ماضی اور حال
Al-Risala, July 1981, pp. 4–5
By Maulana Wahiduddin Khan
اسکاٹ لینڈ کا ایک نوجوان اپنے ملک سے نکل کر، ۱۲۱۶ء میں اسپین آیا۔ اس کا نام مائیکل (Michael) اس کا مقصد طلیطلہ اور قرطبہ کے عرب علمی مراکز میں تعلمیم حاصل کرنا تھا۔ یہاں تعلیم حاصل کرنے کے بعد اس نے یہ منصوبہ بنایا کہ وہ لاطینی یورپ کو ارسطو سے واقف کرائے۔ یونانی سے ناواقف ہونے کی وجہ سے وہ اصل یونانی متن سے اس کا ترجمہ نہیں کر سکتا تھا۔ چنانچہ اس نے اپنا لاطینی ترجمہ عربی ترجمہ کی مدد سے کیا۔ اسپین کے قیام کے دوران وہ عربی زبان بخوبی سیکھ چکا تھا۔
۱۲۳۱ء میں سلرنو (سسلی) میں پہلا طبی کالج کھولا گیا۔ اس طبی کالج کے نصاب کے لئے ڈنمارک کے ہنڈرک (Hendrink Harpestraeng) نے سات جلدوں میں ایک کتاب تیار کی تھی جو اب بھی اسٹاک ہام کی نیشنل لائبریری میں محفوظ ہے۔ ہنڈرک کا ماخذ بھی مذکورہ مائیکل کا وہی ترجمہ تھا جو اس نے الرازی اور ابن سینا کی طبی کتابوں کا عربی سے لاطینی زبان میں کیا تھا۔
جارج سارٹن (George Sarton) نے پانچ جلدوں میں سائنس کی تاریخ (History of Science) اس نے سائنس کی تاریخ کو چند ادوار پر تقسیم کیا ہے۔ اس کی تقسیم کے مطابق ہر دور نصف صدی پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہر نصف صدی کے دور کو وہ ایک مرکزی شخصیت سے متعلق قرار دیتا ہے۔ اس طرح ۴۵۰ تا ۴۰۰ قبل مسیح کو سارٹن افلاطون کا دور قرار دیتا ہے۔ اس کے بعد کے ادوار کو وہ ارسطو، اقلیدس اور ارشمیدس کا دور کہتا ہے، وغیرہ۔ پھر ۶۰۰ سے لے کر ۷۰۰ تک کے زمانہ کو اس نے چینی علماء کا دور قرار اس کے بعد ۷۵۰ سے لے کر ۱۱۰۰ء تک اس کی تقسیم کے مطابق مسلسل جابر، خوارزمی، رازی، مسعودی، بیرونی، ابن سینا، ابن الہیثم اور عمر خیام کا دور ہے۔ یہ سب کے سب عرب، ترک، افغانی اور ایرانی مسلمان تھے۔ سارٹن کے نزدیک تاریخ سائنس میں ساڑھے تین سو سال تک بلا انقطاع صرف مسلم سائنس دانوں کا دور رہا ہے۔ جارج سارٹن کی تقسیم کے مطابق ۱۱۰۰ء کے بعد پہلی بار مغربی اشخاص کا نام سائنس کی دنیا میں آنا شروع ہوتا ہے۔ مثلاً گیرارڈ، راجر بیکن۔ تاہم اس کے بعد بھی ۲۵۰ سال تک ابن رشد، نصیر الدین طوسی اور ابن نفیس کا ذہنی غلبہ یورپ پر قائم رہا۔ ابن نفیس وہ شخص ہے جس نے پہلی بار جسم کے اندر دوران خون کا امکان ظاہر کیا تھا، بعد کو ہاروے نے اسے دریافت کیا۔ اس طرح گویا سائنس کی تاریخ میں مسلسل چھ سو سال ایسے ہیں جب کہ مسلمانوں کو دنیا کی علمی قیادت حاصل رہی ہے۔ ۱۳۵۰ء کے بعد مسلم دنیا نے اپنا علی برتری کا مقام کھو دیا۔ تیمور کے پوتے الغ بیگ کے سمر قند کے ماہانہ, جولائی ۱۹۸۱ء
