Al-Risala · May 1981

جدید علم کلام

Al-Risala, May 1981, pp. 31–4

By Maulana Wahiduddin Khan

جدید علم کلام کا مطلب ہے جدید ذہن کی رعایت سے دین کی باتوں کو مدلل کرنا، جدید طرز استدلال میں اسلامی تعلیمات کو بیان کرنا۔ اب دیکھئے کہ جدید ذہن کیا ہے۔ جدید ذہن دراصل سائنسی ذہن کا دوسرا نام ہے۔ سائنسی ذہن کا مطلب حقائق کو اہمیت دینے والا ذہن ہے۔ سائنس کے انقلاب نے موجودہ زمانہ میں انسانی فکر میں جو تبدیلی کی ہے وہ یہ ہے کہ جو بات کہی جائے تجربہ اور مشاہدہ کی بنیاد پر کہی جائے نہ کہ مفروضات اور قیاسات کی موجودہ زمانہ میں جو انقلاب آیا ہے وہ حقائق فطرت کے مطالعہ سے آیا ہے۔ بائیسکل سے لے کر ہوائی جہاز تک اور بجلی کے لیمپ سے لے کر بڑے بڑے صنعتی کارخانوں تک ہر چیز فطری حقائق کی بنیاد پر چل رہی ہے۔ موجودہ زمانہ کا غالب انقلاب ہے، اس نے زندگی کے تمام پہلوؤں پر اثر ڈالا ہے۔ اسی نے موجودہ زمانہ میں اسلوب کلام کو بھی بدل دیا ہے۔ انسان ہزاروں سال سے پراسرار عملیات کی بنیاد پر لوہے کو سونا بنانے کی کوشش کرتا رہا مگر وہ کامیاب نہیں ہوا۔ اب حقائق فطرت کو دریافت کر کے وہ لوہے کو مشینوں میں تبدیل کر رہا ہے جو سونے سے بھی زیادہ قیمتی ہیں۔ ایسی حالت میں بالکل قدرتی بات ہے کہ آج کا انسان حقائق فطرت کی بنیاد پر ثابت ہونے والی بات کو سب سے زیادہ باوزن سمجھے۔ آج کے انسان نے جو ترقیاں کی ہیں وہ حقائق کی بنیاد پر کی ہیں اس لئے آج کا انسان انھیں باتوں کو اہمیت دیتا ہے جو حقائق کے زور پر ثابت ہوتا ہو۔

قدیم اور جدید ذہن کے فرق کو ایک سادہ مثال سے سمجھئے۔ پچاس سال پہلے اطبار کے یہاں اس قسم کے الفاظ بے حد کشش سمجھے جاتے تھے ـــــــــ خاندانی نسخہ، پشتینی علاج ، شاہی ترکیب سے بنی ہوئی دعا، کسی دوا یا منجن کے بارے میں یہ الفاظ بولنے کا مطلب یہ تھا کہ اس میں پراسرار خواص چھپے ہوئے ہیں۔ مگر آج ان الفاظ کے اندر کوئی قیمت نہیں۔ آج کا ڈاکٹر کسی دوا یا کسی ٹوتھ پیسٹ کی اہمیت کو بتانے کے لئے ’’قدیمی نسخہ‘‘ کی اصطلاح نہیں بولے گا۔ وہ کہے گا کہ یہ سائنسی طریقوں سے بنایا گیا ہے۔ سائنسی طریقہ کا مطلب یہ ہے کہ اس کی افادیت کو معلوم تجربات ومشاہدات کے ذریعہ جانا جا چکا ہے۔ حتی کہ اگر کوئی چاہے تو ان تجربات کو دہرا کر دوبارہ ان کے نتائج کی صحت کی تصدیق کر سکتا ہے۔ جب کہ خاندانی علاج کا مطلب یہ تھا کہ اس کے طبی خواص ہر ایک کے لئے قابل دریافت نہیں ہیں۔ دوا اور مرض کے درمیان تعلق کو متعین تجربات کے ذریعہ معلوم نہیں کیا گیا ہے۔ اس کی اہمیت بس یہ ہے کہ وہ قدیم زمانہ سے چلا آرہا ہے۔ آج کا انسان اسی منجن کو استعمال کرنا پسند کرتا ہے جو سائنسی، بالفاظ دیگر، فطری حقیقتوں کی پیروی کرتے ہوئے بنا ہو۔ اسی طرح وہ صرف ان افکار کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوتا ہے جن کا برحق ہونا فطری حقائق کے ذریعہ معلوم ہوا ہو۔

