Al-Risala · May 1981

دلیل کو نہ ماننا خدا کو نہ ماننا ہے

Al-Risala, May 1981, pp. 12–17

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی دوسری سورہ میں ارشاد ہوا ہے کہ پتھروں میں بعض ایسے پتھر ہیں جو اللہ کے خوف سے گر پڑتے ہیں (وَاِنَّ منها لما يهبط من خشية الله ، بقرہ ۷۴) اس آیت میں ہبوط سے مراد پہاڑ کے اوپر سے پتھر کا لڑھک کر گرنا (Landslide) ہے۔ پہاڑوں کے اوپر سے پتھروں کا گرنا در اصل ایک تمثیل ہے کہ انسان کو کس طرح خدا کے آگے گر پڑنا چاہیے۔ پتھر کا ہبوط انسان کے ہبوط کو ممثل کرتا ہے۔ اس صورت حال کی ایک مثال حضرت عمر فاروق کا واقعہ ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو صحابہ شدید طور پر متاثر ہوئے۔ حضرت عمر کے لئے یہ یقین کرنا مشکل ہو گیا کہ آپ کی وفات ہو گئی ہے۔ وہ مسجد نبوی میں تلوار لے کر کھڑے ہو گئے اور کہنا شروع کیا کہ کچھ منافقین یہ سمجھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے۔ خدا کی قسم رسول اللہ کی وفات نہیں ہوئی ہے۔ وہ اپنے رب کے پاس گئے ہیں جیسے حضرت موسیٰ اپنے رب کے پاس گئے تھے۔ وہ اپنی قوم سے چالیس دن تک غائب رہے یہاں تک کہ لوگ کہنے لگے کہ موسیٰ کی وفات ہو گئی ۔ خدا کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح واپس آئیں گے جس طرح حضرت موسیٰ واپس آئے۔ پھر آپ ان لوگوں کے ہاتھ اور پاؤں کاٹیں گے جو یہ سمجھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی ہے۔

اس کے بعد حضرت ابوبکر آئے اور کہا کہ اے عمر چپ رہو۔ مگر وہ چپ ہونے پر راضی نہ ہوئے۔ حضرت ابو بکر نے دیکھا کہ حضرت عمر چپ نہیں ہو رہے ہیں تو لوگوں کے سامنے کھڑے ہو کر تقریر شروع کر دی۔ تقریر میں حضرت ابو بکر نے فرمایا کہ اے لوگو سنو، جو شخص محمد کی پوجا کرتا تھا تو محمد کا انتقال ہو گیا ۔ اور جو شخص اللہ کو پوجتا تھا تو اللہ زندہ ہے، اس پر کبھی موت نہیں آئے گی۔ اس کے بعد حضرت ابو بکر نے بلند آواز سے قرآن کی یہ آیت پڑھی: محمد اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک رسول ہیں۔ ان سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔ پھر کیا اگر وہ مر جائیں یا قتل کر دئے جائیں تو تم لوگ الٹے پاؤں پھر جاؤ گے۔ اور جو کوئی الٹے پاؤں پھرے گا وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا۔ اور اللہ شکر کرنے والوں کو ثواب دے گا (آل عمران ۱۴۴)

اس آیت کو سننے کے بعد حضرت عمر فاروق کا جو حال ہوا وہ ان کے اپنے الفاظ میں یہ تھا : فواللہ ما ہو الا ان سمعت ابا بکر تلاها خدا کی قسم جب ابو بکر نے یہ آیت پڑھی تو اس کو سن کر میں فعقرت حتی وقعت الى الارض ما تحملنی دہشت زدہ ہو گیا۔ یہاں تک کہ میں زمین پر گر پڑا ، رجلاى وعرفت ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے دونوں پاؤں میرا بوجھ نہ اٹھا سکے اور میں نے

