مشورہ پر اصرار نہیں
Al-Risala, July 1981, pp. 17–31
By Maulana Wahiduddin Khan
بدر کی لڑائی (۲ھ) سے کچھ پہلے قریش کا ایک بہت بڑا تجارتی قافلہ ساٹھ آدمیوں کی سرکردگی میں شام بھیجا گیا تھا۔ اس تجارتی قافلہ میں مکہ کے مردوں اور عورتوں نے اپنا تمام سرمایہ لگا دیا تھا۔ بدر کی لڑائی میں قریش کو مکمل شکست ہوئی۔ تاہم ابوسفیان کو اس میں کامیابی ہوئی کہ وہ تجارتی قافلہ کو ساحلی راستہ سے چلا کر مکہ پہنچ جائیں۔ جنگ کے بعد سارا مکہ جوشِ انتقام سے بھرا ہوا تھا۔ قریش کے ذمہ دارا فراد کا ایک اجتماعِ دار الندوہ میں ہوا۔ اس اجتماع میں متفقہ طور پر یہ طے پایا کہ تجارتی قافلہ کے شرکاء صرف اپنا اصل سرمایہ لے لیں اور منافع کی رقم پوری کی پوری محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے خلاف جنگ کی تیاری میں لگا دی منافع کی یہ رقم پچاس ہزار دینار تھی جو اس وقت کے لحاظ سے بہت بڑی رقم تھی۔ اب قریش نے زبردست تیاری کی اور شوال سنہ ۳ھ میں مکہ سے نکل کر مدینہ پر حملہ کے لئے روانہ ہوئے۔
اسی جنگ کا نام جنگ احد ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی تو آپ نے صحابہ کو جمع کر کے بڑے بڑے صحابہ میں سے اکثر کی رائے یہ تھی کہ مدینہ میں رہ کر مقابلہ کیا جائے۔ مگر نوجوان طبقہ اس کا پر جوش مخالف تھا۔ اس کا خیال تھا کہ اگر ہم یہاں ٹھہریں گے تو دشمن اس کو ہماری بزدلی اور کم زوری پر محمول کرے گا۔ اس لئے ہمیں باہر نکل کر مقابلہ کرنا چاہئے۔ عبداللہ بن ابی کی رائے بھی وہی تھی جو اکابر صحابہ (سیرۃ ابن ہشام جلد ۳ صفحہ ۷)
جن لوگوں کی رائے یہ تھی کہ مدینہ میں رہ کر مقابلہ کیا جائے، اس کی بڑی وجہ مدینہ کا جغرافیہ تھا جو ایک قدرتی حصار کا کام کرتا تھا۔ مدینہ کا جائے وقوع ایسا تھا کہ اس کے جنوب میں کھجوروں کے گھنے باغَات اس کثرت سے تھے کہ ادھر سے کوئی فوج بستی کے اوپر حملہ نہیں کر سکتی تھی۔ اسی طرح مشرق اور مغرب کے بڑے حصہ میں پہاڑیاں تھیں جو کسی فوجی پیش قدمی کے لئے قدرتی روک کا کام کر رہی تھیں۔ اس لئے کوئی دشمن صرف ایک ہی سمت سے مدینہ پر حملہ کر سکتا تھا۔ اس جغرافی پوزیشن نے مدینہ کو جنگی اعتبار سے کافی محفوظ شہر بنا دیا تھا۔ گویا مدینہ ایک قسم کا قلعہ تھا۔ شہر سے باہر نکل کر وہ چاروں طرف سے دشمن کی زد میں ہو جاتے تھے جب کہ مدینہ کے اندر صرف ایک طرف سے مقابلہ کا انتظام کرنا تھا۔ غزوہ احزاب میں مدینہ کے اسی جائے وقوع سے فائدہ اٹھایا گیا اور اس کی کھلی سمت میں (شمال مغربی رخ پر) خندق کھود کر پورے شہر کو محفوظ کر لیا گیا تھا۔
اکابر صحابہ کی اکثریت اور عبد اللہ بن ابی کی رائے اگر چہ مدینہ میں رہ کر مقابلہ کرنے کی تھی۔
آپ نے نوجوان طبقہ کی رائے کا لحاظ کیا اور ایک ہزار آدمیوں کے ساتھ مدی سے نکل کر احد کی طرف روانہ عبداللہ بن ابی نے جب دیکھا کہ اس کی رائے نہیں مانی گئی جو بظاہر حالات معقول بھی تھی تو اس کو بہت وہ مدینہ سے ساتھ نکل پڑا تھا مگر دل کے اندر غصہ باقی تھا۔ چنانچہ اسلامی لشکر ابھی مدینہ اور احد کے درمیان تھا کہ عبداللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر مدینہ کی طرف واپس ہوگیا۔ عبداللہ بن ابی نے کہا: اطاعهم وعصانی، ما ندری علام نقتل رسول اللہ نے ان کی بات مان لی اور میری بات نہیں ہم کو نہیں معلوم کہ ہم اپنی جانوں کو (سيرۃ ابن هشام جلد ۳ صفحہ ۸) یہاں کیوں نہ ہلاک کریں۔
احد کی جنگ میں شکست نے یہ ثابت کیا کہ انھیں لوگوں کی رائے درست تھی جو مدینہ میں رہ کر مقابلہ کرنے کے لئے کہتے تھے اور باہر نکلنے سے روکتے تھے۔ چنانچہ اس کے بعد غزوہ خندق (۵ھ) میں اسی رائے کو اختیار کیا گیا اور مدینہ میں رہ کر مقابلہ کی تدبیر کی گئی۔ تا ہم تمام بڑے صحابہ اپنے اختلاف رائے کو بھول کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے اور جنگ میں شدید نقصان اور تکلیف کے باوجود پوری بے جگری کے ساتھ مقابلہ کیا۔ صرف عبداللہ بن ابی الگ ہوا اور اس کی بنا پر رئیس المنافقین کہلایا۔ ابی کی رائے اصولاً درست تھی۔ تجربہ نے بھی اس کے صحیح ہونے کی تصدیق کی۔ مگر صحت رائے کے باوجود اطاعت سے نکلنا اس کے لئے گمراہی اور خدا کی ناراضی کا سبب بن گیا۔
اسلام میں مشورہ کی بے حد اہمیت ہے۔ ہر آدمی کو حق ہے کہ وہ اپنا مشورہ پیش کرے ۔ لیکن ہر مشورہ دینے والا اگر یہ بھی چاہے کہ اس کے مشورہ پر عمل کیا جائے تو کبھی کوئی کام نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ مختلف رایوں میں سے کسی ایک ہی رائے کو عملاً اختیار کیا جاسکتا ہے نہ کہ ہر رائے کو۔ سچے مسلمان وہ ہیں جو مشورہ پیش کرنے کے بعد اپنا مشورہ بھول جائیں اور ذمہ داروں کی طرف سے جو فیصلہ ہو اس کو اس طرح مان لیں جیسے وہی ان کی اپنی رائے تھی۔
سب سے بڑی قربانی رائے کی قربانی ہے کسی شخص کا یہ قول بہت بامعنی ہے حقیقت یہ ہے کہ رائے کی قربانی واحد چیز ہے جس کے اوپر کوئی مضبوط اجتماعیت کھڑی ہوتی ہے۔ کوئی عمارت صرف اس وقت بنتی ہے جب کہ کچھ اینٹیں اپنے آپ کو زمین میں دبانے کے لئے تیار ہوں۔ اسی طرح کوئی حقیقی اجتماعیت صرف اس وقت قائم ہوتی ہے جب کہ کچھ لوگ اس کے لئے تیار ہوں کہ وہ اپنی رایوں کو اپنے سینہ میں چھپالیں گے اور اختلاف رائے کے باوجود اتحاد عمل کا ثبوت دیں گے۔ اس قربانی کے بغیر کسی انسانی اجتماعیت کا وجود میں آنا اتنا ہی ناممکن ہے جتنا اینٹوں کے بنیاد میں دفن ہوئے بغیر عمارت کا وجود میں آنا۔