سائنسی انقلاب سے پہلے انسانی فکر کی بنیاد فلسفیانہ قیاسات پر قائم تھی، سائنسی انقلاب کے بعد انسانی فکر کی بنیاد معلوم حقائق و واقعات پر رکھی گئی ہے۔ اسی سے قدیم علم کلام اور جدید علم کلام کا فرق سمجھا جاسکتا ہے۔ علم کلام کی بنیاد فلسفیانہ طرز استدلال پر تھی، جدید علم کلام کی بنیاد فطری طرز استدلال پر ہے۔ پہلے قیاسی منطق کے ذریعہ بات کو ثابت کیا جاتا تھا اب وہ زمانہ ہے کہ بات کو حقیقی شواہد کے ذریعہ ثابت کیا جائے۔ جدید ذہن کی اس مختصر وضاحت کے بعد اب میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جدید طرز استدلال دوسروں کے لئے خواہ جدید ہو مگر اسلام کے لئے وہ جدید نہیں ۔ اگر اس حقیقت کو سامنے رکھا جائے کہ قرآن کا طرز استدلال عین وہی ہے جس کو موجودہ زمانہ میں حقائق فطری سے استدلال کہا جاتا ہے تو یہ کہنا بالکل صحیح ہوگا کہ جدید علم کلام دراصل قرآنی علم کلام ہے۔ جدید علم کلام اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ قرآنی کلامیات کی طرف لوٹنا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب قدیم عراق کی مشرک قوم کے سامنے توحید کی دعوت پیش کی تو سورج، چاند اور ستاروں کے مشاہدات سے اپنی دعوت کے اوپر دلیل قائم کی۔ کا یہ واقعہ سورہ انعام (رکوع (۹) میں بیان ہوا ہے۔ وہاں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں : وتلك حجتنانا آتينا ها ابراهيم علی قومہ (یہ ہماری دلیل ہے جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم کے اوپر عطا کی) یہاں حجت کا لفظ بتاتا ہے کہ حضرت ابراہیم نے جو انداز کلام اختیار کیا وہ خدائی انداز کلام تھا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حجت خداوندی یا استدلال الہی کا طریقہ یہ ہے کہ کائنات کے معلوم و مشہود حقائق سے استدلال کیا جائے۔ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر یہ کہنا صحیح ہوگا کہ خدا نے اپنی کتاب میں جو تعلیم قلمی طور پر دی ہے، ساری کائنات کو اس کے حق میں عملی دلیل بنا دیا ہے۔ جو دلیل خود خدا نے مقرر کی ہو اس سے بڑھ کر دلیل اور کون سی ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طرف قرآن میں کہا گیا ہے کہ ھذ کتابنا ينطق عليكم بالحق (جاثیہ (۲۹) اور دوسری طرف کائنات کے بارے میں ارشاد ہوا ہے کہ ما خلقنا هما الا بالحق (دخان (۳۹) قرآن اور کائنات دونوں ایک ہی مشیت ربانی کا اظہار ہیں، ایک جگہ یہ اظہار لفظی صورت میں ہورہا ہے اور دوسری جگہ عملی صورت میں ۔

قرآن سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہی طریقہ خدا کے تمام پیغمبروں نے اختیار کیا۔ حضرت نوح علیہ السلام انتہائی قدیم زمانہ کے پیغمبر ہیں۔ مگر آنجناب کا طرز استدلال بھی ٹھیک وہی تھا جس کو آج ہم فطری یا حقیقی شواہد پر مبنی استدلال کہتے ہیں۔ سورہ نوح کو دیکھئے ۔ حضرت نوح کی زبان سے ارشاد ہوا ہے: فقلت استغفرواربکم انه كان غفارا - يرسل السماء عليكم مدرارا - ويمددكم باموال وبنين - ويجعل لكم جنات ويجعل لكم انهارا - ما لكم لا ترجون لله وقارا - وقد خلقكم اطوارا - الم تروا كيف خلق الله سبع سماوات وجعل القمر فيهن نورا وجعل الشمس سر اجا - والله انبتكم من الارض نباتا - ثم يعيد كم فيها