دربارِ ہمیں ۱۷۳۴ء میں اور مغل شہنشاہ دہلی کے دربار میں ۱۷۳۰ء میں کچھ علمی جھلکیاں دکھائی دیتی ہیں۔ مسلم دنیا کا علمی زوال بدستور جاری رہا۔ اس کے لئے دوبارہ اپنے ماضی کی طرف واپس جانا ممکن نہ ہو سکا۔ موجودہ زمانہ میں تاریخ کے پہیہ نے الٹے رخ پر سفر شروع کیا ہے۔ پہلے مغرب کے لوگ مسلم دنیا میں علم سیکھنے کے لئے آتے تھے ، اب مسلمان علم سیکھنے کے لئے مغربی دنیا میں جا رہے ہیں۔ تاہم موجودہ زمانہ میں مسلمان مغرب کے تہذیبی مقلد تو بناے ہیں، وہ ان کے علمی ہم سرا بھی تک نہ ہو سکے۔
نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام نے ۱۰ نومبر ۱۹۸۰ء کو یونسکو کے زیر انتظام بلگرینڈ کے اجتماع میں تقریر اس تقریر میں انھوں نے ایک واقعہ بتایا۔ کسی مغربی سائنس داں سے گفتگو کے دوران انھوں نے شکایت کی کہ مغربی ممالک مسلم ممالک کی سائنسی پس ماندگی کو دور کرنے کے لئے کافی مدد نہیں کرتے۔ نے اس کے جواب میں کہا: سلام ! کیا واقعہ یہ تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان قوموں کو سنبھالیں ۔ ان کو مدد دیں، انھیں زندہ رکھیں جنھوں نے انسان کے علمی خزانہ میں ایک ذرہ برابر بھی کوئی تخلیق یا اضافہ نہیں کیا ہے :
Salam, do you really think we have an obligation to succour, aid and keep alive those nations, who have never created or added an iota to man's stock of knowledge. ڈاکٹر عبدالسلام اس تلخ حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ میرے دل کو اس وقت شدید جھٹکا لگتا ہے جب میں جدید طرز کے ایک اسپتال میں داخل ہوتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ پنسلین سے لے کر زندگی بچانے والے دوسرے طبی سامان جو وہاں ہیں ان میں سے کسی چیز کی دریافت یا ترقی میں مسلمانوں کا کوئی حصہ نہیں۔ صورت حال یہ ہو تو ہم کسی طرح یہ امید نہیں کر سکتے کہ دوسروں کی مدد میں جدید دنیا کی ترقی یافتہ قوم بن سکتی جو قوم دنیا کو کچھ نہ دے رہی ہو اس کو یہ امید بھی نہ کرنی چاہئے کہ دنیا اسے کوئی چیز دے گی۔ مسلم قوموں کے لئے واحد راستہ یہ ہے کہ وہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں خود اپنی کوشش سے آگے عربوں کی بے پناہ دولت بھی اس معاملہ میں ذاتی کوشش کا بدل نہیں بن سکتی۔ آج مسلم ممالک بڑے پیمانہ پر مشینیں اور ہتھیار مغربی ممالک سے درآمد کر رہے ہیں مگر اس قسم کی مشینری درآمدان کے اصل مسئلہ کا حل کیونکہ اس سے پہلے فنی بنیاد (Technical Base) کی ضرورت ہے اور وہ کسی مسلم ملک کے پاس موجود نہیں ۔ ایک سائنس داں نے بجا طور پر کہا ہے کہ تمام بنیادی علوم ایک دوسرے سے متعلق علوم ہیں: All basic science is relevant science حقیقت یہ ہے کہ تمام علوم میں دستگاه حاصل کرنے کے بعد ہی کوئی قوم ترقی کر سکتی ہے نہ کہ محض چند علوم میں۔