Al-Risala · June 1981

زبان جنت بھی ہے اور جہنم بھی

Al-Risala, June 1981, pp. 17–106

By Maulana Wahiduddin Khan

عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبی صلی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ اللہ علیہ وسلم قال : ان العبد لیتکلم بالکلمة وسلم نے فرمایا۔ بندہ اللہ کی رضا کی ایک بات کہتا ہے من رضوان اللہ تعالیٰ ما یلقي لہا بالا یرفعہ اور اس کو کوئی اہمیت نہیں دیتا مگر اس کی وجہ سے اللہ بہا درجات ، و ان العبد لیتکلم بالکلمة اللہ اس کے درجات بہت بلند کر دیتا ہے۔ من سخط اللہ تعالیٰ لا یلقی لہا بالا یہوی بندہ اللہ کی ناراضگی کی ایک بات کہتا ہے اور اس بھا فی جھنم (بخاری، کتاب الرقاق) کو کوئی اہمیت نہیں دیتا مگر اس کی وجہ سے وہ جہنم میں جا گرتا ہے۔

ایک معاملہ میں دو قسم کے کلام کی ایک مثال وہ ہے جو غزوہ بنی مصطلق (۶ھ) کے موقع پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھیں۔ سبب سے وہ قافلہ سے بچھڑ گئیں اور بعد کو صفوان بن معطل کے ساتھ مدینہ آئیں۔ اس طرح کے واقعات قدیم صحرائی زندگی میں غیر معمولی نہ تھے۔ مگر اس سادہ سے واقعہ کو عبداللہ بن ابی نے، جو رسول اللہ کو بدنام کرنے کے لئے موقع کی تلاش میں رہتا تھا، غلط رنگ دیا اور حضرت عائشہ کو صفوان کے ساتھ ملوث کر کے آپ کی عزت و عصمت پر حملے کئے۔ قرآن میں ہے کہ اس کی وجہ سے عبداللہ بن ابی عذاب عظیم کا مستحق ہو گیا (نور ۱۱) اس واقعہ کی بے ضرر توجیہ بھی ہو سکتی تھی۔ مگر اس نے اس واقعہ سے افک (جھوٹ) کی غذا لی۔ نے کہا: ”عائشہ رض کا قافلہ سے بچھڑنا اور پھر ایک غیر مرد کے اونٹ میں بیٹھ کر واپس آنا محض اتفاقیہ نہیں ہو سکتا“ اس قسم کی کوئی بات جو کسی پاک دامن خاتون کے کردار کو مشتبہ کرے اللہ کی نظر میں جرم عظیم کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایسا ایک جملہ بھی آدمی کو جہنم میں گرا دینے کے لئے کافی ہے۔

ایسے مواقع پر صحیح اسلامی طریقہ یہ ہے کہ آدمی اس سے ظن خیر کی غذا لے۔ وہ اپنی آبرو پر دوسرے کی آبرو کو قیاس کرے۔ اس کی ایک مثال حضرت ابو ایوب (خالد بن زید انصاری) کا واقعہ ہے۔ جب یہ قصہ پھیلا تو ان کی بیوی نے کہا: اے ابو ایوب، کیا آپ نے نہیں سنا کہ عائشہ کے بارے میں لوگ کیا کہہ رہے ہیں۔ مگر وہ جھوٹ ہے۔ اے ام ایوب، کیا تم ایسا کروگی۔ انھوں نے کہا خدا کی قسم نہیں، میں کبھی ایسا نہیں کر سکتی۔ ابو ایوب انصاری نے کہا: پھر عائشہ خدا کی قسم تم سے بہتر ہیں (ان ابا ایوب قالت له امرأته ام ایوب - یا ابا ایوب ، الا تسمع ما یقول الناس فی عائشة - قال بلی و ذلك الكذب - اکنت يا ام ایوب

فاعلة - قالت لا والله ما كنتُ لأفعله - قال فعائشة والله خير منك، سیرت ابن هشام جلد ۳ صفحه ۴۳) قرآن میں اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے :

لولا اذ سمعتموه ظن المومنون والمومنات ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے یہ بات سنی تو مسلمان مردوں بانفسهم خيرا وقالوا هذا افك مبين اور مسلمان عورتوں نے اپنے لوگوں کی بابت اچھا گمان کیا ہوتا (نور ۱۲) اور کہتے کہ یہ تو ایک کھلا ہوا بہتان ہے۔

جب کسی کے متعلق کوئی بات سامنے آئے تو ہمیشہ اس کو اچھے مفہوم میں لینے کی کوشش کرنا چاہئے ۔ انسانی زندگی کا معاملہ ایک بے حد پیچیدہ معاملہ ہے۔ کسی انسانی واقعہ کو بخوبی طور پر سمجھنے کے لئے بہت سی چیزوں کے بارے میں قطعی معلومات ضروری ہوں جو عام طور پر ایک آدمی کو حاصل نہیں ہوتیں۔ انسانی واقعہ کے بہت سے اجزاء ہوتے ہیں۔ ایک ہی واقعہ کو ناکافی معلومات کی روشنی میں دیکھا جائے تو کچھ نظر آتا ہے اور کافی معلومات کی روشنی میں دیکھا جائے تو کچھ ۔ بیشتر حالات میں کسی شخص کے سامنے واقعہ کے تمام اجزاء نہیں ہوتے ۔ یہی وجہ ہے کہ جلد رائے قائم کرنے والا اکثر غلط رائے قائم کرتا پھر کوئی آدمی کیوں غیر ضروری طور پر اپنے کو آزمائش میں ڈالے۔ وہ کیوں ایسی بات کہے جس کو وہ سچائی کی عدالت میں صحیح ثابت نہ کر سکتا ہو۔

اسلامی معاشرہ خدا سے ڈرنے والوں کا معاشرہ ہوتا ہے۔ ایسے معاشرہ میں ہر آدمی کی زبان پر اللہ کے ڈر کی لگام لگی ہوئی ہوتی ہے۔ اور جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں وہ دوسرے کے بارے میں کبھی بدخواہی کا کلمہ نہیں جو آدمی اس پر یقین رکھتا ہو کہ بالآخر سارے معاملات خدا کے یہاں پیش ہونے والے ہیں وہ دوسرے کے بارے میں کوئی بات زبان سے نکالتے ہوئے فوراً یہ سوچتا ہے کہ میری بات اگر خدا کے یہاں بے دلیل ٹھہرے تو میں کیا کروں گا۔ ایسا آدمی دوسروں کے ساتھ کبھی ایسا رویہ اختیار نہیں کرتا جو اس کو خدا کے یہاں بے قیمت کر دینے والا ہو۔ کسی آدمی کے ساتھ برا سلوک کرتے ہوئے وہ اس طرح ڈر نے لگتا ہے جیسے اس آدمی کے ساتھ خود خدا کھڑا ہوا ہو۔

خدا سے ڈرنے والا آدمی نہ صرف یہ کہ دوسرے کے خلاف کوئی بات کہنے میں بے حد محتاط ہوتا ہے بلکہ جب وہ دیکھتا ہے کہ کوئی شخص ایک مسلمان کو بے آبرو کر رہا ہے تو وہ اس مسلمان کی طرف سے مدافعت کرنے کے لئے کھڑا ہو جاتا ہے۔ وہ مظلوم کے حق میں غیر جانب دار نہیں رہتا بلکہ وہ اس کا طرف دار بن جاتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو اپنے بھائی کی عزت و آبرو کا محافظ سمجھتا ہے۔ وہ جب کسی کو دیکھتا ہے کہ وہ دوسرے کی بے آبروئی کر رہا ہے تو وہ کہہ اٹھتا ہے ۔ هـذا افاك مبين

ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا ۔ نوح نے کہا اے میری قوم ، اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود میں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہواں۔ اس کی قوم کے بڑوں نے کہا کہ ہم تو یہ نظر آتا ہے کہ تم ایک کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا ہو ۔ نوح نے کہا کہ اے میری قوم، مجھ میں کوئی گمراہی نہیں ہے۔ بلکہ میں بھیجا ہوا ہوں سارے عالم کے پروردگار کا ۔ تم کو اپنے رب کے پیغامات پہنچا رہا ہوں اور تمہاری خیر خواہی کر رہا ہوں ۔ اور میں اللہ کی طرف سے وہ بات جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ۔ کیا تم کو اس پر تعجب ہو کہ تمہارے رب کی نصیحت تمہارے پاس تمھیں میں سے ایک شخص کے ذریعہ آئی تاکہ وہ تم کو ڈرائے اور تاکہ تم بچو اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ پس انہوں نے اس کو جھٹلا دیا ۔ پھر ہم نے نوح کو بچا لیا اور ان لوگوں کو بھی جو اس کے ساتھ کشتی میں تھے اور ہم نے ان لوگوں کو ڈبو دیا جنہوں نے ہماری نشانیوں کو بے شک وہ لوگ اندھے تھے ۵۹ - ۴۶۔

حضرت آدم کے بعد تقریباً ایک ہزار سال تک تمام اولاد آدم توحید پر قائم تھی۔ حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ اس کے بعد لوگوں نے اپنے اکابر اسلاف کی شکلیں بنانا شروع کیں تاکہ ان کے احوال و عبادات کی یاد تازہ رہے۔ ان بزرگوں کے نام وُد، سُواع، یغوث، یعوق، نسر تھے۔ دھیرے دھیرے ان بزرگوں نے ان کے درمیان معبود کا درجہ حاصل کر لیا۔ یہ لوگ قدیم عراق میں آباد تھے۔ جب بگاڑ اس نوبت کو پہنچا تو اللہ نے ان کی اصلاح کے لئے حضرت نوح کو پیغمبر بنا کر ان کی طرف بھیجا۔ مگر انھوں نے حضرت نوح کو ماننے سے انکار کر دیا۔ وہ تقویٰ کی روش اختیار کرنے پر آمادہ نہ ہوئے۔

اس انکار کی وجہ قرآن کے بیان کے مطابق یہ تھی کہ ان کے لئے یہ سمجھنا مشکل ہو گیا کہ ایک آدمی جو دیکھنے میں انھیں جیسا ہے وہ خدا کی طرف سے خدا کا پیغام پہنچانے کے لئے چنا گیا ہے۔ وہ اپنے کو جن اکابر کے دین پر سمجھتے تھے ان کے مقابلہ میں حضرت نوح کو بہت معمولی آدمی دکھائی دیتے تھے۔ ان قدیم اکابر کی عظمت صدیوں کی تاریخ سے مسلم ہو چکی تھی۔ اس کے مقابلہ میں حضرت نوح ایک معاصر شخص تھے۔ ان کے نام کے ساتھ تاریخی عظمتیں جمع نہیں ہوئی چنانچہ قوم نے آپ کا انکار کر دیا۔ انھوں نے وقت کے پیغمبر کو احمق اور گمراہ کہنے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ ان کے خیال کے مطابق آپ اکابر کے دین سے منحرف ہو گئے تھے۔ حضرت نوح کی خیر خواہی ، ان کے ساتھ دلائل کا زور، ان کا راہ حق پر قائم ہونا، کوئی بھی چیز قوم کو متاثر نہ کر سکی۔

حضرت نوح کی طرف سے اتمام حجت کے بعد قوم غرق کر دی گئی ۔ اس غرقابی کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے خدا کی نشانیوں کو جھٹلایا۔ انھوں نے چاہا کہ "معمولی شخصیت" کے بجائے کسی "مسلمہ شخصیت" کے ذریعہ انھیں خدا کا پیغام مگر خدا کی نظر میں یہ اندھا پن تھا۔ خدا نے آدمی کو بصیرت اس لئے دی ہے کہ وہ "نشانی" کے روپ میں حق کو پہچان لے نہ کہ حسی مظاہرہ کی صورت میں۔ جو لوگ نشانی کے روپ میں حق کو نہ پہچانیں وہ خدا کی نظر میں آنکھ رکھتے ہوئے بھی اندھے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے خدا کی رحمت میں کوئی حصہ نہیں۔

اور عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ انھوں نے کہا اے میری قوم ، اللہ کی عبادت کرو ، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں۔ سو کیا تم ڈرتے نہیں۔ اس کی قوم کے بڑے جو انکار کر وہے تھے بولے ، ہم تو تم کو بے عقلی میں مبتلا دیکھتے ہیں اور ہم کو گمان ہے کہ تم جھوٹے ہو۔ ہود نے کہا کہ اے میری قوم، مجھے کچھ بے عقلی نہیں۔ بلکہ میں خدا وند عالم کا تم کو اپنے رب کے پیغامات پہنچا رہا ہوں اور تمھارا خیر خواہ اور امین ہوں۔ کیا تم کو اس پر تعجب ہے کہ تمھارے پاس تمھیں میں سے ایک شخص کے ذریعہ تمھارے رب کی نصیحت آئی تاکہ وہ تم کو ڈرائے۔ اور یاد کرو جب کہ اس نے قوم کے بعد تم کو اس کا جانشین بنایا اور ڈیل ڈول میں تم کو پھیلاو بھی زیادہ دیا۔ پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ تم حضرت نوح کی کشتی میں جو اہل ایمان بچے تھے ان میں آپ کے پوتے ارم کی اولاد سے ایک نسل چلی۔ یمن میں آباد تھے اور عاد کہلاتے تھے۔ یہ لوگ ابتدا حضرت نوح کے دین پر تھے۔ بعد کو جب ان میں بگاڑ پیدا ہوا تو اللہ نے حضرت ہود کو ان کے اوپر اپنا پیغمبر مقرر کیا۔ مگر قوم کے سرداروں کو آپ کے اندر رہ عظمت نظر نہ آئی جو ان کے خیال کے مطابق خدا کے پیغمبر کے اندر ہونا چاہئے تھی۔ انھوں نے سمجھا کہ یہ شخص یا تو احمق ہے یا پھر وہ جھوٹا دعویٰ کر رہا ہے۔ ”میں تمھارا ناصح اور امین ہوں“ پیغمبر کی زبان سے یہ فقرہ بتاتا ہے کہ داعی اور مدعو کا رشتہ قومی حریف یا سیاسی مد مقابل جیسا رشتہ نہیں ہے۔ یہ خیر خواہی اور امانت داری کا رشتہ ہے۔ داعی کو ایسا ہونا چاہئے کہ اس کے دل میں مدعو کے لئے خیر خواہی کے سوا اور کچھ نہ ہو۔ مدعو کی طرف سے خواہ کیسا ہی ناخوش گوار رویہ سامنے آئے مگر داعی آخر وقت تک مدعو کا خیر خواہ بنا رہے۔ پھر جو پیغام وہ دے رہا ہے اس کو دیتے ہوئے اس کے اندر یہ احساس نہ ہو کہ یہ میری کوئی اپنی چیز ہے جو میں دوسروں کو عطا کر رہا ہوں۔ بلکہ یہ جذبہ ہو کہ یہ خود دوسروں کی یہ دوسروں کے لئے خدا کی امانت ہے جو میں ان کو پہنچا کر بری الذمہ ہو رہا ہوں۔ پیغمبروں کی دعوت کی بنیاد ہمیشہ یہ رہی ہے کہ وہ انسان کے اوپر خدا کی نعمتیں یاد دلائیں اور اس کو اس بات سے ڈرائیں کہ اگر وہ خدا کا شکر گزار بن کر نہ رہا تو وہ خدا کی پکڑ میں آ جائے گا۔ قومی جھگڑوں اور مادی مسائل کو پیغمبر کبھی اپنی دعوت کا عنوان نہیں بناتے ۔ وہ آخری حد تک اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کے اور مدعو کے درمیان اصل دعوت کے سوا کوئی چیز بحث کی بنیاد نہ بننے پائے، قوم ان کو صرف توحید اور آخرت کے داعی کے روپ میں دیکھے نہ کہ کسی اور روپ میں۔

”خدا کی نعمتوں کو یاد کرو تا کہ تم کامیاب ہو“ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آخرت کی نعمتوں کا استحقاق اس کے لئے ہے جس نے دنیا میں خدا کی نعمتوں کا اعتراف کیا ہو۔ جنت خدا کے منعم ومحسن ہونے کا سب سے بڑا اس لئے آخرت کی جنت کو وہی پائے گا جس نے دنیا میں خدا کے منعم و محسن ہونے کی حیثیت کو پا لیا ہو ۔ یہی معرفت جنت کی اصل قیمت ہے۔

