Al-Risala · January 1981

اللہ کو بہت یاد کرو

Al-Risala, January 1981, pp. 32–33

By Maulana Wahiduddin Khan

حافظ حامد حسن علوی (1959ء - ۱۸۷۲) اعظم گڑھ کے ایک صاحب طریقت بزرگ تھے۔ خلیفہ مولانا سعید احمد صاحب مرحوم نے ایک بار حافظ صاحب قبلہ سے پوچھا کہ قرآن میں آتا ہے کہ اللہ کا ذکر کثیر کرو (احزاب (۴۱) اس کا مطلب کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے بہت سے لوگوں سے پوچھا کہ ذکر کثیر (بہت یاد) کا اطلاق کتنے عدد پر ہوتا ہے تو لوگوں نے مختلف اعداد بتائے۔ کسی نے کہا ۲۵ ہزار بار اللہ کا نام لینا ذکر کثیر ہے، کسی نے کہا ۵۰ ہزار بار ذکر کرنا ذکر کثیر ہے۔ مگر ۲۵ ہزار یا ۵۰ ہزار تو گنتی کی حد نہیں ہیں۔ ان سے آگے بھی گنتیاں ہیں۔ اس قسم کے کسی محدود عددی نصاب کو ذکر کثیر کیسے کہا جاسکتا خدا لامحدود ہے، اس لئے اس کا ذکر کثیر بھی ایسی گنتی پر ختم ہونا چاہئے جو گنتی کی آخری حد ہو۔ حافظ حامد حسن علوی نے جواب دیا: ذکر کے معنی ہیں عدم نسیان۔ نہ بھولنے کی حالت۔ مثلاً ایک شخص کو حکومت کا افسر حکم سنادے کہ اتوار کے دن تم کو پھانسی پر لٹکایا جائے گا۔ تو اس خبر کو سننے کے بعد اگرچہ وہ آدمی روز مرہ کے معمولات میں مشغول نظر آئے گا۔ وہ کھائے پئے گا، بیوی بچوں کے ساتھ رہے گا۔ کا ذہن ہر لمحہ پھانسی کے ذکر (یاد) میں مشغول رہے گا۔ وہ کسی حال میں بھی اس سے غافل نہ ہو پائے گا۔ اس مثال سے ذکر کی حقیقت سمجھ سکتے ہو۔

ذکر حقیقتاً ایک مستقل یاد کا نام ہے نہ کہ کوئی عددی نصاب پورا کرنے کا۔ جب آدمی اللہ کو پالیتا ہے تو وہ اس کی روح میں سما جاتا ہے، وہ اس کے خون میں تیرنے لگتا ہے۔ ہر موقع پر اس کو خدا کا خیال آتا زندگی کا ہر واقعہ اس کو خدا کی یاد دلانے والا بن جاتا ہے۔ اسی کا نام ذکر ہے۔ یہ یاد کبھی سینہ کی کسک بن کر اس کو تڑپا دیتی ہے۔ کبھی اس کے دل کو پگھلا کر آنسوؤں کی صورت میں بہہ پڑتی ہے۔ کبھی خوف یا محبت کے کلمہ کی صورت میں اس کی زبان پر آ جاتی ہے۔ کبھی شکریہ دعا بن کر اس کی زبان سے ٹپک پڑتی ہے۔ ذکر کسی قسم کے رٹے ہوئے الفاظ کو دہرانا نہیں ہے، ذکر دل کی ایک حالت کا نام ہے۔ کے اندر اٹھنے والی یہ موجیں کبھی الفاظ کی صورت میں بھی ظاہر ہو جاتی ہیں، یہ الفاظ ذکر و دعا کے معروف الفاظ بھی ہو سکتے ہیں اور غیر معروف الفاظ بھی، وہ عربی میں بھی ہو سکتے ہیں اور آدمی کی اپنی مادری زبان مگر ذکر یقینی طور پر کسی قسم کے تکرار الفاظ کا نام نہیں ہے بلکہ اس قلبی حالت کا نام ہے جس کے نتیجہ میں خدا کو یاد کرنے والے الفاظ زبان سے نکل پڑتے ہیں۔ الفاظ کی تکرار کو ذکر کہنا ایسا ہی ہے جیسے ریکارڈ کی آواز کو ایک زندہ انسان کا کلام کہا جائے۔

بندوں کے ساتھ جو کروگے وہی خدا تمھارے ساتھ کرے گا عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے حضرت معاویہ سے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے: جو حاکم ضرورت مندوں اور کمزور لوگوں کے لئے اپنا دروازہ بند کرے گا تو اللہ اس کی حاجت اور اس کی ضرورت اور اس کی مسکینی کے وقت اس کے لئے آسمان کے دروازے بند کر دے گا (ما من امام یغلق بابہ دون ذوی الحاجۃ والخلة والمسكنة الا اغلق اللہ ابواب السماء دون خلته وحاجته ومسکنته ، ترمذی) برائی کا جواب بھلائی سے دینا قال عمر: ما عاقبت من عصى اللہ فیک بمثل ان عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو شخص تمھارے معاملہ میں اللہ کی تطیع اللہ فیہ (تفسیر ابن کثیر جلد ۳ صفحہ ۲۴) نافرمانی کرے، اس کا سب سے اچھا بدلہ یہ ہے کہ تم اس کے معاملہ میں اللہ کی فرماں برداری کرو لوگوں کے شر سے بچنے کے لئے صبر کرو حضرت احنف بن قیس تابعی فرماتے ہیں: جو شخص ایک کڑوی بات پر صبر نہیں کرے گا اس کو بہت سی کڑوی باتیں سننی بہت بار میں غصہ کو اس لئے پی گیا کہ اگر میں ایسا نہ کرتا تو اس سے بھی زیادہ سخت چیز کا اندیشہ تھا (من لم یصبر علی کلمۃ سمع کلمات و رب غیظ تجرعته مخافة ما هو اشد منه)

کسی کے خلاف زیادتی ہو جائے تو اس کی تلافی کے لئے اس کے حق میں دعا کیجئے قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : اللهم انی اتخذ عندک عهد الن تخلفه ۔ انما انا بشر فای المومنین آذيته او شتمته او جلدته او لعنته فاجعلها صلاۃ وزکاۃ وقربۃ تقربه بها يوم القيامة (صحیح ابن منیع) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کرتے ہوئے فرمایا: اے اللہ ! میں تجھ سے ایک عہد لیتا ہوں تو اس کے خلاف نہ میں صرف ایک بشر ہوں، پس میں نے جس مسلمان کو تکلیف دی ہو یا اس کو گالی دی ہو یا اس کو مارا ہو یا اس پر لعنت کی ہو تو تو اس کو اس شخص کے حق میں رحمت اور پاکیزگی بنا دے اور اس کو قربت بنا دے جس کے ذریعہ وہ قیامت کے دن تیرا قرب حاصل کرے ۔

Printed page