ذمہ داری اپنی
Al-Risala, May 1981, pp. 17–26
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک مفکر نے ایک مرتبہ بہت عمدہ بات کہی۔ اس نے کہا، " آدمی ہر آن اپنے آپ کو ریڈیّٹ (Radiate) کرتا رہتا ہے " مطلب یہ ہے کہ آدمی جو عمل کرتا ہے اس کے ذریعہ سے وہ ماحول کے اندر اپنا تعارف پھیلاتا رہتا ہے۔ جس طرح ریڈیم کا ایک ٹکڑا اپنے گرد و پیش اپنی شعاعیں بکھیرتا ہے اسی طرح انسان اپنے ہر رویہ سے دوسروں کو بتاتا رہتا ہے کہ وہ کیا ہے اور کیا نہیں ہے۔
ایک دکان دار کا قصہ ہے ۔ اس نے اپنے یہاں حساب لکھنے کے لئے ایک منیب رکھا۔ پہلے دن کام کرنے کے بعد منیب نے دکان دار کے یہاں غسل کیا اور اس کے بعد نل کو بند نہیں کیا، اس کو کھلا چھوڑ کر اپنے گھر چلا گیا۔ دن منیب آیا تو دکان دار نے اس کو مہینہ بھر کی پوری تنخواہ پیشگی دیتے ہوئے کہا " اب آپ کل سے میرے یہاں آنے کی زحمت نہ کیجئے گا "
" کیوں " منیب نے حیرت کے ساتھ پوچھا " ابھی تو آپ نے صرف نل کو کھلا چھوڑا ہے "، دکان دار نے کہا " اسی طرح اگر کسی دن آپ نے میرے کاروبار میں کوئی دراز کھلا چھوڑ دیا تو میری ساری دولت اس کے راستہ بہہ
جائے گی اور میں دیوالیہ ہو کر رہ جاؤں گا"، ممکن ہے کہ دکان دار کے یہاں سے رخصت ہوتے ہوئے منیب نے اس کو دل ہی دل میں برا بھلا کہا ہو۔ اس کی نظر میں دکان دار بہت غلط آدمی ہو جس نے ذرا سی بات کو اتنا بڑھایا کہ اس کی ملازمت ختم کر دی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس واقعہ میں اصل غلطی منیب کی ہے نہ کہ دکان دار کی ۔ منیب کی لیاقت کو کوئی دکان دار صرف بہی کھاتہ کے صفحات میں نہیں دیکھے گا بلکہ اس کے ہر چھوٹے بڑے عمل کو دیکھ کر اس کے بارے میں رائے قائم کرے گا۔
اگر ماحول آپ کے ساتھ غلط رویہ اختیار کرے تو ہرگز ماحول کی شکایت نہ کیجیے کیونکہ ماحول تو صرف آپ کے عمل کا ردعمل پیش کرتا ہے۔ ماحول آپ کے ساتھ جو کچھ کر رہا ہے وہ خود آپ کے اس تعارف کا نتیجہ ہے۔ آپ نے ماحول کے اندر کرایا تھا مگر آپ ماحول کے اندر اپنا اچھا تعارف کرائیں تو ناممکن ہے کہ ماحول آپ سے اچھا سلوک نہ کرے۔ اگر ماحول کا سلوک آپ کی امیدوں کے خلاف ہو تو صرف اپنے کو قصور وار ٹھہرائیے کیونکہ ماحول آپ کے ساتھ اس کے سوا اور کچھ نہیں کرتا کہ وہ خود آپ کے عمل کے مئی کو آپ کی طرف لوٹاتا ہے۔ جو آپ نے ماحول کو دیا ہے وہی وہ آپ کو دے دیتا ہے۔ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔
جس طرح بے شمار چھوٹے چھوٹے نقطے اور لکیریں مل کر ایک تصویر بناتے ہیں، اسی طرح آپ کا ہر لمحہ کا عمل دیکھنے والوں کے ذہن میں آپ کا نقش ترتیب دیتا رہتا ہے۔ یہ ناممکن ہے کہ ماحول کی نظر میں آپ کی ایک تصویر نہ بنے اور یہ بھی ناممکن ہے کہ آپ کے ساتھ ماحول کا معاملہ اس کے سوا کسی بنیاد پر ہو جو آپ نے اپنے روزانہ کے عمل سے اسے دیا ہے۔ آدمی ہر وقت اپنی ایک تاریخ بنارہا ہے۔ کسی کی تاریخ اچھی ہے اور کسی کی بری۔ کسی کی تاریخ کتابوں میں لکھی جاتی ہے اور کسی کی صرف مقامی داستان ہو کر رہ جاتی ہے۔ ہر آدمی اپنے صفحہ میں ٹھیک ویسا ہی جانا جاتا ہے جیسا کہ اس نے اپنی تاریخ کے مطابق اپنے آپ کو بنایا ہے۔
آدمی ہر آن اپنے آپ کو ریڈیٹ کرتا رہتا ہے ۔ اس قول کو یاد رکھئے، ، اور پھر آپ کو بھی کسی سے شکایت نہ ہوگی، کیونکہ آپ خود بھی کسی کو شکایت کا موقع نہ دیں گے۔ اور اگر کسی کو شکایت کا موقع دیں گے تو پہلے سے اس کے لئے تیار رہیں گے کہ اس کی طرف سے آپ کو قابل شکایت بات برداشت کرنا ہے۔
