خدا کی خاطر بے اختیار ہونے والے
Al-Risala, June 1981, p. 35
By Maulana Wahiduddin Khan
اس دنیا میں سارا اختیار صرف خدا کا ہے ، اس کے سوا کسی کو کوئی اختیار حاصل نہیں۔ مگر امتحان کی غرض سے خدا نے انسان کو آزادی دے دی ہے۔ ایک مکمل طور پر بے اختیار دنیا میں انسان کو مکمل طور پر اختیار دیا گیا ہے اور اب خدا یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ وہ اختیار کو پاکر کیا کرتا ہے۔ وہ حقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کر کے اللہ کے آگے جھک جاتا ہے یا ظاہری اختیار کی وجہ سے دھوکے میں پڑ کر سرکشی کرتا ہے۔
جنت ان لوگوں کے لئے ہے جو اختیار رکھتے ہوئے اللہ کی خاطر اپنے کو بے اختیار کر لیں۔ جو بے توفی کا موقع ہوتے ہوئے اللہ سے ڈریں۔ بظاہر خود سب کچھ ہوتے ہوئے اللہ کو اپنا سب
یہ وہ لوگ ہیں جن کو اسباب کے پردہ میں رزق دیا گیا مگر اس کو انہوں نے براہ راست اللہ کی طرف سے آیا ہو ارزق سمجھا۔ ان کو اللہ نے ظلم کی قدرت دی مگر انہوں نے اللہ کے خوف سے اپنے ہاتھوں کو ظلم کرنے سے روک لیا۔ اللہ نے ان کو غصہ، نفرت، انتقام کے مواقع دئے مگر اللہ کی خاطر انہوں نے غصہ کے موقع پر صبر کیا اور نفرت اور انتقام کے موقع پر درگزر کرنے کا طریقہ اپنایا۔ اللہ نے ان کی تعریف میں لوگوں کی زبانیں کھلوائیں مگر ان کو عجز و تواضع میں لذت ملی۔ اللہ نے ان کو دولت دی مگر دولت کو اپنے ذاتی عیش میں خرچ کرنے کے بجائے انھیں اس میں تسکین ملی کہ وہ اپنی دولت کو اللہ کی راہ میں لٹائیں۔ وہ اپنی مرضی پر چلنے کے بجائے اللہ کی مرضی پر چلے۔ وہ اپنے لئے جینے کے بجائے صرف اللہ کے لئے جئے۔
جنت کی نفیس دنیا ان لوگوں کے لئے ہے جنھوں نے اپنے آزاد ارادہ سے اپنے کو خدا کا محکوم بنایا۔ جنھوں نے پابند نہ ہو کر بھی خدائی پابندی کے رویہ کو اپنے لئے پسند کر لیا۔ جو پوری طرح آزاد ہونے کے باوجود پوری طرح خدا کے تابعدار بن گئے۔