ہے۔ دین صحیح ابراہیم کی ملت کی طرف جو یکسو تھے و مشرکین میں سے نہ تھے۔ کہو میری نماز اور میری قربانی ، میرا جینا اور میرا مرنا اللہ کے لئے ہے جو رب ہے سارے جہان کا۔ کوئی اس کا شریک اور مجھے اسی کا حکم ملا ہے اور میں سب سے پہلے فرمانبردار ہوں۔ کہو ، کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور رب تلاش کروں جب کہ وہی ہمہ چیز کا رب ہے اور جو شخص بھی کوئی کمائی کرتا ہے وہ اسی پر رہتا ہے ۔ اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔ پھر تمھارے رب ہی کی طرف تمھارا لوٹنا ہے۔ پس وہ تمھیں بتا دے گا وہ چیز جس میں تم اختلاف کرتے تھے۔ اور وہی ہے جس نے تمھیں زمین میں ایک دوسرے کا جانشین بنایا اور تم میں سے ایک کا رتبہ دوسرے پر بلند کیا۔ تاکہ وہ آزمائے تم کو اپنے دئے ہوئے میں۔ تمھارا رب جلد سزا دینے والا ہے اور بے شک وہ بخشنے والا مہربان قرآن کی صورت میں خدا نے اپنا وہ بے آمیز دین نازل کر دیا ہے جو اس نے حضرت ابراہیم اور دوسرے پیغمبروں کو دیا تھا۔ اب جو شخص خدا کی رحمت اور نصرت میں حصہ دار بننا چاہتا ہو وہ اس دین کو پکڑلے، وہ اپنی عبادت کو خدا کے لئے خاص کر دے، وہ خدا سے قربانی کی سطح پر تعلق قائم کرے، وہ جئے تو خدا کے لئے جئے اور اس کو موت آئے تو اس حال میں آئے کہ وہ ہر تن خدا کا بندہ بنا ہوا ہو۔ عظیم کائنات اپنے تمام اجزاء کے ساتھ اطاعت خداوندی کے اسی دین پر قائم ہے۔ پھر انسان اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ کیسے اختیار کر سکتا ہے۔ خدا کی اطاعت کی دنیا میں خدا کی سرکشی کا طریقہ اختیار کرنا کسی کے لئے کامیابی کا سبب کس طرح بن سکتا ہے۔ یہ معاملہ ہر شخص کا اپنا معاملہ ہے ۔ کوئی نہ کسی کے انعام میں شریک ہو سکتا اور نہ کوئی کسی کی سزا میں ۔ آدمی کو چاہئے کہ اس معاملہ میں وہ اسی طرح سنجیدہ ہو جس طرح دنیا میں کوئی مسئلہ کسی کا ذاتی مسئلہ ہو تو وہ اس میں آخری حد تک سنجیدہ ہو جاتا ہے۔ دنیا کا نظام یہ ہے کہ یہاں ایک شخص جاتا ہے اور دوسرا اس کی جگہ آتا ہے ۔ ایک قوم پیچھے ہٹادی جاتی ہے اور دوسری قوم اس کے بجائے زمین کے ذرائع و وسائل پر قبضہ کرلیتی ہے۔ یہ واقعہ بار بار یاد دلاتا ہے کہ یہاں کسی کا اقتدار دائمی نہیں۔ مگر انسان کا حال یہ ہے کہ جب کسی کو زمین پر موقع ملتا ہے تو وہ گزرے ہوئے لوگوں کے انجام کو بھول جاتا ہے۔ وہ اپنے ظلم اور سرکشی کو جائز ثابت کرنے کے لئے طرح طرح کے دلائل گھڑ لیتا ہے۔ خدا حقیقتوں کو برہنہ کرے گا تو آدمی دیکھے گا کہ اس کی ان باتوں کی کوئی قیمت نہ تھی جن کو وہ اپنے موقف کے جواز کے لئے مضبوط دلیل سمجھے ہوئے تھا۔
