Al-Risala · June 1981

زندہ رہنمائی

Al-Risala, June 1981, pp. 3–4

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام انسان کے لئے خدا کی ابدی رہنمائی ہے۔ اسلام کی صورت میں خدا نے وہ تمام بنیادی اصول بتا دئے ہیں جو انسان کو موجودہ دنیا کی زندگی میں سچائی اور انصاف پر قائم رکھنے والے ہیں۔ کے ساتھ یہ مزید انتظام کیا گیا ہے کہ رسول اور اصحاب رسول کی زندگیوں کے ذریعہ ان اصولوں کا مکمل عملی نمونہ بھی ایک شان دار تاریخ کی صورت میں ہمارے سامنے رکھ دیا گیا ہے۔ اسلام کی یہ تاریخ ہر موڑ پر ایک زندہ رہنمائی کی طرح کھڑی ہوئی ہر آدمی کو بتا رہی ہے کہ وہ کیا کرے اور کیا نہ کرے ۔ ایک غریب مسلمان دن بھر کی محنت کے بعد شام کو اپنے گھر واپس آیا۔ اس کو بھوک لگی ہوئی تھی۔ کی بیوی کھانا لائی تو وہ صرف ارہر کی دال اور جو کی روٹی تھی۔ مسلمان اس کو دیکھ کر جھنجلا اٹھا کہ دن بھر کی محنت کے بعد ہم کو یہی کھانا ملتا ہے اور کتنے لوگ بغیر محنت کے عمدہ عمدہ کھانا کھا رہے ہیں۔ مگر معاً بعد اس کو خیال آیا کہ خدا کے محبوب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم) کا کھانا تو اس سے بھی زیادہ معمولی ہوتا تھا۔ یہ خیال آتے ہی اس کے جذبات ٹھنڈے پڑگئے ۔ انسانوں کے درمیان معاشی اونچ نیچ اس کو اصل مسئلہ کی نسبت سے غیر اہم نظر آنے اس نے خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے اپنا کھانا کھا لیا اور رات کی نماز پڑھ کر سو گیا ۔ دنیا کی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ آدمی چلتے چلتے سیدھے راستہ کے ادھر ادھر بھٹک جاتا ہے۔ اہم اور غیر اہم کے فرق کو بھول جاتا ہے۔ اس کی نظر اصل نشانہ سے ہٹ کر وقتی چیزوں میں الجھ جاتی ہے۔ مواقع پر اسلام کی تاریخ آدمی کے لئے ایک معیار کا کام دیتی ہے۔ وہ زندہ نمونوں کے ذریعہ آدمی کی تصحیح کرتی رہتی ہے۔ ایک "عام آدمی بھی اس میں اپنا سبق پا سکتا ہے اور ایک خاص" آدمی بھی ۔ ۳ مئی ۱۹۶۹ کو سابق صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹر ذاکر حسین کی اچانک وفات ہوئی تو مسٹر وی وی گری نائب صدر تھے۔ اس کے بعد دستور ہند کے مطابق وہ قائم مقام صدر ہو گئے۔ تاہم جلد ہی انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے عہدہ سے استعفا دے دیں اور صدارتی الیکشن کا مقابلہ کریں۔ ان کے استعفا کے بعد جو قانونی صورت پیدا ہوئی اس کے مطابق جناب محمد ہدایت اللہ (پیدائش ۱۹۰۵) ہندوستان کے ایکٹنگ صدر مقرر ہوئے جو اس وقت ہندوستانی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تھے۔ ان کی صدارت ۳۵ دن (۲۰ جولائی تا ۲۴ اگست ۱۹۶۹) جاری رہی۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ کے صدر کی حیثیت سے جناب محمد ہدایت صاحب کو جو تجربات ہوئے ان کو انھوں نے اپنی خود نوشت سوانح عمری (My Own Boswell) میں درج کیا ہے۔ اس سلسلہ میں ایک واقعہ بڑا سبق آموز ہے۔

