جب دین مشتبہ ہو جائے
Al-Risala, April 1981, pp. 30–31
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ شیاطین نے مشرکوں کی نگاہ میں اس بات کو مزین کر دیا ہے کہ وہ اپنی اولاد کو قتل اس طرح شیاطین ان کو ہلاکت میں ڈال رہے ہیں اور ان کے دین کو ان کے اوپر مشتبہ کر رہے ہیں (وکذلك زین لكثیر من المشركين قتل أولادهم شركاؤهم ليرد و هم وليلبيسوا عليهم دينهم ، انعام ۱۳۸)
عرب کے مشرک قبائل میں یہ رواج تھا کہ وہ مختلف نام سے اپنی اولاد کو قتل کر دیتے تھے۔ مثلاً کچھ لوگ سسر بننے کو اپنے لئے شرم کی چیز سمجھتے اور اپنی بیٹیوں کو قتل کر دیتے ۔ کچھ لوگ افلاس کا شکار ہوتے اور اس اندیشہ کی بنا پر اپنی اولاد کو قتل کر دیتے کہ کیسے کھلائیں گے۔ بھی ایسا ہوتا کہ منت مانتے کہ اگر اتنے بیٹے ہو جائیں یا فلاں مراد پوری ہو جائے تو ایک بیٹا فلاں بت کے نام پر ذبح کر دیں گے وغیرہ۔ یہ سراسر ظلم اور گمراہی کا فعل تھا۔ مگر وہ اس کو بڑی عبادت اور قربت کا ذریعہ خیال کرتے تھے۔
قتل اولاد کی یہ رسم پہلے یہود کے یہاں بھی پائی جاتی تھی۔ پھر وہ عرب قبائل میں رائج ہوئی۔ اس کی وجہ اس کی وجہ تمام تر مذہبی تھی ۔ دونوں حضرت ابراہیم کو اپنا سب سے بڑا بزرگ مانتے تھے۔ کا خیال ہے کہ شیطان نے ان کو یہ رسم سنتِ ابراہیم کے طور پر سمجھائی۔ انھوں نے حضرت اسماعیل کی قربانی کے واقعہ کی غلط تعبیر کر کے یہ سمجھا کہ اولاد کو قتل کرنا کوئی بڑا مقدس عمل ہے۔ یہ وہ عمل ہے جس کو خدا کے جلیل القدر پیغمبر حضرت ابراہیم خلیل اللہ نے انجام دیا۔ اس کے نتیجہ میں آپ کے اوپر خدا کے غیر معمولی انعامات ہوئے ، وہ بھول گئے کہ حضرت ابراہیم کا فعل براہ راست خدا کے خصوصی حکم کے تحت تھا۔ نیز آنجناب کو کبھی وہ صرف خواب میں تمثیلی طور پر عملاً اللہ نے ان سے جو چیز قبول کی وہ جانور کا ذبیحہ تھا۔ اور اولاد کا ذبح“ آپ کے لئے یہ قرار پایا کہ اپنے بیٹے کو کعبہ (خدا کے دین کی خدمت) کے لئے وقف کر دیں۔
حضرت ابراہیم کے واقعہ میں اصل نمونہ یہ تھا کہ اپنے بیٹے کو صرف دنیا کمانے کا ذریعہ نہ بناؤ۔ بلکہ اس کو خدا کے دین کی خدمت میں لگا دو۔ یہ آخرت کی طلب میں دنیا کی طلب کو قربان کرنا تھا۔ یہ اپنے ذاتی مستقبل کی تعمیر کے بجائے دین کی تعمیر سے خوشی حاصل کرنے کا پیغام تھا۔ مگر شیطان نے سنتِ ابراہیمی کے نام پر لوگوں کو ایک لایعنی رسم میں لوگ خدا کا نام لیتے ہوئے شیطان کے راستہ پر چل پڑے ۔ یہی دین کو لوگوں کے اوپر مشتبہ کرنا ہے ۔ یہ شیطان کے طریقوں میں سے ایک طریقہ ہے کہ وہ اصل دین کے بارے میں لوگوں کے اندر اشتباہ پیدا کر دیتا ہے۔ وہ ایک دینی چیز کو لے کر اس کی غلط تصویر لوگوں کے ذہن میں بٹھاتا ہے ۔ وہ لوگوں کو آمادہ کرتا ہے کہ وہ دین کے نام پر بے دینی کا فعل شروع کر دیں۔ وہ حقیقتاً دین سے دور ہوں مگر ایک بیہودہ عمل کر کے یہ سمجھیں