قدمات (سیرۃ ابن ہشام جلد ۳ صفحہ ۳۳۵) جان لیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاگئے خدا کی دلیل آتے ہی عمر فاروق کا گر پڑنا عین ویسا ہی تھا جیسے پتھر بلندی سے گر پڑتا ہے، پتھر کا ہبوط خشیت کی تمثیل ہے اور عمر فاروق کا ہبوط خشیت کی تعمیل ۔ اللہ کو یہ مطلوب ہے کہ جب اس کی کوئی بات سامنے آجائے تو آدمی ڈھٹائی نہ کرے بلکہ وہ خدا کے خوف سے اس کے آگے گر پڑے ، وہ گر پڑنے کی حد تک اس کو اس گر پڑنے کو خدا نے ہبوط حجری کی صورت میں ممثل کردیا۔ اس نے پتھر کی صورت میں انسان کو دکھا دیا کہ جب کوئی خدائی معاملہ سامنے آ جائے تو کس طرح اختیار کے باوجود وہ بے اختیار مخلوق کی طرح خدا کے آگے ڈھہ پڑے۔ عمر فاروق کے سامنے جب اس قسم کا لمحہ آیا تو وہ اللہ کے حکم کے آگے بالکل بے اختیار ہو کر گر پڑے۔ ہبوط حجری اور ہبوط عمری دونوں ایک ہی حقیقت کے دو رخ ہیں۔ ایک جگہ یہ حقیقت بے اختیاری کے ساتھ ظاہر ہو رہی ہے اور دوسری جگہ اختیار اور آزادی کے ساتھ۔ عمر فاروق کا یہ عمل اتنا کامل تھا کہ وہ خدا کی مقرر کردہ تمثیلی میزان سے ناپنے میں عین اس کے مطابق اترتا ہے۔ حضرت عمر کے سامنے اس وقت جو چیز آئی وہ بس قرآن کی ایک آیت تھی۔ یعنی بولے ہوئے چند الفاظ۔ اس مجموعہ الفاظ کو ماننے سے انکار کر سکتے تھے۔ اگر وہ اپنی بڑائی کو باقی رکھنے کی خاطر اسے ٹھکرا دیتے تو قدیم عرب میں بہت سے لوگ آپ کا ساتھ دینے والے مل جاتے۔ اس کے علاوہ وہ اپنے قول کی خوبصورت تاویل بھی کر سکتے وہ کہہ سکتے تھے کہ میں وفات رسول کا منکر نہ تھا۔ میں تو صرف یہ چاہتا تھا کہ خلافت کا مسئلہ حل ہو جانے تک آپ کی وفات کو راز میں رکھا جائے۔ خلافت کا مسئلہ حل ہو جانے کے بعد اس کا اعلان کیا جائے۔ مگر انہوں نے نہ تو اس کا انکار کیا اور نہ تاویل کے ذریعہ اپنی ساکھ کو بحال رکھنے کی کوشش کی۔ اس کے بجائے وہ دلیل کی صورت میں ظاہر ہونے والے خدا کے آگے اس طرح گر پڑے جیسے کہ خدا خود عیاناً ان کے سامنے آکر کھڑا ہو گیا ہو۔ دنیا میں ہمیشہ دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو خدا کی عظمتوں میں جی رہے ہوں۔ جو کسی غیر خدائی عظمت میں سانس لیتے ہوں، خواہ یہ غیر خدا ان کی اپنی ذات ہو یا کوئی اور ۔ پہلی چیز کا نام توحید اور دوسری چیز کا نام شرک ہے۔ جنت صرف ان خوش قسمت افراد کے لئے ہے جو خدا کی بڑائی میں جیتے ہوں، جن کی روح نے خدا کی عظمت میں اپنی غذا پائی ہو۔ اس کے برعکس جو لوگ دوسری دوسری عظمتوں کو اپنی روح کی خوراک بنائے ہوئے ہوں وہی وہ لوگ ہیں جو جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ جنت خدا کا پڑوس ہے اور خدا کا پڑوس انھیں لوگوں کو مل سکتا ہے جو خدا میں جئے ہوں۔ جو لوگ دوسری دوسری چیزوں میں جئیں وہ خدا کے پڑوس میں کیونکر بسائے جاسکتے ہیں۔

خدا کے جتنے نبی آئے وہ سب عام انسانوں کی طرح ایک انسان تھے۔ ان کے پاس جو مزید چیز تھی

