تبلیغ کی طاقت
Al-Risala, June 1981, pp. 32–43
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں ارشاد ہوا ہے: تم منکروں کی بات نہ مانو اور ان کے ساتھ جہاد کرو، بڑا جہاد ( فلا تطع الکافرین وجاهد هم به جهاد اکبیرا ، فرقان ۵۲) سورہ فرقان بالاتفاق مکی سورہ ہے۔ مکی دور میں قتال کا حکم تھیں۔ اترا تھا بلکہ صراحتہ اس سے روکا گیا تھا (کفروا ایدیکم واقیموا الصلوة، نساء، ۷۷) اس لئے یہاں جہاد کو لازماً غیر حربی مفہوم میں لینا ہوگا۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے بہ کی ضمیر کا مرجع قرآن لیا ہے اور جاهد هم بہ کی تفسیر جاهد هم بالقرآن سے کی ہے (تفسیر ابن کثیر) اس تفسیر کے مطابق آیت کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کی دعوت پیش کرنے میں پوری کوشش کرو۔ قرآن کی نظریاتی اشاعت کے ذریعہ باطل کا مقابلہ کرو۔ جہاد کا لفظ قرآن کے دوسرے مقامات پر جنگ وقتال کے لئے بھی آیا ہے۔ مگر ایسے مقامات پر صرف جہاد کا لفظ ہے۔ مگر سورہ فرقان میں جس عمل کا ذکر ہے اس کو " جہاد کبیر " سے تعبیر کیا گیا ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خدا کی نظر میں سب سے بڑا جہاد وہ نہیں ہے جو میدان جنگ میں ہتھیاروں کے ذریعہ سب سے بڑا جہاد وہ ہے جو قرآنی پیغام کی تبلیغ واشاعت کے ذریعہ انجام دیا جاتا ہے۔ اسلام کا اصل مقصد لوگوں سے لڑنا نہیں بلکہ لوگوں کو خدا کی رحمت کے سایہ میں لانا لڑائی اسلام کا ایک اتفاقی عمل ہے جب کہ دعوت اسلام کا اصلی اور دائمی عمل۔ مومن دوسروں کے حق میں حد درجہ خیر خواہ ہوتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ خدا کے بندوں کو جہنم کے خطرہ سے بچائے اور ان کو جنت کے راستہ پر لگائے۔ یہ کام سنجیدہ تبلیغ اور حکیمانہ نصیحت کے ذریعہ ہوتا ہے نہ کہ لڑائی بھڑائی کے ذریعہ۔ دنیا میں فتح کی اصل جڑ بھی دلوں کی فتح ہے۔ لوگوں کے دلوں پر قبضہ حاصل ہو جائے تو گویا ان کی ساری چیز قبضہ میں آگئی۔ تلوار کے ذریعہ حاصل کی ہوئی فتح عارضی اور جزئی ہوتی ہے اور دل کی راہ سے حاصل کی ہوئی فتح مستقل اور مکمل ہوتی اگر آپ نے جنگ کا میدان جیتا تو آپ نے صرف ایک " میدان " جیتا۔ لیکن اگر آپ نے دلوں کو جیت لیا تو آپ نے پوری قوم اور اس کے سارے اثاثہ کو جیت لیا۔
جو چیز حکمت سے حاصل ہو سکتی ہے اس کو جبر سے حاصل کرنے کی کوشش کرنا صرف یہ خطرہ مول لینا ہے کہ وہ کبھی حاصل نہ ہو۔ حضرت عمر کی خلافت کے زمانہ میں حساب کتاب کا نظام قائم ہوا تو دفاتر کے لئے وہی اجنبی زبانیں اختیار کر لی گئیں جو پہلے سے مفتوحہ ممالک میں رائج نہیں ۔ مثلاً ایران کے لئے فارسی، شام کے لئے سریانی، مصر کے لئے قبطی۔ اگر اول دن سے عربی زبان پر اصرار کیا جاتا تو غیر ضروری قسم کے لڑائی جھگڑے شروع ہو جاتے جو کبھی ختم نہ ہوتے۔ مگر مقامی زبانیں اختیار کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام اور عربیت کی اشاعت
