Have Astronomers Found God
Al-Risala, May 1981, pp. 4–41
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ سائنس داں جنہوں نے یہ عقیدہ بنا لیا تھا کہ کائنات کے ہر واقعہ کا اس طرح عقلی توجیہہ کی جاسکتی ہے کہ وہ اپنے ماضی کے کسی طبعی واقعہ کا نتیجہ نظر آئے۔ ایسے لوگ اس دریافت سے بے حد گھبرا اٹھے کیونکہ اس سے کائنات میں طبعی عمل اور ردعمل کے بجائے ایک زندہ خدا کی ارادی کارفرمائی نظر آتی تھی۔ حقائق کا انکار ان کے لئے ممکن نہ تھا، انہوں نے اس واقعہ کی اہمیت کو گھٹانے کے لئے اس کا نام بگ بینگ (بڑا دھماکہ) رکھ دیا۔ کائنات کا آغاز بس ایک بڑا پٹاخہ چھوٹنے کا معاملہ تھا اور بس۔ اسی قسم کے ایک امریکی عالم نے ایک مذہبی شخص سے مذاق کے انداز میں پوچھا کہ خدا نے جب زمین و آسمان نہیں بنائے تھے اس وقت وہ کیا کر رہا تھا۔ مذہبی شخص نے بگڑ کر جواب دیا کہ وہ ان لوگوں کے لئے جہنم تیار کرنے میں مشغول تھا جو اس قسم کے سوالات کرتے ہیں: He was creating hell for people who asked questions like that قرآن کہتا ہے کہ موجودہ دنیا آخری دنیا نہیں، اس کے بعد ایک اور دنیا ہے۔ یہ دنیا اگرچہ آج ہم کو اپنی آنکھ سے دکھائی نہیں دیتی مگر وہ ایک مکمل حقیقت کے طور پر موجود ہے۔ قرآن کے اس دعوے کے حق میں بھی قدیم متکلمین نے فلسفیانہ قیاسات کے ذریعہ دلائل قائم کر لئے تھے۔ مگر قرآن نے اس کے حق میں ایسی دلیل پیش کی جس کو انسان اپنے تجرباتی علم کے ذریعہ جان سکتا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : ومن كل شيئ خلقنا زوجين لعلكم تذكرون (ذاریات (۴۹) اور ہر چیز کو ہم نے جوڑا جوڑا بنایا تاکہ تم دھیان کرو یعنی جب ہر چیز اپنے جوڑے کے ساتھ مل کر اپنی تکمیل کرتی ہے تو اس کائناتی قانون نے مطابق موجودہ دنیا کا بھی ایک جوڑا ہونا چاہئے جو اس کی تکمیل کرے۔ دنیا کے اسی جوڑے کا نام آخرت ہے۔
آدمی میں اور جانوروں میں جوڑے کا ہونا انسان کو قدیم ترین زمانہ سے معلوم تھا۔ پھر درختوں کے اندر جوڑے ہونے کا علم ہوا۔ تاہم ۱۹۲۸ تک یہ معلوم نہ تھا کہ جامد مادہ کا بھی جوڑا ہوتا ہے۔ اسی سال ریاضیاتی طبیعیات کے ایک عالم پال ڈیراک (Paul A.M. Dirac) نے مادی ذرہ کے ساتھ ایک نئے قسم کے غیر مرئی ذرہ کی موجودگی کا امکان ظاہر کیا۔ ۱۹۳۲ میں اینڈرسن (K. Anderson) نے کاسمک شعاعوں کے مطالعہ کے دوران معلوم کیا کہ الیکٹران کے ساتھ ایک اور ذرہ ہے جو اس کے مخالف برقی چارج رکھتا ہے۔ اس نئے ذرہ کا نام اینٹی
یہ تحقیق آگے بڑھتی رہی۔ بالآخر معلوم ہوا کہ کائنات کے تمام ذرات جوڑوں (Pair Particles) کی شکل میں ہیں۔ پارٹیکل کا اینٹی پارٹیکل، ایٹم کا اینٹی ایٹم، میٹر کا اینٹی میٹر، حتیٰ کہ ورلڈ کا اینٹی ورلڈ جیسا کہ ڈیراک نے ۱۹۳۳ میں بتایا۔
