Al-Risala · April 1981

بزرگ پرستی دھیرے دھیرے بت پرستی بن جاتی ہے

Al-Risala, April 1981, pp. 30–41

By Maulana Wahiduddin Khan

سورہ نوح میں قدیم زمانہ کے کئی بتوں کا ذکر ہے ۔ ود، سواع، ، یغوث ، یعوق اور نسر۔ اس سلسلے میں مفسر ابن جریر طبری نے محمد بن قیس کے واسطہ سے ایک روایت نقل کی ہے کہ بتوں کے یہ نام دراصل ان قوموں کے بزرگوں کے نام پر ہیں۔ یہ اللہ کے نیک بندے تھے جو حضرت آدم علی اور حضرت نوح کے درمیانی زمانہ میں پیدا ان کے بہت سے معتقدین تھے جو ان کی پیروی کرتے تھے ، جب ان صالحین کا انتقال ہو گیا تو ان کے معتقدین نے کہا: اگر ہم ان کی مورت بنالیں تو اس سے ہمارے شوق عبادت میں اضافہ ہوگا۔ چنانچہ انھوں نے ان صالحین

کی مورتیں بنائیں ۔ اس کے بعد جب دوسری نسل آئی تو اس کو شیطان نے مزید سکھایا کہ ان کے آبا و اجداد ان مورتوں کے پاس جو عبادت کرتے تھے وہ خود انھیں بزرگوں کی عبادت ہوتی تھی جن کی یہ مورتیں ہیں اور یہی بزرگ ہیں جو بارش برساتے ہیں اور سارے کام بناتے ہیں۔ اس طرح ان میں باقاعدہ بت ستی شروع ہو گئی (ابن کثیر تفسیر سورہ نوح) خدا کے قانون میں کسی کے لئے رعایت نہیں سورہ مائدہ میں بنی اسرائیل کے تذکرہ کے تحت ارشاد ہوا ہے کہ ان میں سے جو لوگ اللہ کے اتارے ہوئے حکم کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہ کافر ہیں، وہ ظالم ہیں، وہ فاسق ہیں۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کسی نے کہا کہ سورہ مائدہ کی یہ یہ تینوں آیتیں بنی اسرائیل کے حق میں اتری ہیں، وہ ہمارے اوپر چسپاں نہیں ہوتیں۔ یعنی یہودیوں میں سے جو شخص خدا کے اتارے ہوئے حکم سے انحراف کرے وہ کافر اور ظالم اور فاسق ہے نہ کہ ہم ۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بنی اسرائیل تمھارے کتنے اچھے بھائی ہیں کہ کڑوا کڑوا سب ان کے لئے ہے اور میٹھا میٹھا سب تمھارے لئے ۔ ہرگز نہیں خدا کی قسم تم انھیں کے طریقہ پر قدم بقدم چلو گے (نعم الاخوة لکم بنو اسائیل ان كانت لهم كل مرة ولکم كل حلوة كلا والله لتسلكن طريقهم قد يقم قدا للشراٹ)

Printed page