وہ صرف بینہ (دلیل) تھی۔ اسی دلیل کے ماننے یا نہ ماننے پر قوموں کے لئے انعام یا سزا کا فیصلہ کیا گیا۔ مطلب یہ ہے دلیل دنیا کی زندگی کی خدا کا نمائندہ ہے۔ خدا کا پانے والا وہ ہے جو دلیل کے روپ میں خدا کو پالے۔ جو شخص دلیل کے روپ میں ظاہر ہونے والے خدا کو نہ پائے وہ خدا کے نزدیک اندھا ہے۔ اس کے لئے خدا کی رحمتوں میں دنیا میں کوئی حصہ نہیں۔

خدا کو دلیل کے روپ میں پانا کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ حق کی وضاحت جب دلیل کی زبان میں ہو جائے تو اس کے وزن کو محسوس کرنے میں آدمی کے لئے کوئی چیز رکاوٹ نہ بنے۔ دلیل کا فیصلہ خواہ اپنی رائے کی موافقت میں جارہا ہو یا اس کے برعکس ہو۔ دلیل سے ثابت ہونے والی بات اپنی مصلحتوں کے مطابق ہو یا اس کے خلاف ہو۔ دلیل سے جو بات نکل رہی ہو اس میں اپنے فائدے باقی رہتے ہوں یا مجروح ہوتے ہوں، ہر حال میں آدمی دلیل کے وزن کو پوری طرح محسوس کرے۔ کوئی بھی نفسیاتی پیچیدگی یا دنیوی مفاد اس کے اوپر ایسا غالب نہ آئے کہ وہ دلیل کو دلیل کی صورت میں نہ دیکھ سکے۔ جب بھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی دلیل کے وزن کو محسوس نہیں کر پاتا تو اس کی وجہ صرف یہ ہوتی ہے کہ وہ خدا کے سوا کہیں اٹکا ہوا ہوتا ہے۔ اگر وہ ہر قسم کی غیر خدائی عظمتوں سے بلند ہو تو دلیل کے وزن کو پانا اس کے لئے کبھی مشکل نہ ہوگا۔ موجودہ دنیا میں خدا اور دلیل کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور آخرت میں خدا خود اپنی ذات کمال کے ساتھ عیانًا لوگوں کے سامنے ظاہر ہو جائے گا۔ قیامت میں ہر آدمی خدا کو ماننے پر مجبور ہوگا۔ مگر مومن اور موحد وہ ہے جو دلیل کی صورت میں ظاہر ہونے والے خدا کے سامنے آج اسی طرح ڈھ پڑے۔ غیر مومن اور غیر موحد کل قیامت کے دن خدا کے سامنے ڈھ پڑے گا جب کہ وہ فرشتوں کے جلو میں عیانًا انسان کے سامنے ظاہر ہو جائے گا۔

خدا کی بات کے سامنے جھک جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی خدا کے معاملہ میں پوری طرح سنجیدہ ہے۔ ایک بچہ انگارہ کو ہاتھ میں اٹھا سکتا ہے۔ مگر ایک با ہوش آدمی کبھی آگ کے انگارہ کو ہاتھ میں نہ لے گا۔ جانتا ہے کہ انگارہ کے مقابلہ میں اس کا ہاتھ کمزور ہے۔ اس کا یہ یقین اس کو انگارہ کے بارے میں آخری حد تک سنجیدہ بنا دیتا ہے۔ انگارہ کے معاملہ کو وہ کبھی غیر سنجیدہ انداز میں نہیں لیتا۔ اسی طرح جس شخص کو خدا کی معرفت حاصل ہو کہ جو خدا کے عظمت و کمال کو پاگیا ہو وہ خدا کا معاملہ آتے ہی فوراً سنجیدہ ہو جائے گا۔ طاقت انگارہ کی طاقت سے بے حساب گنا زیادہ ہے۔ پھر انگارہ کا علم جب آدمی کو پوری طرح سنجیدہ بنا دیتا ہے تو خدا کا علم اس کو کیوں سنجیدہ نہیں بنائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کی بات آجانے کے باوجود جو شخص سنجیدہ نہ ہو وہ صرف اس کا ثبوت دے رہا ہے کہ خدا کے زبانی اقرار کے باوجود اس کو خدا پر یقین نہیں۔