ھود کی قوم نے کہا، کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم تنہا اللہ کی عبادت کریں اور ان کو چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے آئے ہیں۔ پس تم جس عذاب کی دھمکی ہم کو دیتے ہو اس کو لے آؤ اگر تم سچے ہو۔ ہود نے کہا، تم پر تمہارے رب کی طرف سے ناپاکی اور غصہ واقع ہو چکا ہے۔ کیا تم مجھ سے ان ناموں پر جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں۔ جن کی خدا نے کوئی سند نہیں اتاری۔ پس انتظار کرو، میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں۔ پھر ہم نے بچا لیا اس کو اور جو اس کے ساتھ تھے اپنی رحمت سے اور ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی جو ہماری نشانیوں کو جھٹلاتے تھے اور مانتے نہ تھے۔ ۷ - ۷۲ انسان ناموں کے ذریعہ کسی چیز کا تصور قائم کرتا ہے۔ کسی شخص کے ساتھ اچھا لفظ لگ جائے تو وہ اچھا معلوم ہوتا ہے اور اگر برا لفظ لگ جائے تو برا دکھائی دینے لگتا ہے۔ خدا کے سوا دوسری چیزیں یا ہستیاں جو آدمی کی تو جہات کا مرکز بنتی ہیں اس کی وجہ بھی یہی نام ہوتے ہیں۔ لوگ کسی شخصیت کو غوث پاک ، گنج بخش ، غریب نواز مشکل کشا جیسے الفاظ سے پکارنے لگتے ہیں۔ یہ الفاظ دھیرے دھیرے ان شخصیتوں کے ساتھ ایسا وابستہ ہو جاتے ہیں کہ لوگ یقین کر لیتے ہیں کہ جس کو غوث (فریاد رس) کہا جاتا ہے وہ واقعی فریاد کو پہنچنے والا ہے اور جس کو مشکل کشا کے نام سے پکارا جاتا ہے سچ مچ وہ مشکلوں کو حل کرنے والا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے تمام صرف انسانوں کے رکھے ہوئے ہیں۔ ان ناموں کا کوئی ہستی کہیں موجود نہیں۔ ان کے حق میں نہ کوئی شرعی دلیل ہے اور نہ کوئی عقلی دلیل۔

ناموں کی شریعت کی ایک قسم وہ ہے جو جاہل انسانوں کے درمیان رائج ہے۔ تاہم اس کی ایک زیادہ مہذب صورت بھی ہے جو پڑھے لکھے لوگوں کے درمیان مقبول ہے۔ یہاں بھی کچھ شخصیتوں کے ساتھ کچھ غیر معمولی الفاظ وابستہ کر دئے جاتے ہیں، مثلاً قدسی صفات، محبوب خدا، ستون اسلام، نجات دہندہ ملت وغیرہ۔ اس قسم کے الفاظ دھیرے دھیرے مذکورہ شخصیتوں کے نام کا جز بن جاتے ہیں۔ لوگ ان شخصیتوں کو ویسا ہی غیر معمولی سمجھ لیتے ہیں جیسا کہ ان کو دئے ہوئے نام سے ظاہر ہوتا ہے۔

جو چیز "باپ دادا" سے چلی آرہی ہو، بالفاظ دیگر جس نے تاریخی اہمیت حاصل کرلی ہواور طویل روایات کے نتیجہ میں جس کے ساتھ ماضی کا تقدس شامل ہو گیا ہو وہ لوگوں کی نظر میں ہمیشہ عظیم ہو جاتی ہے۔ اس کے مقابلہ میں "آج" کے داعی کی بات ہلکی دکھائی دیتی ہے۔ وہ حال کے داعی کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ان کو اعتماد ہوتا ہے کہ وہ اسلاف کی عظمتوں کے وارث ہیں پھر کون ان کا کچھ بگاڑ سکتا ہے۔

خدا کے معاملہ میں ڈھٹائی آدمی کو دھیرے دھیرے بے حس بنا دیتی ہے۔ وہ اس قابل نہیں رہتا کہ وہ نصیحت اور یاد دہانی کی زبان میں کوئی اصلاح قبول کر سکے۔ ایسے لوگ گویا اس بات کے منتظر ہیں کہ خدا عذاب کی زبان میں ان کے سامنے ظاہر ہو۔

اور ثمود کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالح کو بھیجا۔ انہوں نے کہا اے میری قوم ، اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک کھلا ہوا نشان آگیا ہے۔ یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لئے ایک نشانی کے طور پر ہے۔ پس اس کو چھوڑ دو کہ وہ کھائے اللہ کی زمین میں ۔ اور اس کو کوئی گزند نہ پہنچانا ورنہ تم کو ایک درد ناک عذاب پکڑلے گا۔ اور یاد کرو جب کہ خدا نے عاد کے بعد تم کو ان کا جانشین بنایا اور تم کو زمین میں ٹھکانا دیا، تم اس کے میدانوں میں محل بناتے ہو اور پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے ہو۔ پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فساد کرتے نہ پھرو ۷۴ ۔

قوم عاد کی تباہی کے بعد اس کے صالح افراد عرب کے شمال مغرب میں حجر کے علاقہ میں آباد ہوئے ۔ نسل بڑھی اور انہوں نے زراعت اور تعمیرات میں بڑی ترقیاں کیں۔ انھوں نے میدانوں میں محل بنائے اور پہاڑوں کو تراش کر ان کو بڑے بڑے حجری مکانات کی صورت دے دی۔ بعد کو ان میں وہ خرابیاں پیدا ہوگئیں جو مادی ترقی اور دنیوی خوش حالی کے ساتھ قوموں میں پیدا ہوتی ہیں۔ عیش پرستی ، آخرت فراموشی ، حدو د اللہ سے بے پروائی ، اللہ کی بڑائی کو بھول کر اپنی بڑائی قائم کرنا ۔ اس وقت اللہ نے حضرت صالح کو کھڑا کیا تاکہ وہ ان کو اللہ کی پکڑ سے مگر انھوں نے نصیحت قبول نہ کی۔ وہ اپنے فساد کو صلاح میں بدلنے پر راضی نہ ہوئے۔ جس کا ئنات میں تمام چیزیں خدا کی تابع بن کر رہ رہی ہیں وہاں انھوں نے خدا کا سرکش بن کر رہنا چاہا۔ جہاں ہر چیز اپنی حد کے اندر اپنا عمل کرتی ہے وہاں انھوں نے اپنی حد سے تجاوز کر کے زندہ رہنا چاہا۔ یہ ایک اصلاح یافتہ دنیا میں فساد پھیلا نا تھا۔ چنانچہ ان کو دنیا میں بسنے کے نا اہل قرار دے دیا گیا ۔

قوم ثمود کو جانچنے کے لئے خدا نے ایک اونٹنی مقرر کی اور کہا کہ اس کو تکلیف نہ پہنچانا ورنہ ہلاک کر دئے خدا کے لئے یہ بھی ممکن تھا کہ وہ ان کے لئے ایک خوفناک شیر مقرر کر دے۔ مگر خدا نے شیر کے بجائے اونٹنی کو مقرر فرمایا۔ اس کا راز یہ ہے کہ آدمی کی خدا ترسی کا امتحان ہمیشہ "اونٹنی " کی سطح پر لیا جاتا ہے نہ کہ "شیر" کی سطح پر۔ سماج میں ہمیشہ کچھ ناقۃ اللہ (خدا کی اونٹنی) جیسے لوگ ہوتے ہیں۔ یہ وہ کم زور افراد ہیں جن کے ساتھ وہ مادی زور نہیں ہوتا جو لوگوں کو ان کے خلاف کارروائی کرنے سے روکے۔ جن کے ساتھ حسن سلوک کا محرک صرف اخلاقی احساس ہوتا ہے نہ کہ کوئی ڈر۔ مگر یہی وہ لوگ ہیں جن کی سطح پر لوگوں کی خدا پرستی جانچی جارہی ہے۔ یہی وہ افراد ہیں جن کے ذریعہ کسی کو جنت کا سرٹیفکٹ دیا جا رہا ہے اور کسی کو جہنم کا ۔ ثمود نے فن تعمیر میں کمال پیدا کیا۔ متعلقہ علوم مثلاً ریاضی ، ہندسہ، انجینئرنگ میں بھی یقیناً انھوں نے ضروری دستگاہ حاصل کی ہوگی ورنہ یہ ترقیات ممکن نہ ہوتیں۔ مگر ان کو جس بات کا مجرم ٹھہرایا گیا وہ ان کی مادی ترقیاں نہیں تھیں بلکہ زمین میں فساد پھیلانا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جائز حدود میں ترقی کرنے سے خدا نہیں روکتا۔ البتہ زندگی کے معاملات میں آدمی کو اس نظام اصلاح کا پابند رہنا چاہئے جو خدا نے پوری کائنات میں قائم کر رکھا ہے ۔