موجودہ زمانہ میں بہت سے سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اینٹی ورلڈ ہم سے الگ اور ہماری دنیا کے متوازی اپنا وجود رکھتا ہے۔ موجودہ دنیا میٹر کی ترکیب سے بنی ہے ، اب کائنات قانون کے مطابق ایک اور دنیا اینٹی میٹر سے ترکیب یافتہ موجود ہونا چاہئے۔ قیاس ہے کہ ۲۰ ہزار ملین سال پہلے جب بگ بینگ کا واقعہ ہوا تو اسی وقت فوٹان میٹر اور اینٹی میٹر کی دو مختلف صورتوں میں مجتمع ہو گئے اور ورلڈ اور اینٹی ورلڈ کو بنانے میں لگ گئے اس نظریہ پر پہلے سویڈش طبیعیات داں اوسکر کلین (Osken Klein) اور طبیعی فلکیات داں ہینز الفوین (Hannes Alfven) نے کام کیا تھا۔ اور ۱۹۶۳ میں اپنے نتائج تحقیق پیش کئے ۔ اس کے بعد سوویت ریاضی داں ڈاکٹر گستاف نان (Gustav Naan) نے اس کو مزید مستحکم کیا۔ ڈاکٹر گستاف نان کا کہنا ہے کہ اینٹی ورلڈ کو طبیعیات کے معلوم نظریات و قوانین کے ذریعہ پوری طرح بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا یقین ہے کہ اینٹی ورلڈ آج بھی موجود ہے مگر وہ ہم سے آزاد اور ہماری دنیا کے متوازی اپنا وجود رکھتا ہے۔ ہماری موجودہ دنیا میں تمام اینٹی پارٹیکل غیر قائم (Unstable) حالت میں ہیں۔ مگر اینٹی ورلڈ میں وہ سب قائم (Stable) حالت میں ہوں گے۔ کیونکہ تمام ایٹموں کے نیو کلیس منفی برقی چارج رکھتے ہوں گے اور تمام الیکٹران مثبت برقی چارج۔
اس سلسلہ میں ایک اور مثال لیجئے۔ قرآن میں فرعون کے بارے میں ارشاد ہوا ہے :
فاليوم ننجيك ببدنك لتكون لمن خلفك آية پس آج ہم تیرے جسم کو بچالیں گے تاکہ تو پیچھے آنے والوں وإن كثيرا من الناس عن آياتنا لغافلون کے لئے ایک نشان رہے۔ اور بہت سے لوگ ہیں جو یونس ۹۲ ہماری نشانیوں سے غافل ہیں۔
اس آیت کے مطابق خدا نے فرعون کی لاش کو بعد کی نسلوں کی عبرت کے لئے محفوظ کر دیا تھا۔ بات ہے کہ مغرب کے ماہرین اثریات نے فرعون کی لاش کو قدیم مصری شہر تھیبس (Thebes) سے کھدائی کر کے نکالا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ حضرت موسیٰ کا سابقہ مصر کے دو فرعونوں سے ہوا تھا۔ آپ ریس دوم کے زمانہ میں پیدا مگر غرقابی کا واقعہ اس کے بعد اس کے بیٹے مرنفتاح (Memeptah) کے ساتھ پیش آیا۔ جس کا زمانہ تیرہویں صدی قبل مسیح ہے۔ دونوں فرعونوں کی ممی کی ہوئی لاش اب قاہرہ کے عجائب خانہ میں عام زیارت کے لئے موجود ہے۔ سائنسی جانچ سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ مرنفتاح وہی فرعون ہے جو حضرت موسیٰ کے زمانہ میں پانی میں غرق ہو کر مرا تھا۔
بائبل کا بیان ہے کہ فرعون ڈوب کر ختم ہو گیا۔ وہ اس کی لاش کی موجودگی کا کوئی اشارہ نہیں کرتی۔ اس بارے میں مکمل طور پر خاموش ہے۔ قرآن کے نزول کے وقت اور اس کے بعد ایک ہزار سال سے زیادہ مدت تک انسان کو فرعون کی لاش کے متعلق کچھ بھی معلوم نہ تھا۔ مگر قرآن کے کلام اللہ ہونے کی یہ کیسی عجیب شہادت ہے کہ موجودہ زمانہ میں حیرت انگیز طور پر اس کی لاش محفوظ حالت میں دریافت ہو گئی۔ ڈاکٹر موریس نے دس صفحات میں اس کی تفصیل دیتے ہوئے آخر میں لکھا ہے :