دنیا میں آدمی کی سرکشی کی وجہ اکثر یہ ہوتی ہے کہ وہ دنیا کی چیزوں کو اپنے حق میں خدا کا انعام سمجھ لیتا ہے، حالانکہ دنیا میں جو کچھ کسی کو ملتا ہے وہ صرف بطور آزمائش ہے نہ کہ بطور انعام ۔ دنیا کی چیزوں کو آدمی اگر انعام سمجھے تو اس کے اندر فخر پیدا ہوگا اور اگر وہ ان کو آزمائش سمجھے تو اس کے اندر عجز پیدا ہوگا۔ فخر کی نفسیات ڈھٹائی پیدا کرتی ہے اور عجز کی نفسیات اطاعت۔
سورۃ الاعراف مکيہ رکوع اتہا ۲۴ شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے الف لام میم صاد۔ یہ کتاب ہے جو تمھاری طرف اتاری گئی ہے۔ پس تمھارا دل اس کے باعث تنگ نہ ہو تا کہ تم اس کے ذریعہ سے لوگوں کو ڈراؤ، اور وہ ایمان والوں کے لئے یاد دہانی ہے۔ جو اترا ہے تمھاری جانب تمھارے رب کی طرف سے اس کی پیروی کرو اور اس کے سوا دوسرے سر پرستوں کی پیروی نہ کرو۔ تم بہت کم نصیحت مانتے ہو۔ اور کتنی ہی بستیاں ہیں جن کو ہم نے ہلاک کر دیا۔ ان پر ہمارا عذاب رات کو آپہنچا یا دو پہر کو جب کہ وہ آرام کر رہے تھے۔ پھر جب ہمارا عذاب ان پر آیا تو وہ اس کے سوا کچھ نہ کہہ سکے کہ واقعی ہم ظالم تھے۔ پس ہم کو ضرور پوچھنا ہے ان لوگوں سے جن کے پاس رسول بھیجے گئے اور ہم کو ضرور پوچھنا ہے رسولوں سے۔ پھر ہم ان کے سامنے سب بیان کر دیں گے علم کے ساتھ اور ہم کہیں غائب نہ تھے۔ اس دن وزن دار صرف حق ہو گا ۔ پس جن کی تولیں بھاری ہوں گی وہی لوگ کامیاب ٹھہریں گے اور جن کی تولیں ہلکی ہوں گی وہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا، کیونکہ وہ ہماری نشانیوں کے ساتھ نا انصافی کرتے تھے ۹-۱ خدا کی کتاب اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ایک نصیحت ہے۔ مگر وہ عملاً صرف ان تھوڑے سے لوگوں کے لئے نصیحت بنتی ہے جو اپنی فطری صلاحیت کو زندہ کئے ہوئے ہوں ۔ بقیہ لوگوں کے لئے وہ صرف اس برے انجام سے ڈرانے کے ہم معنی ہو کر رہ جاتی ہے جس کی طرف وہ اپنی سرکشی کی وجہ سے بڑھ رہے ہیں۔ داعی یہ دیکھ کر تڑپتا ہے کہ جو چیز مجھے کامل صداقت کے روپ میں دکھائی دے رہی ہے اس کو بیشتر لوگ باطل سمجھ کر ٹھکرا رہے ہیں۔ جو چیز میری نظر میں پہاڑ سے بھی زیادہ اہم ہے اس کے ساتھ لوگ ایسا بے پروائی کا سلوک کر رہے ہیں جیسے اس کی کچھ حقیقت ہی نہ ہو، جیسے وہ بالکل بے اصل ہو۔
یہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں ہر آدمی کے لئے موقع ہے کہ اگر وہ کسی بات کو نہ ماننا چاہے تو وہ اس کو نہ مانے، حتیٰ کہ وہ اس کو رد کرنے کے لئے خوبصورت الفاظ بھی پالے۔ مگر یہ صورت حال بالکل عارضی ہے۔ مدت ختم ہوتے ہی اچانک کھل جائے گا کہ داعی کی بات لو ہے اور پتھر سے بھی زیادہ ثابت شدہ تھی۔ یہ صرف مخالفین کا تعصب اور ان کی انانیت تھی جس نے انھیں دلیل کو دلیل کی صورت میں دیکھنے نہ دیا۔ اس وقت کھل جائے گا کہ داعی حق کی باتوں کی رد میں جو دلیلیں وہ پیش کرتے تھے وہ محض دھاندلی تھی نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی استدلال۔ دنیا میں جو چیز کسی کو باوزن بناتی ہے وہ یہ کہ اس کے گرد مادی رونقیں جمع ہوں۔ وہ الفاظ کے دریا بہا نے کا فن جانتا ہو۔ اس کے ساتھ عوام کی بھیڑ اکٹھا ہوگئی ہو۔ چونکہ حق کے داعی کے ساتھ عام طور پر یہ اسباب جمع نہیں ہوتے اس لئے دنیا کے لوگوں کی نظر میں اس کی بات بے وزن اور اس کے مخالفوں کی بات وزن دار بن جاتی ہے۔ جب مصنوعی پر دوں کو پھاڑے گی تو صورت حال بالکل بر عکس ہو جائے گی۔ اب سارا وزن حق کی طرف ہوگا اور ناحق بالکل بے دلیل اور بے قیمت ہو کر رہ جائے گا۔
اور ہم نے تم کو زمین میں جگہ دی اور ہم نے تمھارے لئے اس میں زندگی کا سامان فراہم کیا، مگر تم بہت کم شکر کرتے ہو- اور ہم نے تم کو پیدا کیا، پھر ہم نے تمھاری صورت بنائی۔ پھر فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو۔ پس انھوں نے سجدہ کیا۔ ابلیس سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا۔ خدا نے کہا کہ تجھے کس چیز نے سجدہ کرنے سے روکا جب کہ میں نے تجھ کو حکم دیا ابلیس نے کہا کہ میں اس سے بہتر ہوں۔ تو نے مجھ کو آگ سے بنایا ہے اور آدم کو مٹی سے۔ خدا نے کہا کہ تو اتر یہاں سے۔ تجھے یہ حق نہیں کہ تو اس میں گھمنڈ کرے۔ پس نکل جا، یقیناً تو ذلیل ہے۔ ابلیس نے کہا کہ اس دن تک کی لئے تو مجھے مہلت دے جب کہ سب لوگ اٹھائے جائیں گے۔ خدا نے کہا کہ تجھ کو مہلت دی گئی۔ ابلیس نے کہا کہ چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں بھی لوگوں کے لئے تیری سیدھی راہ برپا بیٹھوں گا۔ پھر ان پر آؤں گا ان کے آگے سے اور ان کے پیچھے سے اور ان کے دائیں سے اور ان کے بائیں سے، اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا۔ خدا نے کہا کہ نکل یہاں سے ذلیل اور ٹھکرایا ہوا ۔ کوئی ان میں سے تیری راہ پر چلے گا تو میں تم سب سے جہنم کو بھر دوں گا ۱۸- ۱۰ خدا نے انسان کو اس دنیا میں جو کچھ دیا ہے اس لئے دیا ہے کہ اس کا نفسیاتی جواب وہ شکر کی صورت میں پیش مگر یہی وہ چیز ہے جس کو آدمی اپنے رب کے سامنے پیش نہیں کراتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شیطان اس کے اندر دوسرے دوسرے جذبات ابھار کر اس کو شکر کے نفسیات سے دور کر دیتا ہے۔