کہ وہ عین دین خداوندی کی تکمیل کر رہے ہیں۔
عرب کے مشرکین نے حضرت ابراہیم کے ایک واقعہ سے غلط طور پر ذبح اولاد کی رسم نکالی۔ حضرت سلیمان کی زندگی کے ایک پہلو کو جادو اور عملیات کا کاروبار کرنے کے حق میں استعمال کیا۔ نے حضرت مسیح کی غیر شادی شدہ زندگی سے ترک نکاح کا مقدس طریقہ اخذ کر لیا۔ یہ سب سراسر گمراہی کے فعل وہ بظاہر نبی کے ایک فعل سے مشابہ ہونے کے باوجود نبی کی تعلیمات کے بالکل خلاف ہیں۔ تا ہم جن لوگوں نے ان کو اختیار کیا وہ لوگوں کو یہی باور کراتے رہے کہ وہ پیغمبر کے اسوہ پر عمل کر رہے ہیں۔ اس طرح شیطان لوگوں کو ایک دینی عمل کے نام پر کسی لایعنی کام میں الجھا دیتا ہے۔ وہ دین کے معاملہ میں لوگوں کو مشتبہ کر کے ان کو دین سے دور کر دیتا ہے۔ وہ ایک بے دینی کے کام میں مشغول ہو جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ عین دینی کام کر رہے ہیں۔
یہ معاملہ صرف پچھلی قوموں کے ساتھ مخصوص نہیں۔ امت مسلمہ کے افراد بھی مختلف طریقوں سے اس بے راہی میں پڑ سکتے ہیں۔ وہ پیغمبر اسلام کی زندگی یا آپ کی تعلیمات کے کسی پہلو کی غلط تعبیر کر کے دین میں ایسی بدعت داخل کر سکتے ہیں جس پر بظاہر دین کا لیبل لگا ہوا ہو مگر اس کا دین خداوندی سے کوئی تعلق نہ ہو۔ وہ اپنی خواہشات پر چلیں اور اس کو دین کی اصطلاحوں میں بیان کریں۔ وہ دنیا پرستانہ سیاست چلائیں اور اس کو آخرت کا راستہ قرار دیں۔ وہ اپنے قومی جذبات کے تحت اٹھیں اور یہ ظاہر کریں کہ وہ عین اسلام کی خاطر ایسا کر رہے ہیں۔
ایسے لوگوں کو عام طور پر بہت جلد مقبولیت حاصل ہو جاتی ہے کیونکہ وہ خدا کے دین کو اس سطح پر اتار لاتے ہیں جہاں لوگ عملاً جی رہے ہیں۔ وہ لوگوں کی خواہش پرستی کے لئے دینی جواز فراہم کر دیتے ہیں۔ لوگ اس غلط فہمی میں رہتے ہیں کہ اپنی جگہ سے کھسکے بغیر وہ دین کو اس کی کامل صورت میں پا گئے ہیں۔ کچھ دئے بغیر انھوں نے اس کا سب کچھ حاصل کر لیا ہے۔
دین کی ایک حقیقت ہے اور اس کے کچھ خارجی مظاہر۔ مظاہر کو اگر حقیقت کی روشنی میں سمجھا جائے تو ہر چیز اپنے صحیح مقام پر جمتی ہے۔ اس کے برعکس اگر حقیقت کو مظاہر کی روشنی میں دیکھا جائے لگے تو عجیب عجیب تعبیرات ظہور میں آتی ہیں۔ اب خدا کا پیغمبر کسی کو اشتراکی لیڈر دکھائی دینے لگتا ہے۔ قرآن کسی کے لئے دنیوی معاملات کی کنجی بن جاتا ہے۔ کوئی جماعت کی نماز کو فوجی ٹریننگ سمجھ لیتا ہے۔ کسی کو پورا دین سیاست کے روپ میں نظر آتا ہے۔ اس طرح ہر آدمی دین کی الگ تصویر بنا لیتا ہے جو اس کے اپنے ذہن کے پوری طرح مطابق ہوتی ہے مگر اصل حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