آئینہ وہی دکھاتا ہے جو آپ فی الواقع ہیں۔ آئینہ میں کسی کے چہرہ پر دھبہ دکھائی دے تو وہ آئینہ سے نہیں لڑتا بلکہ خود اپنے دھبہ کو صاف کرتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ دھبہ چہرہ پر ہے نہ کہ آئینہ پر۔ اسی طرح ماحول سے اگر آپ کو کوئی شکایت پیدا ہو تو ماحول پر غصہ نہ کیجیے۔ ماحول تو عین وہی چیز پیش کر رہا ہے جو آپ نے اپنے بارے میں ماحول کو بتایا ہے۔ ایسے ہر موقع پر اپنے آپ پر نظرثانی کیجیے۔ آپ دیکھیں گے کہ اپنے آپ کو درست کرتے ہی ماحول کے آئینہ میں بھی آپ کی تصویر درست ہو گئی ہے ۔
اے بنی آدم ، ہم نے تم پر لباس اتارا جو تمھارے بدن کے قابل شرم حصوں کو ڈھانکے اور زینت بھی۔ اور تقویٰ کا لباس اس سے بھی بہتر ہے۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ لوگ غور کریں۔ اے آدم کی اولاد ، شیطان تم کو بہکا نہ دے جس طرح اس نے تمھارے ماں باپ کو جنت سے نکلوا دیا ، اس نے ان کے لباس اتروائے تاکہ ان کو ان کے سامنے بے پردہ کر دے۔ وہ اور اس کے ساتھی تم کو ایسی جگہ سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انھیں نہیں دیکھتے۔ شیطانوں کو ان لوگوں کا دوست بنا دیا ہے جو ایمان نہیں لاتے ۲۶ - ۲۷ ۔
دنیا کا نظام خدا نے اس طرح بنایا ہے کہ اس کی ظاہری چیزیں اس کی باطنی حقیقتوں کی علامت ہیں۔ چیزوں پر غور کر کے آدمی چھپی ہوئی حقیقتوں تک پہنچ سکتا ہے۔ اسی قسم کی ایک چیز لباس ہے۔ خدا نے انسان کو لباس دیا جو اس کی حفاظت کرتا ہے اور اسی کے ساتھ اس کے حسن و وقار کو بڑھانے کا ذریعہ یہ اس بات کا اشاوہ ہے کہ آدمی کے روحانی وجود کے لئے بھی اسی طرح ایک لباس ضروری ہے ، یہ لباس تقویٰ ہے۔ تقویٰ آدمی کا معنوی لباس ہے۔ جو ایک طرف اس کو شیطان کے حملوں سے بچاتا ہے اور دوسری طرف اس کے باطن کو سنوار کر اس کو جنت کی لطیف ونفیس دنیا میں بسنے کے قابل بناتا ہے۔ یہ تقویٰ کا لباس کیا ہے۔ یہ ہے ۔ کا خوف ، حق کا اعتراف ، اپنے لئے اور دوسروں کے لئے ایک معیار رکھنا ، اپنے کو بندہ سمجھنا ، تواضع کو اپنا شعار بنانا ، دنیا میں گم ہونے کے بجائے آخرت کی طرف متوجہ رہنا۔ آدمی جب ان چیزوں کو اپناتے تو وہ اپنے اندرونی وجود کو ملبوس کرتا ہے اور اگر وہ اس کے خلاف رویہ اختیار کرے تو وہ اپنے اندرون کو ننگا کر لیتا ہے۔ ظاہری جسم کو کپڑے کا پہننا لباس ڈھانکتا ہے اور باطنی جسم کو تقویٰ کا لباس ۔
آدمی کو گمراہ کرنے کے لئے شیطان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اس کو بہکاتا ہے۔ وہ خدا کے ممنوعہ درخت کو ہر قسم کے خیر کا سر چشمہ بتاتا ہے۔ وہ ایسے معصوم راستوں سے اس کی طرف آتا ہے کہ آدمی کا گمان بھی نہیں جاتا کہ ادھر سے اس کی طرف گمراہی آرہی ہوگی۔ شیطان آدمی کے تمام نازک مقامات کو جانتا ہے اور انھیں نازک مقامات سے وہ اس پر حملہ آور ہوتا ہے۔ کبھی ایک بے حقیقت نظریہ کو خوبصورت الفاظ میں بیان کرتا ہے۔ کبھی ایک جزئی حقیقت کو کلی حقیقت کے روپ میں اس کے سامنے لاتا ہے۔ کبھی معمولی چیزوں میں فوائد کا خزانہ بتا کر سارے لوگوں کو اس کی طرف دوڑا دیتا ہے۔ کبھی ایک بے فائدہ حرکت میں ترقی کا راز بتاتا ہے۔ کبھی ایک تخریبی عمل کو تعمیر کے روپ میں پیش کرتا ہے ۔ شیطان کن لوگوں کو بہکانے میں کامیاب ہوتا ہے۔ رہ ان لوگوں پر کامیاب ہوتا ہے جو امتحان کے مواقع پر ایمان کا ثبوت نہیں دے پاتے۔ جو خدا کی نشانیوں پر غور نہیں کرتے۔ جو دلائل کی زبان میں بات کو سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ جنھیں اپنے ذاتی رجحانات کے مقابلہ میں حق کے تقاضے کو ترجیح دینا گوارا نہیں ہوتا۔ جن کو ایسی سچائی سچائی نظر نہیں آتی جس میں ان کے فائدوں اور مصلحتوں کی رعایت شامل نہ ہو۔ جنھیں وہ حق پسند نہیں آتا جو ان کی ذات کو نیچا کرے خود ان کے مقابلہ میں اونچا ہونا چاہتا ہو۔
