تذکیر القرآن
Al-Risala, May 1981, pp. 28–30
By Maulana Wahiduddin Khan
اور ہم ان لوگوں کے پاس ایک ایسی کتاب لے آئے ہیں جس کو ہم نے علم کی بنیاد پر مفصل کیا ہے، ہدایت اور رحمت بنا کر ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائیں۔ کیا اب وہ اسی کے منتظر ہیں کہ اس کا مضمون ظاہر ہو جائے۔ جس دن اس کا مضمون ظاہر ہو جائے گا تو وہ لوگ جو اس کو پہلے بھولے ہوئے تھے بول اٹھیں گے کہ بے شک ہمارے رب کے پیغمبر حق لے کر پس اب کیا کوئی ہماری سفارش کرنے والے ہیں کہ ہماری سفارش کریں یا ہم کو دوبارہ واپس ہی بھیج دیا جائے تاکہ ہم اس سے مختلف عمل کریں جو ہم پہلے کر رہے تھے۔ انھوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا اور ان سے گم ہو گیا وہ جو وہ گھڑتے تھے۔
قرآن آدمی کو موت کے بعد آنے والی زندگی سے ڈراتا ہے، وہ آخرت کے حساب کتاب سے لوگوں کو آگاہ مگر آدمی چوکنانہیں ہوتا۔ قرآن کی یہ خبریں اگرچہ محض خبریں نہیں ہیں بلکہ وہ کائنات کی اٹل حقیقتیں ہیں۔ ابھی وہ واقعات کی صورت میں ظاہر نہیں ہوئیں، ابھی وہ مستقبل کے پردہ میں چھپی ہوئی ہیں۔ اس بنا پر غافل انسان یہ سمجھتا ہے کہ یہ صرف کہنے کی باتیں ہیں۔ وہ ان کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کر دیتا ہے۔ مگر یہ باتیں خدا کی طرف سے ہیں جو تمام باتوں کا جاننے والا ہے۔ جن لوگوں نے اپنی فطرت کو بگاڑانہیں ہے، جن کی آنکھوں پر مصنوعی پر دے نہیں پڑے ہوئے ہیں وہ قرآن کی ان باتوں کو اپنے دل کی آواز پائیں گے۔ ان کو عین وہی چیز معلوم ہوگی جس کی تلاش ان کی فطرت پہلے سے کر رہی تھی۔ قرآن ان کے لئے زندگی اور یقین کا خزانہ بن جائے گا۔
اس کے برعکس حال ان لوگوں کا ہے جو قرآن کی آگاہی کو کوئی سنجیدہ چیز نہیں سمجھتے۔ وہ اپنی اسی غفلت کی حالت میں پڑے رہیں گے یہاں تک کہ وہ وقت ان پر پھٹ پڑے جس کی خبر انہیں دی جارہی ہے۔ اس وقت آدمی اچانک دیکھے گا کہ وہ بالکل بے سہارا ہو چکا ہے۔ وہ جن مسائل کو اہم سمجھ کر ان میں الجھا ہوا تھا اس دن وہ بالکل بے حقیقت نظر آئیں گے۔ وہ جن چیزوں پر بھروسہ کئے ہوئے تھا وہ سب اس کا ساتھ چھوڑ چکے ہوں گے۔ وہ جن امیدوں پرجی رہا تھا وہ سب جھوٹی خوش خیالیاں ثابت ہوں گی۔
آخرت کا مسئلہ آج محض ایک نظریہ ہے، وہ بظاہر کوئی سنگین مسئلہ نہیں۔ اس لئے آدمی اس کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہو پاتا۔ مگر موت کے بعد آنے والی زندگی میں جب آخرت اپنی تمام ہولناکیوں کے ساتھ پھٹ پڑے گی، اس وقت ہر آدمی اس بات کو ماننے پر مجبور ہوگا جس کو وہ اس سے پہلے ماننے پر تیار نہیں ہوتا تھا۔ اس وقت آدمی جان لے گا کہ اس سے پہلے جو بات دلیل کی زبان میں کہی جارہی تھی وہ عین حقیقت تھی مگر میں اس کے بارے میں سنجیدہ نہ ہو سکا اس لئے میں اس کو سمجھ بھی نہ پایا۔
جب وہ تمام چیزیں آدمی کا ساتھ چھوڑ دیں گی جن کو وہ دنیا میں اپنا سہارا بنائے ہوئے تھا تو وہ چاہے گا کہ دنیا میں اسے دوبارہ بھیج دیا جائے تاکہ وہ صحیح زندگی گزارے۔ مگر زندگی کا یہ موقع کسی کو دوبارہ ملنے والا نہیں ہے۔