۱۵ اگست ۱۹۴۹ کو راشٹرپتی بھون کے مغل گارڈن میں یومِ آزادی کی تقریب تھی۔ محمد ہدایت اللہ صاحب، بحیثیت صدر روایتی جلوس کے ساتھ راشٹرپتی بھون سے نکلے۔ اعلیٰ فوجی افسران، اے ڈی سی کا عملہ، صدارتی باڈی گارڈ سب جلو میں چل رہے تھے۔ ان کا پرشکوہ یونیفارم اور منظم انداز میں حرکت کرنا راشٹرپتی بھون کے شاہانہ ماحول میں عجیب شان دار منظر پیش کر رہا تھا۔ محمد ہدایت اللہ صاحب کہتے ہیں کہ اپنے گرد یہ شان و شوکت دیکھ کر مجھے کسی قدر فخر کا احساس ہونے لگا :

I felt a little pride (P.245)

مگر اگلے ہی لمحہ ان کو فاروقِ اعظم رضی اللہ کا وہ واقعہ یاد آ گیا جو کسی قدر فرق کے ساتھ تاریخ کی مختلف کتابوں میں آیا ہے۔ شام وفلسطین کی جنگ کے آخری مرحلہ میں عیسائیوں نے پیشکش کی کہ وہ ہتھیار ڈالنے کے لئے تیار ہیں بشرطیکہ خلیفہ اسلام خود سفر کر کے یہاں آئیں۔ خلیفہ دوم ایک اونٹ اور ایک غلام کے ساتھ مدینہ سے روانہ ہوئے۔ دمشق کے قریب جابیہ کے مقام پر پہنچے تو ابو عبیدہ بن الجراح اور خالد بن ولید اور اسلامی فوج کے دوسرے سرداروں نے آپ کا استقبال کیا۔ جابیہ میں کئی دن تک قیام رہا اور عیسائیوں سے گفتگو کے بعد یہیں معاہدہ لکھا گیا۔ معاہدہ کی تکمیل کے بعد عمر فاروقِ رضی اللہ مقدس کے لئے روانہ ہوئے۔ آپ کے جسم پر پہرا نے نہایت معمولی کپڑے تھے۔ آپ کی سواری ایک دبلی اونٹنی تھی۔ چنانچہ لوگوں نے آپ کی خدمت میں نیا کپڑا اور ترکی نسل کا عمدہ گھوڑا پیش کیا اور اصرار کیا کہ آپ اونٹنی کو چھوڑ دیں اور اسی گھوڑے پر سفر کر کے جائیں۔ آپ گھوڑے پر سوار ہوئے تو وہ عجیب شان کے ساتھ چلنے لگا۔ تھوڑی دور چلنے کے بعد عمر فاروق رض گھوڑے سے اتر گئے اور کہا کہ میری اونٹنی لاؤ، میں اسی پر سوار ہو کر جاؤں گا۔ لوگوں نے وجہ پوچھی تو کہا: میرے دل میں بڑائی کا جذبہ پیدا ہو گیا تھا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی بڑائی کا جذبہ ہو وہ جنت میں نہیں جائے گا۔

محمد ہدایت اللہ صاحب کو جب یہ واقعہ یاد آیا تو ان کے دل کی کیفیت بدل گئی۔ اس وقت ان کا جو حال ہوا اس کو وہ ان لفظوں میں بیان کرتے ہیں ۔ مجھے اپنے اوپر شرم آنے لگی۔ میں نے اسی وقت اس احساس کو اپنے اندر سے نکال دیا اور دوسری چیزوں کے بارے میں سوچنے لگا :

I felt ashamed of myself and put aside the feeling at once and begun thinking of other things. (246)

اسلامی تاریخ ہر آدمی کے لئے ایک زندہ رہنما ہے۔ وہ ہر موقع پر آدمی کو متوازن بناتی ہے ساسلامی تاریخ کے اندر کسی ”بادشاہ“ کے لئے بھی اتنی ہی رہنمائی ہے جتنی ایک معمولی ”انسان“ کے لئے۔

Printed page