اور جب کوئی فحش (کھلی برائی) کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طرح کرتے ہوئے پایا ہے اور خدا نے ہم کو اُسی کا حکم دیا ہے۔ کہو، اللہ کبھی برے کام کا حکم نہیں دیتا۔ کیا تم اللہ کے ذمہ وہ بات لگاتے ہو جس کا تمہیں کوئی علم نہیں۔ کہو کہ میرے رب نے قسط کا حکم دیا ہے اور یہ کہ ہر نماز کے وقت اپنا رخ سیدھا رکھو۔ اور اُسی کو پکارو اسی کے دین کو خالص کرتے ہوئے۔ جس طرح اس نے تم کو پہلے پیدا کیا اسی طرح تم دوسری بار بھی پیدا ہوگے۔ ایک گروہ کو اس نے راہ دکھادی اور ایک گروہ وہ ہے کہ اس پر گمراہی ثابت ہوچکی۔ انھوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطانوں کو اپنا رفیق بنایا اور گمان یہ رکھتے ہیں کہ وہ ہدایت پر ہیں ۔ ۲۹ - ۲۸ قدیم عرب میں لوگ ننگے ہو کر کعبہ کا طواف کرتے اور اس کی حمایت میں یہ کہتے کہ خدا کی عبادت دنیا کی آلائشوں سے پاک ہو کر فطری حالت میں کرنا چاہئے۔ حالاں کہ برہنگی ایسی کھلی ہوئی برائی ہے جس کا برا ہونا عقل عام سے معلوم ہوسکتا ہے۔ اسی طرح آدمی یہ عقیدہ قائم کر لیتا ہے کہ بے عملی اور سرکشی کے باوجود سفارشوں کی بنیاد پر خدا اس کو انعامات سے نوازے گا حالاں کہ وہ اپنے سرکش غلاموں کے معاملہ میں محض کسی کے کہنے سے ایسا نہیں کر سکتا۔ معمولی معمولی ناقابل فہم اعمال جن سے دنیا میں ایک گھر بھی نہیں بن سکتا ان سے یہ امید کر لیتا ہے کہ وہ آخرت میں اس کے لئے عالی شان محل تعمیر کر دیں گے۔ الفاظ کا شور وغل جس سے دنیا میں ایک درخت بھی نہیں اُگتا ان کے متعلق یہ خوش گمانی قائم کر لیتا ہے کہ وہ آخرت میں اس کے لئے جنت کے باغ اگارہے ہیں۔
قسط سے مراد وہ منصفانہ روش ہے جو ہر ناپ میں پوری اترے، وہ عین وہی ہو جو کہ ہونا چاہئے۔ انسان کی ایک فطری خواہش ہے۔ وہ کسی کو سب سے اونچا مان کر اس کے آگے اپنے کو ڈال دینا چاہتا ہے۔ میں قسط یہ ہوگا کہ آدمی صرف خدا کا عبادت گزار بنے جو اس کا خالق اور رب ہے۔ انسان کسی کو یہ مقام دینا چاہتا ہے کہ وہ اس کے لئے اعتماد کی بنیاد ہو۔ اس معاملہ میں قسط یہ ہوگا کہ آدمی خدا کو اپنی زندگی میں اعتماد کی بنیاد بنائے جو ساری طاقتوں کا مالک ہے۔ اسی طرح موت کے بعد ایک اور زندگی کو ماننا عین قسط ہے۔ کیونکہ آدمی جب پیدا ہوتا ہے تو وہ عدم سے وجود کی صورت اختیار کرتا ہے۔ اس لئے موت کے بعد دوبارہ پیدا ہونے کو ماننا عین اسی حقیقت کو ماننا ہے جو اول پیدائش کے وقت ہر آدمی کے ساتھ پیش آچکی ہے حق کے داعی کا انکار کرنے کے لئے آدمی قدیم بزرگوں کا سہارا لیتا ہے۔ قدیم بزرگ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی عظمت تاریخی طور پر قائم ہو چکی ہے۔ ہر آدمی کی نظر میں ان کا بر سر حق ہونا مسلمہ امر بنا ہوا ہوتا ہے۔ دوسری طرف سامنے کا داعی حق ایک نیا آدمی ہوتا ہے جس کے ساتھ ابھی تاریخ کی تصدیق جمع نہیں ہوئی ہے۔ قدیم بزرگ کو آدمی اس کی تاریخ کے ساتھ دیکھ رہا ہوتا ہے اور نئے داعی کو اس کی تاریخ کے بغیر۔ وہ قدیم بزرگوں کے نام پر داعی حق کا انکار کرتا رہتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ عین ہدایت پر ہے۔ مگر اس طرح کی غلط فہمی کسی کے لئے خدا کے یہاں عذر نہیں بن سکتی۔ یہ خدا کے نام پر شیطان کی پیروی ہے نہ کہ حقیقہ خدا کی پیروی۔