و يخرجکم اخراجا ۔ واللہ جعل لکم الارض بساطا لتسلكوا منها سبلا فجاجا (نوح) اس کے بعد آپ قرآن کے دعوتی اسلوب کو دیکھئے تو اس میں بھی آپ کو ہر جگہ یہی طریقہ ملے گا ۔ حقیقت یہ ہے کہ سارا قرآن اسی انداز دعوت سے بھرا ہوا ہے جس کو ہم نے فطری انداز کہا ہے۔ مثلاً افلا ينظرون الى الابل كيف خلقت ۔ الى السماء كيف رفعت ۔ والی الجبال كيف نصبت والی الارض كيف سطحت (غاشیہ)

یہی اصل اسلامی استدلال ہے۔ یہی خدا کے تمام پیغمبروں نے اختیار کیا اور اسی سے سارا قرآن بھرا ہوا مگر دوسری صدی ہجری میں عباسی خلافت کے زمانہ میں جب علوم اسلامی کی تدوین ہوئی تو بعض اتفاقی اسباب کے نتیجہ میں اسلامی علم کلام کو قدیم منطق و فلسفہ کی بنیاد پر مرتب کر دیا گی۱۔ امام غزالی کے زمانہ میں یہی علم کلام اسلامی مدارس کے نصاب میں داخل ہو گیا۔ اس کے بعد نسل درنسل یہ سلسلہ چلتا رہا۔ حتی کہ علم کلام ایک منطقی علم کے ہم معنی قرار مگر یہ قرآن سے سراسر انحراف تھا۔ یہ علم کلام اسلامی استدلال کی بنیاد قیاسی منطق پر رکھ رہا تھا جب کہ قرآن نے اسلامی استدلال کی بنیاد فطرت کے شواہد پر رکھی تھی۔ منطقی کلامیات کا لوگوں کے اوپر اتنا غلبہ ہوا کہ ایک ہزار سال تک بھی وہ اس سے باہر نہ آسکتے ۔ تا ہم موجودہ زمانہ میں خود خارجی حالات ہم کو مجبور کر رہے ہیں کہ ہم اس کو چھوڑیں اور دوبارہ قرآن کے فطری اسلوب کی طرف واپس جائیں۔ سائنسی انقلاب سے پہلے یہ علم کلام کم از کم علمی حیثیت سے کچھ قدر و قیمت مگر آج وہ علمی قدر قیمت بھی کھو چکا ہے اور دعوتی افادیت جو پہلے بھی اس کے اندر موجود نہ تھی وہ اب اور زیادہ اس سے دور جاچکی ہے۔

جدید علم کلام ، بالفاظ دیگر، قرآنی علم کلام کیا ہے۔ اس کو قرآنی آیات کے تتبع سے متعین کیا جا سکتا ہے۔ یہاں مختصر طور پر قرآنی کلامیات کے چند پہلوؤں کو بیان کروں گا۔ یہ پہلو قرآنی علم کلام کو جاننے کے لئے بنیادی حیثیت

قرآنی کلامیات کے پہلے اصول کو سمجھنے کے لئے مندرجہ ذیل آیت پر غور کیجئے :

يسئلونك عن الروح قل الروح من امر ربي وما لوگ تم سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہو کہ روح خدا اوتيتم من العلم الا قليلا (اسراء (۸۵) کے حکم سے ہے۔ اور تم کو صرف تھوڑا علم دیا گیا ہے یہاں سوال کرنے والے نے ایک سوال کیا تھا اور وہ سوال کے جواب کا منتظر تھا۔ مگر اس کو کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ سوال کا جواب دینے کے بجائے خود سوال کی حوصلہ شکنی کی گئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعض سوالات ایسے ہوتے ہیں جن کا حقیقی جواب آدمی کے حدود فہم سے باہر ہوتا ہے۔ وہ ایسے جوابات کو اسی طرح نہیں سمجھ سکتا جس طرح ماں کے پیٹ کے اندر کا بچہ باہر کی دنیا کو نہیں سمجھ سکتا۔ اس لئے جب کوئی شخص ایسے سوالات میں الجھے تو اس کی بہترین مدد یہ ہے کہ اس کو ایسے سوالات میں الجھنے سے روکا جائے ۔ اس کے برعکس اگر جواب دینے والا