Those who seek among modern data for proof of the veracity of the Holy Scriptures will find a magnificent illustration of the verses of the Quran dealing with the Pharoah's body by visiting the Royal Mummies Room of the Egyptian Museum, Cairo The Bible, The Quran and Science, 1976, P. 241 یعنی جو لوگ مقدس کتابوں کی سچائی کے لئے جدید ثبوت مانگتے ہیں وہ قرآن کی ان آیات کو پڑھیں اور اس کے بعد قاہرہ کے میوزیم میں شاہی ممیوں کے کمرہ کو دیکھیں تو وہ اس کی نہایت شان دار تصدیق پا لیں گے :- اس موضوع پر جو لوگ زیادہ تفصیلی مطالعہ کرنا چاہیں وہ ڈاکٹر موریس (Dr. Maurice Bucaille) کی کتاب دی بائبل دی قرآن اینڈ سائنس کا مطالعہ کریں۔ یہ اس موضوع پر ایک قابل قدر کتاب ہے۔ شوق تھا کہ وہ قرآن کے سائنسی بیانات کا جدید تحقیقات سے مقابلہ کریں۔ اس کے لئے انھوں نے برسوں تحقیق کی۔ صرف اسی مقصد سے عربی زبان سیکھی تاکہ قرآن کو براہ راست اس کی زبان میں سمجھ سکیں۔ اس کے بعد انھوں نے ڈھائی سو صفحات پر مشتمل مذکورہ کتاب شائع کی۔
ڈاکٹر موریس نے اپنی اس کتاب میں بہت سے سائنسی حقائق کا مقابلہ قرآن کے بیانات سے کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک قدیم کتاب کی جدید تحقیقات سے اس درجہ مطابقت اس کے بغیر نہیں ہو سکتی کہ وہ بشری ذہن سے ماورا کسی ذہن سے نکلی ہو۔ وہ اپنی کتاب کو ان الفاظ پر ختم کرتے ہیں : In view of the level of knowledge in Mohammad's day, it is inconceivable that many of the statesments in the Quran which are connected with science could have been the work of a man. It is, moreover, perfectly legitimate, not only to regard the Quran as the expression of a Revelation, but also to award it a very special place, on account of the guarantee of authenticity it provides and the presence in it of scientific statements which, when studied today, appear as a challenge to explanation in human terms. محمد کے زمانہ میں علم کی جو سطح تھی اس کو دیکھتے ہوئے یہ بات بالکل ناقابل قیاس ہے کہ قرآن کے بہت سے بیانات جو سائنس سے تعلق رکھتے ہیں وہ کسی آدمی کے لکھے ہوئے ہوں۔ یہ بات پوری طرح معقول ہے کہ قرآن کو نہ صرف خدائی الہام کا ظہور سمجھا جائے بلکہ مزید اس کو ایک بہت امتیازی درجہ دیا جائے ۔ قرآن اپنے مستند ہونے کی جو ضمانت
دیتا ہے اور اس کے اندر جو سائنسی بیانات ہیں ، جب ان کا مطالعہ آج کیا جاتا ہے تو وہ قرآن کو انسانی کتاب قرار دینے کے خلاف ایک چیلنج معلوم ہوتے ہیں۔
