Al-Risala · June 1981

جانچا جارہا ہے

Al-Risala, June 1981, p. 37

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ دنیا میں ارادہ کی حد تک انسان کو مکمل آزادی حاصل ہے۔ مگر واقعات برپا کرنے کا اختیار کسی کو نہیں۔ دنیا میں جتنے واقعات ہوتے ہیں سب خدا کی طرف سے ہوتے اور ان کی مصلحت یہ ہوتی ہے کہ مختلف حالات میں ڈال کر افراد کا امتحان لیا جائے ۔ کوئی واقعہ اس لئے ہوتا ہے کہ ایک شخص کو صبر، انصاف اور حق پرستی کا کریڈٹ دیا جائے اور دوسرے شخص کو بے صبری ، ظلم اور حق سے بے پروائی کا مجرم ٹھہرایا جائے۔ واقعہ اس لئے پیش آتا ہے کہ ایک شخص کو کسی بندہ خدا کے خلاف سازش ، بد معاملی اور زیادتی کا موقع دے کر اس کے جھوٹے دعویٰ اسلام کو باطل ثابت کیا جائے۔ دوسری طرف اس بندہ خدا کی خصوصی تائید کر کے لوگوں کو بتایا جائے کہ وہ سچائی پر ہے اور اس کی مدد پر خدا کھڑا ایک شخص حق پر ہوتا ہے ، اس کے باوجود اس کو بے بسی اور بے کسی کی حالت میں ڈال دیا جاتا ہے۔ دوسرا شخص ناحق پر ہوتا ہے اس کے باوجود اس کے گرد دنیا کی رونقیں جمع کر دی ایسا اس لئے ہوتا ہے تاکہ معلوم ہو جائے کہ کون ہے جو ظاہر سے گزر کر حق کو پالیتا ہے اور حق کا ساتھ دینے والا قرار پاتا ہے اور کون ہے جو ظاہری چیزوں میں اٹک جاتا ہے اور اس کا مستحق ٹھہرتا ہے کہ خدا کے یہاں اس کو حق کو نظر انداز کرنے والوں میں اٹھایا جائے۔ موجودہ دنیا میں ہر چیز امتحان کے لئے ہے۔ یہاں طاقت ور ہونا بھی امتحان کے لئے ہے اور کمزور ہونا بھی امتحان کے لئے۔ یہاں کسی کو امیر بنا کر جانچا جا رہا ہے اور کسی کو غریب بنا کر۔ موجودہ دنیا میں نہ کسی کامیاب شخص کے لئے خوش ہونے کا موقع ہے اور نہ کسی ناکام شخص کے لئے غمگین ہونے کا۔ کیوں کہ دونوں یکساں طور پر امتحان کے میدان میں کھڑے ہوئے ہیں۔ مختلف قسم کے واقعات بر پا کر کے یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کون اپنے حالات میں کس قسم کے ردعمل کا اظہار کرتا ہے۔ اسی ردعمل پر کسی کے لئے جنت کا فیصلہ ہوتا ہے اور کسی کے لئے جہنم کا۔

Printed page