اس کا جواب دینے بیٹھ جائے تو وہ خود بھی بے راہ ہوگا اور سائل کو بھی بے راہ کرے گا۔ میری ملاقات ایک صاحب سے ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ میں ایک سوال میں بہت عرصہ سے الجھا ہوا ہوں، آپ اس کو حل کیجئے۔ پھر انھوں نے کہا کہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مرنے کے بعد ہی آدمی کے عمل کے مطابق اس کا عذاب و ثواب شروع ہو جاتا ہے۔ اب کوئی شخص ہے جو آج ساٹھ سال گزار کر مر جاتا ہے، کوئی شخص ہے جو دس ہزار سال پہلے اتنی ہی عمر گزار کر مر چکا ہے۔ یہ دونوں اگر جہنمی ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یکساں برے عمل پر ایک شخص نے دوسرے کے مقابلہ میں دس ہزار سال زیادہ سزا پائی اور دونوں اگر جنتی ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یکساں اچھے عمل پر ایک شخص نے دوسرے کے مقابلہ میں دس ہزار سال زیادہ جنت کا لطف حاصل کیا۔ ایسی حالت میں تو خدا کو چاہیے تھا کہ وہ سب کو ایک وقت میں پیدا کرتا اور سب کو ایک وقت میں مارتا۔ تاکہ ہر ایک کو برابر جزا یا سزا ملے۔ اس قسم کے سوالات صرف ذہنی بے راہی کے سوالات ہیں۔ ہم ایک محدود دنیا میں رہتے ہیں۔ زمان و مکان کی حد بندیوں میں رہ کر سوچتا ہے۔ ایسی حالت میں ہم اس دنیا کی حقیقتوں کو پوری طرح اپنی گرفت میں نہیں لاسکتے جو لا محدود ہے اور زمان و مکان کی حد بندیوں سے آزاد ہے۔ ایسی دنیا کے بارے میں ہم صرف اجمالی علم حاصل کر سکتے ہیں اور اس معاملہ میں ہمیں صرف اجمالی علم پر قناعت کرنا چاہئے۔ اس سے زیادہ کی خواہش کرنا صرف اپنے کو بے راہی کے خطرہ میں ڈالنا ہے۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو آیتیں اتاری ہیں وہ دو قسم کی ہیں۔ ایک محکمات، دوسری محکم آیتیں وہ ہیں جو ہماری معلوم دنیا سے تعلق رکھتی ہیں۔ ایسے امور میں خدا نے براہ راست زبان میں اپنا حکم ارشاد فرمایا ہے۔ ان احکام کو ہم لفظی طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ جیسے یہ حکم کہ چور کا ہاتھ کاٹو (مائدہ ۳۸)۔ آیتوں سے مراد متماثل آیتیں ہیں۔ یہ وہ آیتیں ہیں جن کا تعلق غیب کی دنیا سے ہے۔ ایسی آیتوں میں اللہ نے بات کو تمثیلی زبان (Symbolic Language) میں بیان کیا ہے جیسے یہ کہ اللہ تخت پر متمکن ہوا (اعراف ۵۴) محکم آیتوں میں تفصیلات اور تعینات تک پہنچنے کی کوشش کرنا مفید ہے۔ لیکن اگر اسی طرح متشابہ آیتوں میں تفصیلات اور تعینات تک پہنچنے کی کوشش کی جائے تو اس کا نتیجہ بھٹکنے کے سوا اور کچھ نہ ہوگا ۔ علم کی یہ تقسیم فطرت کے عین مطابق ہے۔ جدید سائنس نے عالم فطرت کی جو تحقیق کی ہے اس نے انسانی علم کی محدودیت کو آخری طور پر ثابت کر دیا ہے۔ جدید دنیا کا یہ مسلمہ ہے کہ انسان اپنی محدودیتوں کی وجہ سے اشیاء کا صرف جزئی علم حاصل کر سکتا ہے، وہ کلی علم تک نہیں پہنچ سکتا۔ اس اعتبار سے قرآنی کلامیات کا پہلا اصول عین علمی یہ وہ اصول ہے جس پر جدید ذہن خود اپنی تحقیق کے نتیجہ میں پہنچ چکا ہے۔

۲- قرآنی کلامیات کا دوسرا اصول حقائق فطرت سے استدلال ہے۔ جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ ہم

ان کو آفاق کی اور انفس کی نشانیاں دکھائیں گے تاکہ لوگوں پر واضح ہو جائے کہ قرآن کی دعوت سراسر حق ہے۔ (حم سجدہ ۵۳) اس سلسلے میں یہاں چند مثالیں نقل کی جاتی ہیں :