قوم فرعون کے سرداروں نے کہا، کیا تو موسی اور اس کی قوم کو چھوڑ دے گا کہ وہ ملک میں فساد پھیلائیں اور تجھ کو اور تیرے معبودوں کو چھوڑیں۔ فرعون نے کہا کہ ہم ان کے بیٹوں کو قتل کریں گے اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھیں گے ۔ اور ہم ان پر پوری طرح قادر ہیں۔ موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ سے مدد چاہو اور صبر کرو۔ زمین اللہ کی ہے، وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے۔ اور آخری کامیابی اللہ سے ڈرنے والوں ہی کے لئے ہے۔ موسیٰ کی قوم نے کہا، ہم تمہارے آنے سے پہلے بھی ستائے گئے اور تمہارے آنے کے بعد بھی ۔ موسیٰ نے کہا قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے اور بجائے ان کے تم کو اس سرزمین کا مالک بنا دے، پھر دیکھے کہ تم کیسا عمل کرتے ہو ۱۲۷ - ۱۲۹ بنی اسرائیل نے اپنے پیغمبر کے سامنے جو مسئلہ پیش کیا وہ حکومت کا پیدا کیا ہوا تھا۔ مگر پیغمبر نے اس کا جو حل بتایا وہ یہ تھا کہ اللہ کی طرف رجوع کرو۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قومی مسائل کے بارے میں دنیا دار لیڈروں کے سوچنے کے انداز اور پیغمبر کے سوچنے کے انداز میں کیا فرق ہے۔ دنیا دار لیڈر اس قسم کے مسئلہ کا حل حکومت کی سطح پر تلاش کرتا ہے، خواہ وہ حکومت سے مصالحت کی صورت میں ہو یا حکومت سے تصادم کی صورت میں۔ مگر پیغمبر نے جو حل بتایا وہ یہ تھا کہ جو کچھ ہو رہا ہو اس کو برداشت کرتے ہوئے خدا سے مدد کے طالب بنو، حکومت کی طرف سے بے نیاز ہو کر خدا کی طرف رجوع کرو۔ پھر پیغمبر نے یہ بھی بتا دیا کہ وہ عام قومی ذوق کے خلاف جو حل پیش کر رہا ہے وہ کیوں پیش کر رہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مسائل اگرچہ بظاہر اقتدار کی طرف سے پیش آرہے ہیں اور بظاہر اقتدار ہی کے ذریعہ ان کا حل بھی نکلے گا۔ مگر خود اقتدار کیسے کسی کو ملتا ہے۔ وہ محض اپنی تدبیروں سے کسی کو نایں مل جاتا بلکہ براہِ راست خدا کی طرف سے کسی کو دیئے جانے کا فیصلہ ہوتا ہے اور کسی سے چھینے جانے کا۔ جب اقتدار کا تعلق خدا سے ہے تو مسئلہ کے حل کی جڑ بھی یقیناً خدا ہی کے پاس ہو سکتی ہے۔ پھر یہ کہ یہ اقتدار جس کو بھی دیا جائے وہ حقیقتًا اس کے حق میں آزمائش ہوتا ہے اس دنیا میں بے طاقتی بھی آزمائش ہے اور طاقتور ہونا بھی آزمائش۔ آج جس کے پاس اقتدار ہے، اس کے پاس بھی اسی لئے ہے کہ اس کو آزمایا جائے کہ وہ ظالم اور متکبر بنتا ہے یا انصاف اور تواضع کی روش اختیار کرتا ہے۔ اس کے بعد جب اقتدار کا فیصلہ تمہارے حق میں کیا جائے گا اس وقت بھی اس کا مقصد تم کو جانچنا ہی ہوگا۔ جس طرح ایک گروہ کی نااہلی کی بنا پر اس سے اقتدار چھین کر کسی دوسرے گروہ کو دیا جاتا ہے اسی طرح دوسرا گروہ اگر نہ اہل ثابت ہو تو اس سے بھی چھین کر دوبارہ کسی اور کو دے دیا جائے گا۔ خوش حالی اور اقتدار جس کو آدمی دنیا میں چاہتا ہے وہ حقیقت میں آخرت میں ملنے والی چیز ہے۔ کیونکہ دنیا میں یہ چیزیں بطور آزمائش ملتی ہیں اور آخرت میں وہ بطور انعام خدا کے صالح بندوں کو دی جائیں گی۔
اور ہم نے فرعون والوں کو قحط اور پیداوار کی کمی میں مبتلا کیا تا ان کو نصیحت ہو۔ لیکن جب ان پر خوش حالی آتی تو کہتے کہ یہ ہمارے لئے ہے اور اگر ان پر کوئی آفت آتی تو اس کو موسیٰ اور اس کے ساتھیوں کی نحوست بتاتے سنو، ان کی بدبختی تو اللہ کے پاس ہے مگر ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔ اور انھوں نے موسیٰ سے کہا، ہم کو مسحور کرنے کے لئے تم خواہ کوئی بھی نشانی لاؤ ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں (۱۳۲۔
کسی بات کو غلط کہنا ہو تو اس کا غلط ہونا لفظوں کی صورت میں بتایا جاتا ہے اور کسی بات کو صحیح کہنا ہو تو اس کو بھی لفظوں ہی کے ذریعہ صحیح کہا جاتا ہے۔ اسی طرح کسی کو مجرم قرار دینا ہو تو اس کو لفظوں کے ذریعہ مجرم قرار دیا جاتا ہے اور اگر کسی کو بر سر حق ظاہر کرنا ہو تو اس کا یہ سر حق ہونا بھی لفظوں میں بتایا جاتا ہے۔ مگر الفاظ کا استعمال کرنے والا انسان ہے اور موجودہ امتحان کی دنیا میں انسان کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ الفاظ کو جس طرح چاہے اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرے۔
امتحان کی اس دنیا میں آدمی کو جو آزادی دی گئی ہے اس میں سب سے زیادہ نازک آزادی یہ ہے کہ وہ حق کو باطل کہنے کے لئے بھی الفاظ پا لیتا ہے اور باطل کو حق کہنے کے لئے بھی۔ وہ ایک کھلے ہوئے پیغمبرانہ معجزے کو جادو کہہ کر نظر انداز کر سکتا ہے۔ خدا اس کو کوئی نعمت دے تو وہ اس کو ایسے الفاظ میں بیان کر سکتا ہے کہ گویا کہ اس کو کچھ ملا ہے اپنی صلاحیتوں اور کوششوں کی بدولت ملا ہے، حق کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے خدا اس کے اوپر کوئی تنبیہی سزا بھیجے تو وہ آزاد ہے کہ اس کو وہ انہیں خدا پرست بندوں کی نحوست کا نتیجہ قرار دیدے جن کے ساتھ برا رویہ اختیار کرنے ہی کی وجہ سے اس پر یہ تنبیہ آئی ہے۔ خدا کی طرف سے ہر بات اس لئے آتی ہے کہ آدمی اس سے نصیحت پکڑے ۔ مگر الفاظ کے ذریعہ آدمی ہر نصیحت کو ایک الٹارخ دے دیتا ہے اور اس کے اندر جو حق کا پہلو ہے اس کو پانے سے محروم رہ جاتا ہے۔
" تم خواہ کوئی بھی نشانی دکھاؤ ہم ایمان نہیں لائیں گے " فرعون کا یہ جملہ بتاتا ہے کہ حق اپنی مکمل صورت میں موجود ہونے کے باوجود صرف اسی کو ملتا ہے جو اس کو پانا چاہے۔ بالفاظ دیگر، جو شخص حق کے معاملہ میں سنجیدہ ہو، جس کے اندر فی الواقع یہ آمادگی ہو کہ حق خواہ جہاں اور جس صورت میں بھی ملے وہ اس کو لے لے گا ، اس پر حق کا حق ہونا کھلتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص اس معاملے میں سنجیدہ نہ ہو۔ جس کا حال یہ ہو کہ جو کچھ اس کے پاس ہے بس اسی پر وہ مطمئن ہے ، نہ حق کو حق کی صورت میں دیکھنے سے عاجز رہے گا اور اسی لئے وہ اس کو اختیار بھی نہ کر سکے گا۔ اپنے حال پر نگین رہنا آدمی کو اپنے سے باہر کی چیزوں کے لئے بے خبر بنا دیتا ہے۔ وہ جان کر بھی نہیں جانتا، وہ سن کر بھی نہیں سنتا۔
آدمی اگر غیر متاثر ذہن کے تحت سوچے تو وہ ضرور حقیقت کو پالے گا۔ مگر اکثر لوگ اپنی نفسیات کے زیر اثر رائے قائم کرتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ وہ حقیقت کو پانے میں ناکام رہتے ہیں۔