نظر انداز کرو ”میں تمھاری صورت دیکھنا نہیں چاہتا‘‘، کہنئے والے نے کہا ”اپنی آنکھیں بند کر لو، میری صورت تمھیں دکھائی نہیں دے گی‘‘ ”میں تمھاری آواز سننا نہیں چاہتا‘‘ کہنے والے نے دوبارہ کہا ”اپنے کان بند کر لو، میری آواز تمھیں سنائی نہیں دے گی‘‘ راما ئن کے دو کرداروں کا یہ سادہ مکالمہ زندگی کی بہت بڑی حقیقت بیان کر رہا ہے۔ یہ حقیقت کہ جس مسئلہ سے نجات حاصل کرنے کے لئے آدمی دوسروں کے پیچھے دوڑتا ہے، اس کو وہ اپنے آپ پر عمل کر کے زیادہ بہتر طور پر حل کر سکتا اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب آدمی کو کسی دوسرے شخص سے کوئی شکایت پیدا ہوتی ہے تو وہ فوراً اس شخص کے خلاف کارروائی شروع کر دیتا ہے اور پھر جو نتیجہ نکلتا ہے وہ یہ کہ نہ صرف پہلا مسئلہ بدستور باقی رہتا ہے بلکہ بے شمار نے نئے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔ ایسے ہر مسئلہ کا زیادہ آسان اور یقینی حل یہ ہے کہ آدمی اپنے ذہن کو اس سے ہٹائے، اس سے الجھ کر اپنا وقت ضائع کرنے کے بجائے اپنے آپ کو زیادہ مفید کاموں میں مصروف رکھے۔ کسی مفکر نے بالکل صحیح کہا ہے کہ ”دوسروں کے پیچھے پڑنے کے بجائے اپنے پیچھے پڑو، کیونکہ اپنے آپ کو پکڑ کر تم زیادہ بہتر طور پر دوسرے کو پکڑ سکتے ہو‘‘، اکثر لوگ زندگی کے اس راز کو نہیں جانتے۔ وہ اپنی طاقت اور اپنے وقت کا بڑا حصہ اپنے مفروضہ مخالفین کو سبق سکھانے میں ضائع کر دیتے ہیں۔ اگر وہ اس طاقت اور وقت کو اپنی تعمیر میں لگائیں تو اپنے کو مضبوط اور کامیاب بنا کر وہ زیادہ کامیابی کے ساتھ اپنے مخالفین کو سبق دے سکتے ہیں۔ حقیقت ہے کہ دوسرے شخص کی برائی کو نظر انداز کرنا ہمیشہ اس سے مقابلہ کرنے کا زیادہ کامیاب طریقہ ہوتا ہے ۔ آپ کی بڑھی ہوئی طاقت آپ کے مخالف کو مرعوب کر کے بھادیتی ہے۔ وہ آپ کے خلاف مزید کارروائی کرنے کا حوصلہ کھو دیتا ہے۔ اس کے برعکس جب آپ برائی کرنے والے سے اپنے کو الجھا دیں تو یہ ہمیشہ تھوڑے نقصان کو بچانے کی خاطر بڑے نقصان کو برداشت کرنے کی قیمت پر ہوتا ہے۔ اس طرح آپ اپنے وقت اور قوت کو بھی ضائع کرتے ہیں اور دوسرے کو موقع دیتے ہیں کہ وہ اپنے اندر چھپی ہوئی مزید برائیوں کے ساتھ آپ کے اوپر پل پڑے۔ سماج کی ملی جلی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ہم کو کسی کی بات سے تکلیف پہنچتی ہے۔ کسی کا کوئی کام ہمارے لئے پریشانی کا باعث بن جاتا ہے۔ ایسے مواقع پر تکلیف ہونا فطری ہے۔ مگر ایسے مواقع پر سہارے کام لینے ہی میں ہر قسم کی ترقی کا راز چھپا ہوا ہے۔ اگر ہم برداشت نہ کریں اور پھر کر دوسرے سے لڑنے لگیں تو اس سے مسئلہ حل نہیں ہوتا بلکہ اور بڑھ جاتا ہے۔ کیونکہ ہمارے بھرنے سے دوسرا شخص بھی پھرتا ہے اور بات بڑھتی چلی جاتی ہے۔ دوسرے کو برباد کرنے کی کوشش میں ہم خود اپنے آپ کو برباد کر لیتے ہیں۔

