خدا کی عینک سے
Al-Risala, May 1981, p. 2
By Maulana Wahiduddin Khan
اگر آپ صاف شیشہ کی عینک لگائیں تو ہر چیز آپ کو اپنے اصلی رنگ میں دکھائی دے گی۔ لیکن اگر آپ کی آنکھ پر رنگین شیشہ والی عینک ہو تو ہر چیز کا رنگ مصنوعی ہو جائے گا۔ چیز آپ کو اس رنگ میں رنگی ہوئی دکھائی دے گی جو کہ آپ کی عینک کا رنگ ہے۔ یہی حال انسانی ذہن کا ہے۔ ہر آدمی جب دوسرے کو دیکھتا ہے تو وہ اس کو اپنے ذہن کی "عینک" سے دیکھتا ہے۔ اگر اس کی عینک کا شیشہ صاف ہے تو ہر چیز اپنے اصلی رنگ میں دکھائی دے گی۔ اور اگر اس کی عینک کا شیشہ رنگین ہو تو کوئی چیز خواہ حقیقت میں کیسی ہی ہو، اس کے اپنے دیکھنے میں ویسی ہی دکھائی دے گی جیسا کہ اس کی اپنی عینک کا رنگ ہے۔ آدمی کا ذہن یا تو خدائی ذہن ہوتا ہے یا ذاتی ذہن۔ وہ دوسروں کو یا تو خدا کی عینک سے دیکھتا ہے، یا اپنی ذاتی پسند کی عینک سے۔ یہ دونوں طریقے ایک دوسرے سے بالکل خدا کی عینک سے دیکھنے والا دوسروں کو حقیقت واقعہ کی نگاہ سے دیکھتا ہے نہ کہ اپنی متاثر نگاہ سے۔ وہ ہر آدمی کو ویسا ہی دیکھتا ہے جیسا کہ وہ فی الواقع ہے۔ کیونکہ خدا کے دیکھنے کا طریقہ یہی ہے۔ مگر دوسرے آدمی کا طریقہ اس سے مختلف ہوتا ہے۔ وہ ہر آدمی کو اپنے مفاد اور اپنی عصبیت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ جس آدمی سے اس کی دوستی ہے وہ اس کو اچھی صورت میں دکھائی دیتا ہے اور جس سے اس کا بگاڑ ہے وہ بری صورت میں۔ جو آدمی اس کے اپنے حلقہ کا ہے وہ اگر اس کو "سفید" نظر آئے تو دوسرے حلقہ کا آدمی اس کو "کالا" نظر آتا ہے۔ مومن وہ ہے جو ہر آدمی کو خدا کی نگاہ سے دیکھے نہ کہ اپنی ذاتی نگاہ سے۔ جو شخص چیزوں کو خدا کی نظر سے دیکھنے لگے وہ ایک بے پناہ انسان بن جاتا ہے۔ ہر ایک سے وہی معاملہ کرتا ہے جو باعتبار واقعہ اسے کرنا چاہئے۔ وہ دنیا کے لحاظ سے ایک حقیقت پسند انسان بن جاتا ہے اور آخرت کے لحاظ سے ایک صالح انسان۔