Sir, eighty five per cent
Al-Risala, June 1981, pp. 13–14
By Maulana Wahiduddin Khan
اس جملہ نے پرنسپل پر جادو کا کام کیا۔ فوراً اس کا موڈ بدل گیا۔ اس نے کہا "بیٹھو بیٹھو" اس کے بعد اس نے طالب علم کے کاغذات دیکھے اور جب کا غذات نے تصدیق کر دی کہ واقعی وہ پچاسی فی صد نمبروں سے پاس ہوا ہے تو اسی وقت اس نے پچھلی تاریخ میں درخواست لکھوائی۔ اس نے ایم اے خان کو نہ صرف تاخیر کے باوجود اپنے کالج میں داخل کر لیا بلکہ کوشش کر کے ان کو ایک وظیفہ بھی دلوا دیا۔
یہی طالب علم اگر اس حالت میں پرنسپل کے پاس جاتا کہ وہ تھرڈ کلاس پاس ہوتا اور پرنسپل اس کا داخلہ نہ لیتا تو طالب علم کا تاثر کیا ہوتا۔ وہ اس طرح لوٹتا کہ اس کے دل میں نفرت اور شکایت بھری ہوتی۔ وہ لوگوں سے کہتا کہ یہ سب تعصب کی وجہ سے ہوا ہے۔ ورنہ میرا داخلہ ضرور ہونا چاہئے تھا۔ داخلہ نہ ملنے کی وجہ اس کا خراب نتیجہ ہوتا مگر اس کا ذمہ دار وہ ہند و کالج کو قرار دیتا۔ ماحول کار عمل اکثر خود ہماری حالت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ مگر ہم اس کو ماحول کی طرف منسوب کر دیتے ہیں تاکہ اپنے آپ کو بری الذمہ ثابت کر سکیں ۔ اگر آدمی نے خود اپنی طرف سے کوتاہی نہ کی ہو، اگر زندگی میں وہ ان تیاریوں کے ساتھ داخل ہوا ہو جو زمانہ نے مقرر کی ہیں تو دنیا اس کو جگہ دینے پر مجبور ہوگی۔ وہ ہر ماحول میں اپنا مقام پیدا کر لے گا، وہ ہر بازار سے اپنی پوری قیمت وصول کرے گا۔ مزید یہ کہ ایسی حالت میں اس کے اندر اعلیٰ اخلاقیات کی پرورش ہوگی ۔ ماہنامہ جون 1981ء
اگر وہ کم تر لیاقت کے ساتھ زندگی کے میدان میں داخل ہوا ہو تو لازماً وہ دنیا کے اندر اپنی جگہ بنانے میں ناکام رہے گا۔ اور اس کے نتیجہ میں اس کے اندر جو اخلاقیات پیدا ہوں گی وہ بلاشبہ پست اخلاقیات ہوں گی۔ وہ شکایت، جھنجلاہٹ، غصہ، حتیٰ کہ مجرمانہ ذہنیت کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔ جب آدمی ناکام ہوتا ہے تو اس کے اندر غلط قسم کی نفسیات ابھرتی ہیں۔ اگر چہ آدمی کی ناکامی کی وجہ ہمیشہ اپنی کمزوری ہوتی ہے۔ مگر ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو قصور وار ٹھہرائے۔ وہ ہمیشہ اپنی ناکامیوں کے لئے دوسروں کو مجرم ٹھہراتا ہے۔ صورتِ حال کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ کم تر تیاری آدمی کو بیک وقت دو قسم کے نقصانات کا تحفہ دیتی ہے ۔ ــــــــ اپنے لئے بے جا طور پر ناکامی اور دوسروں کے بارے میں بے جا طور پر شکایت۔ پتھر ہر ایک کے لئے سخت ہے۔ البتہ وہ اس آدمی کے لئے نرم ہو جاتا ہے جو اس کو توڑنے کا اوزار رکھتا یہی صورت ہر معاملہ میں پیش آتی ہے۔ اگر آپ لیاقت اور اہلیت کے ساتھ زندگی کے میدان میں داخل ہوئے ہوں تو آپ اپنی واقعی حیثیت سے بھی زیادہ حق اپنے لئے وصول کر سکتے ہیں۔ " وقت " گزرنے کے بعد بھی ایک اجنبی کالج میں آپ کا داخلہ ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر لیاقت اور اہلیت کے بغیر آپ نے زندگی کے میدان میں قدم رکھا ہے تو آپ کو اپنا واقعی حق بھی نہیں مل سکتا ۔
گیس نیچے نہیں سماتی تو اوپر اٹھ کر اپنے لئے جگہ حاصل کرتی ہے۔ پانی کو اونچائی آگے بڑھنے نہیں دیتی تو وہ نشیب کی طرف سے اپنا راستہ بنا لیتا ہے۔ درخت سطح کے اوپر قائم نہیں ہو سکتا تو وہ زمین پھاڑ کر اس سے اپنے لئے زندگی کا حق وصول کر لیتا ہے۔ یہ طریقہ جو غیر انسانی دنیا میں خدا نے اپنے براہ راست انتظام کے تحت قائم کر رکھا ہے وہی انسان کو بھی اپنے حالات کے اعتبار سے اختیار کرنا ہے۔
ہر آدمی جو دنیا میں اپنے آپ کو کامیاب دیکھنا چاہتا ہو اس کو سب سے پہلے اپنے اندر کامیابی کا استحقاق پیدا کرنا چاہئے۔ اس کو چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو جانے اور پھر اپنے حالات کو سمجھے۔ اپنی قوتوں کو صحیح ڈھنگ سے منظم جب وہ ماحول کے اندر داخل ہو تو اس طرح داخل ہو کہ اس کے مقابلہ میں اپنی اہلیت ثابت کرنے کے لئے وہ اپنے آپ کو پوری طرح مسلح کر چکا ہو۔ اس نے حالات سے اپنی اہمیت منوانے کے لئے ضروری سامان کر لیا ہو۔ یہ سب ہو جائے تو اس کے بعد آپ کے عمل کا جو دوسرا لازمی نتیجہ سامنے آئے گا وہ وہی ہو گا جس کا نام ہماری زبان میں کامیابی ہے۔ (۲۴ نومبر ۱۹۶۷)