پھر ہم نے ان کے اوپر طوفان بھیجا اور ٹڈی اور جوئیں اور مینڈک اور خون۔ یہ سب نشانیاں الگ الگ دکھائیں۔ انھوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم لوگ تھے۔ اور جب ان پر کوئی عذاب پڑتا تو کہتے اے موسیٰ، اپنے رب سے ہمارے لئے دعا کرو جس کا اس نے تم سے وعدہ کر رکھا ہے۔ اگر تم ہم پر سے اس عذاب کو ہٹا دو تو ہم ضرور تم پر ایمان لائیں گے اور تمہارے ساتھ بنی اسرائیل کو جانے دیں گے۔ پھر جب ہم ان سے دور کر دیتے آفت کو کچھ مدت کے لئے جہاں بہرحال انھیں پہنچنا تھا تو اسی وقت وہ عہد کو توڑ دیتے ۱۳۵۔ حضرت موسیٰ نے مصر میں تقریباً ۴۰ سال تک پیغمبری کی۔ آپ کے مشن کے دو اجزاء تھے۔ ایک، فرعون کو توحید کا پیغام دینا۔ دوسرے، بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر صحرائے سینا میں لے جانا اور وہاں آزادانہ فضا میں ان کی دینی بنی اسرائیل (حضرت یعقوب کی اولاد) اس وقت شدید طور پر قبطی بادشاہ (فرعون) کی گرفت میں تھے۔ قبطی قوم ان کو اپنے زراعتی اور تعمیری کاموں میں بطور مزدور استعمال کرتی تھی۔ اس لئے قبطی حکمران نہیں چاہتے تھے کہ بنی اسرائیل مصر سے باہر چلے جائیں۔
حضرت موسیٰ نے ابتداء جب فرعون سے مطالبہ کیا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ مصر سے باہر جانے دے تو فرعون اور اس کے درباریوں نے اس کو سیاسی معنی پہنا کر آنجناب پر یہ الزام لگایا کہ یہ قبطی قوم کو مصر سے نکال دینا چاہتے ہیں (۱۱۰) یہ بات سراسر بے معنی تھی۔ کیونکہ حضرت موسیٰ کا منصوبہ تو خود اپنے آپ کو مصر سے باہر لے جانے کا تھا، اور فرعون نے یہ الٹا الزام لگایا کہ وہ قبطیوں کو ان کے ملک سے باہر نکال دینا چاہتے ہیں۔ اس وقت فرعون اور اس کے ساتھی اقتدار کے گھمنڈ میں تھے اس لئے سیدھی بات بھی ان کو ٹیڑھی نظر آئی۔
مگر بعد کے مرحلہ میں خدا نے فرعون اور اس کی قوم پر ہر طرح کی بلائیں نازل کیں۔ ان پر کئی سال تک مسلسل شدید گرج چمک کے ساتھ اولوں کا طوفان آیا۔ ٹڈیوں کے دل کے دل آئے جو فصل اور باغ کو کھا گئے اور ہر قسم کی سبزی کا خاتمہ کر دیا۔ جوئیں اور مینڈک اس کثرت سے ہو گئے کہ کپڑوں اور بستروں میں جوئیں ہی جوئیں تھیں اور گھروں اور راستوں میں ہر طرف مینڈک ہی مینڈک کو دنے لگے۔ دریاؤں اور تالابوں کا پانی خون ہو گیا۔ فرعون اور اس کی قوم جب ان عجیب و غریب مصیبتوں میں مبتلا ہوئے تو وہ کہہ اٹھے کہ خدا اگر ان مصیبتوں کو ہم سے ٹال دے تو ہم بنی اسرائیل کو موسیٰ کے ساتھ جانے دیں گے۔ حضرت موسیٰ کے جس مطالبہ میں پہلے قبطیوں کے اخراج کی سیاسی سازش دکھائی دی تھی وہ اب خود بنی اسرائیل کی ہجرت کے ہم معنی آنے لگی۔ آدمی اپنے کو محفوظ حالت میں پارہا ہو تو وہ طرح طرح کی باتیں بناتا ہے۔ مگر جب اس سے حفاظت چھین لی جائے اور اس کو عجز اور بے بسی کے مقام پر کھڑا کر دیا جائے تو اچانک وہ حقیقت پسند بن جاتا ہے۔ اب وہ بات خود ہی اس کی سمجھ میں آجاتی ہے جو پہلے سمجھنے کے بعد بھی سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ مگر انکار کی طاقت رکھتے ہوئے اقرار کرنے کا نام اقرار ہے۔ الفاظ چھن جانے کے بعد کوئی اقرار اقرار نہیں۔
پھر ہم نے ان کو سزا دی اور ان کو سمندر میں غرق کر دیا کیونکہ انھوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور ان سے بے پروا ہو گئے ۔ اور جو لوگ کمزور سمجھے جاتے تھے ان کو ہم نے میں سرزمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا جس میں ہم نے برکت رکھی تھی ۔ اور بنی اسرائیل پر تیرے رب کا نیک وعدہ پورا ہو گیا بہ سبب اس کے کہ انھوں نے صبر کیا اور ہم نے فرعون اور اس کی قوم کا وہ سب کچھ برباد کر دیا جو وہ بناتے تھے اور جو وہ چڑھاتے تھے ۔ انبیاء کی مخاطب قوموں پر جو عذاب آتا ہے وہ تکذیب آیات کی بنا پر آتا ہے۔ یعنی نشانیوں کو جھٹلانا۔ کے مقابلہ میں انبیاء کے ساتھیوں پر جو خصوصی نصرت اترتی ہے اس کا استحقاق ان کو صبر کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے۔ یعنی اپنے جذبات کو تھام کر اللہ کے طریقہ پر ثابت قدم رہنا۔
نشانیوں سے مراد وہ دلائل ہیں جو حق کو حق ثابت کرنے والے ہوتے ہیں مگر آدمی اپنی متکبرانہ نفسیات کی وجہ سے ان کو ماننے پر قادر نہیں ہوتا۔ وہ دلیل کے معاملہ کو دلیل پیش کرنے والے کا معاملہ بنا لیتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اگر اس نے یہ دلیل مان لی تو فلاں شخص کے مقابلہ میں میرا مرتبہ گھٹ جائے گا۔ وہ دلیل پیش کرنے والے کے مقابلہ میں اپنے کو بالا رکھنے کی خاطر دلیل کی بالاتری کو تسلیم نہیں کرتا۔ مگر یہی انسان کی آزمائش کا اصل مقام ہے۔ میں خدا نشانیوں یا دلائل کے پردہ میں ظاہر ہوتا ہے، آخرت میں وہ بے حجاب ہو کر ظاہر ہو جائے گا۔ مگر ایمان وہی معتبر ہے جب کہ آدمی پردہ داری کے ساتھ ظاہر ہونے والے حق کو پالے ۔ بے حجابی کے ساتھ ظاہر ہونے والے حق کو ماننا صرف آدمی کے جرم کو ثابت کرے گا نہ کہ وہ اس کو انعام کا مستحق بنائے۔ ایسا اقرار صرف اس بات کا ثبوت ہو گا کہ آدمی نے اپنی بے پروائی کی وجہ سے حق کو نہ جانا۔ اگر وہ اس کے بارے میں سنجیدہ ہوتا تو یقیناً وہ اس کو جان لیتا۔
اس کے مقابلہ میں خدا کے وفادار بندے ہی ہیں جن کی سب سے نمایاں خصوصیت صبر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان کی زندگی سراسر صبر کی زندگی ہے۔ اپنے جیسے ایک انسان کی زبان سے حق کا اعلان سن کر اس کو مان لینا، عادتوں اور مصلحتوں پر قائم شدہ زندگی کو حق اور اصول کی بنیاد پر قائم کرنا، لوگوں کی طرف سے پیش آنے والی ایذاؤں کو خدا کی خاطر نظر انداز کرنا، حق کے مخالفین کی ڈالی ہوئی مصیبتوں سے پست ہمت نہ ہونا، یہ سب ایمان کے کے لازمی مراحل ہیں اور آدمی صبر کے بغیر ان مراحل سے کامیابی کے ساتھ گزر نہیں سکتا۔