اے اولاد آدم! ہر نماز کے وقت اپنا لباس پہنو اور کھاؤ پیو۔ اور حد سے تجاوز نہ کرو۔ بے شک اللہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ کہو اللہ کی زینت کو کس نے حرام کیا جو اس نے اپنے بندوں کے لئے نکالا تھا اور کھانے کی پاک چیزوں کو۔ کہو وہ دنیا کی زندگی میں بھی ایمان والوں کے لئے ہیں اور آخرت میں تو وہ خاص انہیں کے لئے ہوں گی۔ اسی طرح ہم اپنی آیتیں کھول کر بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے جو جاننا چاہیں۔ رب نے تو بس فحش باتوں کو حرام ٹھہرایا ہے وہ کھلی ہوں یا چھپی۔ اور گناہ کو اور ناحق کی زیادتی کو اور اس بات کو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرو جس کی اس نے کوئی دلیل نہیں اتاری اور یہ کہ تم اللہ کے ذمہ ایسی بات لگاؤ جس کا تم علم نہیں رکھتے ۳۳۔ عرب کے کچھ قبائل ننگے ہو کر کعبہ کا طواف کرتے تھے اور اس کو بڑی قربت کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ جاہلیت کے زمانہ میں کچھ لوگ ایسا کرتے کہ جب وہ حج کے لئے نکلتے تو بعض متعین چیزیں مثلاً بکری کا دودھ یا گوشت استعمال کرنا چھوڑ دیتے اور یہ خیال کرتے کہ وہ پرہیزگاری کا کوئی بڑا عمل کر رہے ہیں۔ یہ گمراہی کی وہ قسم ہے جس میں ہر زمانہ کے لوگ مبتلا رہے ہیں۔ ایسے افراد اپنی حقیقی اور مستقل زندگی میں دین کے تقاضوں کو شامل نہیں کرتے۔ البتہ چند مواقع پر کچھ غیر متعلق قسم کے بے فائدہ اعمال کا خصوصی اہتمام کر کے یہ مظاہرہ کرتے ہیں کہ وہ خدا کے دین پر معمولی جزئیات کی حد تک عمل کر رہے ہیں۔ وہ خدا کی مرضیات پر کامل ادائیگی کی حد تک قائم ہیں۔ انسان کے بارے میں اللہ کی اصل مرضی تو یہ ہے کہ آدمی اسراف سے بچے، وہ خدا کی مقرر کی ہوئی حدوں سے تجاوز نہ کرے۔ وہ حلال کو حرام نہ کرے اور خدا کی حرام کی ہوئی چیزوں کو اپنے لئے حلال نہ سمجھے۔ وہ فحش کاموں سے اپنے کو دور رکھے۔ وہ ان برائیوں سے بچے جن کا برا ہونا عقل عام سے ثابت ہوتا ہے۔ وہ بنی کی روش چھوڑ دے۔ اس کے سامنے کوئی حق آئے تو ہر دوسری چیز کو نظر انداز کر کے وہ حق کو اختیار کر لے۔ وہ شرک سے اپنے آپ کو پوری طرح پاک کرے، اللہ کے سوا کسی سے وہ بر تر تعلق قائم نہ کرے جو صرف ایک خدا کا حق ہے۔ وہ ایسا کرے کہ اپنی پسند کا ایک طریقہ اختیار کرے اور اس کو بلا دلیل خدا کی طرف منسوب کر دے، اپنے ذاتی دین کو خدا کا دین کہنے لگے۔ وہ پوری طرح خدا کا بندہ بن کر رہے، ایسی کوئی روش اختیار نہ کرے جو بندہ ہونے کے اعتبار سے اس کے لئے درست نہ ہو۔ آخرت میں کسی کو جو نعمتیں ملیں گی وہ بطور انعام ملیں گی۔ اس لئے وہ صرف ان خدا کے بندوں کے لئے ہوں گی جن کے لئے خدا جنت میں داخلہ کا فیصلہ کرے گا۔ مگر دنیا میں کسی کو جو نعمتیں ملتی ہیں وہ محدود مدت کے لئے بطور آزمائش ملتی ہیں۔ اس لئے یہاں کی نعمتوں میں ہر ایک کو اس کے پرچہ امتحان کے بقدر حصہ مل جاتا ہے۔ امتحان میں پورا اترنے کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ آدمی خود سامان امتحان سے دوری اختیار کرلے۔ بلکہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ ان کو مقرر کی ہوئی حد و د کے مطابق استعمال کرے۔ وہ ان کے ملنے پر شکر کا جواب پیش کرے نہ کہ بے نیازی اور
اور ہر قوم کے لئے ایک مقررہ مدت ہے۔ پھر جب ان کی مدت آجائے گی تو وہ نہ ایک ساعت پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے۔ اے بنی آدم، اگر تمہارے پاس تمھیں میں سے رسول آئیں جو تم کو میری آیات سنائیں تو جو شخص ڈرا اور جس نے اصلاح کر لی ان کے لئے نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ اور جو لوگ میری آیات کو جھٹلائیں اور ان سے تکبر کریں وہی لوگ دوزخ والے ہیں۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ پھر اس سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو اللہ پر بہتان باندھے یا اس کی نشانیوں کو جھٹلائے' ان کے نصیب کا جو حصہ لکھا ہوا ہے وہ انھیں مل رہا رہے گا یہاں تک کہ جب ہمارے بھیجے ہوئے ان کی جان لینے کے لئے ان کے پاس پہنچیں گے تو ان سے پوچھیں گے کہ اللہ کے سوا جن کو تم پکارتے تھے کہاں ہیں۔ وہ کہیں گے کہ وہ سب ہم سے کھوئے گئے۔ اور وہ اپنے اوپر اقرار کریں گے کہ بے شک وہ انکار کرنے والے تھے ۳۴-۳۷ موجودہ دنیا میں کسی کو کام کا موقع اسی وقت تک ہے جب تک اس کی امتحان کی مقررہ مدت پوری ہو جائے۔ فرد کی مدت اس کی عمر کے ساتھ پوری ہوتی ہے۔ مگر قوم کے بارے میں خدائی فیصلہ کے نفاذ کی اس قسم کی کوئی حد نہیں۔ اس کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ حق کے سامنے آنے کے بعد وہ اس کے ساتھ کیا معاملہ کرتی ہے۔ جس قوم کی مدت پوری ہو جائے اس کو کبھی غیر معمولی عذاب بھیج کر فنا کر دیا جاتا ہے اور کبھی اس کی سزا یہ ہوتی ہے کہ اس کو عزت و بڑائی کے مقام سے ہٹا دیا جائے۔
کسی آدمی کے لئے جنت یا دوزخ کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ اس کے سامنے جب حق آیا تو اس نے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا۔ جب بھی کوئی حق ایسے دلائل کے ساتھ سامنے آجائے جس کی صداقت پر آدمی کی عقل گواہی دے رہی ہو تو اس آدمی پر گویا خدا کی حجت پوری ہو گئی۔ اس کے بعد بھی اگر آدمی اس حق کو ماننے سے انکار کرتا ہے تو وہ یقیناً کبر کی وجہ سے ایسا کر رہا ہے۔ اپنے آپ کو بڑا رکھنے کی نفسیات اس کے لئے رکاوٹ بن گئی کہ وہ حق کو بڑا بنا کر اس کے مقابلہ میں اپنے کو چھوٹا بنانے پر راضی کر لے۔ ایسے آدمی کے لئے خدا کے یہاں جہنم کے سوا کوئی انجام نہیں۔
آدمی جب بھی حق کا انکار کرتا ہے تو وہ کسی اعتماد کے اوپر کرتا ہے کسی کو دولت و اقتدار کا اعتماد ہوتا ہے۔ عزت و مقبولیت پر بھروسہ کئے ہوئے ہوتا ہے کسی کو یہ اعتماد ہوتا ہے کہ اس کے معاملات اتنے درست ہیں کہ حق کو نہ ماننے سے اس کا کچھ بگڑنے والا نہیں۔ کسی کو یہ ناز ہوتا ہے کہ اس کی ذہانت نے اپنی بات کو عین خدا کی بات ثابت کرنے کے لئے شاندار الفاظ دریافت کر لئے ہیں۔ مگر یہ انسان کی بہت بڑی بھول ہے۔ وہ آزمائش کی چیزوں کو اعتماد کی چیز سمجھے ہوئے ہے۔ قیامت کے دن جب یہ تمام جھوٹے سہارے اس کا ساتھ چھوڑ دیں گے تو اس وقت اس کے لئے یہ سمجھنا مشکل نہ ہوگا کہ وہ محض سرکشی کی بنا پر حق کا انکار کرتا رہا۔ اگر چہ اپنے انکار کو جائز ثابت کرنے کے لئے وہ بہت سے اصولی الفاظ بولتا تھا۔
فدا کہے گا، داخل ہو جاؤ آگ میں جنوں اور انسانوں کے ان گروہوں کے ساتھ جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں۔ کوئی گروہ جہنم میں داخل ہوگا وہ اپنے ساتھی گروہ پر لعنت کرے گا۔ یہاں تک کہ جب وہ اس میں جمع ہو جائیں گے تو ان کے پچھلے اپنے اگلوں کے بارے میں کہیں گے، اے ہمارے رب، یہی لوگ ہیں جنہوں نے ہم کو گمراہ کیا پس تو ان کو آگ کا دہرا عذاب دے۔ خدا کہے گا کہ سب کے لئے دہر ا ہے مگر تم نہیں جانتے۔ اور ان کے اگلے اپنےپچھلوں سے کہیں گے، تم کو ہم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں۔ پس اپنی کمائی کے نتیجہ میں عذاب کا مزہ چکھو ۳۹ - ۳۸ اس آیت میں "امت" سے مراد گمراہ کرنے والے لیڈر اور "اُخت" سے مراد گمراہ ہونے والے عوام ہیں۔ آخرت میں جب ہر دور کے بے راہ قائدین اور ان کا ساتھ دینے والے بے راہ عوام جہنم میں ڈالے جائیں گے تو یہ ایک بڑا عبرت ناک منظر ہوگا۔ دنیا میں تو وہ ایک دوسرے کے بڑے خیر خواہ اور خدا کار بنے ہوئے تھے۔ عوام کی ہر خواہش کا احترام کرتے تھے اور عوام اپنے قائدین کو ہیرو بنائے ہوئے تھے۔ مگر جب جہنم کی آگ انہیں پکڑے گی تو ان کی آنکھوں سے تمام مصنوعی پر دے ہٹ جائیں گے۔ اب ہر ایک دوسرے کو اس کے اصلی روپ میں دیکھنے لگے گا۔ پیروی کرنے والے اپنے قائدین سے کہیں گے کہ تم پر لعنت ہو۔ تمھاری قیادت کیسی بری قیادت تھی جس نے چند دن کے جھوٹے تماشے دکھائے اور اس کے بعد ہم کو اتنی بڑی تباہی میں ڈال دیا۔ اس کے جواب میں قائدین اپنے پیروؤں سے کہیں گے کہ تم اپنی پسند کا ایک دین چاہتے تھے اور ایسادین ہمارے پاس دیکھ کر ہمارے پیچھے دوڑ پڑے۔ ورنہ عین اسی زمانہ میں ایسے بھی خدا کے بندے تھے جو تم کو کامیابی کے سچے راستہ کی طرف بلاتے تھے۔ تم نے ان کی پکار سنی مگر تم نے ان کی طرف کوئی توجہ نہ دی۔