ان کی قوم کے بڑے جنہوں نے گھمنڈ کیا ، ان مومنین سے جو بے جو ناتوان گنے جاتے تھے ، کیا تم کو یقین ہے کہ صالح اپنے رب کے بھیجے ہوئے رہیں۔ انھوں نے جواب دیا کہ ہم تو جو وہ لے کر آئے ہیں ، اس پر ایمان رکھتے ہیں، وہ متکبر لوگ کہنے لگے کہ ہم تو اس چیز کے منکر ہیں جس پر تم ایمان لائے ہو۔ پھر انھوں نے اونٹنی کو کاٹ ڈالا اور اپنے رب کے حکم سے اور انھوں نے کہا ، اے صالح اگر تم پیغمبر ہو تو وہ عذاب ہم پر لے آؤ جس سے تم ہم کو ڈراتے تھے۔ زلزلہ نے آپکڑا اور وہ اپنے گھر میں اوندھے منھ پڑے رہ گئے۔ اور صالح یہ کہتا ہوا ان کی بستیوں سے نکل گیا کہ اے میری قوم، میں نے تم کو اپنے رب کا پیغام پہنچادیا اور میں نے تمھاری خیر خواہی کی مگر تم خیر خواہوں کو پسند نہیں کرتے پیغمبر جب آتا ہے تو اپنے زمانہ میں وہ ایک متنازع شخصیت ہوتا ہے نہ کہ ثابت شدہ شخصیت۔ مزید یہ کہ اس کے ساتھ دنیا کی رونقیں جمع نہیں ہوتیں، وہ دنیا کی گدیوں میں سے کسی گدی پر بیٹھا ہوا نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ پیغمبر کے معاصر ہوتے ہیں وہ پیغمبر کے پیغمبر ہونے کو سمجھ نہیں پاتے اور اس کا انکار کر دیتے ہیں۔ ان کو یقین نہیں آتا کہ وہ شخص جس کو ہم صرف ایک معمولی آدمی کی حیثیت سے جانتے ہیں وہی وہ شخص ہے جس کو خدا نے اپنے پیغام کی پیغام رسانی کے لئے چنا ہے۔

’’ ہم صالح کے پیغام (بما ارسل بہ) پر ایمان لائے ہیں، حضرت صالح کے ساتھیوں کا یہ جواب بتاتا ہے کہ ان میں اور دوسروں میں کیا فرق تھا۔ منکروں نے حضرت صالح کی شخصیت کو دیکھا اور مومنین نے آپ کے اصل منکرین کو حضرت صالح کی شخصیت میں ظاہری عظمت دکھائی نہ دی ، انھوں نے آپ کو نظر انداز کر دیا۔ کے برعکس مومنین نے حضرت صالح کے پیغام میں حق کے دلائل اور سچائی کی جھلکیاں دیکھ لیں ، وہ فوراً ان کے ساتھی سچائی ہمیشہ دلائل کے زور پر ظاہر ہوتی ہے نہ کہ دنیوی عظمتوں کے زور پر۔ جو لوگ دلائل کے روپ میں حق کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ فوراً اس کو پالیتے ہیں۔ اور جو لوگ ظاہری بڑائیوں میں اٹکے ہوئے ہوں وہ مشتبہ ہوکر رہ جاتے ہیں۔ انھیں کبھی حق کا ساتھ دینے کی توفیق حاصل نہیں ہوتی۔

حضرت صالح کی اونٹنی کو مارنے والا اگر چہ قوم کا ایک سرکش آدمی تھا۔ مگر یہاں اس کو پوری قوم کی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا ’’ ان لوگوں نے اونٹنی کو ہلاک کر دیا‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ کسی گروہ کا ایک شخص برا عمل کرے اور دوسرے لوگ اس کے برے فعل پر راضی ہیں۔ تو سب کے سب اس مجرمانہ فعل میں شریک قرار دے دئے جاتے ہیں۔ جو قوم خواہش پرستی کا شکار ہو اس کو حقیقت پسندی کی باتیں اپیل نہیں کرتیں ۔ وہ ایسے شخص کا ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں ہوتی جو اس کو سنجیدہ عمل کی طرف بلاتا ہو۔ اس کے برعکس جو لوگ خوش نما الفاظ بولیں اور جھوٹی امیدوں کی تجارت کریں۔ ان کے گرد بھیڑ کی بھیڑ جمع ہوجاتی ہے۔ سچے خیر خواہ کے لیے اس کے اندر کوئی کشش نہیں ہوتی۔ البتہ ان لوگوں کی طرف وہ تیزی سے دوڑ پڑتی ہے جو اس کا استحصال کرنے کے لیے اٹھے ہوں ۔

اور ہم نے لوط کو بھیجا۔ جب اس نے اپنی قوم سے کہا۔ کیا تم کھلی بے حیائی کا کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا میں کسی نے تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہو۔ بلکہ تم حد سے گزر جانے والے لوگ ہو۔ کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انہیں اپنی بستی سے نکال دو۔ یہ لوگ بڑے پاک بننے ہیں۔ پھر ہم نے بچا لیا لوط کو اور اس کے گھر والوں کو ، اس کی بیوی کے سوا جو پیچھے رہ جانے والوں میں سے بنی ۔ اور ہم نے ان پر بارش برسائی پتھروں کی ، پھر دیکھو کیسا انجام ہوا مجرموں کا ۸۴۔

حضرت لوط حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ وہ جس قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجے گئے وہ دریائے اردن کے کنارے، جنوبی شام کے علاقہ میں آباد تھی۔ اس قوم کی خوش حالی اس کو عیش پرستی کی طرف لے گئی۔ حتیٰ کہ ان لوگوں کی بے راہ روی اتنی بڑھ گئی کہ انھوں نے اپنی شہوانی خواہشات کی تسکین کے لیے ہم جنسی کے طریقے کو اختیار کر لیا۔ پیغمبر نے ان کو اس کھلی ہوئی بے حیائی سے ڈرایا۔

کائنات کے لیے فطرت کی ایک اسکیم ہے۔ اس اسکیم کو قرآن میں اصلاح کہا گیا ہے۔ اس اصلاح کے خلاف چلنے کا نام فساد ہے۔ کائنات کی تمام چیزیں اسی اصلاحی راستہ پر چل رہی ہیں۔ یہ صرف انسان ہے جو اپنی آزادی کا غلط فائدہ اٹھاتا ہے اور فطرت کے راستہ کے خلاف اپنا راستہ بناتا ہے۔ حضرت لوط کی قوم اسی قسم کے ایک فساد میں مبتلا تھی۔ جنسی تعلق کا فطری طریقہ یہ ہے کہ عورت مرد باہم بیوی اور شوہر بن کر رہیں۔ یہ اصلاح کے طریقہ پر چلنا ہے۔ اس کے برعکس اگر یہ ہو کہ مرد مرد یا عورت عورت کے درمیان جنسی تعلقات قائم کئے جانے لگیں تو یہ خدا کی مقرر کی ہوئی حد سے گزر جانا ہے۔ یہ وہی چیز ہے جس کو قرآن میں فساد کہا گیا ہے۔ حضرت لوط پر صرف ان کے قریبی لوگوں میں سے چند افراد ایمان لائے ۔ باقی پوری قوم اپنی ہوس پرستی میں انھوں نے کہا۔ ”جب یہ ہم سب لوگوں کو گندہ سمجھتے ہیں اور خود پاک بننا چاہتے ہیں تو گندوں میں پاکوں کا کیا کام۔ پھر تو یہ نکل جائیں ہمارے شہر سے“، ان کا یہ قول دراصل گھمنڈ کا قول تھا۔ ان کو یہ کہنے کی جرات اس لئے ہوئی کہ وہ اپنی اکثریت اور مادی تفوق کی وجہ سے اپنے کو محفوظ حالت میں سمجھتے تھے۔ گھمنڈ کی نفسیات میں مبتلا لوگ ہمیشہ اپنے کمزور پڑوسیوں سے کہتے ہیں کہ جن لوگوں کو ہمارا طریقہ پسند نہیں وہ ہماری زمین کو چھوڑ دیں۔ مگر یہ خدا کی دنیا میں شرک کرنا ہے اور شرک سب سے بڑا جرم ہے۔