فرعون کو اپنے اقتدار پر اور اپنے باغوں اور عمارتوں پر گھمنڈ تھا۔ حضرت موسیٰ کی ہجرت کے بعد فرعون اور اس کا لشکر سمندر میں غرق کر دیا گیا۔ اولوں اور ٹڈیوں نے مصر کے سر سبز و شاداب باغات کو اجاڑ دیا اور زلزلوں نے ان کی شان دار عمارتیں ڈھا دیں۔ دوسری طرف حضرت موسیٰ کی چند نسلوں کے بعد حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کے کے زمانہ میں بنی اسرائیل اطراف مصر (شام و فلسطین) پر قابض ہو گئے ۔ نشانیوں کو جھٹلانے والے ہمیشہ خدا کے غضب کے مستحق ہوتے ہیں اور صبر کرنے والے ہمیشہ خدا کی نصرت کے۔
اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر کے پار اتار دیا۔ پھر ان کا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا، جو پوجنے میں لگ رہے تھے اپنے انھوں نے کہا، اے موسیٰ، ہماری عبادت کے لیے بھی ایک بت بنا دے جیسے ان کے بت ہیں۔ موسیٰ نے کہا، تم بڑے جاہل لوگ ہو۔ یہ لوگ جس کام میں لگے ہوئے ہیں وہ برباد ہونے والا ہے اور یہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ باطل اس نے کہا، کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور معبود تمھارے لیے تلاش کروں حالاں کہ اس نے تم کو تمام اہل عالم پر فضیلت دی ہے۔ اور جب ہم نے فرعون والوں سے تم کو نجات دی جو تم کو سخت عذاب میں ڈالے ہوئے تھے۔ بیٹوں کو قتل کرتے اور تمھاری عورتوں کو زندہ رہنے دیتے اور اس میں تمھارے رب کی طرف سے تمھاری بڑی آزمائش تھی (۱۳۸-۱۴۱)۔
بنی اسرائیل بحر احمر کے شمالی سرے کو پار کر کے جزیرہ نمائے سینا میں پہنچے ۔ پھر شمال سے جنوب کی طرف سمندر کے کنارے کنارے اپنا سفر شروع کیا۔ اس درمیان میں کسی مقام سے گزرتے ہوئے، بنی اسرائیل نے ایک قوم کو دیکھا کہ وہ بت کی پرستش میں مشغول ہے۔ اس وقت بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں نے (نہ کہ سارے بنی اسرائیل نے) یہ تقاضا کیا کہ ان کے لئے ایک بت بنا دیا جائے۔
آدمی کی سب سے بڑی کمزوری ظاہر پرستی ہے۔ وہ غیب میں چھپے ہوئے خدا پر اپنا ذہن پوری طرح جما نہیں پاتا، اس لئے وہ کسی نہ کسی ظاہری چیز میں اٹک کر رہ جاتا ہے۔ کچھ بے شعور لوگ پتھر اور دھات کے بنے ہوئے بتوں کے آگے جھکتے ہیں۔ اور جو لوگ زیادہ مہذب ہیں وہ کسی شخصیت، کسی قوم یا کسی تمدنی ڈھانچہ کو اپنا مرکز توجہ بنا لیتے ہیں۔
بنی اسرائیل کے کچھ افراد نے جب حضرت موسیٰ سے ظاہری بت گھڑنے کی فرمائش کی تو آپ نے فرمایا یہ لوگ جس کام میں لگے ہوئے ہیں وہ سب برباد کیا جانے والا ہے یعنی ہمارا مشن تو یہ ہے کہ ہم ان ظاہری خداؤں کو توڑ کر ختم کر دیں اور آدمی کو پوری طرح صرف ایک خدا کا پرستار بنائیں۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ ہم خود ہی اس قسم کا ایک ظاہری خدا اپنے لئے گھڑ لیں۔
"بنی اسرائیل کو تمام اہل عالم پر فضیلت دی" سے مراد کسی قسم کی نسلی فضیلت نہیں ہے بلکہ منصبى فضیلت ہے۔ یہ اسی معنی میں ہے جس میں امت محمدی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ تم خیر امت ہو، اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ کسی گروہ کو اپنی کتاب کا حامل بناتا ہے اور اس کے ذریعہ دوسری اقوام تک اپنا پیغام پہنچاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں یہ منصب بنی اسرائیل (یہود) کو حاصل تھا، ختم نبوت کے بعد یہ منصب امت محمدی کو دیا گیا ہے ۔
فرعون کو یہ موقع ملنا کہ وہ بنی اسرائیل پر ظلم کرے۔ یہ بنی اسرائیل کے لئے بطور آزمائش تھا نہ کہ بطور عذاب۔ اس طرح کی آزمائش اس لئے ہوتی ہے کہ اہل ایمان کو جھنجھوڑ کر بیدار کیا جائے۔ یہ معلوم کیا جائے کہ کون مشکل حالات میں خدا کے دین سے پھر جاتا ہے اور کون ہے جو صبر کی حد تک خدا کے دین پر قائم رہنے والا ہے ۔
اور ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور اس کو پورا کیا دس مزید راتوں سے تو اس کے رب کی مدت چالیس راتوں میں پوری ہوئی۔ اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا، میرے پیچھے تم میری قوم میں جانشینی کرنا، اصلاح کرتے رہنا اور بگاڑ پیدا کرنے والوں کے طریقے پر نہ چلنا۔ اور جب موسیٰ ہمارے وقت پر آگیا اور اس کے رب نے اس سے کلام کیا تو اس نے کہا، مجھے اپنے کو دکھادے کہ میں تجھ کو دیکھوں۔ فرمایا، تم مجھ کو ہرگز نہیں دیکھ سکتے۔ البتہ پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ قائم رہ جائے‘ تو تم بھی مجھ کو دیکھ سکو گے۔ پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر اپنی تجلی ڈالی تو اس کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ اور موسیٰ بے ہوش ہو کر گر پڑا۔ پھر جب ہوش آیا تو بولا، میں نے تیری طرف رجوع کیا اور میں سب سے پہلے ایمان لانے والا ہوں۔ حضرت ہارون حضرت موسیٰ کے بڑے بھائی تھے، حضرت موسیٰ کی عمر ان سے تین سال کم تھی۔ مگر نبوت اصلا حضرت موسیٰ کو ملی اور حضرت ہارون ان کے ساتھ صرف مددگار کی حیثیت سے شریک کئے گئے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دینی عہدوں کی تقسیم میں اصل اہمیت استعداد کی ہے نہ کہ عمر یا اسی قسم کی دوسری اضافی چیزوں کی۔ حضرت موسیٰ کو مصر میں دعوتی احکام دئے گئے تھے اور صحرائے سینا میں پہنچنے کے بعد پہاڑی پر بلا کر قانونی احکام دئے گئے، اس سے خدائی احکام کی ترتیب معلوم ہوتی ہے۔ عام حالات میں خدا پرستوں سے جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ وہ ذاتی زندگی کو ست کریں اور خدا کے پرستار بن کر رہیں۔ اسی کے ساتھ دوسروں کو بھی توحید و آخرت کی مگر جب اہل ایمان آزاد اور با اختیار گروہ کی حیثیت حاصل کرلیں، جیسا کہ صحرائے سینا میں بنی اسرائیل تھے، تو ان پر یہ فرض بھی عائد ہو جاتا ہے کہ اپنی اجتماعی زندگی کو شرعی قوانین کی بنیاد پر قائم کریں۔ حضرت موسیٰ نے اپنی غیر موجودگی کے لئے جب حضرت ہارون کو بنی اسرائیل کا نگراں بنایا تو فرمایا: اصلح ولا تتبع سبيل المفسدين (۱۴۲) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اجتماعی سربراہ کے لئے اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کا بنیادی اصول کیا ہے۔ اصلاح اور مفسدین کی پیروی نہ کرنا۔ اصلاح سے مراد یہ ہے کہ مختلف افراد کے درمیان انصاف کا توازن کسی حال میں ٹوٹنے نہ دیا جائے ۔ ہر ایک کو وہی ملے جو اس کو از روئے عدل ملنا چاہئے اور ہر ایک سے وہی چھینا جائے جو از روئے عدل اس سے چھینا جانا چاہئے۔ اس اصلاحی عمل میں اکثر اس وقت خرابی پیدا ہوتی ہے جب کہ سردار در مفسدین کی پیروی کرنے لگے۔ یہ پیروی کبھی اس شکل میں ہوتی ہے کہ اس کے مقربین اپنے ذاتی اغراض کی بنا پر جو کچھ کہیں وہ ان کو مان لے۔ اور کبھی اس طرح ہوتی ہے کہ مفسدین کی طاقت سے خوف زدہ ہو کر وہ خاموشی اختیار کرلے۔