رہنما اپنے پیروؤں سے کہیں گے کہ تم کسی اعتبار سے ہم سے بہتر نہیں ہو۔ ہم نے اپنی خواہشوں کی خاطر قیادتیں کھڑی کیں اور تم نے بھی اپنی خواہشوں کی خاطر ہمارا ساتھ دیا۔ حقیقت کے اعتبار سے دونوں کا درجہ ایک ہے۔ لئے یہاں تم کو بھی وہی سزا بھگتنی ہے جو ہمارے لئے ہمارے اعمال کے سبب سے مقدر کی گئی ہے۔ پیروؤں کی جماعت اپنے رہنماؤں کے بارے میں خدا سے کہے گی کہ انھوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا اس لئے ان کو ہمارے مقابلہ میں دگنا عذاب دیا جائے۔ جواب ملے گا کہ تمھارے رہنماؤں میں سے ہر ایک کو دگنا عذاب مل رہا ہے مگر تم کو اس کا احساس نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جہنم میں جس کو جو عذاب ملے گا وہ اُس کو اتنا زیادہ سخت معلوم ہوگا کہ وہ سمجھے گا کہ مجھ سے زیادہ تکلیف میں کوئی دوسرا نہیں ہے۔ ہر شخص جس تکلیف میں ہوگا وہی تکلیف اس کو سب سے زیادہ معلوم ہوگی۔
دنیا میں مفاد پرست رہنما اور ان کے مفاد پرست پیرو خوب ایک دوسرے کے دوست بنے ہوئے ہیں۔ کے پاس دوسرے کے لئے عمدہ الفاظ ہیں۔ ہر ایک دوسرے کی بہتری میں لگا ہوا ہے۔ مگر آخرت میں ہر ایک دوسرے سے نفرت کرے گا، ہر ایک دوسرے کو شدید تر عذاب میں دھکیلنا چاہے گا۔
بے شک جن لوگوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور ان سے تکبر کیا ان کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اور وہ جنت میں داخل نہ ہوں گے جب تک کہ اونٹ سوئی کے ناکےے میں نہ گھس جائے۔ اور ہم مجرموں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔ ان کے لئے دوزخ کا بچھونا ہوگا اور ان کے اوپر اسی کا اوڑھنا ہوگا۔ اور ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کئے۔ ہم کسی شخص پر اس کی طاقت کے موافق ہی بوجھ یہی لوگ جنت والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور ان کے سینہ کی ہر خلش کو ہم نکال دیں ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور وہ کہیں گے کہ ساری تعریف اللہ کے لئے ہے جس نے ہم کو یہاں تک پہنچایا اور ہم راہ پانے والے نہ تھے اگر اللہ ہم کو ہدایت نہ کر دیتا۔ ہمارے رب کے رسول سچی بات لے کر آئے تھے۔ آئے گی کہ یہ جنت ہے جس کے تم وارث ٹھہرائے گئے ہو اپنے اعمال کے بدلے ۳۴۔ خدا کے داعیوں کے مقابلہ میں کیوں ایسا ہوتا ہے کہ ان کے مدعو کے اندر متکبرانہ نفسیات جاگ اٹھتی ہیں اور وہ ان کو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ داعی کی طرف صرف نشانی (دلیل) کا زور ہوتا ہے اور مدعو کی طرف مادی رونقوں کا زور۔ داعی دلیل کی بنیاد پر کھڑا ہوتا ہے اور اس کے مدعو مادیات کی بنیاد پر۔ دلیل کی طاقت دکھائی نہیں دیتی اور مادی طاقت آنکھوں سے دکھائی دیتی ہے۔ یہی فرق لوگوں کے اندر کبر کا مزاج پیدا کرتا ہے۔ لوگ داعی کو اپنے مقابلہ میں حقیر سمجھ کر اسے نظر انداز کر دیتے ہیں۔
