اندھیرے کے بعد اجالا
Al-Risala, June 1981, pp. 5–6
By Maulana Wahiduddin Khan
قبائلی نظام میں آدمی قبیلہ کی حمایت کے تحت زندگی گزارتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے ابتدائی زمانہ میں اپنے چچا ابو طالب کی حمایت میں رہے جو قبیلہ بنو ہاشم کے سردار تھے۔ کے دسویں سال ابو طالب کا انتقال ہو گیا ۔ اس کے بعد قبائلی روایات کے مطابق ابو لہب قبیلہ بنو ہاشم کا سردار مقرر ہوا۔ اس نے آپ کی حمایت سے انکار کر دیا۔ اب آپ نے ارادہ کیا کہ کسی دوسرے قبیلہ کی حمایت حاصل کر کے اپنا دعوتی کام جاری رکھیں ۔ اس غرض کے تحت آپ نے طائف کا سفر فرمایا ۔ طائف مکہ کے جنوب مشرق میں ۶۵ میل کے فاصلہ پر ایک سرسبز و شاداب بستی تھی۔ وہاں آپ کے بعض رشتہ دار تھے۔ چنانچہ آپ اپنے خادم زید بن حارثہ کو لے کر طائف پہنچے۔ اس وقت وہاں کی آبادی میں تین ممتاز سردار تھے۔ عبد یا لیل، مسعود اور حبیب ۔ آپ ان تینوں سے ملے۔ مگر ہر ایک نے آپ کا ساتھ دینے یا آپ کی حمایت کرنے سے انکار کر دیا۔ ان میں سے ایک شخص نے کہا: خدا نے اگر تم کو رسول بنایا ہو تو میں کعبہ کا پردہ پھاڑ ڈالوں ۔ دوسرے نے کہا : خدا کو کیا تمھارے سوا کوئی نہ ملا تھا جس کو وہ رسول بنا کر بھیجتا۔ تیسرے نے کہا : خدا کی قسم میں تم سے بات نہیں کروں گا۔ اگر تم رسول ہو تو تمھارا جواب دینا گستاخی ہے اور اگر تم جھوٹے ہو تو میرے لئے مناسب نہیں کہ میں تم سے بات کروں فقال له احد هم هو يميز ط ثياب الكعبة إن كان الله ارسلك - وقال الآخر اما وجد الله احداً یرسلہ غيرك - وقال الثالث والله لا اكلمك ابداً - لئن كنت رسولا من الله كما تقول لانت اعظم خطراً من ان ارد عليك الكلام ولئن كنت تكذب على الله ما ينبغي لى ان اكلمك، سيرة ابن هشام جلد ۲ صفحه ۲۹)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غمگین ہو کر واپس ہوئے ۔ مگر ان لوگوں نے پھر بھی آپ کو نہ بخشا۔ بستی کے لڑکوں کو آپ کے پیچھے لگادیا۔ وہ گالیوں اور پتھروں سے آپ کا پیچھا کرتے رہے۔ آپ کے خادم زید بن حارثہ نے اپنے کمل سے آپ کو آڑ میں لینے کی کوشش کی ۔ مگر وہ آپ کو بچانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اور آپ کا جسم لہو لہان ہو گیا۔
بستی سے کچھ دور جا کر عقبہ اور شیبہ دو بھائیوں کا انگور کا باغ تھا۔ یہاں پہنچتے پہنچتے شام ہو گئی اور آپ نے اس باغ میں پناہ لی۔ آپ زخموں سے چور تھے اور اللہ سے دعا کر رہے تھے کہ خدا یا میری مدد فرما، مجھے تنہا نہ چھوڑ دے۔
عقبہ اور شیبہ دونوں مشرک تھے۔ مگر جب انھوں نے آپ کا حال دیکھا تو ان کو آپ کے اوپر
انہوں نے اپنے نصرانی غلام کو بلایا جس کا نام عداس تھا۔ انہوں نے عداس سے کہا کہ ان انگوروں کے کچھ خوشے لو اور ان کو ایک برتن میں رکھ کر اس آدمی کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ اس میں سے کھائے۔ عداس نے ایسا ہی کیا۔ وہ انگور لے کر آیا اور اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس کو اپنے ہاتھ میں لیا تو بسم اللہ کہا اور پھر کھایا۔ عداس نے آپ کے چہرہ کی طرف دیکھا اور کہا: خدا کی قسم یہ جو آپ نے کہا، اس ملک کے لوگ ایسا نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اے عداس، تم کس ملک کے رہنے والے ہو اور تمہارادین کیا ہے ۔ عداس نے کہا: میں نصرانی ہوں اور میں نینوا (عراق) کا رہنے والا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: مردِ صالح یونس بن متی کے شہر کا۔ عداس نے کہا: آپ کو کیسے معلوم کہ یونس بن متی کون تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: وہ میرے بھائی ہیں۔ وہ نبی تھے اور میں بھی نبی ہوں (ذات اخی۔ کان نبیاً ان نبی ) یہ سن کر عداس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھک پڑا اور آپ کے سر اور ہاتھ اور پاؤں کو چومنے لگا۔ عقبہ اور شیبہ اس منظر کو دیکھ رہے تھے۔ ایک نے دوسرے سے کہا: دیکھو اس شخص نے تمھارے غلام کو خراب کر دیا۔ عداس جب لوٹ کر آیا تو انہوں نے اس سے کہا: عداس تمھارا برا ہو۔ تم کو کیا ہوا کہ تم اس کے سر اور ہاتھ اور پاؤں کو چومنے لگے۔ عداس نے کہا اے میرے آقا، زمین پر اس سے بہتر کوئی چیز اس آدمی نے مجھ کو ایسی بات بتائی جس کو صرف ایک نبی ہی جان سکتا ہے۔ دونوں نے کہا : اے عداس، تمھارا برا ہو۔ وہ تم کو تمھارے دین سے پھیر نہ دے۔ کیونکہ تیرا دین اس کے دین سے بہتر ہے ( سيرة ابن ہشام جلد ۲ صفحه ۳۰ )
خدا کے رسول کو ایک ہی سفر میں مختلف لوگوں سے تین الگ الگ قسم کے سلوک کا تجربہ ہوا : ایک نے آپ کے اوپر پتھر پھینکے ۔
دوسرے نے آپ کی ضیافت کی ۔
تیسرے نے آپ کی نبوت کا اقرار کر لیا ۔
اس واقعہ میں بہت بڑا سبق ہے۔ یہ سبق کہ اس دنیا میں امکانات کی کوئی حد نہیں۔ یہاں اگر چٹیل میدان ہیں تو وہیں سایہ دار درخت بھی کھڑے ہوئے ہیں۔ دنیا کی زندگی میں کچھ لوگوں سے اگر برے سلوک کا تجربہ ہو تو آدمی کو مایوس نہیں ہونا چاہئے ۔ آدمی اگر خود سچائی پر قائم رہے ۔ وہ اپنے دل کو منفی جذبات سے بچائے تو ضرور اس کو خدا کی مدد حاصل ہوگی ۔ ایک قسم کے لوگ اگر اس کا ساتھ نہ دیں گے تو کچھ دوسرے لوگوں کے دل اس کے لئے نرم کر دئے جائیں گے۔