ایک شخص ایک مکان کی اوپر کی منزل پر رہتا تھا۔ نیچے خالی جگہ تھی جہاں لڑکے کبھی کبھی آ کر کھیلتے اور شور

مچاتے اوپر والے کو لڑکوں کا شور پسند نہ تھا۔ اس نے منع کیا مگر لڑکے نہ مانے آخر ایک دن غصہ میں آکر اس نے کیا کہ لڑکوں کے اوپر چھت سے گندا پانی گرا دیا۔ لڑکے اس میں بھیگ گئے۔ اب لڑکوں کے غصہ کی باری تھی۔ نے آپے سے باہر ہو کر چھت کی طرف اینٹ کے ٹکڑے پھینکنے شروع کئے جو نیچے پڑے ہوئے تھے۔ ایک ٹکڑا آکر واش بیسن پر گرا جو اوپر والے کے مکان میں باہر کی جانب لگا ہوا تھا۔ چینی کا واش بیسن فوراً ٹوٹ گیا۔ لڑکے تو چند منٹ کے بعد بھاگ گئے مگر اس کا ٹوٹا ہوا قیمتی واش بیسن اس واقعہ کی افسوس ناک یادگار بن کر باقی رہ گیا۔ آدمی نے لڑکوں کے شور کی طرف سے اپنے کان بند کر لئے ہوتے تو وہ شور سے بھی بچ جاتا اور واش بیسن کے نقصان سے بھی۔ کھونا بھی پا نا ہے ”حادثات آدمی کو ہیرو بنا دیتے ہیں“ کسی مفکر کا یہی قول لوئی بریل (۱۸۵۲۔ ۱۸۰۹) کی زندگی پر پوری طرح صادق آتا ہیں۔ لوئی بریل ایک بڑھئی کا لڑکا تھا۔ ابھی وہ تین سال کا تھا کہ باپ کی دکان میں ایک حادثہ ہونے کی وجہ سے اس کی آنکھیں جاتی رہیں۔ وہ ہمیشہ کے لئے اندھا ہو گیا۔ یہ فرانسیسی اندھا ہے جس نے تاریخ میں پہلی بار اندھوں کے لئے پڑھنے لکھنے کا وہ علامتی طریقہ ایجاد کیا جس کو اسی کے نام پر بریل کا طریقہ (Braille System) کہا جاتا ہے۔ لوئی بریل کے لئے بظاہر دنیا تاریک ہو چکی تھی۔ مگر اس کے شوق اور محنت نے تاریکی میں بھی ایک نئی روشنی کا راز دریافت کر لیا۔

اسی قسم کا واقعہ ہیلن کیلر (۱۹۶۸۔ ۱۸۸۹) کا ہے۔ یہ امریکی خاتون ابھی صرف ڈیڑھ سال کی تھی کہ ایک مہلک بخار میں وہ اندھی اور بہری ہو گئی۔ چونکہ وہ نہ دیکھ سکتی اور نہ سن سکتی تھی اس لئے وہ بولنا بھی نہ سیکھ سکی۔ کان دونوں سے محرومی نے اس کو بالکل بے بسی کی حالت میں ڈال دیا تھا۔ بظاہر اب ہیلن کیلر کے لئے ایک ہی انجام وہ کسی معذور خانہ میں کس مپرسی کی زندگی گزارتے ہوئے مرجائے۔ ہیلن کیلر نے آنکھ اور کان کھوئے تھے مگر اس نے ہمت نہیں کھوئی تھی۔ اس نے طے کیا کہ وہ آنکھ نہ ہوتے ہوئے دیکھے گی اور کان نہ ہوتے ہوئے سنے گی۔ خوش قسمت لوگوں کی مانند بنے گی جن کو قدرت کی طرف سے آنکھ اور کان حاصل ہوتے ہیں۔

