غیر ضروری مشقت اٹھاكانے کا نام نیکی نہیں
Al-Risala, June 1981, p. 41
By Maulana Wahiduddin Khan
كان النبي صلى الله عليه وسلم في سفر فرأى رجلاً جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قد اجتمع الناس عليه وقد ظلل عليه ایک سفر میں تھے ۔ آپ نے دیکھا کہ ایک شخص کو لوگ گھیرے فقال ماله قالوا رجل صائم، فقال ليس ہوئے ہیں ۔ اور اس پر سایہ کئے ہوئے ہیں ۔ البران تصوموا في السفر پوچھا کیا بات ہے لوگوں نے کہا ایک روزہ دار ہے۔
(بخاری ، مسلم ، ابو داؤد ، نسائی) آپ نے فرمایا کہ سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے ۔ دینی قائد کو عوام کی رعایت کرنی چاہئے نسائی نے حضرت جابر بن عبد اللہ سے روایت کیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت معاذ نے مغرب کی نماز پڑھائی ۔ اس میں انھوں نے سورہ بقرہ اور سورہ نساء پڑھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا: اے معاذ، کیا تم لوگوں کو فتنہ میں مبتلا کرنے والے ہو۔ کیا تمھارے لئے یہ کافی نہ تھا کہ تم سورہ طارق اور سورہ شمس جیسی سورتیں پڑھتے (روی النسائی عن جابر بن عبد الله قال : صلى معاذ المغرب فقرأ البقرة و النساء فقال النبي صلى الله عليه وسلم افتان انت یا معاذ - ما كان یکفیک ان تقرأ بالسماء و الطارق والشمس وضحاها ونحوها)