حضرت لوط کی قوم پر خدا کا عذاب آیا تو عذاب کا شکار ہونے والوں میں پیغمبر کی بیوی بھی شامل تھیں۔ انعام اور سزا کے باب میں خدا کا بے لاگ انصاف ظاہر ہوتا ہے خدا کے انصاف کے ترازو میں رشتوں اور دوستیوں کا کوئی لحاظ نہیں۔ خدا کا فیصلہ اتنا بے لاگ ہے کہ اس نے حضرت نوح کے بیٹے، حضرت ابراہیم کے باپ، حضرت لوط کی بیوی اور حضرت محمدؐ کے چچا کو بھی معاف نہیں کیا۔ اور دوسری طرف۔ فرعون کی بیوی نے صالح عمل کا ثبوت دیا تو اس کو جنت میں داخل کر دیا۔

اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔ اس نے کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کر دو، اس کے سوا کوئی تمھارا معبود نہیں۔ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے دلیل پہنچ چکی ہے۔ پس ناپ اور تول پوری کرو۔ اور مت گھٹا کرو لوگوں کو ان کی چیزیں۔ اور فساد نہ ڈالو زمین میں اس کی اصلاح کے بعد۔ یہ تمھارے حق میں بہتر ہے اگر تم مومن ہو۔ اور راستوں پر مت بیٹھو کہ ڈراؤ اور اللہ کی راہ سے ان لوگوں کو روکو جو اس پر ایمان لا چکے ہیں اور اس راہ میں کجی تلاش کرو۔ اور یاد کرو جب کہ تم بہت تھوڑے تھے پھر تم کو بڑھا دیا۔ اور دیکھو فساد کرنے والوں کا انجام کیا ہوا۔ اور اگر تم میں سے ایک گروہ اس پر ایمان لایا ہے، جو دے کر میں بھیجا گیا ہوں اور ایک گروہ ایمان نہیں لایا ہے تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے اور وہ بہتر فیصلہ کرنے والا ہے ۸۴-۸۵ حضرت ابراہیمی کے ایک صاحب زادہ مدین تھے جو آپ کی تیسری بیوی قطورہ سے پیدا ہوئے۔ انھیں کی نسل سے تھے۔ یہ قوم بحر احمر کے عرب ساحل پر آباد تھی۔ یہ لوگ خدا کو ماننے والے تھے اور اپنے کو دین ابراہیم کا حامل سمجھتے تھے۔ مگر حضرت ابراہیم کے پانچ سو سال بعد ان کے اندر بگاڑ آ گیا۔ یہ ایک تجارت پیشہ قوم تھی اور اس کے بگاڑ کا سب سے زیادہ اظہار اسی پہلو سے ہوا۔ وہ ناپ تول اور لین دین میں دیانت داری کے اصولوں پر پوری طرح قائم نہیں رہے۔

دوسرے سے معاملہ کرنے میں بے انصافی خدا کے قائم کردہ نظام اصلاح کے خلاف ہے۔ خدا نے اپنی دنیا کا نظام کامل انصاف پر قائم کیا ہے۔ یہاں کوئی بھی چیز ایسی نہیں جو لیتے وقت دوسرے سے زیادہ لے اور دیتے وقت دوسرے کو کم دے۔ یہاں ہر چیز حسابی صحت کی حد تک انصاف کے اصول پر قائم ہے۔ ایسی حالت میں انسان کو بھی وہی کرنا چاہئے جو اس کے گردو پیش کی ساری کائنات کر رہی ہے۔ ایسا نہ کرنا خدا کی اصلاح یافتہ دنیا میں فساد برپا کرنا ہے۔

اہلِ مدین کا معاملات بگاڑ جب بہت بڑھ گیا تو خدا نے حضرت شعیب کو ان کی طرف اپنا پیغام لے کر بھیجا۔ آپ نے ان کو بتایا کہ معاملاتی میں راستی اور دیانت داری کا طریقہ اختیار کرو۔ آپ نے کھلے کھلے دلائل کے ذریعہ ان کو آخری حد تک باخبر کر دیا۔ مگر وہ نصیحت قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہوئے۔ حتیٰ کہ ان کا حال یہ ہوا کہ خود حضرت شعیب کی دعوت کو مٹانے پر تل گئے۔ وہ آپ کی باتوں میں طرح طرح کے شوشے نکال کر لوگوں کو آپ کے بارے میں غلط فہمی میں ڈالتے۔ وہ جارحانہ کارروائیوں کے ذریعہ کوشش کرتے کہ لوگ آپ کا ساتھ نہ دیں۔ ان پر خدائی عذاب آیا اور وہ تباہ کر دئے گئے۔ بندوں کے حقوق کی رعایت اور باہمی معاملات کی درستگی خدا کی نظر میں اتنی زیادہ اہم ہے کہ اس کی مخالفت پر ایک قوم، ایمان کی دعوے دار ہونے کے باوجود تباہ کر دی گئی ۔ خدا بہتر فیصلہ کرنے والا ہے اور بہتر فیصلہ جانب داری کے ساتھ نہیں ہو سکتا۔ یہ ممکن نہیں کہ خدا بے کلمہ والوں کو ان کی بے انصافی پر کترے اور کلمہ والوں کو ٹھیک اسی بے انصافی پر چھوڑ دے۔

قوم کے بڑے جو متکبر تھے انھوں نے کہا کہ اے شعیب ہم تم کو اور ان لوگوں کو جو تمھارے ساتھ ایمان لائے ہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے یا تم ہماری ملت میں پھر آ جاؤ۔ شعیب نے کہا، کیا ہم بیزار ہوں تب بھی۔ ہم اللہ پر جھوٹ گھڑنے والے ہوں گے اگر ہم تمھاری ملت میں لوٹ آئیں بعد اس کے کہ اللہ نے ہم کو اس سے نجات دی۔ اور ہم سے یہ ممکن نہیں کہ ہم اس ملت میں لوٹ آئیں مگر یہ کہ خدا ہمارا رب ہی ایسا چاہے۔ ہمارا رب ہر چیز کو اپنے علم سے گھیرے ہوئے ہے۔ ہم نے اپنے رب پر بھروسہ کیا۔ اے ہمارے رب، ہمارے اور ہماری قوم کے ورمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دے، تو بہترین فیصلہ کرنے اور ان بڑوں نے جنھوں نے اس کی قوم میں سے انکار کیا تھا کہا کہ اگر تم شعیب کی پیروی کرو گے تو تم برباد ہو جاؤ گے۔ پھر ان کو زلزلہ نے پکڑ لیا۔ پس وہ اپنے گھر میں اوندھے منہ پڑے رہ گئے۔ جنھوں نے شعیب کو جھٹلایا تھا گویا وہ کبھی اس بستی میں بسے ہی نہ تھے، جنھوں نے شعیب کو جھٹلایا وہی گھاٹے میں رہے۔ اس وقت شعیب ان سے منہ موڑ کر چلا اور کہا، اے میری قوم میں تم کو اپنے رب کے پیغامات پہنچا چکا اور تمھاری خیر خواہی کر چکا۔ اب میں کیا افسوس کروں منکروں پر ۹۳۔ حضرت شعیب کی قوم خدا کے انکار کی مجرم نہ تھی بلکہ خدا پر افترا کرنے کی مجرم تھی۔ یعنی اس خدا کی طرف ایک ایسے دین کو منسوب کر رکھا تھا جس کو خدا نے ان کے لئے اتارا نہ تھا۔ یہی تمام انبیاء کی قوموں کا حال رہا ہے۔ انبیاء کی قومیں سب وہی تھیں جن پر اس سے پہلے خدا نے اپنا دین اتارا تھا مگر بعد کو انھوں نے خود ساختہ تبدیلیوں اور اضافوں کے ذریعہ اس کو کچھ سے کچھ کر دیا۔ انھوں نے خدا کے دین کو اپنی خواہشات کا دین بنا ڈالا اور اسی کو خدا کا دین

