Al-Risala · May 1981

واعظ کون کرے

Al-Risala, May 1981, pp. 10–11

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک بزرگ نے فرمایا : وعظ وہ شخص کرے جس کو وعظ کا کم سے کم اتنا تقاضا ہو جتنا ایک شخص کو رفع حاجت کا ہوتا ہے ۔ وعظ کا مطلب ریکارڈ بجانا نہیں ہے اور نہ یہ مقصد ہے کہ ایک شاندار تقریر کر کے لوگوں سے یہ دادلی جائے کہ خوب بولے۔ وعظ کا مطلب اپنے اندرون کو انڈیلنا ہے ، ایک پائی ہوئی حقیقت کو دوسروں تک پہنچانا ہے۔ ایک چھپی ہوئی بات کو لوگوں پر کھولنے کے لئے زندہ گواہ بن کر کھڑا ہونا ہے۔ اس قسم کا وعظ محض کچھ الفاظ بولنا نہیں بلکہ ایک مشکل ترین عمل کرنا ہے۔ کوئی شخص حقیقی معنوں میں یہ عمل اسی وقت کر سکتا ہے جب کہ وہ اپنی بات کو کہنے کے لئے اتنا مضطرب ہو چکا ہو کہ وہ محسوس کرے کہ اس کو ہر قیمت پر اپنی بات لوگوں تک پہنچانی ہے ، خواہ اس کے لئے لوگ اس سے ناراض ہو جائیں اور خواہ اس کی راہ میں اس کو اپنا سب کچھ کھودینا پڑے۔

یہی معاملہ تحریر کا بھی ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ اتنا زیادہ مطالعہ کرے کہ معلومات اس کے ذہن سے ابلنے لگیں۔ متعلقہ موضوع پر جو ذخیرہ تیار ہو چکا ہے اس کو چھاننے کے بعد وہ محسوس کرے کہ اب بھی کچھ لکھنے کے لئے باقی ہے۔ اس کا حال یہ ہو جائے کہ اس کی معلومات تھامے نہ تھمیں اور اس کی بے تابی روکے نہ رکے ۔ جب یہ نوبت آ جائے اس وقت آدمی کو لکھنے کے لئے اٹھنا چاہئے۔ اس کے بغیر جو لوگ لکھیں وہ صرف سفید کاغذ کو سیاہ کرنے کا کام کریں گے اور اس کے بغیر جو لوگ بولیں وہ صرف فضائی شور و غل میں اضافہ کا باعث ہونگے اس طرح کا لکھنا اور بولنا نہ سننے والوں کو کوئی فائدہ دیتا ہے اور نہ سنانے والوں کو۔ وعظ کا وعظ کوئی کھیل تماشا نہیں ، وہ بندوں کے سامنے خدا کی نمائندگی ہے۔ کام کو کرنے کا حق صرف اس شخص کو ہے جو اپنی ہستی کو خدا میں گم کر دے۔ جو لوگ اس کے بغیر واعظ بنیں وہ حقیقتاً مجرم ہیں نہ کہ واعظ۔

البرٹ آئن سٹائن (۱۹۵۵ء-۱۸۷۹ء) نے زمان ومکان کے بارے میں جو نظریہ پیش کیا تھا۔ نے اس کو غیر معمولی شہرت دی۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ آئن سٹائن کی سائنسی قیمت حقیقتًا اس سے کم تھی جتنی اس کو شہرت حاصل ہوئی۔ اس کی وجہ کیا تھی۔ اس کی ایک توجیہہ یہ کی گئی ہے کہ آئن سٹائن کی تحقیقات کا تعلق کائنات کی ابدی حقیقتوں سے تھا اور جو آدمی کائنات کی ابدی حقیقتوں میں جھانکنے کی کوشش کرتا ہے وہ لوگوں کی نظر میں خصوصی اہمیت حاصل کر لیتا ہے۔ ایک مبصر نے لکھا ہے :

Whoever finds that which enables us to obtain a deeper glimpse into the eternal secrets of nature has been given great grace. That was the grace of Albert Einstein’s unique greatness — to try to find The Hindustan Times, March 15, 1981 جو شخص کوئی ایسی دریافت کرتا ہے جو ہم کو اس قابل بنائے کہ ہم فطرت کے رازوں کی کوئی گہری جھلک دیکھ سکیں اس کو بہت زیادہ عزت دی جاتی ہے۔ البرٹ آئن سٹائن کو جو خصوصی عزت ملی وہ اسی لئے تھی کہ اس نے اس قسم کے افکار تک پہنچنے کی کوشش کی۔

کائنات کی ابدی حقیقتوں کو جاننے کی خواہش انسان کی فطرت میں اس طرح سمائی ہوئی ہے کہ وہ کسی طرح اپنے کو اس سے الگ نہیں کر سکتا۔ قدیم ترین زمانہ سے انسان فطرت کے ابدی رازوں کی کھوج میں رہا ہے۔ مگر ابھی تک وہ ان کو پا نہ سکا۔ انسان اگر اپنی ذاتی کوششوں سے اس حقیقت تک نہیں پہنچا تو وہ اس کے لئے معذور تھا۔ کی محدودیت اس کی راہ میں فیصلہ کن طور پر حائل تھی۔ تاہم سوال یہ ہے کہ قدیم ترین زمانہ سے پیغمبر اس راز سے پردہ ہٹاتے رہے ہیں۔ پھر تلاش کے باوجود انسان نے کیوں پیغمبروں کے جواب کو نہیں مانا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ پیغمبر کا جواب اپنے ساتھ جزا و سزا اور جنت و جہنم کا تصور لاتا ہے۔ وہ انسان سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ اپنی آزاد زندگی کو ختم کر دے اور زمین پر ایک قسم کی پابند زندگی گزارے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان اپنی تلاش کے پیغمبرانہ جواب کو ماننے پر تیار نہیں ہوتا۔ وہ برابر اس کوشش میں رہتا ہے کہ وہ فطرت کے رازوں کا کوئی ایسا حل دریافت کرے جو اس کی تلاش کا جواب تو ہو مگر وہ اس کی زندگی پر کوئی پابندی نہ لگائے ، وہ اس کو مستقبل کے اندیشوں میں مبتلا کرنے والا نہ ہو۔ بے شمار لوگ نام نہاد روحانی شخصیتوں کے جواب کو مان لیتے ہیں، مگر وہ پیغمبروں کے جواب کو ماننے پر راضی نہیں ہوتے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ روحانی شخصیتوں کے جواب میں صرف روحانی آنند ہے، اس میں روحانی کھٹک کا کوئی خانہ نہیں۔ جب کہ پیغمبروں کا جواب آدمی سے اس کی آزادی چھین لیتا ہے، وہ زندگی بھر کے لئے آدمی کو آخرت کے اندیشے میں مبتلا کر دیتا ہے۔ کامیابی کا راز حقیقت سے مطابقت میں ہے نہ کہ حقیقت سے فرار میں ۔ اگر اصل حقیقت وہی ہو جس کی طرف پیغمبروں نے رہنمائی کی ہے تو اس کے سوا کسی اور حقیقت کی تلاش میں لگنا اپنے وقت کو ضائع کرنا ہے۔ فی الواقع موجود نہ ہو اس کو کوئی شخص کہاں سے برآمد کر سکتا ہے۔

Printed page