حضرت موسیٰ نے خدا کو دیکھنا چاہا اور جب معلوم ہوا کہ خدا کو دیکھنا ممکن نہیں تو انھوں نے توبہ کی اور بغیر دیکھے ایمان کا اقرار کیا۔ انسان کا امتحان یہ ہے کہ وہ دیکھے بغیر خدا کو مانے۔ خدا کو دیکھنا ایک اخروی انعام ہے پھر وہ موجودہ دنیا میں کیوں کر ممکن ہو سکتا ہے۔
اللہ نے فرمایا، اے موسیٰ میں نے تم کو لوگوں پر اپنی پیغمبری اور اپنے کلام کے ذریعہ سے سرفراز کیا۔ پس اب لو جو کچھ میں نے تم کو عطا کیا ہے۔ اور شکر گزاروں میں سے بنو۔ اور ہم نے اس کے لئے تختیوں پر ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ وی۔ پس اس کو مضبوطی سے پکڑو اور اپنی قوم کو حکم دو کہ ان کے بہتر مفہوم کی پیروی کریں۔ میں تم کو نافرمانوں کا گھر دکھاؤں گا۔ حضرت موسیٰ کو پہلی بار نبوت پہاڑ کے اوپر ملی تھی اور دوسری بار بھی تو رات کے احکام ان کو پہاڑ پر بلا کر دئے گئے۔ یہ اس بات کا ایک اشارہ ہے کہ خدا کا فیضان حاصل کرنے کی سب سے زیادہ موزوں جگہ فطرت کا ماحول ہے نہ کہ انسانی آبادیوں کا ماحول۔ انسانوں کی پر شور دنیا سے نکل کر آدمی جب پتھروں اور درختوں کی خاموش دنیا میں پہنچتا ہے تو وہ اپنے آپ کو خدا کے قریب محسوس کرنے لگتا ہے۔ وہ مصنوعی احساسات سے خالی ہو کر اپنی فطری حالت پر پہنچ جاتا ہے۔ یہ کسی آدمی کے لئے بہترین لمحہ ہوتا ہے جب کہ وہ بے آمیز فطری انداز میں سوچے اور یک سو ہو کر اپنے رب سے جڑ سکے۔
پیغمبر عام انسانوں میں سے ایک انسان ہوتا ہے ۔ وہ کسی بھی اعتبار سے کوئی غیر انسانی مخلوق نہیں ہوتا ۔ اس کی خصوصیت صرف یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی پیدائشی استعداد کو محفوظ رکھنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اس لئے خدا اس کو چنتا ہے کہ وہ اس کے پیغام کا حامل بنے اور لوگوں کے درمیان اس کی قابلِ اعتماد نمائندگی کرے۔ موسیٰ اس وقت اپنی قوم کے بہترین شخص تھے اس لئے خدا نے ان کو اپنا پیغمبر چنا اور ان پر اپنا کلام اتارا۔ خدا کے کام میں اگر چہ ہدایت ۔ بہ حق ہر قسم کی ضروری تفصیل موجود ہوتی ہے مگر وہ الفاظ میں ہوتی ہے اور موجودہ امتحانی دنیا میں بہر حال اس کا امکان باقی رہتا ہے کہ آدمی ان الفاظ کی غلط تشریح کر کے اس کو غیر مطلوب معنی پہنا دے۔ مگر جو شخص ہدایت کے معاملہ میں سنجیدہ ہو اور خدا کی پکڑ سے ڈرتا ہو وہ ان الفاظ سے وہی معنی لے گا جو کلام الہی کے شایانِ شان ہے نہ کہ وہ جو اس کے نفس کو مرغوب ہے۔
"میں عنقریب تم کو نافرمانوں کا گھر دکھاؤں گا “، یعنی اپنے اس سفر میں آگے چل کر تم ان قوموں کے کھنڈرات سے گزرو گے جنہیں اس سے پہلے خدا کی ہدایت دی گئی تھی۔ مگر وہ اس کو مضبوطی کے ساتھ پکڑنے میں ناکام ثابت ہوئے۔ حالات کے دباؤ یا جذبات کے میلان کو نظر انداز کر کے وہ اس پر ٹھیک طرح قائم نہ رہ سکے۔ چنانچہ ان کا انجام یہ ہوا کہ وہ ہلاک کر دئے گئے۔ اگر تم نے ایسا کیا تو تمھارا انجام بھی دنیا د آخرت میں وہی ہوگا جو ان پچھلی قوموں کا ہوا۔ معاملہ جیسا ایک قوم کے ساتھ ہے ویسا ہی معاملہ دوسری قوم کے ساتھ ہے۔ عدل الہی کی میزان میں ایک قوم اور دوسری قوم کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
اس دنیا میں یہ موقع ہے کہ آدمی اپنی خود ساختہ تشریح سے خدا کے احسن کلام کا کوئی غیر حسن مفہوم نکال لے۔ مگر یہ ایسی جسارت ہے جو فرماں برداری کے دعوے دار کو بھی نافرمانوں کی فہرست میں شامل کر دیتی ہے۔
میں اپنی نشانیوں سے ان لوگوں کو پھیر دوں گا جو زمین میں ناحق گھمنڈ کرتے ہیں۔ اور اگر وہ ہر قسم کی نشانیاں دیکھ لیں تب بھی ان پر ایمان نہ لائیں ۔ اور اگر وہ ہدایت کا راستہ دیکھیں تو اس کو نہ اپنا لیں گے اور اگر گمراہی کا راستہ دیکھیں تو اس کو اپنائیں گے۔ یہ اس سبب سے ہے کہ انھوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور ان کی طرف سے اپنے کو غافل رکھا۔ اور جنھوں نے ہماری نشانیوں کو اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا ان کے اعمال اکارت ہو گئے اور وہ بدلے میں وہی پائیں گے جو وہ کرتے تھے ۔
دنیا میں زندگی گزارنے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی نے اپنے آنکھ اور کان کھلے رکھے ہوں۔ کو ان کے اصلی رنگ میں دیکھتا اور سنتا ہو۔ ایسے آدمی کے سامنے حق آئے گا تو وہ اس کو پہچان لے گا۔ بکھری ہوئی خدائی نشانیاں اس کو جو سبق دیں گی وہ ان کو پالے گا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی متکبرانہ نفسیات کے ساتھ جی رہا ہو۔ وہ زمین میں اس طرح رہتا ہو جیسے وہ اس کا مالک ہے، اس کو اپنے ذاتی داعیات کے سوا کسی اور چیز کی پروا نہ ہو۔ وہ سمجھتا ہو کہ یہاں جو کچھ اسے مل رہا ہے وہ اپنی لیاقت کی وجہ سے مل رہا ہے۔ اپنی ملی ہوئی چیزوں میں اس کو کسی اور کی مرضی کا لحاظ کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس دوسرے آدمی کا استغفار اس کے لیے قبول حق میں رکاوٹ بن جائے گا۔