وقت کے قائم شدہ دین میں جن لوگوں کو عزت اور بڑائی کا مقام ملا ہوا تھا انھوں نے محسوس کیا کہ دلیل کے اعتبار سے ان کے پاس پیغمبر کی باتوں کا توڑ نہیں ہے۔ تاہم اقتدار کے ذرائع سب انھیں کے پاس تھے۔ نے دلیل کے میدان میں اپنے کو لاجواب پا کر یہ چاہا کہ زور و قوت کے ذریعہ وہ پیغمبر کو خاموش کر دیں۔ پیغمبر کے ساتھیوں کو اس نازک صورت حال کی یاد دلائی کہ وقت کے نظام میں زندگی کے تمام سرے انھیں لوگوں کے پاس ہیں جن کو وہ باطل ٹھہرارہے ہیں۔ یہ باطل لوگ اگر ان کے خلاف متحرک ہو جائیں تو اس کے بعد وہ زندگی کے ذرائع کہاں پائیں گے۔ مگر وہ بھول گئے کہ خدا ان سے بھی زیادہ طاقت در ہے۔ اور خدا جس کے خلاف ہو جائے اس کے لئے کہیں پناہ نہیں۔

کسی شخص کے لئے صرف اس وقت تک چھوٹ ہے جب تک اس پر امر حق واضح نہ ہوا ہو۔ امر حق جب بخوبی طور پر واضح ہو جائے اور اس کے بعد بھی آدمی سرکشی کرے تو وہ ہمدردی کا استحقاق کھو دیتا ہے۔ اسی بنیاد پر دنیا میں بھی کسی مجرم کے لئے سزا ہے اور اسی بنیاد پر آخرت میں بھی لوگوں کے لئے ان کے جرم کے مطابق سزا کا

اور ہم نے جس بستی میں بھی کوئی نبی بھیجا ، اس کے باشندوں کو ہم نے سختی اور تکلیف میں مبتلا کیا تاکہ وہ گڑ گڑائیں ۔ ہم نے دکھ کو سکھ سے بدل دیا یہاں تک کہ انھیں خوب ترقی ہوئی اور وہ کہنے لگے کہ تکلیف اور خوشی تو ہمارے باپ دادوں کو بھی پہنچتی رہی ہے۔ پھر ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا اور وہ اس کا گمان بھی نہ رکھتے تھے۔ اور اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور ڈرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی نعمتیں کھول دیتے ۔ مگر انھوں نے جھٹلایا تو ہم نے ان کو پکڑ لیا ان کے اعمال کے بدلے۔ پھر کیا بستی والے اس سے بے خوف ہو گئے ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب رات کے وقت آ پڑے جب کہ وہ سوتے ہوں۔ یا کیا بستی والے اس سے بے خوف ہو گئے ہیں کہ ہمارا عذاب آپہنچے ان پر دن چڑھے جب وہ کھیلتے کیا یہ لوگ اللہ کی تدبیروں سے بے خوف ہو گئے ہیں ۔ پس اللہ کی تدبیروں سے وہی لوگ بے خوف ہوتے ہیں جو تباہ ہونے والے ہوں ۹۹ - ۹۹-۹۴ حدیث میں آیا ہے کہ مومن پر مصیبتیں آتی رہتی ہیں۔ یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے۔ کی مثال گدھے کی طرح ہے کہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے مالک نے کس لئے اس کو باندھا اور کیوں اس کو چھوڑ دیا (لا يزال البلاء بالمؤمن حتى يخرج نقيا من ذنوبه والمنافق مثله كمثل الحمار لايدرى فيم ربطه اهله ولا فيم ارسلوہ ، تفسیر ابن کثیر)

خدا انسان کے اوپر مختلف قسم کی تکلیفیں ڈالتا ہے تاکہ اس کا دل نرم ہو۔ خدا کے سوا دوسری چیزوں پر اس کا اعتماد ٹوٹ جائے ، اس کا وہ گھمنڈ جاتا رہے جو آدمی کے لئے اپنے سے باہر کسی سچائی کو قبول کرنے میں رکاوٹ بنتا اس طرح خدائی انتظام کے تحت آدمی کے اندر کمی اور بے چارگی کی نفسیات پیدا کی جاتی ہے تاکہ وہ حق کی آواز پر کان لگائے۔ خدا کا یہ معاملہ عام لوگوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے اور پیغمبر کے مخاطب گروہ کے ساتھ بھی۔ تاہم یہ معاملہ سنت الہی کے تحت التباس واشتباه کے پردہ میں ہوتا ہے۔ مثلاً کوئی آفت آتی ہے تو وہ اسباب علل کے روپ میں آتی یہ صورت حال بہت سے لوگوں کے لئے فتنہ بن جاتی ہے ۔ وہ یہ کہہ کر اس کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ یہ تو ایک ہونے والی بات تھی جو ہوئی ۔ پھر جب وہ مصیبتوں سے اثر نہیں لیتے تو خدا ان کے حالات بدل کر ان کو خوش حالی میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اب اس قسم کے لوگ اور بھی زیادہ مغالطہ میں پڑ جاتے ہیں ۔ ان کو یقین ہو جاتا ہے کہ یہ محض حوادث روزگار کی بات تھی ۔ یہ وہی عام اتار چڑھاؤ تھا جو ہمیشہ لوگوں کے ساتھ پیش آتا رہا ہے ورنہ کیا وجہ ہے کہ ہم کو برے دن کے بعد اچھے دن دیکھنے وہ پہلی تنبیہ سے بھی سبق لینے سے محروم رہتے ہیں اور دوسری تنبیہ سے بھی۔

سرکشی کے بعد کسی کو ترقی ملنا سخت خطر ناک ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ خدا نے اس کو ایسی حالت میں پکڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے جب کہ وہ اپنے پکڑے جانے کے بارے میں زیادہ سے زیادہ بے خوف ہو چکا ہو۔ ایمان اور تقویٰ کی زندگی کا فائدہ اگرچہ اصلاً آخرت میں ملنے والا ہے ۔ تاہم خدا اگر چاہتا ہے تو دنیا میں بھی وہ ایسے لوگوں کو فراخی اور عزت کی صورت میں ان کے عمل کا ابتدائی انعام دے دیتا ہے۔

کیا سبق نہیں ملا ان کو جو زمین کے وارث ہوئے ہیں اس کے اگلے باشندوں کے بعد کہ اگر ہم چاہیں تو ان کو پکڑ لیں ان کے گناہوں پر۔ اور ہم نے ان کے دلوں پر مہر کر دی ہے پس وہ نہیں سمجھتے۔ یہ وہ بستیاں ہیں جن کے کچھ حالات ہم تم کو سنا رہے ہیں۔ ان کے پاس ہمارے رسول نشانیاں لے کر آئے تو ہرگز نہ ہوا کہ وہ ایمان لائیں اس بات پر جس کو وہ پہلے جھٹلا چکے تھے۔ اس طرح اللہ منکرین کے دلوں پر مہر کر دیتا ہے۔ اور ہم نے ان کے اکثر لوگوں میں عہد کا نباہ نہ پایا اور ہم نے ان میں سے اکثر کو نافرمان پایا ۱۰۲۔ زمین پر بار بار یہ واقعہ ہوتا ہے کہ ایک قوم کو یہاں عزت اور خوش حالی نصیب ہوتی ہے۔ اس کے بعد اس پر زوال آتا ہے۔ وہ میدان سے ہٹا دی جاتی ہے اور اس کی جگہ دوسری قوم عزت اور خوش حالی کے تمام مقامات پر قابض ہو جاتی ہے۔