بے شک تمھارا رب وہی اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔ پھر وہ عرش پر متمکن ہوا۔ اُڑھاکھتا ہے رات کو دن پر، دن اس کے پیچھے لگا آتا ہے دوڑتا ہوا۔ اور اس نے پیدا کئے سورج اور چاند اور ستارے، سب تابع دار ہیں اس کے حکم کے۔ یاد رکھو، اسی کا کام ہے پیدا کرنا اور حکم کرنا۔ بڑی برکت والا ہے اللہ جو رب ہے سارے جہان کا! اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے۔ یقیناً وہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اور زمین میں فساد نہ کرو اس کی اصلاح کے بعد۔ اور اسی کو پکارو خوف کے ساتھ اور طمع کے ساتھ۔ یقیناً اللہ کی رحمت نیک کام کرنے والوں سے قریب ہے ۵۴-۵۶ زمین و آسمان اور اس کی تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا خدا ہے۔ اس پیدا کرنے کی ایک صورت یہ بھی تھی کہ وہ تمام چیزوں کو بناکر ان کو انتشار کی حالت میں چھوڑ دیتا۔ مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔ اس نے تمام چیزوں کو ایک حد درجہ کامل اور حکیمانہ نظام کے تحت جوڑا اور ان کو اس طرح چلایا کہ ہر چیز ٹھیک اسی طرح کام کرتی ہے جیسا کہ مجموعی مصلحت کے اعتدال سے اس کو کرنا چاہئے۔
انسان بھی اسی دنیا کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ پھر ایسی اصلاح یافتہ دنیا میں اس کا رویہ کیا ہونا چاہئے۔ رویہ وہی ہونا چاہئے جو بقیہ تمام چیزوں کا ہے۔ وہ بھی اپنے آپ کو اسی خالق کے منصوبے میں دے دے جس کے منصوبے میں بقیہ کائنات پوری تابعداری کے ساتھ اپنے آپ کو دئے ہوئے ہے۔
کائنات کی تمام چیزیں احسان (حسن کارکردگی) کی حد تک اپنے آپ کو خدا کے منصوبہ میں شامل کئے ہوئے ہیں۔ اس لئے انسان کو بھی احسان کی حد تک اپنے آپ کو اس کے حوالے کر دینا چاہئے۔ یہاں کوئی چیز بھی اعتبار (اپنی مقررہ حد سے تجاوز) نہیں کرتی۔ اس لئے انسان کے واسطے بھی لازم ہے کہ وہ عدل اور حق کی خدائی حدوں سے تجاوز نہ کرے۔ مزید یہ کہ انسان نطق اور شعور کی اضافی خصوصیات رکھتا ہے۔ اس لئے نطق اور شعور کی سطح پر بھی اس کی خالقی رب کا اظہار ہونا ضروری ہے۔ انسان کے اندر خدا کی معرفت اتنی گہرائی تک اتر جانا چاہئے کہ اس کی زبان سے بار بار اس کا اظہار ہونے لگے۔ وہ خدا کو اس طرح پکارے جس طرح بندہ اپنے خالق و مالک کو پکارتا ہے۔ اس کو خدا کی خدائی کا اتنا ادراک ہونا چاہئے کہ خدا کے سوا اس کی امیدوں اور اس کے اندیشوں کا کوئی مرجع باقی وہ خدا ہی سے ڈرے اور اسی سے اپنی تمام تمنائیں وابستہ کرے۔ خدا کے ساتھ خوف اور طمع کو وابستہ کرنا خدا کی تابعداری کی آخری اور انتہائی صورت ہے۔
بندے کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس کو خدا کی رحمت حاصل ہو، مگر یہ رحمت صرف ان اشخاص کا حصہ ہے جو اللہ کے ساتھ اپنے آپ کو اتنا زیادہ متعلق کر لیں کہ ان کے تمام جذبات کا رخ اللہ کی طرف ہو جائے۔ اسی کو پکاریں اور اسی کے ساتھ عاجزی کریں۔ ان کو پانے کی امید اسی سے ہو اور رھنے کا ڈر بھی اسی سے۔ ہیں جنہوں نے خدا کی قربت چاہی اس لئے خدا نے بھی ان کو اپنے قریب جگہ دے دی۔