آدم اور ابلیس کے قصہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں ہدایت اور گمراہی کا معرکہ کہاں پر ہے ۔ یہ معرکہ ان مواقع پر برپا ہے جہاں آدمی کے اندر حسد اور گھمنڈ کی نفسیات جاگتی ہیں۔ امتحان کی اس دنیا میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی سے اوپر اٹھ جاتا ہے کبھی کوئی شخص دولت و عزت میں دوسرے سے زیادہ حصہ پا لیتا ہے۔ کبھی دو آدمیوں کے درمیان ایسا معاملہ پڑتا ہے کہ ایک شخص کے لئے دوسرے کو اس کا جائز حق دینا اپنے کو نیچے گرانے کے ہم معنی نظر آتا ہے۔ کبھی کسی شخص کی زبان سے خدا ایک سچائی کا اعلان کرتا ہے اور وہ ان لوگوں کو اپنے سے برتر دکھائی دینے لگتا ہے جو اس سچائی تک پہنچنے میں ناکام رہے تھے۔ ایسے مواقع پر شیطان آدمی کے اندر حسد اور گھمنڈ کی نفسیات جگا دیتا ہے۔ ہوں“ کے جذبے سے مغلوب ہو کر وہ اپنے بھائی کا اعتراف کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ یہی خدا کی نظر میں شیطان کے راستہ پر چلنا ہے۔ جس شخص نے ایسے مواقع پر حسد اور گھمنڈ کا طریقہ اختیار کیا اس نے اپنے کو جہنمی انجام کا مستحق بنا لیا جو شیطان کے لئے مقدر ہے اور جس نے ایسے مواقع پر شیطان کے پیدا کئے ہوئے جذبات کو اپنے اندر کچل ڈالا اس نے اس بات کا ثبوت دیا کہ وہ اس قابل ہے کہ اس کو جنت کے باغوں میں بسایا جائے۔
جو کچھ کسی کو ملتا ہے خدا کی طرف سے ملتا ہے۔ اس لئے کسی کی فضیلت کا اعتراف دراصل خدا کی تقسیم کے برحق ہونے کا اعتراف ہے اور اس کی فضیلت کو نہ ماننا خدا کی تقسیم کو نہ ماننا ہے۔ اسی طرح جب ایک شخص کسی حق کی بنا پر دوسرے کے آگے جھکتا ہے تو وہ کسی آدمی کے آگے نہیں جھکتا بلکہ خدا کے آگے جھکتا ہے۔ کیونکہ ایسا وہ خدا کے حکم کی بنا پر کر رہا ہے نہ کہ اس آدمی کے ذاتی فضل کی بنا پر۔
اور اے آدم، تم اور تمھاری بیوی جنت میں رہو اور کھاؤ جہاں سے چاہو۔ مگر اس درخت کے پاس نہ جانا ورنہ تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤ گے۔ پھر شیطان نے دونوں کو بہکایا تاکہ وہ کھول دے ان کی وہ شرم کی جگہیں جو ان سے چھپائی گئی تھیں۔ اس نے ان سے کہا کہ تمھارے رب نے تم کو اس درخت سے صرف اس لئے روکا ہے کہ کہیں تم دونوں فرشتہ نہ بن جاؤ یا تم کو ہمیشہ کی زندگی حاصل ہو جائے۔ اور اس نے قسم کھا کر کہا کہ میں تم دونوں کا خیر خواہ ہوں ۲۱- ۱۹۔ جنت اپنی تمام وسعتوں کے ساتھ آدم اور ان کی بیوی کے لیے کھلی ہوئی تھی۔ اس میں طرح طرح کی چیزیں تھیں اور خدا کی طرف سے ان کو آزادی تھی کہ ان کو جس طرح چاہیں استعمال کریں۔ بے شمار جائز چیزوں کے درمیان صرف ایک چیز کے استعمال سے روک دیا گیا تھا۔ شیطان نے اسی ممنوعہ مقام سے ان پر حملہ کیا۔ اس نے وسوسہ اندازیوں کے ذریعہ سکھایا کہ جس چیز سے روک گیا ہے وہی جنت کی اہم ترین چیز ہے۔ اسی میں تقدس اور ابدیت کا سارا راز چھپا ہوا ہے۔ ان کی بیوی ابلیس کی مسلسل تلقین سے متاثر ہو گئے۔ اور بالآخر ممنوعہ درخت کا پھل کھا لیا۔ مگر جب انہوں نے ایسا کیا تو نتیجہ ان کی توقعات کے بالکل برعکس نکلا۔ ان کی اس خلاف ورزی نے خدا کا لباس حفاظت ان کے جسم سے اتار دیا۔ اس دنیا میں بالکل بے یار و مددگار ہو کر رہ گئے جہاں اس سے پہلے ان کو ہر طرح کی سہولت اور حفاظت حاصل تھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان کا وہ خاص حربہ کیا ہے جس سے وہ انسان کو بہکا کر خدا کی رحمت و نصرت سے دور کر دیتا ہے۔ وہ ہے حلال رزق کے پھیلے ہوئے میدان کو آدمی کی نظر میں کم کر کے دکھانا اور جو چند چیزیں حرام ہیں ان کو خوبصورت طور پر پیش کر کے یقین دلانا کہ تمام بڑے بڑے فائدوں اور مصلحتوں کا راز بس انہیں چند چیزوں میں چھپا ہوا ہے۔
شیطان اپنا یہ کام ہر ایک کے ساتھ اس کے اپنے ذوق اور حالات کے اعتبار سے کرتا ہے۔ کسی کو تمام قیمتی غذاؤں سے بے رغبت کر کے یہ سکھاتا ہے کہ شاندار تندرستی حاصل کرنا چاہتے ہو تو شراب پیو۔ کہیں لاکھوں بے روزگار مرد کام کرنے کے لئے موجود ہوں گے مگر وہ ترغیب دے گا کہ اگر ترقی کی منزل تک جلد پہنچنا چاہتے ہو تو عورتوں کو گھر سے باہر لا کر انھیں مختلف تمدنی شعبوں میں سرگرم کر دو۔ کسی کے پاس اپنے مخالف کو زیر کرنے کا یہ قابل عمل طریقہ موجود ہوگا کہ وہ اپنے آپ کو مستحکم بنائے مگر شیطان اس کے کان میں ڈالے گا کہ تمھارے لیے اپنے مخالف کو شکست دینے کا سب سے زیادہ کارگر طریقہ یہ ہے کہ اس کے خلاف تخریبی کارروائیاں شروع کر دو۔ کسی کے لیے اپنی تعمیر آپ" کے میدان میں کام کرنے کے لئے بے شمار مواقع کھلے ہوئے ہوں گے مگر وہ سکھائے گا کہ دوسروں کے خلاف احتجاج اور مطالبہ کا طوفان برپا کرنا اپنے کو کامیابی کی طرف لے جانے کا سب سے زیادہ قریبی راستہ ہے۔ کسی کے سامنے حکومت وقت سے تصادم کے بغیر بے شمار دینی کام کرنے کے لئے موجود ہوں گے مگر وہ اس کو اس غلط فہمی میں ڈالے گا کہ غیر اسلامی حکمرانوں کو اگر کسی نہ کسی طرح پھانسی پر چڑھا دیا جائے یا ان کو گولی مار کر ختم کر دیا جائے تو اس کے بعد آناً فاناً اسلام کا مکمل نظام سارے ملک میں قائم ہو جائے گا، وغیرہ۔
پس مائل کر لیا ان کو فریب سے ۔ پھر جب دونوں نے درخت کا پھل چکھا تو ان کی شرمگاہیں ان پر کھل گئیں۔ اور وہ اپنے کو باغ کے پتوں سے ڈھانکنے لگے اور ان کے رب نے ان کو پکارا کہ کیا میں نے تمہیں اس درخت سے منع نہیں کیا تھا اور یہ نہیں کہا تھا کہ شیطان تمھارا کھلا ہو دشمن ہے۔ انھوں نے کہا، اے ہمارے رب ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہم کو معاف نہ کرے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم گھاٹا اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔ خدا نے کہا، اترو، تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گے، اور تمھارے لئے زمین میں ایک خاص مدت تک ٹھہرنا اور نفع اٹھانا ہے۔ خدا نے کہا، اسی میں تم جیو گے اور اسی میں تم مرو گے اور اسی سے تم نکالے جاؤ گے ۲۵ - ۲۲ آدم اور شیطان دونوں ایک دوسرے کے دشمن کی حیثیت سے زمین پر بھیجے گئے ہیں۔ اب قیامت تک دونوں کے درمیان یہی جنگ جاری ہے۔ شیطان کی مسلسل کوشش یہ ہے کہ وہ انسان کو اپنے راستہ پر لائے اور جس طرح وہ خود خدا کی رحمت سے محروم ہوا ہے انسان کو بھی خدا کی رحمت سے محروم کر دے۔ اس کے مقابلہ میں انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ شیطان کے منصوبہ کو ناکام بنا دے۔ وہ شیطان کی پکار کو نظر انداز کر کے خدا کی پکار کی طرف دوڑے ۔ آدم اور شیطان کی یہ جنگ عملاً انسانوں میں دو گروہ بن جانے کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ کچھ لوگ شیطان کی ترغیبَات کا شکار ہو کر اس کی صف میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اور کچھ لوگ خدا کی آواز پر لبیک کہہ کر یہ خطرہ مول لیتے ہیں کہ شیطان کے تمام ساتھی اس کو بے عزت کرنے اور ناکام بنانے کے لئے ہر قسم کی تدبیریں کرنا شروع کر دیں۔ ہر دور میں یہ دیکھا گیا ہے کہ سچے حق پرست جو ہمیشہ کم تعداد میں ہوتے ہیں، لوگوں کی سخت ترین عداوتوں کا شکار رہتے ہیں۔ وجہ یہی شیطان کی دشمنانہ کارروائیاں ہیں۔ وہ لوگوں کو سچے حق پرست آدمی کے خلاف بھڑکا دیتا ہے، وہ مختلف طریقہ سے لوگوں کے دل میں اس کے خلاف نفرت کی آگ بھرتا ہے ۔ چنانچہ وہ شیطان کا آلہ کار بن کر ایسے آدمی کو ستانا شروع کر دیتے ہیں۔
شیطان کا اصل جرم عدم اعتراف تھا۔ شیطان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ ہر آدمی کے اندر یہی عدم اعتراف کا مزاج پیدا کر دے۔ وہ چھوٹے کو بھڑکاتا ہے کہ وہ اپنے بڑے کا لحاظ نہ کرے۔ معاملات کے دوران جب ایک شخص کے ذمہ دوسرے کا کوئی حق آتا ہے تو وہ اس کو سکھاتا ہے کہ وہ حق دار کا حق ادا نہ کرے۔ کوئی خدا کا بندہ سچائی کا پیغام لے کر اٹھتا ہے تو لوگوں کے دل میں طرح طرح کے شبہات ڈال کر انھیں آمادہ کرتا ہے کہ وہ اس کی بات نہ مانیں ۔ فریقوں کے درمیان نزاع ہوا اور ایک فریق اپنے حالات کے اعتبار سے کچھ دینے پر راضی ہو جائے تو شیطان فریق ثانی کے ذہن میں یہ ڈالتا ہے کہ اس کی پیش کش کو قبول نہ کرو، اور اتنا زیادہ کا مطالبہ کرو جو وہ نہ دے سکتا ہو۔ تاکہ جنگ و فساد مستقل طور پر جاری رہے۔
اس طرح شیطان کے بہکاووں سے ہر جگہ لوگوں کے درمیان دشمنیاں جاری رہتی ہیں۔ انسانوں میں دو گروہ بن جاتے ہیں اور ان میں ایسا ٹکراؤ شروع ہوتا ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