جب جنت والے جنت میں جانے سے روک دئے جائیں گے
Al-Risala, April 1981, p. 41
By Maulana Wahiduddin Khan
امام بخاری نے اپنی کتاب الادب المفرد (باب المعانقة) میں نقل کیا ہے۔ عبد اللہ بن محمد بن عقیل کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبد اللہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : مجھے ایک صحابی کے بارے میں یہ بات پہنچی کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی ہے۔ میں نے ایک اونٹ خریدا اور اس پر کجاوہ باندھا اور اس کے بعد اونٹ پر سوار ہو کر روانہ ہوا۔ میں ایک مہینہ تک سفر کرتا رہا۔ اس کے بعد میں شام پہنچا اور وہاں عبد اللہ بن انیس کے گھر پر حاضر میں نے دربان سے کہا : صاحب خانہ سے کہو کہ جابر پر دروازہ پر ہے۔ انھوں نے کہا کیا عبد اللہ کے لڑکے میں نے کہا ہاں۔ پھر عبد اللہ بن انیس نکلے اور مجھ کو گلے سے لگایا۔ میں نے کہا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سنا ہے۔ مجھے ڈر ہوا کہ میں مرجاؤں قبل اس کے کہ میں اس کو سنوں ۔ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے : قیامت کے دن لوگ اس حال میں جمع ہوں گے کہ ننگے ، غیر مختون اور بے سرو سامان ہوں گے ۔ اللہ ان کو آواز دے گا جس کو دور والے بھی اسی طرح سنیں گے جس طرح قریب والے سنیں گے۔ اللہ فرمائے گا : میں بادشاہ ہوں، میں انصاف کرنے والا ہوں ۔ کوئی جنت والا جنت میں داخل نہیں ہو سکتا اگر اس نے کسی دوزخ والے پر ظلم کیا ہو جس کا وہ بدلہ چاہتا ہو۔ اور کوئی دوزخ والا دوزخ میں داخل نہیں ہو سکتا اگر اس نے کسی دوزخ والے پر ظلم کیا ہو اور وہ اس کا بدلہ چاہتا ہو۔ میں نے پوچھا ایسا کیوں کر ہو گا جب کہ ہم کو اللہ ننگے اور بے سرو سامان اٹھائے گا۔ جواب دیا : بالحسنات والسئیات ۔ یعنی بھلائیوں اور برائیوں کے ذریعہ بدلہ ادا کیا جائے گا۔