اور وہ اللہ ہی ہے جو ہواؤں کو اپنی رحمت کے آگے خوش خبری بنا کر بھیجتا ہے۔ پھر جب وہ بوجھل بادلوں کو اٹھالیتی ہیں تو ہم اس کو کسی خشک سرزمین کی طرف ہانک دیتے ہیں۔ پھر ہم اس کے ذریعہ پانی اتارتے ہیں۔ اس کے ذریعہ سے ہر قسم کے پھل نکالتے ہیں۔ اسی طرح ہم مردوں کو نکالیں گے، تاکہ تم غور کرو۔ اور جو زمین اچھی ہے اس کی پیداوار نکلتی ہے اس کے رب کے حکم سے اور جو زمین خراب ہے اس کی پیداوار کم ہی ہوتی ہے۔ ہم اپنی نشانیاں مختلف پہلوؤں سے دکھاتے ہیں ان کے لئے جو شکر کرنے والے ہیں ۵۷- ۵۸۔ دنیا کو خدا نے اس طرح بنایا ہے کہ اس کے مادی واقعات اس کے روحانی پہلوؤں کی تمثیل بن گئے ہیں۔ جب کہیں بارش ہوتی ہے تو اس مقام کے ہر حصہ تک اس کا پانی یکساں طور پر پہنچتا ہے۔ مگر فیض اٹھانے کے اعتبار سے مختلف زمینوں کا حال مختلف ہوتا ہے۔ کوئی حصہ وہ ہے کہ پانی اس کو ملا تو اس کے اندر سے ایک لہلہاتا ہوا چمنستان نکل آیا۔ دوسری طرف کسی حصہ کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ بارش پا کر بھی بے فیض پڑا رہتا ہے ۔ وہاں جھاڑ جھنکار کے سوا کچھ نہیں اگتا۔
یہی حال اس روحانی بارش کا ہے جو خدا کی طرف سے ہدایت کی صورت میں اتری ہے۔ اس ہدایت کا پیغام ہر آدمی کے کانوں تک پہنچتا ہے۔ مگر فائدہ ہر ایک کو اپنی اپنی استعداد کے بقدر ملتا ہے۔ جس کے اندر قبول حق کی صلاحیت زندہ ہے وہ اس سے بھر پور فیض حاصل کرتا ہے۔ اس سے اس کو ایک نئی زندگی ملتی ہے۔ اس کی فطرت اچانک جاگ اٹھتی ہے۔ اس کا ربط اپنے مالکِ اعلیٰ سے قائم ہو جاتا ہے۔ اس کی خشک نفسیات میں ربانی کیفیات کا باغ کھل اٹھتا ہے۔
اس کے برعکس حال اس شخص کا ہوتا ہے جس نے اپنی فطری سلامتی کو کھو دیا ہو۔ ہدایت کی بارش اپنے تمام بہترین امکانات کے باوجود اس کو کوئی فائدہ نہیں پہنچاتی۔ اس کے بعد بھی وہ ویسا ہی خشک پڑا رہتا ہے جیسا کہ وہ اس سے پہلے تھا۔ اور اگر اس کے اندر کوئی فصل نکلتی ہے تو وہ بھی جھاڑ جھنکار کی فصل ہوتی ہے۔ ہدایت کی بارش پا کر اس کے اندر سے حسد، کبر، حجت بازی، حق کی مخالفت جیسی چیزیں جاگ اٹھتی ہیں نہ کہ حق کا اعتراف کرنے اور اس کا ساتھ دینے کی۔
بارش کے پانی کو قبول کرنے کے لئے زمین کا خشک ہونا ضروری ہے۔ جو زمین خشک نہ ہو، پانی اس کے اوپر سے گزر جائے گا، وہ اس کے اندر داخل نہیں ہوگا۔ اسی طرح خدا کی ہدایت صرف اس آدمی کے اندر جڑ پکڑتی ہے جو اس کا طالب ہو، جس نے اپنی روح کو غیر خدائی باتوں سے خالی کر رکھا ہو۔ اس کے برعکس جو شخص خدا کی ہدایت سے بے پروا ہو، جس کا دل دوسری دلچسپیوں یا دوسری عظمتوں میں اٹکا ہوا ہو، اس کے پاس خدا کی ہدایت آئے گی مگر وہ اس کے اندرون میں داخل نہیں ہوگی، وہ اس کی روح کی غذا نہیں بنے گی، وہ اس کی فطرت کی زمین کو سیراب کر کے اس کے اندر خدا کا باغ نہیں اگائے گی۔