قرآنی کلامیات کا تیسرا اصول یہ ہے کہ کائنات کے اس پہلو کو نمایاں کیا جائے کہ خدا نے اس کو ہمارے لئے بطور میزان مقرر کیا ہے۔ قرآن کی دعوت یہ ہے کہ انسان خدا کی اطاعت کرے ، وہ اپنے تچر کو محسوس کرتے ہوئے اپنے آپ کو اپنے خالق و مالک کے آگے ڈال دے ۔ اس مطالبہ کے حق میں قرآن نے فلسفیانہ قسم کے دلائل نہیں قائم کئے بلکہ فطری انداز کے دلائل قائم کئے ۔ اس مسئلہ کو سمجھنے کے لئے ایک آیت کا مطالعہ کیجئے : لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بالبینات و انزلنا معهم ہم نے اپنے پیغمبروں کو نشانیوں کے ساتھ مکھی کیجا اور ان کے الكتاب و الميزان ليقوم الناس بالقسط و ساتھ کتاب اور میزان اتاری تا کہ لوگ قائم رہیں انصاف پر۔ انزلنا الحديد فيه بأس شديد و منافع اور ہم نے لوہا اتارا اس میں بڑی قوت ہے اور لوگوں کے للناس و ليعلم الله من ينصرہ و رسله بالغيب لئے فائدہ ہے۔ اور تا کہ اللہ جان لے کہ کون بے دیکھے اللہ ان الله قوى عزیز (حدید ۲۵) کی اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے۔ اللہ قوی اور
میزان عربی زبان میں ترازو کو کہتے ہیں ۔ یعنی وہ آلہ جس سے تول کر کسی چیز کی برابری کسی دوسری چیز سے معلوم کی جائے۔ پوری کا ئنات اس معنی میں خدا کی میزان ہے۔ کائنات کی ہر چیز کو خدا نے اسی حق و عدل کی بنیاد پر قائم کر رکھا ہے جس کا مطالبہ انسان سے کیا جا رہا ہے۔ کائنات کی تمام چیزیں جس عدل پر بحر قائم ہیں اسی عدل پر انسان کو اپنے آزاد ارادہ سے قائم ہونا ہے ۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے کتاب میں اپنی پسند کے تمام عادلانہ طریقے بتا دئے ہیں۔ دوسری طرف کائنات کو عملاً انھیں عادلانہ طریقوں پر قائم کر دیا ہے۔ اب انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ قرآن میں اصول عدل کو پڑھ کر اس سے رہنمائی حاصل کرے ۔ اور اسی کے ساتھ کائنات کے ربانی پیمانہ سے ناپ کر دیکھتا رہے کہ اس کا طریقہ خدا کے پسندیدہ معیار کے مطابق ہے یا نہیں ۔ اس سلسلے میں یہاں میزان کے طور پر لوہے کا ذکر کیا گیا ہے۔ لوہے کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے مؤمن کے بے خطا کردار کو مثل کیا ہے ۔ موجودہ زندگی میں ہر قسم کا نفع قابلِ اعتماد کردار سے وابستہ ہے۔ مادہ کی دنیا میں یہی طاقت درکار لوہے کا انسان کی دنیا میں یہی طاقت درکار دار خدا کو اپنے بندوں سے مطلوب ہے۔
اس سلسلہ میں ایک مثال شہد کی بھی ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : اور تیرے رب نے شہد کی مکھی کو حکم دیا کہ پہاڑوں اور درختوں میں اور ٹٹیوں پر چڑھائی ہوئی بیلوں میں اپنے گھر بنا ۔ پھر ہر طرح کے پھلوں کا رس چوس ۔ اور اپنے رب کی ہموار کی ہوئی راہوں میں چل ۔ اس مکھی کے اندر سے پینے کی ایک چیز نکلتی ہے جس کے مختلف رنگ ہیں۔