جب آدمی عزم کرلے تو راہیں بھی کھلنے لگتی ہے۔ ہیلن کیلر کو اپنی مدد کے لئے ایک لائق ٹیچر مس سولیون مل گئی۔ ہیلن کیلر نے انگلی سے چھو کر پڑھنے والے حروف سیکھے۔ یہاں تک کہ اس کو پڑھنا آ گیا۔ بہری ہونے کے باوجود اس نے اپنی محنت سے بولنا سیکھ لیا۔ اس نے یہ کیا کہ اس کی استانی جب بولتی تو وہ اس کے حلق پر اور اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر حلق اور ہونٹ پر الفاظ کی حرکاتی شکل کو محسوس کرتی اور ان حرکتوں کو انگلی سے سمجھ کر اپنی زبان سے ان کی نقل کرتی۔ اس انوکھے قسم کی تعلیمی کوشش میں برسہا برس لگ گئے۔ مگر بالآخر اس کی کوشش کامیاب ہوئی۔ اس نے انگلیوں کی مدد سے الفاظ کی حرکتوں کو پہچانا اور ان کو اسی طرح دہرا کر بولنا سیکھ لیا۔ اب وہ باقاعدہ پڑھنے اور بولنے لگی۔ اس نے اپنی تعلیم میں اپنی انگلیوں کو آنکھ اور کان کا بدل بنالیا۔ انگلیوں کی مدد سے اس نے پڑھنا سیکھا اور انگلیوں ہی کی مدد سے بولنا بھی۔

مس سولیون سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ہیلن کیلر نے پرکن کے اندھوں کے کالج میں داخلہ لیا اور وہاں سے ۱۹۰۴ میں گریجویٹ ہو کر نکلی۔ اب اس نے لکھنا بھی سیکھ لیا۔ اس نے بہت سی کتابیں تصنیف کیں۔ دیکھنے اور سننے کی فطری استعداد سے محرومی کے باوجود اس نے تین زبانیں سیکھ لیں۔ انگریزی، فرانسیسی اور ہسپانوی۔ اس نے دنیا بھر کا سفر کر کے اندھوں کی تعلیم پر لیکچر دئے۔ اس کو ہارورڈ، گلاسگو، برلن اور دہلی کی یونیورسٹیوں نے اعزازی ڈگریاں دیں۔ اس کے علاوہ اس کو اور بہت سے عالمی اعزازات ملے۔

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ کوئی بڑا کارنامہ اکثر وہی لوگ انجام دیتے ہیں جو کسی بڑے حادثہ سے دو چار کسی کے ساتھ جب کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو وہ اس کے اندر کی کے احساس کو بے پناہ حد تک جگا دیتا ہے۔ وہ اس چیز کو پانے کے لئے دوسروں سے زیادہ بے تاب ہو جاتا ہے جس کو وہ کسی وجہ سے دوسروں سے بہت کم پائے اس کی یہ بیتابی اس کے اندر سوئی ہوئی بہت سی نئی صلاحیتوں کو ابھار دیتی ہے۔ دوسرے لوگ جس چیز کو صرف جزئی محنت سے لینا چاہتے ہیں اس کو وہ اپنی ساری شخصیت لگا کر حاصل کرنے کے لئے بے چین ہو جاتا ہے۔ اس کی یہ تڑپ اس کے اندر ایک نیا انسان جگادیتی ہے۔ "آنکھ سے محروم ہونے والا اپنے" ہاتھ "سے پڑھنے کا راستہ نکال لیتا ہے۔ پیروں کو کھونے والا اپنی عقل کے ذریعہ اپنے سفر کی تدبیر کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ ایک اعتبار سے گھاٹا اٹھانے والا دوسرے اعتبار سے نفع حاصل کر کے آگے بڑھ جاتا ہے۔

حادثات بظاہر امکانات کا خاتمہ ہیں۔ مگر وہ ایک نئے آغاز کا سبب بن سکتے ہیں۔ وہ آدمی کے اندر نیا ارادہ ابھارتے ہیں۔ اس کی چھپی ہوئی قوتوں کو بر روئے کار لاتے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ "پائے ہوئے " آدمیوں کے مقابلہ میں " کھوئے ہوئے " آدمیوں نے زیادہ بڑے کارنامے انجام دئے ہیں۔

Printed page