کا پر امن عمل اپنی فطری رفتار سے جاری رہا۔ اں تک کہ بالآخر یہ تمام علاقے عرب علاقے بن گئے اور سب کی زبان عربی زبان ہوگئی۔
اسلام کی اصل طاقت تلوار نہیں ، اسلام کی اصل طاقت تبلیغ ہے۔ اس سلسلے میں یہاں ماسٹر "تاراسنگھ (۱۹۶۷ - ۱۸۸۵) کا ایک بیان نقل کیا جاتا ہے :
جب کوئی مجھ سے یہ کہتا ہے کہ حضرت محمد صاحب نے تلوار کے زور سے اپنا مذہب پھیلایا تھا تو مجھے اس شخص کی نا سمجھی پر ہنسی آتی ہے۔ اس اعتراض کرنے والے کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس اعتراض سے تو وہ محمد صاحب کو غیبی طاقت کا مالک تسلیم کر رہا ہے ، اگر ایک تنہا محمد دنیا کے مقابلہ میں تلوار سے کامیاب ہوتا ہے تو یقیناً یہ ایک معجزہ ہے۔ اپنی سچائی اور ایمان داری کی مدد سے کامیابی حاصل کرنا اتنا بڑا معجزہ نہیں جتنا کہ تلوار کے زور سے مذہب پھیلانے میں کامیابی حاصل کرنا۔
فرض کیا جائے کہ محمد نے پہلا، پھر دوسرا ، پھر تیسرا ، پھر چوتھا مسلمان تلوار کے زور سے ہی بنایا تھا تو یہ اشخاص جبرا مسلمان کئے جانے کی وجہ سے محمد کے دشمن ہو گئے ہوں گے۔ ایک ایک کو تو تلوار کے زور سے محمد صاحب مسلمان کر سکتے تھے۔ لیکن جب وہ تین چار اکٹھے ہوئے تھے تو انھوں نے کیوں محمد صاحب سے بدلہ نہ لیا۔ اگر اس بات کا جواب یہ دیا جائے کہ وہ مسلمان تو تلوار کے زور سے ہی ہوئے تھے لیکن بعد میں وہ محمد صاحب پر صدق دل سے ایمان لے آئے تھے، تو یہ ایک فضول سی بات ہے جسے کوئی ماننے کو تیار نہ ہوگا کہ جس پر جبر کیا جائے وہی بعد میں دوست بن جائے۔ ایسی بھدی دلیل کے معنی ہیں کہ کوئی ایک شخص جو جسمانی طور پر دوسروں سے طاقت ور ہے ایک ایک کو فتح کرنے کے بعد اپنا مذہب پھیلا سکتا ہے۔ یہ ایک ایسی مہمل دلیل ہے کہ اس پر مزید بحث کی
مسلمانوں نے بعض موقعوں پر مذہب کی مدد کے لئے تلوار کا استعمال ضرور کیا تھا لیکن اس بات کی ذمہ داری حضرت محمد صاحب پر نہیں آسکتی۔ جو شخص مذہب کے نام پر تلوار کی جنگ میں شریک ہوتا ہے اور اس طرح اپنے آپ کو خطرہ میں ڈالتا ہے اس کا ایمان بھی کافی حد تک مضبوط ہوتا ہے۔ یقین کی پختگی کے بغیر کوئی شخص اپنے آپ کو جنگ کے خطرہ میں نہیں ڈالے گا۔ اس لئے تلوار چلانے کے لئے بھی تو پہلے یقین کرنے والے مضبوط دلوں کی ضرورت ہے جو صرف وعظ سے پیدا ہو سکتے ہیں یہ تلوار کھی وعظ سے پیدا ہوئے یقین کے بغیر نہیں اٹھائی جاسکتی (رسول نمبر رسالہ مولوی، دہلی)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مصر ایک غیر مسلم ملک تھا۔ وہاں عیسائی اور مشرک قومیں بستی تھیں۔ وہاں کی زبان قبطی تھی۔ اس کے بعد مصر کو مسلمانوں نے فتح کیا۔ مصر نہ صرف سیاسی اعتبار سے فتح ہوا بلکہ سارا مصر