پہلے آدمی کی نفسیات لینے والی نفسیات ہوتی ہے۔ وہ اپنے کھلے ذہن کی وجہ سے خدا کے ہر اشارہ کو پڑھ لیتا اور فوراً اپنے آپ کو اس کے مطابق ڈھال لیتا ہے۔ اس کے برعکس دوسرے آدمی کی نفسیات سینے نیازی کی نفسیات ہوتی ہے۔ اس کے سامنے حق کے دلائل آتے ہیں مگر وہ ان کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کر دیتا ہے۔ سامنے قدرت خاموش زبان میں اپنا نغمہ چھیڑتی ہے مگر وہ اس پر دھیان دینے کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ اس کو اپنے سے باہر کسی سچائی کی طرف رغبت نہیں ہوتی۔ ـــــــــــــ موت کے بعد آنے والی دنیا صرف پہلے لوگوں کے لئے ہے۔ دوسرے لوگ خدا کی ابدی دنیا میں اسی طرح نظر انداز کر دئے جائیں گے جس طرح موجودہ امتحان کی دنیا میں وہ خدا کی بات کو نظر انداز کئے ہوئے تھے۔
گمراہی کا راستہ نفس کے محرکات کے تحت بنتا ہے اور ہدایت کا راستہ وہ ہے جو نفس اور ماحول کے اثرات سے اوپر اٹھ کر خالص خدا کے لئے وجود میں آتا ہے۔ اب جو لوگ اپنی ذات کی سطح پر جی رہے ہوں، جو صرف اپنے نفس کے اندر ابھرنے والے داعیات کو جانتے ہوں وہ گمراہی کے راستہ کو عین اپنی چیز سمجھ کر اس کی طرف دوڑ پڑیں گے۔ ہدایت کا راستہ ان کو اپنے مزاج کے اعتبار سے اجنبی دکھائی دے گا اس لئے وہ اس کی طرف بڑھنے میں بھی ناکام ثابت ہوں گے۔
بڑائی کی نفسیات اس چیز کو با آسانی قبول کر لیتی ہے جس میں اس کی بڑائی باقی رہے۔ اور جہاں اس کی بڑائی مشتبہ ہوتی ہو اس سے اسے کوئی دل چسپی نہیں ہوتی۔
اور موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیوروں سے ایک بچھڑا بنایا ، ایک دھڑ جس سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی۔ انھوں نے نہیں دیکھا کہ وہ نہ ان سے بولتا ہے اور نہ کوئی راہ دکھاتا ہے۔ اس کو انھوں نے معبود بنا لیا اور وہ بڑے اور جب وہ پچھتائے اور انھوں نے محسوس کیا کہ وہ گمراہی میں پڑ گئے تھے تو انھوں نے کہا، اگر ہمارے رب نے ہم پر رحم نہ کیا اور ہم کو نہ بخشا تو یقیناً ہم برباد ہو جائیں گے۔ اور جب موسیٰ رنج اور غصہ میں بھرا ہوا اپنی قوم کی طرف لوٹا تو اس نے کہا، تم نے میرے بعد میری بہت بری جانشینی کی۔ کیا تم نے اپنے رب کے حکم سے پہلے ہی جلدی کر لی۔ نے تختیاں ڈال دیں اور اپنے بھائی کا سر پکڑ کر اس کو اپنی طرف کھینچنے لگا۔ ہارون نے کہا، اے میری ماں کے بیٹے، لوگوں نے مجھے دبالیا اور قریب تھا کہ مجھ کو مار ڈالیں ۔ پس تو دشمنوں کو میرے اوپر ہنسنے کا موقع نہ دے اور مجھے کو ظالموں کے ساتھ شامل نہ کر۔ موسیٰ نے کہا، اے میرے رب معاف کر دے مجھ کو اور میرے بھائی کو اور ہم کو اپنی رحمت میں داخل فرما اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ بنی اسرائیل کے گروہ میں اس وقت سامری نام کا ایک بہت شاطر آدمی تھا- حضرت موسیٰ جب بنی اسرائیل کو حضرت ہارون کی نگرانی میں چھوڑ کر پہاڑ پر چلے گئے تو اس نے لوگوں کو بہکایا۔ اس نے لوگوں سے زیورات لے کر ان کو بچھڑے کی صورت میں ڈھال دیا۔ بت گری کے قدیم مصری فن کے مطابق۔ بچھڑے کی یہ صورت اس طرح بنائی گئی تھی کہ جب اس کے اندر سے ہوا گزرے تو اس کے منھ سے خوار (بیل کی ڈکار کی سی آواز آئے ۔ لوگ عام طور پر عجیب و پسند ہوتے ہیں۔ چنانچہ اتنی سی بات پر بہت سے لوگ شبہ میں پڑ گئے اور اس کے بارے میں خدائی تصور قائم کر لیا۔ ایک شاطر آدمی نے کچھ عوامی باتیں کرکے بھیڑ کی بھیڑ اپنے گرد جمع کرلی۔ اس کا زور اتنا بڑھا کہ حضرت ہارون اور اغلا ان کے چند ساتھیوں کے سوا کوئی کھلم کھلا احتجاج کرنے والا بھی نہ نکلا۔ ظاہر ہے کہ جس عوامی طوفان میں پیغمبر کے نائب کی آواز دب جائے وہاں کیسے کوئی بولنے کی جرات کر سکتا ہے۔
عوام کا ذوق ہر زمانہ میں وہی رہا ہے اور آج بھی وہ پوری طرح موجود ہے ۔ آج بھی ایک ہوشیار آدمی اپنی تقریروں اور تحریروں سے کسی نہ کسی "خوار" پر لوگوں کی بھیڑ جمع کرلیتا ہے۔ لوگ یہ نہیں سوچتے کہ جس چیز کے گرد وہ جمع ہورہے ہیں وہ محض ایک تماشا ہے نہ کہ فی الواقع کوئی حقیقت ۔ کوئی سنجیدہ آدمی اگر اس تماشے کی حقیقت کو کھولتا ہے تو اس کا یہی انجام ہوتا ہے جو بنی اسرائیل کے درمیان حضرت ہارون کا ہوا۔ حضرت موسیٰ نے جب دیکھا کہ بنی اسرائیل مشرکانہ فعل میں مشغول ہیں تو ان کو گمان ہوا کہ حضرت ہارون نے اصلاح کے سلسلہ میں کوتاہی کی ہے۔ چنانچہ غصہ میں انھیں پکڑ لیا۔ مگر جیسے ہی انھوں نے بتایا کہ انھوں نے اپنی اصلاح کی کوشش میں کوئی کمی نہ کی تھی قرآن کے بیان کے بعد فوراً رک گئے اور اپنے لئے اور حضرت ہارون کے لئے خدا سے دعا کرنے لگے ۔ ایک مومن کو دوسرے مومن کے بارے میں بڑی سے بڑی غلط فہمی ہوسکتی ہے مگر معاملہ کی وضاحت کے بعد وہ ایسا ہو جاتا ہے جیسے اس کو غلط فہمی پیدا ہی نہیں ہوئی تھی۔
بے شک جن لوگوں نے بچھڑے کو معبود بنایا، ان کو ان کے رب کا غضب پہنچے گا اور ذلت دنیا کی زندگی میں۔ اور ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں جھوٹ باندھنے والوں کو۔ اور جن لوگوں نے برے کام کئے بعد اس کے بعد تو بہ کی ۔ اور ایمان لائے تو بے شک اس کے بعد تیرا رب بخشنے والا مہربان ہے ۱۵۳-۱۵۲ بنی اسرائیل کے بچھڑا اپنانے کو یہاں افتراءءء (جھوٹ باندھنا) کہا گیا ہے۔ ایسا کیوں ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے یہ باطل کام حق کے نام پر کیا تھا۔ انھوں نے اپنا یہ کام خدا کے دین کا انکار کر کے نہیں کیا تھا بلکہ خدا کے دین کو مانتے ہوئے کیا تھا۔ اپنی اس بے دینی کو وہ دینی الفاظ میں بیان کرتے تھے پیشہ کین کے عام عقیدہ کی طرح ، وہ کہتے تھے کہ خدا ان کی گھڑی ہوئی مورت میں حلول کر آیا ہے۔ اس لئے اس کی عبادت خود خدا کی عبادت کے ہم معنی حتی کہ اس فعل کے لیڈر سامری نے اس کے حق میں کشف و کرامت کی دلیل بھی تلاش کر لی۔ اس نے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ جبریل آئے ہیں اور میں نے ان کے گھوڑے کے نقش قدم سے ایک مٹھی مٹی اٹھائی ہے اور ایک بچھڑا بنا کر اس کے اندر وہ مٹی ڈال دی تو مقدس مٹی کی برکت سے وہ بچھڑا بولنے لگا۔ گویا سامری کی اتر اس کے ساتھی خدا کی طرف ایسی بات منسوب کر رہے تھے جو خدا نے خود نہیں بتائی تھی ۔ اس قسم کی نسبت افترا (خدا پر جھوٹ باندھنا) ہے خواہ وہ ایک صورت میں ہو یا دوسری صورت میں۔
