Al-Risala · January 1981

شکایت کے باوجود

Al-Risala, January 1981, pp. 25–26

By Maulana Wahiduddin Khan

کعبہ کی در بانی (حجابہ) جاہلیت کے زمانہ میں بھی نہایت عزت کی چیز سمجھی جاتی تھی۔ یہ در بانی قدیم ترین زمانہ سے ایک خاص خاندان میں چلی آ رہی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس خاندان کے ایک فرد عثمان بن طلحہ کعبہ کے دربان تھے۔ انھیں کے پاس کعبہ کی کنجیاں رہتی تھیں۔

بخاری نے روایت کیا ہے کہ ہجرت سے پہلے ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ کعبہ کے اندر داخل ہو کر عبادت کریں۔ آپ نے عثمان بن طلحہ سے کنجی مانگی تاکہ اس کا دروازہ کھول سکیں مگر عثمان بن طلحہ نے انکار کیا اور آپ کو برا بھلا کہا۔ آپ نے فرمایا: اے عثمان کسی دن تم دیکھو گے کہ یہ کنجی میرے ہاتھ میں ہوگی۔ مجھے اختیار ہوگا کہ میں جس کو چاہوں اسے دوں۔ یہ سن کر عثمان بن طلحہ نے کہا:

لقد هلکت قريش يومئذ ذلت وہ دن قریش کی تباہی اور رسوائی کا دن ہوگا آپ نے فرمایا: نہیں، اس دن وہ آباد اور باعزت ہوں گے۔

اس کے بعد وہ وقت آیا کہ مکہ فتح ہوا اور تمام اختیار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں آگیا۔ مکہ میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے بیت اللہ گئے۔ آپ نے کعبہ کا سات بار طواف کیا۔ اس کے بعد آپ نے عثمان بن طلحہ کو بلوایا۔ ایک روایت کے مطابق وہ صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کے درمیانی زمانہ میں مسلمان ہو چکے تھے۔ آپ نے ان سے کنجی لی اور دروازہ کھول کر کعبہ کے اندر داخل ہوئے۔ آپ کچھ دیر اس کے اندر رہے اور وہاں جو بت تھا اس کو اپنے ہاتھ سے توڑ دیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے باہر نکلے تو آپ کے ہاتھ میں اس کی کنجی تھی اور آپ یہ آیت پڑھ رہے تھے : ان الله يأمركم أن تؤدوا الامانات الى اهلها (اللہ تم کو حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں اہل امانت کے سپرد کر دو) اس وقت آپ کے چچا زاد بھائی اور داماد حضرت علی کھڑے ہو گئے اور کہا: یا رسول اللہ اجمع لنا الحجابة مع السقاية صلى الله عليك۔ یعنی اللہ کی رحمت آپ پر ہو، ہم بنو ہاشم کو پہلے سے زائرین کعبہ کو پانی پلانے کی خدمت حاصل ہے۔ اب کعبہ کی کلید برداری بھی ہمیں کو دے دیجئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کے سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔ آپ نے فرمایا : عثمان بن طلحہ کہاں ہیں۔ ان کو بلایا گیا۔ آپ نے کعبہ کی کنجی ان کے حوالے کرتے ہوئے کہا:

هات مفتاحك یا عثمان، ، اليوم يوم بر و وفاء - اے عثمان، اپنی کنجی لو۔ آج وفا اور سلوک کا دن ہے۔ خذوها خالدة تالدة، لا ينزعها منكم اس کو لو۔ یہ تمھارے خاندان میں ہمیشہ موروثی طور

الا ظالم (زاد المعاد، جلد اول)

پر رہے گی ۔ ظالم سے سوا کوئی بھی تم سے اس کو نہیں چھینے گا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت سے معلوم ہوتا ہے کہ حقوق کی ادائیگی اور امانتوں کی واپسی کے معاملہ میں مسلمانوں کو اتنا زیادہ پابند ہونا چاہئے کہ صاحب حق کی طرف سے تلخی کا مظاہرہ ہو تب بھی جس کا حق ہے اس کو اس کا حق پورا پورا ادا کیا جائے ۔ ادائیگی حقوق کے کسی حال میں بھی تجاوز نہ کیا جائے خواہ وہ اپنی طبیعت کے کتنا ہی خلاف ہو۔

دنیا پرست لوگوں کا یہ طریقہ ہے کہ جب ان کو کسی قسم کا اقتدار ملتا ہے تو سب سے پہلے وہ اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ اپنے سابق مخالفین کو سزا دیں اور ان کو ان کے منصب سے ہٹا کر اپنے عقیدت مندوں کو تمام مناصب پر بٹھا دیں ۔ ہر صاحب اقتدار، موافق اور مخالف کی اصطلاحوں میں سوچتا ہے ۔ موافقین کو اٹھانا اور مخالفین کو کچلنا اس کی پالیسی کا سب سے اہم جزو ہوتا ہے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عرب میں اقتدار حاصل ہوا تو آپ نے اس کے بالکل برعکس معاملہ کیا۔ آپ نے معاملات کو " موافق " اور " مخالف " کے اعتبار سے نہیں دیکھا بلکہ حق پسندی اور امانت داری کے لحاظ سے دیکھا۔ اور تمام شکایتی باتوں کو نظر انداز کر کے ہر ایک کے ساتھ وہی معاملہ کیا جو رحمت اور عدل کا تقاضا تھا۔

جب کسی ملک میں کوئی نیا انقلاب آتا ہے اور اقتدار بدلتا ہے تو قدیم نظام کے تحت رایج شدہ بہت سی چیزیں ہوتی ہیں جن کے متعلق فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کیا کیا جائے ۔ نئے حکمراں اگر یہ کریں کہ ایک طرف سے تمام پرانی چیزوں کو بدلنا شروع کر دیں تو پھر غیر ضروری مسائل ابھر کر دوبارہ وہی مشکلات پیدا کر دیں گے جو انقلاب سے پہلے تھیں ۔ انقلاب کے اصل مقاصد دھرے رہ جائیں گے اور نئے نئے مسائل میں ساری قوت صرف ہونے لگے گی جو کبھی حل نہ ہوں گے ۔ وہ سماجی رواج جو صدیوں میں بنیں ان کی جڑیں اتنی گہری ہوتی ہیں کہ ان کو چند دن میں بدلنا ممکن نہیں ہوتا۔ مگر جن کے ہاتھ میں اقتدار آتا ہے وہ اکثر اس غلط فہمی میں پڑ جاتے ہیں کہ وہ ہر چیز کو بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ شوق انقلاب میں وہ اپنے آپ کو ایسی چیزوں میں الجھالیتے ہیں جو بالآخر ان کو بھی کھا جائیں اور ان کے انقلاب کو بھی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ سنت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملے میں نئے حکمراں کو اصولی مسئلہ اور رواجی مسئلہ میں فرق کرنا چاہئے ۔ جو مسائل خالص اصولی نوعیت کے ہیں ان میں قطعا مصلحت نہ کی جائے ۔ مگر رواجی نوعیت کے مسائل میں صرف نظر کرنے کی پالیسی اختیار کی جائے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کو بتوں سے پاک کرنے میں ایک دن کی تاخیر بھی نہیں کی مگر کعبہ کی کلید برداری کے معاملہ میں جو رواج پہلے سے چلا آ رہا تھا اسی کو برقرار رکھا۔

Printed page