ایسے لوگوں کا خدا کی رحمت میں داخل ہونا اتنا ہی ناممکن ہے جتنا اونٹ کا سوئی کے ناک میں داخل ہونا ۔ انھوں نے خدا کو نظر انداز کیا اس لئے خدا نے بھی ان کو نظر انداز کر دیا۔ خدا نے اپنے داعی کے ذریعہ ان کو اپنی جھلکیاں خدا ان کے سامنے دلائل کے روپ میں ظاہر ہوا۔ مگر انھوں نے اس کو بے وزن سمجھا۔ انھوں نے خدا کی نشانیوں کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا۔ ایسے لوگ کیوں کر خدا کی رحمتوں میں حصہ پا سکتے ہیں۔ دوزخیوں کا یہ حال ہوگا کہ جو لوگ دنیا میں ایک دوسرے کے دوست بنے ہوئے تھے وہ وہاں باہم متنفر ہو جائیں گے اور ایک دوسرے پر لعنت کر رہے ہوں گے۔ مگر جنت کا ماحول اس سے بالکل مختلف ہوگا۔ رب کے دل ایک دوسرے کے لئے کھلے ہوئے ہوں گے۔ ہر ایک کے دل میں دوسرے کے لئے محبت اور خیر خواہی کا چشمہ پھوٹ رہا ہوگا۔ دوزخی انسان کے لئے اس کا ماضی ایک دکھ بھری داستان بنا ہوا ہوگا اور جنتی انسان کے لئے اس کا ماضی ایک خوش گوار یاد۔
برے لوگوں کے لئے ان کی اگلی زندگی اس طرح شروع ہوگی کہ ان کا سینہ حسرت اور یاس کا قبرستان بنا ہوا ہوگا۔ ان کا ماضی ان کے لئے تلخ یادوں کے سوا اور کچھ نہ ہوگا۔ دوسری طرف اچھے لوگوں کا یہ حال ہوگا کہ ان کی زبانیں اس خدا کی یاد سے تر ہوں گی جس کو انھوں نے بجا طور پر اپنا سہارا بنایا تھا۔ وہ حق کے علم برداروں کی دی ہوئی خیر کو عین سچا پا کر خوش ہو رہے ہوں گے کہ خدا کا یہ کتنا بڑا احسان تھا کہ اس نے انھیں ان داعیانِ حق کا ساتھ دینے کی توفیق عطا فرمائی۔
اور جنت والے دوزخ والوں کو پکاریں گے کہ ہم نے ہمارے رب نے جو وعدہ کیا تھا ہم نے اس کو سچا پایا، کیا تم نے بھی اپنے رب کے وعدہ کو سچا پایا۔ وہ کہیں گے۔ پھر ایک پکارنے والا دونوں کے درمیان پکارے گا کہ اللہ کی لعنت ہو ظالموں پر۔ جو اللہ کی راہ سے روکتے تھے اور اس میں کجی ڈھونڈتے تھے اور وہ آخرت کے منکر تھے ۴۴۔ ان آیات میں قدیم زمانہ کے کچھ لوگوں نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ جنت اور جہنم تو ایک دوسرے سے بہت زیادہ دور واقع ہوں گی، جنت آسمانوں کے اوپر ہوگی اور دوزخ سب سے نیچے تحت الثریٰ میں۔ پھر جنت والوں کی آواز جہنم والوں تک کس طرح پہنچے گی ۔ مگر اب ریڈیو اور ٹیلی وژن کے دور میں یہ سوال کوئی سوال نہیں۔ آج انسان یہ جان چکا ہے کہ دور کے فاصلوں سے کسی کو دیکھنا بھی ممکن ہے اور اس کی آواز کو سننا بھی۔ جو بات قدیم انسان کو ناقابل فہم نظر آتی تھی وہ آج کے انسان کے لئے خود اپنے تجربات ومشاہدات کی روشنی میں پوری طرح قابل فہم ہو چکی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کی کوئی بات اگر آج کی معلومات کی روشنی میں سمجھ میں نہ آرہی ہو تو اس بنا پر اس کے بارے میں کوئی حکم نہیں عین ممکن ہے کہ علم کے اضافہ کے بعد کل وہ چیز ایک جانی پہچانی چیز بن جائے جو آج بظاہر ان جان چیز کی طرح دکھائی دے رہی ہے ۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ آخرت میں جنتیوں اور دوزخیوں کے درمیان تعلق موجودہ قسم کے ریڈیو اور ٹیلی وژن کے ذریعہ قائم ہوگا۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ جدید دریافتوں نے اس بات کو قابل فہم بنا دیا ہے کہ خدا کی کائنات میں ایسے انتظامات بھی ممکن ہیں کہ ایک دوسرے سے بہت دور رہ کر بھی دو آدمی ایک دوسرے کو دیکھیں اور ایک دوسرے سے بخوبی طور پر بات کریں۔
کسی دلیل کا وزن آدمی اسی وقت سمجھ پاتا ہے جب کہ وہ اس کے بارے میں سنجیدہ ہو۔ جو لوگ آخرت کو اہمیت نہ دیں وہ آخرت سے متعلق دلائل کا وزن بھی محسوس نہیں کر پاتے۔ آخرت کی بات ان کے سامنے انتہائی مضبوط دلائل کے ساتھ آتی ہے۔ مگر اس کے بارے میں ان کا غیر سنجیدہ ذہن اس کے اندر کوئی نہ کوئی عیب تلاش کر لیتا ہے ۔ طرح طرح کے اعتراض نکال کر خود بھی شک وشبہ میں مبتلا ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی شک وشبہ میں مبتلا کرتے ایسے لوگ خدا کی نظر میں سخت مجرم ہیں۔ وہ آخرت میں صرف خدا کی لعنت کے مستحق ہوں گے خواہ دنیا میں وہ اپنے کو خدا کی رحمتوں کا سب سے بڑا حق دار سمجھتے رہے ہوں ۔