قرآن کی دعوت یہ ہے کہ اس کائنات کا ایک خدا ہے، اس کو مانو۔ اس دعوت کے حق میں دلیل کیا قدیم متکلمین نے اپنے فلسفیانہ ذوق کے تحت اس پر قیاسی دلیلیں قائم کیں۔ مگر قرآن اس کے حق میں مشاہداتی دلیل دیتا ہے۔ قرآن کا کہنا ہے کہ جو کائنات تمھاری آنکھوں کے سامنے ہے اور جس کا تم انکار نہیں کر سکتے، وہی اس بات کی دلیل ہے کہ اس کائنات کا ایک خدا ہے :

أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ کیا انکار کرنے والوں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین ملے كَانَتَا رَتْقاً فَفتَقْنَاهُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ ہوئے تھے پھر ہم نے ان کو کھول دیا اور ہم نے پانی سے حَيًّ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ (انبیاء ۳۰) ہر جاندار کو بنایا، پھر کیا وہ ایمان نہیں لاتے ان آیات میں واضح طور پر اس کا ئناتی واقعہ کی طرف اشارہ ہے جس کو موجودہ زمانہ میں بگ بینگ نظریہ کہا جاتا ہے۔ خدا کی نگاہ میں اول سے آخر تک تمام انسان ہیں۔ وہ غیر زمانی انداز میں خطاب کرتے ہوئے تمام منکروں سے کہہ رہا ہے کہ ایک خدا کی دلیل خود اس کائنات میں موجود ہے جس کو تم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو۔ پھر تم اس کا انکار کس طرح کر سکتے ہو۔

۱۹۱۲ء میں امریکی عالم فلکیات ویسٹو ملوین سلیفر (Vesto Melvin Slipher) نے لوویل آبزرویٹری میں تحقیق کرتے ہوئے پایا کہ کچھ کہکشائیں تیزی سے بیرونی سمت میں بھاگ رہی ہیں۔ اس کے بعد ایڈوین ہبل (Edwin Hubble) اور ملٹن ہیومیسن (Milton Humason) نے ماؤنٹ ولسن کی سو انچ کی دوربین پر مشاہدہ کر کے بتایا کہ تمام کی تمام کہکشائیں اپنے بیرونی سمت میں تیزی سے چلی جا رہی ہیں۔ پھر ڈچ عالم فلکیات ویلم ڈی سٹر (Willem de Sitter) نے اس نظریہ کے حق میں مزید تائیدی شواہد کئے۔ ۱۹۶۵ء میں تو جرسی کے آرنو پینزیاز (Arno Penzias) اور ولسن (Robert Wilson) نے ابتدائی کائناتی دھماکہ کے دوران نکلی ہوئی بعض شعاعیں (Radiation) دریافت کیں۔ اس قسم کی مختلف دریافتوں کے بعد اب یہ نظریہ ایک ثابت شدہ حقیقت سمجھا جانے لگا ہے۔

اس نظریہ کا مطلب یہ ہے کہ کائنات ہمیشہ سے نہیں ہے بلکہ وہ واضح طور پر اپنا ایک متعین آغاز رکھتی ہے۔ وہ ایک وقت خاص میں شروع ہوئی۔ یہ نظریہ بتاتا ہے کہ ہم ایک پھیلتی ہوئی کائنات میں ہیں۔ ہمارے چاروں طرف کہکشائیں بے حد تیزی سے بیرونی سمت میں بھاگ رہی ہیں۔ حساب سے معلوم ہوا ہے کہ اس بیرونی رفتار کو اگر اندر کی طرف لوٹایا جائے تو تقریباً ۲۰ ہزار ملین سال میں تمام پھیلی ہوئی کائنات سمٹ کر ایک گولابن جائے گی۔ اس نظریہ نے

خدا کے وجود کو فطرت کے قانون کے ذریعہ ثابت کر دیا ہے کیونکہ ایک جمے ہوئے مادی گولے کے اندر ایک وقت خاص میں بیرونی سمت کی طرف مسلسل حرکت کسی خارجی محرک کے بغیر نہیں ہوسکتی۔ اس نظریہ پر ایک امریکی سائنس داں رابرٹ جیسٹرو (Robert Jastrow) کی مضمون شائع کرتے ہوئے ریڈرز ڈائجسٹ (اکتوبر ۱۹۸۰) کے اس کا عنوان ان الفاظ میں قائم کیا ہے: کیا فلکیاتی علماء خدا کو پاگئے ہیں:

Printed page