Al-Risala · June 1981

اللہ کا نام لے کر حق کے سوا نہ کہو

Al-Risala, June 1981, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

حضرت موسیٰ علیہ السلام ساڑھے تین ہزار سال پہلے مصر میں آئے۔ اس وقت بنی اسرائیل (یہود) مصر میں آباد تھے۔ مصر کی مشرک قوموں کے ساتھ رہتے رہتے بنی اسرائیل میں بھی مشرکانہ طریقے سرایت کر گئے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر صحرائے سینا میں لے جاؤ اور وہاں آزادانہ ماحول میں ان کی تعلیم و قرآن کی ساتویں سورہ (اعراف) میں بتایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ فرعون کے دربار میں گئے اور اس سے کہا کہ میں رب العالمین کا بھیجا ہوا پیغمبر ہوں۔ لہٰذا تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ جانے دے۔ اس کے بعد آپ نے اپنی پیغمبری کے ثبوت میں کچھ معجزے دکھائے۔ اس سلسلہ میں قرآن میں بتایا گیا ہے کہ معجزات دیکھنے کے بعد فرعون کے درباری مبہوت ہو گئے۔ انھوں نے کہا: یہ شخص بڑا ماہر جادو گر ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ تم کو تمھاری زمین سے نکال دے (اعراف (۱۱)

اس آیت پر حاشیہ لکھتے ہوئے موجودہ زمانہ کے ایک انقلابی مفسر اپنی تفسیر کی کتاب میں تحریر فرماتے ہیں: "یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک غلام قوم کا ایک بے سر و سامان آدمی یکایک اٹھ کر فرعون جیسے بادشاہ کے دربار میں جا کھڑا ہوتا ہے جو شام سے لیبیا تک اور بحر روم کے سواحل سے حبش تک کے عظیم الشان ملک کا نہ صرف مطلق العنان بادشاہ بلکہ معبود بنا ہوا تھا تو محض اس کے اس فعل سے اتنی بڑی سلطنت کو یہ خطرہ کیسے لاحق ہو جاتا ہے کہ یہ اکیلا انسان سلطنت مصر کا تختہ الٹ دے گا اور شاہی خاندان کو حکمران طبقہ سمیت ملک کے اقتدار سے بے دخل کر دے گا۔ پھر یہ سیاسی انقلاب کا خطرہ آخر پیدا بھی کیوں ہوا جب کہ اس شخص نے صرف نبوت کا دعویٰ اور بنی اسرائیل کی رہائی کا مطالبہ ہی پیش کیا تھا اور کسی قسم کی سیاسی گفتگو سرے سے چھیڑی ہی نہ تھی۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کا دعوائے نبوت اپنے اندر خود ہی یہ معنی رکھتا تھا کہ یہ شخص پورے نظام زندگی کو بحیثیت مجموعی تبدیل کرنا چاہتا ہے جس میں لا محالہ ملک کا سیاسی نظام بھی شامل ہے۔ کسی شخص کا اپنے آپ کو رب العالمین کے نمائندہ کی حیثیت سے پیش کرنا لازمی طور پر اس بات کو متضمن ہے کہ وہ انسانوں سے اپنی کلی اطاعت کا مطالبہ کرتا ہے ۔ کیونکہ رب العالمین کا نمائندہ کبھی مطیع اور رعیت بن کر رہنے کے لئے نہیں آتا بلکہ مطاع اور راعی بننے ہی کے لئے آیا کرتا ہے اور کسی کا فر کے حق حکمرانی کو تسلیم کر لینا اس کی حیثیت رسالت کے قطعا منافی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت موسیٰ کی زبان سے رسالت کا دعویٰ سنتے ہی فرعون اور اس کے اعیان سلطنت کے سامنے سیاسی و معاشی اور تمدنی انقلاب کا خطرہ نمودار ہو گیا۔

Printed page