Al-Risala · April 1981

علم کے بغیر عمل کبھی بگاڑ کا باعث ہوتا ہے

Al-Risala, April 1981, pp. 33–45

By Maulana Wahiduddin Khan

حضرت عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا: جو شخص علم کے بغیر عمل کرے گا وہ اصلاح سے زیادہ فساد پیدا کرے گا ( من عمل في غير علم كان ما يفسد اكثر مما يصلح، جامع بیان العلم و فضله، جزء اول، صفحه ۲۷) برے سلوک پر اچھے انجام کی فال لینا ایرانیوں سے جنگ کے زمانہ میں مسلمانوں کا ایک سفارتی وفد شاہ یزد گرد کے دربار میں گیا۔ یہ دیگر دنے ان سے حقارت آمیز باتیں کیں ۔ اس نے کہا۔ میں نہیں جانتا کہ زمین پر کوئی قوم تم سے زیادہ بد بخت اور تعداد میں کم اور آپس میں لڑنے والی رہی ہو۔ ہم تم لوگوں کو آس پاس کے دیہاتوں کے سپرد کر دیں گے۔ وہی تمھارے لئے ہماری طرف سے کافی ہوں گے۔ “ مسلمانوں کی طرف سے مغیرہ بن شعبہ نے کہا: تم نے ہماری جس زبوں حالی کا ذکر کیا، وہ بالکل درست ہمارا مکان صرف زمین کی سطح تھی ۔ ہم وہی کپڑے پہنتے تھے جو ہم اونٹوں اور بکریوں کے بالوں سے بناتے تھے۔ ہمارا دین یہ تھا کہ ہمارا البعض بعض کو قتل کر دیتا تھا اور ایک دوسرے سے بغض اور عداوت رکھتا تھا۔ ہم میں سے کوئی اپنی زندہ بیٹی کو اس اندیشہ سے دفن کر دیتا تھا کہ وہ اس کے کھانے میں سے کھائے گی۔ پھر اللہ نے ہماری طرف ایک شخص کو بھیجا جس کو ہم اچھی طرح جانتے تھے اور وہ ہم میں سب سے بہتر تھا۔ اس نے ہمارے سامنے ایک دعوت ابتدا ئر ہم میں سے صرف ایک شخص (ابو بکر رض) نے اس کا ساتھ دیا۔ ہم اس کی باتوں کو جھٹلاتے رہے۔

مگر اس نے جو کچھ کہا وہ ہو کر رہا ( (فلم يقل شيئاً الاكان ) پھر اللہ نے ہمارے دلوں میں اس کی تصدیق ڈالی۔ ہم اس کے پیرو بن گئے۔ اللہ نے اپنے پیغمبر کے ذریعہ ہم سے وعدہ کیا ہے کہ ہم میں سے جو مارا جائے وہ جنت میں جائے گا اور جو باقی رہے گا اس کو مخالفین کے مقابلہ میں اللہ کی مدد حاصل ہوگی۔

یزدگرد نے خفا ہو کر اپنے آدمیوں کو حکم دیا کہ ایک ٹوکرا مٹی لاؤ اور ان میں جو سب سے زیادہ شریف ہو اس کے سر پر رکھ کر ان کو بھیج دو یہاں تک کہ وہ مدائن کی سرزمین سے باہر نکل جائیں۔ انہوں نے یعتی عاصم بن عمر و کے سر پر رکھ دی۔ وہ اس کو لے کر ایرانی دربار سے نکلے اور اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر اپنے سردار سعد بن ابی وقاص تک پہنچ گئے۔ سعد بن وقاص ی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو انھوں نے کہا:

البشر و انقد واللہ اعطانا اللہ مقالید۔ مللہم خوش ہو جاؤ۔ خدا کی قسم اللہ نے ان کے ملک کی (نقائلوا باذن اللہ اخذھم بلادھم) ) البدایہ والنہایہ جلد ۶ صفحہ ۴۱ کنجیاں ہم کو دے دیں۔ حق کی مخالفت کرنے والوں کے دل میں مرعوبیت ڈال دی جاتی ہے جنگ یرموک کے زمانہ کا واقعہ ہے۔ جرجہ نام کا ایرانی سردار اپنے لشکر سے باہر آیا اور خالد بن ولید ی اللہ عنہ سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ خالد بن ولید بھی نکلے اور جرجہ کے اتنے قریب پہنچ گئے کہ دونوں کے گھوڑوں کی گردنیں مل گئیں۔ جرجہ نے کہا اے خالد! مجھے بتاؤ اور بالکل سچ بولو۔ کیونکہ آزاد آدمی جھوٹ نہیں بولتا۔ اللہ نے تمہارے پیغمبر پر آسمان سے کوئی تلوار اتاری ہے اور وہ تلوار انھوں نے تم کو دے دی ہے۔ جس کے اوپر بھی حملہ کرتے ہو اس کو شکست دے دیتے ہو۔ خالد رض نے کہا نہیں۔ جرجہ نے کہا پھر تم کو سیف اللہ کیوں کہا جاتا ہے۔ خالد رض نے کہا: اللہ نے ہمارے درمیان اپنا پیغمبر بھیجا۔ ہم میں سے کچھ لوگوں نے اس کو مانا، کچھ میں جھٹلانے والوں میں تھا۔ پھر اللہ نے ہمارے دلوں اور پیشانیوں کو اپنی گرفت میں لے لیا ہم کو ہدایت دی اور ہم نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کر لی:

فقال لى انت سيف من سيوف الله سلــہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری بابت فرمایا کہ تم اللہ اللہ على المشـركين ودعالی بالنصر کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہو جس کو اللہ نے مشرکین کے فسمیت سیف اللہ یدك (البدایہ والنہایہ) اوپر نکالا ہے اور آپ نے میرے لئے نصرت کی دعا فرمائی۔ اس وقت سے میرا نام سیف اللہ پڑ گیا ۔

بندوں کی مدد کرنے والا کبھی خدا کی مدد سے محروم نہیں ہوتا ۶۱۰ کی ایک شب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غار حرا میں تھے۔ خدا کا فرشتہ آیا اور کہا کہ پڑھ“۔ جواب دیا ما انا بقاری (میں پڑھا نہیں ہوں) آپ فرماتے ہیں کہ فرشتہ نے مجھ کو پکڑا اور دبایا۔ یہاں تک کہ اس کا دباؤ میری طاقت کی انتہا کو پہنچ گیا۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا ”پڑھ‘‘ میں نے پھر کہا کہ میں پڑھا نہیں ہوں، اس نے مجھے پکڑا اور دوبارہ اس طرح دیو چالہ اس کا دبو چنا میری طاقت کی انتہا کو پہنچ گیا۔ پھر اس نے

مجھے چھوڑ دیا اور کہا کہ پڑھ“ میں نے کہا کہ میں پڑھا نہیں ہوں ۔ اس نے تیسری بار یہ عمل کیا اور کہا: سیا پرور دگار کے نام سے جو ہمہ گیر محبت اور اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اِقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے انسان کو پیدا کیا جمے ہوئے خون سے ۔ پڑھ اور تیرا رب بڑا کریم ہے ۔ یہ قرآن کی پہلی آیت تھی جو آپ پر اتری۔ اس کے بعد آپ اپنی بیوی خدیجہ بنت خویلد کے پاس مکہ آئے ۔ اس وقت آپ کا دل کانپ رہا تھا۔ آپ نے کہا زملونی ( مجھے کمبل اڑھا ؤ ، مجھے کمبل اڑھا ؤ گھر والوں نے آپ کو اڑھا کر لٹا دیا۔ جب آپ کی دہشت کم ہوئی تو آپ نے اپنی سن رسیدہ بیوی خدیجہ سے پوری کیفیت بیان کی اور کہا کہ یہ واقعہ اتنا سخت تھا کہ مجھے اپنی جان کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ خدیجہ نے کہا : كلا والله ما يخزيك الله ابدا - انك لتصل الرحم وتحمل الكل وتكسب المعدوم وتقري الضيف وتعين على نوائب الحق خدا کی قسم اللہ آپ کو بھی رسوا نہ کرے گا۔ رشتہ داروں کے حقوق ادا کرتے ہیں کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے بے سہارا لوگوں کو کمانے کے قابل بناتے ہیں۔ نوازی کرتے ہیں اور مصیبت کے وقت لوگوں کی مدد کرتے ہیں ایمان آدمی کے اندر فراست پیدا کرتا ہے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مکہ سے مدینہ کے لئے ہجرت کی تو ان کے ساتھ عیاش بن ابی ربیعہ بھی تھے۔ یہ لوگ مدینہ پہنچ کر بنی عمرو بن عوف کے یوہاں ٹھہرے۔ ابو جہل بن ہشام اور حارث بن ہشام اس کے بعد عیاش کی کھوج میں نکلے۔ وہ دونوں ان کے قریبی رشتہ دار تھے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی مکہ میں تھے ۔ وہ دونوں مدینہ پہنچے اور عیاش سے ملے اور ان سے باتیں کیں۔ انہوں نے عیاش سے کہا: تمھاری ماں نے قسم کھائی ہے کہ اس کے سر کو کنگھی نہ چھوئے گی اور نہ وہ دھوپ سے سایہ میں آئے گی جب تک تم کو دیکھ نہ لے‘۔ یہ باتیں سن کر عیاش کو اپنی ماں پر رحم آگیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: یہ لوگ تم کو تمھارے دین سے پھیر دینا چاہتے ہیں اس لئے تم ان سے بچ کر رہو:

فواللہ لو قد آذی امک القمل لا متشطت ولو قد اشتد عليها حر مكة لا استظلت (البدایہ والنہایہ جلد ۳)

خدا کی قسم جب تمھاری ماں کو جوں کاٹے گی تو ضرور وہ کنگھی کرے گی اور جب اس کو مکہ کی گرمی ستائے گی تو ضرور وہ سایہ میں لے جائے گی۔

عیاش نے کہا میں چاہتا ہوں کہ ماں کو اس کی قسم سے بری کر دوں اور ہاں میرا مال ہے اس کو کبھی لے لوں پھر واپس چنانچہ وہ مکہ کے لئے روانہ ہو گئے ۔ وہاں ان کے رشتہ داروں نے ان کو رسی میں باندھ دیا اور طرح طرح سے تکلیف دینا شروع کیا۔ یہاں تک کہ وہ اسلام کو چھوڑ کر اپنے آبائی دین میں واپس چلے گئے۔ خدا کی رحمت وہی پاتا ہے جو خود بھی رحمت کرے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو انسانوں پر رحم نہ کرے، اللہ بھی اس پر رحم نہیں کرتا (من لا یرحم الناس لا یرحمه اللہ) پے | اُمیدواروں نے اپنے کاغذات نامزدگی Scanned with CamScanner

Printed page