یہ واقعہ خدا کی ایک نشانی ہے۔ وہ آدمی کو خدا کی یاد دلانے والا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ ملنے یا نہ ملنے کے سرے کسی بالاتر ہستی کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ جس کو چاہے دے اور جس سے چاہے چھین لے۔ خدا نے انسان کو دیکھنے اور سمجھنے کی جو طاقت دی ہے اس کو کام میں لاکر وہ بآسانی اس حقیقت کو سمجھ سکتا ہے۔ وہ جان سکتا ہے کہ اصل سرچشمہ اگر کسی اور کے ہاتھ میں نہ ہوتا تو جو گروہ ایک بار غالب آجاتا وہ کبھی دوسرے کو اوپر آنے نہ دیتا۔ آدمی اگر اس قسم کا سبق لے تو قوموں کے عروج و زوال میں اس کو ربانی غذا ملے گی۔ مگر جب بھی ایک قوم پیچھے ہٹتی ہے اور اس کی جگہ دوسری قوم اوپر آتی ہے تو اس کے افراد اس غلط فہمی میں پڑ جاتے ہیں کہ پچھلی قوم کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ صرف پچھلی قوم کے لئے تھا، ہمارے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔

خدا نے آنکھ اور کان اور عقل کی صلاحیت انسان کو اس لئے دی ہے کہ وہ اس سے سبق لے، وہ ان کے ذریعہ خدا کے اشارات کو سمجھے۔ مگر جب آدمی اپنی ان صلاحیتوں سے وہ کام نہیں لیتا جو اس کو لینا چاہئے تو اس کے بعد لازمی طور پر ایسا ہوتا ہے کہ خدا کے قانون کے تحت اس کے دل کی حساسیت مردہ ہونے لگتی ہے۔ یہاں تک کہ ان معاملات میں اس کے جذبات کند ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اس کے دل و دماغ پر بے حسی کی مہر لگ جاتی ہے۔ اب اس کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ وہ دیکھنے کے باوجود نہ دیکھے اور سننے کے باوجود نہ سنے۔ وہ عقل رکھتے ہوئے بھی باتوں کو نہ سمجھے۔ وہ انسان ہوتے ہوئے بے انسان بن جائے۔

انسانیت کا آغاز حضرت آدم کے مومنین سے ہوا۔ اس کے بعد جب بگاڑ ہوا تو یاد دہانی کے لئے خدا کے پیغمبر اب یہ ہوا کہ پیغمبر کے ذریعہ اصلاح قبول کرنے والے افراد کو بچا کر ان لوگوں کو ہلاک کر دیا گیا جنہوں نے اصلاح قبول کرنے سے انکار کیا تھا۔ مگر بعد کی نسلیں دوبارہ اپنے پیغمبر کے ہاتھ پر کئے ہوئے عہد اسلام کو بھلا بیٹھیں اور دوبارہ وہی انجام پیش آیا جو پہلی بار مومنین آدم کے ساتھ پیش آیا تھا۔ یہ صورت بار بار پیش آتی رہی حتیٰ کہ نسل انسانی کی اکثریت کے لئے تاریخ نافرمانی اور عہد شکنی کی تاریخ بن گئی۔

پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کے پاس۔ مگر انھوں نے ہماری نشانیوں کے ساتھ ظلم کیا۔ پس دیکھو کہ مفسدوں کا کیا انجام ہوا۔ اور موسیٰ نے کہا اے فرعون، میں پروردگار عالم کی طرف سے بھیجا ہوا آیا ہوں۔ سزاوار ہوں کہ اللہ کے نام پر کوئی بات حق کے سوا نہ کہوں۔ میں تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے کھلی ہوئی نشانی لے کر آیا ہوں۔ پس تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو جانے دے۔ فرعون نے کہا، اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو اس کو پیش کرو اگر تم سچے ہو۔ تب موسیٰ نے اپنا عصا ڈال دیا تو یکایک وہ ایک صاف اثر د ہابن گیا۔ اس نے اپنا ہاتھ نکالا تو اچانک وہ دیکھنے والوں کے سامنے چمک رہا تھا۔ فرعون کی قوم کے سرداروں نے کہا یہ شخص بڑا ماہر جادو گر ہے۔ چاہتا ہے کہ تم کو تمھاری زمین سے نکال دے۔ اب تمھاری کیا صلاح ہے۔ انھوں نے کہا، موسیٰ کو اور اس کے بھائی کو مہلت دو اور شہروں میں ہرکارے بھیجو کہ وہ تمھارے پاس سارے ماہر جادو گر لے آئیں ۱۱۲۔ پیغمبر کا خطاب اولاً ان لوگوں سے ہوتا ہے جو وقت کے سردار ہوں، جن کو ماحول میں فکری قیادت حاصل ہو۔ یہ لوگ اپنی بر تر ذہنی صلاحیت کی وجہ سے سب سے زیادہ اس پوزیشن میں ہوتے ہیں کہ سچائی کے پیغام کو اس کی گہرائی کے ساتھ سمجھ سکیں۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ ان لوگوں نے پیغمبرانہ دعوت کے ساتھ ہمیشہ ”ظلم“ کا سلوک کیا۔ ذہانت کو اس کے لئے استعمال کیا کہ حق کے پیغام کو ٹیڑھے معنی پہنائیں۔ مثلاً ایک نشانی جو یہ ثابت کر رہی ہو کہ وہ خدا کے زور پر ظاہر ہوئی ہے اس کے متعلق یہ کہہ دینا کہ یہ جادو کے زور پر دکھائی گئی ہے۔ یا تحریک کو بد نام کرنے کے لئے اس کو سیاسی معنی پہنانا اور یہ کہنا کہ یہ لوگ محض اپنے اقتدار کے لئے اٹھے ہیں۔ عوام چونکہ باتوں کا تجزیہ نہیں کر پاتے، اس لئے اس قسم کی باتیں ان کو حق سے مشتبہ کرنے کا سبب بن جاتی ہیں۔ مگر داعی حق کے خلاف ایسے چھوٹے نکائے نسبت بڑا جرم ہے۔ اس طرح وقت کے بڑے اپنی قیادت کا تحفظ تو ضرور کر لیتے ہیں مگر یہ تحفظ ان کو صرف اس قیمت پر ملتا ہے کہ ان کی آخرت ہمیشہ کے لئے غیر محفوظ ہو جائے۔

خدا کا دل حق پر ہے۔ اس لئے جو شخص خدا کی طرف سے اٹھے اس کے لئے جائز نہیں کہ وہ حق و انصاف کے سوا کوئی دوسرا کلمہ اپنی زبان سے نکالے۔ اگر وہ حق کے سوا کوئی بات بولے تو وہ خدا کی نمائندگی کے استحقاق کو کھو دے گا اور خدا کے یہاں انعام کے بجائے سزا کا مستحق ہو جائے گا۔

حضرت موسیٰ بیک وقت بنی اسرائیل کی طرف بھی مبعوث تھے اور فرعون اور اس کی قبطی قوم کی طرف بھی۔ میں اگر چہ اس وقت بہت سی کمزوریاں آچکی تھیں۔ تاہم بنیادی طور پر انھوں نے حضرت موسیٰ کا ساتھ دیا۔ بر عکس فرعون اور اس کی قوم نے (چند افراد کو چھوڑ کر) آپ کا انکار کیا۔ بالآخر چالیس سال تبلیغ کے بعد آپ نے بنی اسرائیل کے ساتھ مصر سے ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا۔ آپ نے فرعون سے مطالبہ کیا کہ بنی اسرائیل کو ملک سے باہر جانے دے تاکہ وہ بیابان کی کھلی فضا میں جاکر ایک خدا کی عبادت کر سکیں (خروج ۱۷ ، ۴) حضرت موسیٰ اگر چہ سچائی کے مگر فرعون نے اس کو جادو کا معاملہ سمجھا اور جادو گروں کے ذریعہ آپ کو زیر کرنے کا فیصلہ کیا۔

اور جادو گر فرعون کے پاس آئے۔ انھوں نے کہا، ہم کو انعام تو ضرور ملے گا اگر ہم غالب رہے۔ فرعون نے کہا، ہاں اور یقیناً تم ہمارے مقربین میں داخل ہو گے۔ جادوگروں نے کہا، یا تو تم ڈالو یا ہم ڈالنے والے بنتے ہیں۔ موسیٰ نے کہا۔ تم ہی ڈالو۔ پھر جب انھوں نے ڈالا تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر دیا اور ان پر دہشت طاری کر دی اور بہت بڑا کرتب دکھایا، اور ہم نے موسیٰ کو حکم بھیجا کہ اپنا عصا ڈال دو۔ تو اچانک وہ نگلنے لگا اس کو جو انھوں نے گھڑا تھا۔ پس حق ظاہر ہو گیا اور جو کچھ انھوں نے بنایا تھا باطل ہو کر رہ گیا۔ پس وہ لوگ وہیں ہار گئے اور ذلیل ہو کر رہے۔ اور جادو گر سجدہ میں گر پڑے۔ انھوں نے کہا، ہم ایمان لائے رب العالمین پر جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا ۱۲۲ ۔ کسی ماحول میں جس چیز کی اہمیت لوگوں کے ذہنوں پر چھائی ہوئی ہو اسی نسبت سے ان کے پیغمبر کو معجزہ دیا جاتا قدیم مصر میں جادو کا بہت زور تھا اس لئے حضرت موسیٰ کو اسی نوعیت کا معجزہ دیا گیا۔