کوئی حامل دین گروہ جب اس قسم کا افترا کرتا ہے، وہ بے دینی کے فعل کو دین کا نام دے دیتا ہے، تو یہ چیز خدا کے غضب کو شدید طور پر بھڑکا دیتی ہے۔ اس کے متعلق یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ اس کو آخرت سے پہلے دنیا کی زندگی ہی میں رسواکن سزا دی جائے ۔ بنی اسرائیل کے لئے یہ دنیوی سزا اس صورت میں آئی کہ حضرت موسیٰ کے حکم پر قبیلہ کے مخلص ذمہ داروں نے اپنے اپنے قبیلہ کے ان افراد کو پکڑا جنہوں نے بچھڑا اپنانے کے اس کام میں حصہ لیا تھا اور اس فتنہ میں براہ راست شریک رہے تھے۔ اس کے بعد ہر قبیلہ کے افراد نے خود اپنے ہاتھ سے اپنے قبیلہ کے مجرمین کو قتل کر دیا۔ اس دردناک انجام سے صرف وہ لوگ بچے جو اپنے اس فعل پر سخت شرمندہ ہوئے اور انھوں نے اپنے جرم کا اقرار کرتے ہوئے توبہ کی ۔
بنی اسرائیل کے جرم پر خدا نے جس سزا کا فیصلہ کیا اس کا نفاذ خود ان کی اپنی تلواروں کے ذریعہ کیا گیا۔ قسم کے فیصلے کا نفاذ کبھی اغیار کی تلواروں کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔ اور اغیار کی تلواروں سے اس کا نفاذ اس وقت ہوتا ہے جب کہ سزا کے ساتھ رسوائی کو بھی شامل کر دینے کا فیصلہ کیا گیا ہو۔
گناہ پر تو بہ یہ ہے کہ گناہ ہو جانے کے بعد آدمی اپنے اس فعل پر شدید شرمندہ ہو۔ توبہ کی اصل حقیقت یہ شرمندگی اس بات کی ضمانت ہے کہ آدمی اپنے پورے وجود سے فیصلہ کرے کہ آئندہ وہ ایسا فعل نہ کرے گا۔ کوئی گناہ گار جب اس طرح شرمندگی کا اور آئندہ کے لئے پرہیز کے عزم کا ثبوت دے دیتا ہے تو گویا کہ وہ دوبارہ ایمان لاتا ہے، دین کے دائرہ سے نکل جانے کے بعد وہ دوبارہ خدا کے دین میں داخل ہوتا ہے۔
اور جب موسیٰ کا غصہ تھما تو اس نے تختیاں اٹھائیں اور جو ان میں لکھا ہوا تھا اس میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لئے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔ اور موسیٰ نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی چنے ہمارے مقرر کئے ہوئے وقت کے لئے۔ پھر جب ان کو زلزلہ نے پکڑا تو موسیٰ نے کہا اے رب، اگر تو چاہتا تو پہلے ہی تو ان کو ہلاک کر دیتا اور مجھ کو بھی۔ ہم کو ایسے کام پر ہلاک کرے گا جو ہمارے اندر کے بیوقوفوں نے کیا۔ یہ سب تیری آزمائش ہے تو اس سے جس کو چاہے گمراہ کر دے اور جس کو چاہے ہدایت دے۔ تو ہی ہمارا تھامنے والا ہے۔ پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما، تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے۔ اور تو ہمارے لئے اس دنیا میں بھی بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی۔ ہم نے تیری طرف رجوع کیا۔ اللہ نے کہا: میں اپنا عذاب اسی پر ڈالتا ہوں جس کو چاہتا ہوں، اور میری رحمت شامل ہے ہر چیز کو۔ پس اس کو لکھ دوں گا ان کے لئے جو ڈر رکھتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور ہماری نشانیوں پر ایمان لاتے ہیں ۱۵۶- ۱۵۳ : بنی اسرائیل کے بچھڑا بنانے سے یہ ظاہر ہوا تھا کہ ان کے اندر خدا پر وہ یقین نہیں ہے جو ہونا چاہئے۔ ان کو پہاڑ پر بلایا گیا۔ حضرت موسیٰ مقرره وقت کے مطابق بنی اسرائیل کے ستر نمائندہ افراد کو لے کر دربار کوہ طور وہاں خدا نے گرج چمک اور زلزلہ کے ذریعہ ایسے حالات پیدا کئے جس سے بنی اسرائیل کے لوگوں کے اندر انابت و خشیت پیدا ہو۔ چنانچہ اس کے بعد وہ خدا کے سامنے روئے گڑگڑائے اور اجتماعی توبہ کی۔ عہد کیا کہ وہ تورات کے احکام پر سچائی کے ساتھ عمل کریں گے۔
اس موقع پر حضرت موسیٰ نے دعا کی " اے ہمارے رب، ہمارے لئے دنیا اور آخرت میں بھلائی لکھ دے " اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا "میں جس پر چاہتا ہوں اپنا عذاب ڈالتا ہوں، اور میری رحمت ہر چیز کو شامل ہے" حضرت موسیٰ کی دعا بحیثیت مجموعی اپنی پوری امت کے لئے تھی۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے جواب میں واضح کر دیا کہ نجات اور کامیابی کوئی گروہی چیز نہیں ہے۔ اس کا فیصلہ ہر ہر فرد کے لئے اس کے ذاتی عمل کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ اگر چہ میں تمام رحم کرنے والوں سے زیادہ رحیم ہوں ۔ مگر جو شخص عمل صالح کا ثبوت نہ دے وہ میری پکڑ سے بچ نہیں سکتا خواہ وہ کسی بھی گروہ سے تعلق رکھتا ہو۔
خدا کی کتاب ہدایت و رحمت ہوتی ہے۔ وہ دنیا کی زندگی میں آدمی کے لئے بہترین رہنما ہے اور آخرت میں خدا کی رحمت کا یقینی ذریعہ۔ مگر خدا کی کتاب کا یہ فائدہ صرف اس کو ملتا ہے جو ڈر، رکھتا ہو، جس کو اندیشہ لگا ہوا ہو کہ معلوم نہیں خدا میرے ساتھ کیا معاملہ کرے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سچے طالب حق ہوتے ہیں۔ ان کے سامنے جب حق آتا ہے تو وہ کسی قسم کی نفسیاتی پیچیدگی میں مبتلا ہوئے بغیر اس کو پالیتے ہیں۔ اس کے بعد خدا ان کے خوف اور امید کامرکز بن جاتا ان کا سب کچھ خدا کے لئے وقف ہو جاتا ہے۔ ان کا ڈر ان کے شعور کو بیدار کر دیتا ہے۔ ان کی نگاہ سے تمام مصنوعی پر دے ہٹ جاتے ہیں۔ خدا کی طرف سے ظاہر ہونے والی نشانیوں کو پہچاننے میں وہ کبھی نہیں چوکتے۔ کی نفسیات میں جیتے ہیں نہ کہ قناعت کی نفسیات میں۔