اس میں لوگوں کے لئے شفاہے۔ اس واقعہ میں نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو دھیان دیتے ہیں (نحل)۔ شہد کی مکھی کا نظام ایک انتہائی جامع اور کامل قسم کا سماجی نظام ہے۔ اس میں وہ تمام اجزاء پائے جاتے ہیں جو انسان کے بنائے ہوئے سماجی اور تمدنی نظام میں ہوتے ہیں۔ مگر شہد کی مکھیوں کا نظام ان تمام خرابیوں سے یکسر خالی ہوتا ہے جس کا شکار انسان کے سماجی اور تمدنی نظام ہمیشہ ہوا کرتے ہیں۔ شہد کی مکھی اپنی بستی بسانے کے لئے ایک جگہ کا انتخاب کرتی ہے۔ وہاں وہ ایک مکمل شہر بساتی ہے۔ وہ ایک انتہائی پیچیدہ قسم کا کارخانہ قائم کرتی ہے۔ وہ اپنے کارخانہ میں سیکڑوں میل سے ضروری سامان حاصل کرکے لاتی ہے۔ ہزاروں مکھیاں بیک وقت اپنے اپنے مقررہ کام میں لگی ہوئی ہوتی ہیں۔ ان کی اس تنظیم اور اس جدوجہد کا آخری نتیجہ ایک قیمتی پیداوار (شہد) کی صورت میں برآمد ہوتا ہے جو اعلیٰ درجہ کی تیار غذا ہے اور اسی کے ساتھ انسانی امراض میں بہترین علاج بھی۔ شہد کی مکھیاں اتنا بڑا نظام چلاتی ہیں مگر وہ اپنی آباد کاری کے لئے کسی دوسرے کا گھر نہیں اجاڑتیں۔ پھولوں کا رس لینے کے لئے پھولوں کو نہیں مسلتیں۔ ان کی اجتماعی جدوجہد میں کبھی باہمی ٹکراؤ کا واقعہ نہیں ہوتا ۔ وہ اپنی محنت سے حاصل کی ہوئی پیداوار کا ایک قطرہ بھی ضائع نہیں کرتیں اور نہ اس کو اپنی چیز سمجھ کر سب کا سب اپنے اوپر خرچ کر ڈالتی ہیں۔ وہ اس کا بڑا حصہ دوسروں کی ضرورت کے لئے وقف کر دیتی ہیں۔ شہد کی مکھیوں کی دنیا میں ہر کام ٹھیک اسی طرح انجام دیا جاتا ہے جس طرح اسے انجام دیا جانا چاہئے۔ شہد کی مکھی خدا کے حکم سے اس بات کا عملی مظاہرہ کر رہی ہے کہ انسان کو اپنی سماجی زندگی کا نظام کس طرح بنانا چاہئے۔ اسی طرح تمام خدائی احکام کی تمثیل کائنات میں قائم کردی گئی ہے (سجدہ کی تمثیل درخت کے سایہ کی صورت میں ، قابل اعتماد کردار کی تمثیل لوہے کی صورت میں ، تصادم کے بغیر سفر حیات کی تمثیل ستاروں کی اپنے اپنے مدار پر گردش کرنے کی صورت میں ، اتحاد کار کی تمثیل شہد کی مکھیوں کے چھتے کی صورت میں ، اپنے اور غیر کو یکساں فیض پہنچانے کی تمثیل سورج کی روشنی کی صورت میں، وغیرہ) توحید اور اطاعت الہی کی طرف بلانے کے لئے قرآن کا یہ انداز عین فطری ہے۔ وہ ٹھیک اسی کائناتی استدلال پر قائم ہے جس پر جدید انسان نے اپنے علم و عمل کی پوری بنیاد کھڑی اگر ہم اس کو مؤثر طور پر آج کے انسان کے سامنے رکھ سکیں تو یقیناً ان میں سے بہت سے لوگ اسلام کو اپنے دل کی آواز پائیں گے۔ انسان چاند کے گھٹنے اور بڑھنے سے اپنا مہینہ اور سال شمار کرتا ہے۔ وہ زمین اور سورج کی حرکت سے اپنی گھڑیوں کا وقت مقرر کرتا ہے۔ وہ اپنی مشینوں کو قدرت کے نمونوں پر بناتا ہے (کشتی کو مچھلی کے نمونہ پر، ہوائی جہاز کو چڑیا کے نمونہ پر، کیمرہ کو آنکھ کے نمونہ پر، وغیرہ) اسی طرح وہ کائناتی اخلاقیات کو بھی اپنے اخلاق کے لئے معیار قرار دے سکتا ہے۔ بشرطیکہ ہم اس کو صحیح طور پر اس کے سامنے پیش کر دیں۔ اگر وہ کائنات سے اپنا مادی معیار لے رہا ہے تو اسی کائنات سے وہ اپنا اخلاقی معیار کیوں نہیں لے سکتا۔