فرعون کے طے کردہ پروگرام کے مطابق مصریوں کے قومی تہوار (یوم الزینہ) کے موقع پر ان کے تمام بڑے بڑے جادو گر جمع ہوئے۔ جادو گروں نے کہا کہ پہلے ہم اپنا کر تب سامنے لائیں یا تم جو کچھ دکھانا چاہتے ہو دکھاؤ گے۔ نے کہا پہلے تم اپنا کر تب سامنے لاؤ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اپنے دشمن کے خلاف اقدام کرنے میں کبھی پہل نہیں کرتا۔ وہ آخر وقت تک دشمن کو موقع دیتا ہے کہ وہ خود پہل کرے۔ فریق مخالف جب اس طرح پہل کی ذمہ داری اپنے اوپر لے چکا ہوتا ہے اس وقت پیغمبر اپنی پوری قوت کو استعمال کر کے اسے زیر کر دیتا ہے۔ دعوت کے معاملہ میں پیغمبر کا طریقہ اقدام ہوتا ہے اور عملی ٹکراؤ کے معاملہ میں دفاع کا۔

مصر میں حضرت موسیٰ کی دعوت تقریباً چالیس سال تک جاری رہی ہے۔ جادو گروں سے مقابلہ کا واقعہ اس کے آخری زمانہ کا ہے۔ اس سے قیاس کیا جا سکتا ہے کہ جادو گر حضرت موسیٰ کی دعوت سے آشنا رہے ہوں گے۔ تاہم ابھی تک ان کی آنکھ کا پردہ نہیں ہٹا تھا۔ جب انھوں نے اپنے مخصوص فن کے میدان میں حضرت موسیٰ کی برتری دیکھی تو حجابات اٹھ ان کو نظر آ گیا کہ یہ جادو گری کا معاملہ نہیں بلکہ خدائی پیغمبری کا معاملہ ہے۔ وہ بے اختیار ہو کر خدا کے سامنے

جادو گروں نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں پھینکیں تو خیال بندی کی وجہ سے وہ لوگوں کو چلتا پھرتا سانپ نظر مگر جب حضرت موسیٰ کا عصا سانپ بن کر میدان میں گھوما تو جادو گروں کی ہر لاٹھی اور رسی صرف لاٹھی اور رسی ہو کر رہ گئی۔ جادو گر جادو کے حدود کو جانتے تھے ۔ اس واقعہ میں جادو گروں کو نظر آگیا کہ انسانی تدبیریں اپنے آخری کمال پر پہنچ کر بھی کتنی حقیر ہیں اور خدا کتنا عظیم اور کتنا زیادہ طاقت ور ہے۔ اس کے بعد فرعون ان کو اپنے تمام اقتدار کے باوجود بے وقعت نظر آنے لگا۔ وہی جادو گر جو خدا کی عظمت کو دیکھنے سے پہلے فرعون سے انعام کے طالب تھے اب انھوں نے فرعون کی طرف سے بدترین سزاؤں کی دھمکی کو بھی اس طرح نظر انداز کر دیا جیسے اس کی کوئی حقیقت ہی نہیں۔

فرعون نے کہا، ہم لوگ موسیٰ پر ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں۔ یقیناً یہ ایک سازش ہے جو تم لوگوں نے شہر میں اس غرض سے کی ہے کہ تم اس کے باشندوں کو یہاں سے نکال دو، تو تم بہت جلد جان لو گے۔ ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹوں گا پھر تم سب کو سولی پر چڑھا دوں گا۔ انھوں نے کہا، ہم کو اپنے رب ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ تو تم کو صرف اس بات کی سزا دینا چاہتا ہے کہ ہمارے رب کی نشانیاں جب ہمارے سامنے آئیں تو ہم ان پر ایمان لے آئے۔ اے رب، ہم پر صبر انڈیل دے اور ہم کو وفات دے اسلام پر۔ ۱۲۶ - ۱۲۳ حق کے لئے جان قربان کرنا حق کے حق ہونے کی آخری گواہی دینا ہے۔ جادوگروں کو خدا کی مدد سے اس کی توفیق جادوگروں نے اپنے آپ کو سخت ترین سزا کے لئے پیش کر کے یہ ثابت کر دیا کہ ان کا حضرت موسیٰ پر ایمان لانا کوئی حیلہ اور سازش کا معاملہ نہیں، یہ سچے اعتراف حق کا معاملہ ہے۔ مگر جادوگروں کا سب سے بڑا عمل فرعون کی متکبرانہ نفسیات کے لئے سب سے بڑا تازیانہ تھا۔ انھوں نے فرعون کے مقابلہ میں موسیٰ کا ساتھ دے کر فرعون کو ساری قوم کے سامنے رسوا کر دیا تھا۔ چنانچہ فرعون ان کے خلاف غصہ سے بھر گیا۔ اس نے جادوگروں کے ساتھ اسی ظالمانہ کارروائی کا فیصلہ کیا جو ہر وہ متکبر شخص کرتا ہے جس کو زمین پر کسی قسم کا اختیار حاصل ہو جائے۔ جادوگر بھی دلیل کے میدان میں ہارے اور فرعون بھی۔ مگر جادوگر اپنی شکست کا اعتراف کر کے خدا کی ابدی نعمتوں کے مستحق بن گئے اور فرعون نے اس کو اپنی عزت کا مسئلہ بنا لیا۔ اس کے حصہ میں صرف یہ آیا کہ اپنی جھوٹی انانیت کی تسکین کے لئے دنیا میں وہ حق پرستوں پر ظلم کرے اور آخرت میں خدا کے ابدی عذاب میں ڈال دیا جائے۔

فرعون نے موسیٰ کی دعوت قبول کرنے یا نہ کرنے کو اپنی "اجازت" کا مسئلہ سمجھا۔ اور جادوگروں نے متکبر آدمی کا مزاج ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی مرضی کو سب سے زیادہ اہم سمجھتا ہے نہ کہ دلیل اور ایسے لوگ کبھی حق کو قبول کرنے کی توفیق نہیں پاتے۔

اس نازک ترین موقع پر جادوگروں نے جو کامل استقامت دکھائی وہ سراسر خدا کی مدد سے تھی اور ان کی زبان سے جو دعا نکلی وہ بھی تمام تر الہامی دعا تھی۔ جب کوئی بندہ اپنے آپ کو ہمہ تن خدا کے حوالے کر دیتا ہے تو اس وقت وہ خدا کے اتنا قریب ہو جاتا ہے کہ اس کو خدا کا خصوصی فیضان پہنچنے لگتا ہے۔ اس وقت اس کی زبان سے، ایسے کلمات نکلتے ہیں جو خدا کے القا کئے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس وقت وہ وہی دعا کرتا ہے جس کے متعلق اس کا خدا پہلے ہی فیصلہ کر چکا ہوتا ہے کہ وہ اس کے لئے قبول کر لی گئی ہے۔

جادوگروں کا یہ کہنا کہ خدایا ہمارے اوپر صبر انڈیل دے اور ہماری موت آئے تو اسلام پر آئے۔ لفظوں میں یہ کہنا ہے کہ ہم نے اپنے بس بھر اپنے آپ کو تیرے حوالے کر دیا ہے۔ اب جو کچھ ہمارے بس سے باہر ہے اس کے واسطے تو ہمارے لئے کافی ہوجا۔ جب کبھی کوئی بندہ دین کی راہ میں دل سے یہ دعا کرتا ہے تو خدایقیناً اس کی مشکلات میں اس کے لئے کافی ہو جاتا ہے ۔

Printed page