Al-Risala · June 1981

عبادت ظاہری رسموں کا نام نہیں

Al-Risala, June 1981, p. 40

By Maulana Wahiduddin Khan

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز وعظ فرما تھے۔ آپ نے دیکھا کہ ایک شخص دھوپ میں کھڑا ہوا ہے۔ آپ نے اس کا حال پوچھا۔ بتایا گیا کہ وہ ابو اسرائیل انصاری ہیں۔ روزہ رکھا ہے اور یہ نذر مانی ہے کہ وہ سایہ میں نہ جائیں گے۔ بیٹھے گے نہیں بلکہ کھڑے رہے رہیں گے، کسی سے بات چیت نہ کریں گے، خاموش رہیں گے۔ آپ نے فرمایا : ان سے کہو کہ وہ بات چیت کریں، سایہ میں جائیں اور بیٹھیں اور اس طرح اپنے روزے کو پورا کریں (مرواہ فليتكلم ويستظل وليقعد وليتم صومه، تفسير قرطبی، بقره) خدا بننے کی کوشش نہ کرو حمدون قصار نیشاپوری (م ۲۷۱ھ) سے کسی نے پوچھا کہ بندہ کون ہے۔ انھوں نے جواب دیا: "وہ جو عبادت کرے اور یہ نہ چاہے کہ لوگ اس کی عبادت کریں"

Printed page