کوئی دلیل خواہ کتنی ہی وزنی اور قطعی ہو ، آدمی کے لئے ہمیشہ یہ موقع رہتا ہے کہ وہ کچھ خوبصورت الفاظ بول کر اس کی صداقت کے بارے میں لوگوں کو مشتبہ کر دے۔ عوام ایک حقیقی دلیل اور ایک لفظی شوشہ میں فرق نہیں کر پاتے اس لئے وہ اس قسم کی باتیں سن کر حق سے بدک جاتے ہیں۔ مگر جو لوگ سمجھنے کی صلاحیت رکھنے کے با وجود اس طرح کے شوشے نکال کر لوگوں کو حق سے بدکاتے ہیں وہ آخرت کے دن خدا کی رحمتوں سے آخری حد تک دور ہوں گے۔
اور دونوں کے درمیان ایک آڑ ہوگی۔ اور اعراف کے اوپر کچھ لوگ ہوں گے جو ہر ایک کو ان کی علامت سے پہچانیں گے اور وہ جنت والوں کو پکار کر کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو، وہ ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے مگر وہ امیدوار ہوں گے۔ اور جب دوزخ والوں کی طرف ان کی نگاہ پھیری جائے گی تو وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہم کو شامل نہ کرنا ان ظالم لوگوں کے ساتھ۔ اور اعراف والے ان اشخاص کو پکاریں گے جنھیں وہ ان کی علامت سے پہچانتے ہوں گے۔ وہ کہیں گے کہ تمھارے کام نہ آئی تمھاری جماعت اور تمھارا اپنے کو بڑا سمجھنا۔ کیا یہی وہ لوگ ہیں جن کی نسبت تم قسم کھا کر کہتے تھے کہ ان کو کبھی اللہ کی رحمت نہ پہنچے گی۔ جنت میں داخل ہو جاؤ، اب نہ تم پر کوئی ڈر ہے اور نہ تم غم گین ہوگے۔ دینا میں ایسا ہوتا ہے کہ خدا کی نعمتوں اور اس کی جانب سے آئی ہوئی سختیوں سے مومن و مسلم سب یکساں دوچار ہوتے ہیں۔ مگر آخرت میں ایسا نہیں ہوگا۔ وہاں دونوں کے درمیان ” آڑ “ قائم ہوجائے گی۔ وہاں مومنین کو ملی ہوئی نعمتوں کی کوئی خوشبو کافروں کو نہیں ملے گی اور اسی طرح کا فروں کو ملی ہوئی تکلیفوں کا کوئی اثر جنت والوں تک نہیں پہنچے گا۔
عرف کے معنی عربی زبان میں بلندی کے ہوتے ہیں۔ اعراف والے کا مطلب ہے بلندیوں والے۔ اس سے مراد پیغمبروں اور داعیوں کا گروہ ہے جنھوں نے مختلف وقتوں میں لوگوں کو حق کا پیغام دیا۔ قیامت میں جب لوگوں کا حساب ہوگا اور ہر ایک کو معلوم ہو چکا ہوگا کہ اس کا انجام کیا ہونے والا ہے اور دائمی حق کی بات جو وہ دنیا میں کہتا تھا آخری طور پر صحیح ثابت ہو چکی ہوگی اس وقت ہر داعی اپنی قوم کو خطاب کرے گا۔ خدا کے حکم سے آخرت میں ان کے لیے اونچا اسٹیج مہیا کیا جائے گا جس پر کھڑے ہو کر وہ پہلے اپنے ماننے والوں کو خطاب کریں گے۔ یہ لوگ ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے مگر وہ اس کے امیدوار ہوں گے۔ اس کے بعد ان کا رخ ان کے جھٹلانے والوں کی طرف کیا جائے گا۔ کی بری حالت دیکھ کر کمال عبریت کی وجہ سے کہہ اٹھیں گے کہ خدایا ہمیں ان ظالموں میں شامل نہ کر۔ وہ گروہ منکرین کے لیڈروں کو ان کے چہرہ کی ہیئت سے پہچان لیں گے اور ان سے کہیں گے کہ تم کو اپنے جس جتھے اور اپنے جس ساز و سامان پر گھمنڈ تھا اور جس کی وجہ سے تم نے ہمارے پیغام حق کو جھٹلا دیا وہ آج تمھارے کچھ کام نہ آسکا۔ حق کا انکار کرنے والے وقت کے قائم شدہ نظام کے سایہ میں ہوتے ہیں۔ اس دنیا میں ان کی حیثیت ہمیشہ مضبوط اس کے برعکس جو لوگ حق کے داعیوں کا ساتھ دیتے ہیں ان کا ساتھ دنیا صرف اس قیمت پر ہوتا ہے کہ وقت کے جمے ہوئے نظام کی سرپرستی انھیں حاصل نہ رہے۔ اس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ جو لوگ حق کو نہیں مانتے وہ ماننے والوں کی بے چارگی کو دیکھ کر ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کیا یہی وہ لوگ ہیں جو خدا کی جنتوں میں جائیں گے۔ اصحاب اعراف قیامت میں ایسے لوگوں سے کہیں گے کہ اب دیکھ لو کہ حقیقت کیا تھی اور تم اس کو کیا سمجھے ہوئے تھے۔ بالآخر کون کامیاب رہا اور کون ناکام ٹھہرا۔