جو لوگ پیروی کریں گے اس رسول کی جو نّبی اُمّی ہے، جس کو وہ اپنے یہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ ان کو نیکی کا حکم دیتا ہے اور ان کو برائی سے روکتا ہے اور ان کے لئے پاکیزہ چیزیں جائز ٹھہراتا ہے اور ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے اور ان پر سے وہ بوجھ اور قیدیں اتارتا ہے جو ان پر تھیں۔ پس جو لوگ اس پر ایمان لائے اور جنہوں نے اس کی عزت کی اور اس کی مدد کی اور اس نور کی پیروی کی جو اس کے ساتھ اتارا گیا ہے تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں بنی اسرائیل دیکھتے چلے آ رہے تھے کر جتنے نبی آتے ہیں، وہ سب ان کی اپنی قوم میں آتے ہیں۔ آخری رسول خدا کے منصوبہ کے مطابق، بنی اسماعیل میں آنے والا تھا اس لئے خدا نے بنی اسرائیل کے انبیاء کے ذریعہ انتیس پہلے سے اس کی خبر کر دی۔ ان کی کتابوں میں کثرت سے اس کی پیشین گو ئیاں ابھی تک موجود ہیں۔ ایسا اس لئے ہوا تا کہ جب آخری رسول آئے تو وہ کسی بڑے فتنہ میں نہ پڑیں اور بہ آسانی اس کو پہچان کہ اس کے ساتھی بن جائیں۔ پیغمبر اسلام پڑھے لکھے نہ تھے۔ آپ اُمّی رسول تھے۔ اُمّیت کے ساتھ پیغمبری، جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آخری اور انتہائی صورت میں جمع ہوئی، یہی ہمیشہ کے لیے اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔ معرفت خداوندی کا اظہار ہمیشہ " اُمّیت " کی سطح پر ہوتا ہے۔ یعنی وہ کسی ایسے شخص کے ذریعہ ظاہر کیا جاتا ہے جو دنیوی معیار کے لحاظ سے اس قسم کے عظیم کام کا اہل نہ سمجھا جاتا ہو۔ تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ خدا نے بقراط اور افلاطون کو اپنا پیغمبر بنا کر
دین کی اصل روح اللہ کا خوف اور آخرت کی فکر ہے۔ مگر بعد کے زمانہ میں جب اندرونی روح سرد پڑتی ہے تو ظواہر کا زور بہت بڑھ جاتا ہے۔ اب غیر ضروری مو شگافیاں کر کے نئے نئے مسائل بنائے جاتے ہیں۔ نام پر مشقوں اور ریاضتوں کا ایک پورا ڈھانچہ کھڑا کر لیا جاتا ہے۔ عوامی توہمات مقدس ہو کر نئی شریعت کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ یہود کا یہی حال ہو چکا تھا۔ انھوں نے خدا کے دین کے نام پر توہمات اور جکڑ بندیوں کا ایک خود ساختہ ڈھانچہ بنایا تھا اور اس کو خدا کا دین سمجھتے تھے۔ پیغمبر اسلام نے ان کے سامنے دین کو اس کی فطری صورت میں پیش کیا۔ غیر ضروری پابندیوں کو ختم کر کے سادہ اور سچے دین کی طرف ان کی رہنمائی فرمائی۔ پیغمبر جب آتا ہے تو سب سے بڑی نیکی یہ ہوتی ہے کہ اس پر ایمان لایا جائے۔ مگر یہ ایمان عام معنوں میں محض ایک کلمہ پڑھنا نہیں ہے۔ یہ بے روح ڈھانچہ والے دین سے نکل کر زندہ شعور والے دین میں داخل ہونا ہے ۔ سابقہ مذہبی ڈھانچہ سے آدمی کی وابستگی محض تاریخی روایات یا نسلی رواج کے زور پر ہوتی ہے۔ مگر نئے پیغمبر کے دین کو جب وہ قبول کرتا ہے تو وہ اس کو شعوری فیصلہ کے تحت قبول کرتا ہے ، وہ رسم سے نکل کر حقیقت کے دائرہ میں داخل ہوتا ہے۔ بظاہر یہ ایک سادہ سی بات معلوم ہوتی ہے۔ مگر یہ سادہ بات ہر دور میں انسان کے لئے مشکل ترین بات ثابت ہوئی ہے۔
کہو اے لوگو ، بے شک میں اللہ کا رسول ہوں تم سب کی طرف جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ۔ جلاتا ہے اور وہی مارتا ہے ۔ پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے امی رسول و نبی پر جو ایمان رکھتا ہے اللہ اور اس کے کلمات پر اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم ہدایت پاؤ۔ اور موسیٰ کی قوم میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو حق کے مطابق رہنمائی کرتا ہے اور اسی کے مطابق انصاف کرتا ہے ۱۵۹- ۱۵۸ "کہو میں سب انسانوں کی طرف اللہ کا رسول ہوں " کا مطلب یہ نہیں کہ دوسرے تمام پیغمبر قومی پیغمبر تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بین الاقوامی پیغمبر ہیں۔ یہ بات بطور تقابل نہیں کہی گئی ہے بلکہ بطور واقعہ کہی گئی ہے۔ اصل یہ ہے کہ پیغمبر اسلام کی دو بعثتیں ہیں۔ ایک براہ راست ، دوسری بواسطہ امت ۔ آپ کی براہ راست بعثت عرب کے لئے تھی (انعام ۹۲) اور آپ کی بالواسطہ بعثت سارے عالم کے لئے ہے (حج ۷۸) حکماً یہی نوعیت خدا کے تمام پیغمبروں کی تھی۔ مگر دوسرے پیغمبروں کا دین محفوظ حالت میں باقی نہ رہ سکا اس لئے یہ ممکن نہیں ہوا کہ وہ تمام عالم کے لئے نذیر و بشیر بنتے ۔ آج مسیحیت کی تبلیغ سارے عالم میں بہت بڑے پیمانے پر ہو رہی ہے۔ کے باوجود حضرت مسیح کی نبوت صرف فلسطین تک محدود ہو کر رہ گئی۔ کیونکہ حضرت مسیح کے بعد ان کی تعلیمات اپنی اصل حالت میں باقی نہیں رہیں۔ آج مسیحیت کے نام سے جو دین لوگوں تک پہنچ رہا ہے وہ حقیقتہ سینٹ پال کا دین ہے نہ کہ مسیح کا دین ۔ گویا نبیوں کی وسعت کار میں جو فرق ہے وہ فرق باعتبار واقعہ ہے نہ کہ باعتبار تفویض۔ پیغمبر عربی کے متعلق بائبل میں یہ پیشین گوئی ہے کہ زمین کے سب قبیلے اس کے وسیلے سے برکت پائیں گے (پیدائش (۱۲) سب قوموں تک آپ کی برکت پہنچنا اس لئے ممکن ہو سکا کہ آپ کا لایا ہوا دین محفوظ ہے۔ اور حضرت مسیح کا دین محفوظ نہیں۔ اس لئے بظاہر اس کی آواز سب تک پہنچ کر بھی اس کی برکت سب تک نہ پہنچ سکی۔ عرب میں یہودی قبائل آباد تھے ۔ یہ وہ لوگ تھے جن کو یہ فخر تھا کہ ان کے پاس خدا کی مقدس کتاب ہے یہ لوگ ہمیشہ اپنے سے باہر کسی سچائی کو ماننے کے لئے سب سے زیادہ سخت ہوتے ہیں۔ ان کا یہ احساس کہ وہ سب سے بڑی سچائی کو لئے ہوئے ہیں ، ان کے لئے کسی دوسرے کی طرف سے آنے والی سچائی کو قبول کرنے میں مانع ہو جاتا ہے۔ یہی حال یہود کا ہوا۔ ان کی بہت بڑی اکثریت ضد اور تعصب کی نفسیات میں مبتلا ہو گئی۔ صرف چند لوگ (عبد اللہ بن سلام وغیرہ) ایسے نکلے جنہوں نے کھلے ذہن کے ساتھ اسلام کو دیکھا۔ انھوں نے اپنی دنیوی عزت کی پروا کئے بغیر اس کی صداقت کا اعلان کیا اور اپنی دنیوی زندگی کو اس کے حوالے کر دیا۔
" رسول ایمان رکھتا ہے اللہ پر اور اس کے کلمات (ارشادات) پر یہ جملہ بتاتا ہے کہ فلسفیوں کے خدا اور پیغمبر کے خدا میں کیا فرق ہے۔ فلسفی کا خدا ایک مجرد روح ہے۔ اس کو ماننا ایسا ہی ہے جیسے کائنات میں قوت کشش کو ماننا۔ کشش نہ بولتی اور نہ حکم دیتی۔ مگر پیغمبر کا خدا ایک زندہ اور با شعور خدا ہے۔ وہ انسانوں سے ہم کلام ہوتا ہے۔ وہ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے اور اس حکم کے ماننے یا ماننے پر ہر ایک کے لئے انعام یا سزا کا فیصلہ کرتا ہے۔