جدید علمِ کلام کا چوتھا اصول بات کو سادہ انداز میں کہنا ہے۔ سادہ انداز سے مراد حقیقت پسندی کا انداز ہے جس میں بات کو اس کے فطری ڈھنگ سے بیان کیا گیا ہو نہ کہ ادب کے تقاضوں کی بنا پر کسی قسم کے مصنوعی انداز میں۔
انسان کو خدا نے سادہ فطرت پر پیدا کیا ہے۔ اس لئے جب بات کو سادہ انداز میں کہا جائے تو گویا گول خانہ میں گول چیز رکھی گئی ۔ اس کے برعکس جب بات کو کسی قسم کے بناوٹی انداز میں کہا جائے تو یہ گول خانہ میں چوکھٹی چیز رکھنے کے ہم معنیٰ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سادہ انداز میں کہی ہوئی بات انسانی فطرت کو اپیل کرتی وہ اس کے اندر داخل ہوتی چلی جاتی ہے۔ وہ اس کی پوری ہستی میں سما جاتی ہے۔ اس کے برعکس جب بات کو مصنوعی اور پیچیدہ انداز میں بیان کیا جاتا ہے تو وہ انسان کی ہستی میں نہیں سماتی، وہ اس کے اندر دن کا جز رنبننہتی ۔ وہ ادھر ادھر اٹھ کر رہ جاتی ہے۔
قدیم زمانہ میں ادبی اسلوب ساری دنیا میں رائج تھا۔ کوئی اپنی بات کو شاعری کے اسلوب میں بیان کرتا تھا اور کوئی صبح کے اسلوب میں، کوئی تمثیل کے اسلوب میں اپنی بات پیش کرتا تھا اور کوئی کہانی کے اسلوب موجودہ زمانہ میں ان اسالیب کی اہمیت بہت گھٹ گئی ہے۔ اب برتر اسلوب وہ سمجھا جاتا ہے جس میں بات کو واقعہ نگاری اور حقیقت بیانی کے انداز میں بیان کیا گیا ہو۔ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ اسلوب جدید سائنسی انقلاب کی دین ہے۔ اسی لئے اس کو سائنسی اسلوب کہا جاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس اسلوب کا آغاز انسانی تاریخ میں پہلی بار قرآن نے کیا تھا۔
قرآن تاریخ کی پہلی معلوم کتاب ہے جس نے مصنوعی اسلوب کو چھوڑ کر فطری اسلوب میں بات کہنے کی بنیاد سائنسی اسلوب دراصل قرآنی اسلوب ہی کی ایک جدید شکل ہے۔ تاہم قرآن کے نزول کے سو برس بعد مسلمانوں کے درمیان قدیم منطق و فلسفہ کا رواج شروع ہو گیا۔ اس کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ تقریباً تمام اسلامی علوم میں دوبارہ وہی مصنوعی انداز غالب آگیا جس کو قرآن نے ختم کیا تھا۔ لوگ اس کو کمال سمجھنے لگے کہ دین کی سادہ تعلیمات کو فنی وشگافیوں اور منطقی اصطلاحوں میں ڈھالیں اور اس کو منشور نظم یا منظوم نثر میں سجا کر پیش کریں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم دوبارہ قرآنی اسلوب کی طرف لوٹیں۔ آج کے انسان کے سامنے اسلام کی دعوت کو پیش کرنے کے لئے سائنسی اسلوب لازمی طور پر ضروری ہے۔ تاہم یہ سائنسی اسلوب خود قرآنی اسلوب ہی کا دوسرا نام ہے۔ سائنسی اسلوب کو اختیار کر کے ہم سادہ طور پر صرف قرآنی اسلوب کی طرف لوٹیں گے نہ کہ کوئی نئی چیز اختیار کریں گے۔ دار العلوم حیدر آباد کے سیمینار بعنوان ”دینی تعلیم اور عصر حاضر کے تقاضے “ کے موقع پر ۲۴ فروری ۱۹۸۱ء کو پڑھا گیا۔