خدا کا انعام
Al-Risala, May 1981, p. 42
By Maulana Wahiduddin Khan
آدمی کو چاہئے کہ خدا سے اتنا قریب ہو جائے کہ ہر وقت اس کو خدا کی یاد آتی رہے۔ کی بڑائی کا احساس اس کے اوپر اتنا چھا جائے کہ اپنا وجود اس کو بے حقیقت نظر آنے لگے۔ اور جہنم کا اس کو اتنا یقین ہو جائے کہ دنیا کے آرام و تکلیف سے زیادہ اس کو آخرت کے آرام و تکلیف کی فکر رہنے لگے۔ وہ اپنے آپ کو اتنا اوپر اٹھائے کہ اپنی غلطیاں اس کو اس طرح دکھائی دینے لگیں جس طرح کسی کو اپنے دشمن کی غلطیاں دکھائی دیتی ہیں۔ وہ اپنے آپ کو نفسیاتی گرہوں سے اتنا آزاد کرلے کہ اختلاف اور شکایت کے باوجود دوسرے کے لئے اس کے دل سے دعائیں نکلنے حق کا اعتراف نہ کرنا اس کو ایسا معلوم ہو گویا وہ اپنے آپ کو قتل کر رہا ہے۔ آشیانہ اجاڑنا اس کو ایسا لگے جیسے وہ خود اپنے آشیانہ میں آگ لگا رہا ہے۔ یہی خدا پرستی کی زندگی ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جن کو خدا اپنی جنت میں جگہ دے گا۔
جو لوگ اللہ کے سچے بندے بن جائیں، ان کے لئے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ دنیا میں انھیں غالب کرے گا۔ یہ غلبہ ان کی خدا پرستی کا اصل انعام نہیں بلکہ اصل انعام کی ابتدائی علامت ہے۔ خدا پرستوں کے لئے اللہ نے جو انعام مقدر کر رکھا ہے وہ یہ ہے کہ قیامت کے بعد آنے والی دنیا میں وہ ان کو غلبہ وسر بلندی عطا کرے۔ ان کو ہر قسم کے خوف اور حزن سے پاک کر کے اپنی رحمتیں اور نعمتیں دائمی طور پر ان کی وراثت میں دے دے۔ اسی کا نام جنت والی زندگی ہے جو آخرت میں مومنین صالحین کو حاصل ہوگی۔ مگر جب اہل ایمان کا کوئی قابل لحاظ گروہ بن جاتا ہے تو اللہ اس دنیا میں بھی اس کو علامتی طور پر غالب کر دیتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں سرکش اور غافل انسانوں کو مغلوب کر کے دکھایا جاتا ہے کہ آخرت کی ابدی دنیا میں کون عزت اور برتری کے مقام پر ہو گا اور کون ذلت اور پستی کے گڑھے میں ڈال دیا جائے گا۔