Al-Risala · January 1981

یہ بھی ممکن ہے

Al-Risala, January 1981, p. 2

By Maulana Wahiduddin Khan

بیٹے نے اپنے ننھے ہاتھوں سے ماں کو مارا۔ ماں نے بیٹے کو اٹھا کر سینے سے لگالیا۔ اس کا مطلب کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک معاملہ جو بظاہر مار کا معاملہ تھا اس کو ماں نے محبت کا معاملہ بنا دیا۔ ” برائی ‘‘ کو ” بھلائی ‘‘ کے خانہ میں ڈال دیا۔ اس نے ایک قابل سزا چیز کو قابل انعام چیز قرار دے دیا۔ جو ہر گھر میں گزرتا ہے ، یہ خدا کی صفات کمال میں سے ایک صفت کی ہلکی سی جھلک ہے جو ماں کے رویہ کی صورت میں دکھائی گئی ہے۔ یہ خدا کی ایک نشانی ہے جو بتاتی ہے کہ خدا نے اپنی رحمتوں کے کیسے عجیب نمونے اس دنیا میں بکھیر دئے ہیں۔ شفقت کی یہ انوکھی قسم جو ماں کے اندر پائی جاتی ہے اس کو ماں نے خلق نہیں کیا ہے۔ اس کا خالق اللہ ہے۔ پھر جو اس کا خالق ہے اس کے اندر یہ صفت کمال درجہ میں پائی جانی چاہئے ۔

آدمی غیب کو نہیں جانتا ، اس بنا پر اس کو دنیا کی زندگی میں طرح طرح کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ اس کی قوت ارادی کمزور ہے ، اس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ وہ کسی سطحی جذبہ سے مغلوب ہو جاتا ہے اور بڑی بڑی غلطیاں کر بیٹھتا ہے۔ آدمی کے وسائل محدود ہیں ، اس بنا پر بار بار ایسا ہوتا ہے کہ باہر کے اسباب و عوامل پر وہ قابو نہیں پاتا اور شکست کھا جاتا ہے۔ اس قسم کی چیزوں نے دنیا میں انسان کی زندگی کو ایک المیہ بنا دیا ہے۔ زمین پر چلنے والا ہر آدمی خواہ وہ کوٹھی میں ہو یا جھونپڑی میں ، اس احساس میں مبتلا رہتا ہے کہ وہ ایک ناکام انسان ہے ، وہ جو کچھ حاصل کرنا چاہتا تھا اس کو وہ حاصل نہ کر سکا۔ ہر انسان ایک مایوس انسان ہے ، خواہ بظاہر وہ فربہ جسم اور ہنستے ہوئے چہرہ کے ساتھ کیوں نہ دکھائی دیتا ہو۔ کیا اس المیہ کو طریہ میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ زندگی کی منزل پر ہم اس حال میں پہنچیں کہ ہماری ناکامیاں کامیابیوں کی صورت اختیار کر چکی ہوں ، ہمارے قصور کو انعام کے خانہ میں ڈال دیا گیا ہو۔ ماں کی زندگی میں خدا نے اپنی صفات کی جو ایک جھلک دکھائی ہے وہ اسی سوال کا ایک مثبت خدا اپنے بندوں کے لئے اس سے زیادہ بڑے پیمانہ پر اس واقعہ کو رونما کر سکتا ہے جو ماں اپنے بچہ کے لئے بہت چھوٹے پیمانہ پر ظاہر کرتی ہے۔ ماں کے رویہ کی صورت میں خدا نے دنیا میں جو نشانی قائم کی ہے وہ اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ مانگنے والے کو یہ انعام بھی دیتا ہے کہ ۔ وہ اس کے ” نہیں ‘‘ کو ” ہے ‘‘ میں تبدیل کر دے ۔ مگر ایسا انعام صرف اس شخص کے لئے مقدر ہے جو خدا کو اپنی ” ماں ‘‘ کا درجہ دے کر اپنے آپ کو اس کا ” بیٹا ‘‘ بنا چکا ہو۔

Printed page