مسلمان ہو گیا۔ وہاں کی زبان بدل کر عربی زبان ہوگئی۔ ایسا کیوں ہوا ۔ عام آدمی جس نے تاریخ کا گہرا مطالعہ نہ کیا ہو وہ کہہ دے گا کہ یہ تلوار کے ذریعہ ہوا۔ مگر ایسا نہیں ہے۔ مصر کو اور مصریوں کو جس نے فتح کیا وہ عربی تلوار نہیں تھی بلکہ عربی قرآن تھا۔ یہ ایک ایسی تاریخی حقیقت ہے جس کو غیر مسلم محققین نے بھی تسلیم کیا ہے۔ سر آر تھر کینتھ ایک مشہور انگریز مورخ ہے ۔ اس نے مصر کی قدیم تاریخ کا نہایت گہرا مطالعہ کیا ہے۔ اس نے مصر میں اسلام کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مصریوں کو جس چیز نے فتح کیا وہ تلوار نہیں تھی بلکہ قرآن تھا: The Egyptians were conquered not by the sword, but by the Koran (303)
پروفیسر آرنلڈ کی کتاب دی پریچنگ آف اسلام (۱۸۹۶) خاص اسی موضوع پر لکھی گئی ہے۔ اسلام کی دعوتی تاریخ پیش کرتے ہوئے دکھایا ہے کہ کس طرح اسلام اپنے نظریات کے زور سے پھیلتا رہا۔ کتاب کے چند اقتباسات نقل کئے جاتے ہیں :
"پیغمبر محمد کے پیرو پیغمبر کی موت کے صرف ایک سو سال میں رومن ایمپائر سے بھی زیادہ بڑی سلطنت کے مالک بن چکے تھے۔ بعد کی صدیوں میں اگر چہ عظیم مسلم سلطنت کے ٹکڑے ہو گئے اور اسلام کی سیاسی طاقت کم زور تاہم اس کی روحانی فتوحات بغیر کسی وقفہ کے جاری رہیں :
Still its spiritual conquests went on uninterruptedly (2)
جب منگول قبائل نے ۱۲۵۸ء میں بغداد کو تباہ کیا اور عباسی خلافت کی عظمت کو خون کے دریا میں بہا دیا، جب ۱۲۳۹ء میں فرڈینانڈ نے مسلمانوں کو قرطبہ و غرناطہ سے نکال دیا جو اسپین میں اسلام کا آخری مرکز تھا تو عین اسی وقت اسلام نے سماٹرا اور ملایا میں اپنے لئے زمین حاصل کرلی۔ اپنے سیاسی تنزل کے زمانہ میں اسلام نے اپنی بعض انتہائی نمایاں روحانی فتوحات حاصل کی ہیں :
In the hours of its political degradation, Islam has achieved some of its most brilliant spiritual conquests سلجوقی ترکوں نے گیارہویں صدی عیسوی میں اور منگولوں نے تیرھویں صدی عیسوی میں قومی پیمانہ پر اسلام قبول کر لیا۔ یہ دونوں کے دونوں اسلام کے فاتح تھے مگر فاتحین نے اپنے مفتوحوں کے دین کو قبول کر لیا : in each case the conquerors have accepted the religion of the conquered بغیر کسی دنیوی اور مادی طاقت کے مسلمان مبلغین اپنے دین کو وسط افریقہ، چین اور ایسٹ انڈیز جزائر تک پہنچانے میں کامیاب ہو گئے :
Unaided by the temporal power, Muslim missionaries have carried their faith into Central Africa, China and the East Indies Islads (2)