اللہ اس کا محافظ ہے جو اللہ کا کام کرے
Al-Risala, April 1981, p. 33
By Maulana Wahiduddin Khan
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات کو میرے حجرہ میں تھے اور جاگ رہے تھے۔ نے پوچھا کہ کیا بات ہے۔ آپ نے فرمایا؛ کاش میرے اصحاب میں سے کوئی صالح آدمی رات کو میرا پہرہ دیتا۔ میں باہر سے ہتھیار کی آواز آئی۔ آپ نے پکار کر پوچھا کہ کون ہے، آواز آئی ”میں سعد بن مالک ہوں“ آپ نے پوچھا: کیا چیز تم کو یہاں لے آئی۔ انھوں نے جواب دیا : اے خدا کے رسول میں اس لئے آیا تاکہ آپ کے اوپر پہرہ دوں۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے یہاں تک کہ میں نے آپ کے خراٹے کی آواز ایک اور روایت میں وہ کہتی ہیں کہ مدینہ آنے کے بعد رات کے وقت آپ پر پہرہ دیا جاتا تھا۔ کہ یہ آیت اتری واللہ یعصمک من الناس (مائدہ ، ۶۷) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبہ سے اپنا سر نکالا اور فرمایا: اے لوگو واپس جاو کیونکہ اللہ نے ہم کو اپنی حفاظت میں لے لیا ہے دريا یها الناس انصر فوا فقد عصمنا اللہ عز وجل، تفسیر ابن کثیر، جلد اول، صفحہ ۳۵۳)