جھگڑے سے بچ کر
Al-Risala, July 1981, pp. 36–37
By Maulana Wahiduddin Khan
دو کسانوں کے کھیت ملے ہوئے تھے۔ ان کے درمیان ابک مینڈ کا جھگڑا ہوگیا۔ ہر ایک کہتا تھا کہ مینڈ میری ہے۔ دونوں کھیت کی مینڈ پر لڑگئے ۔ یہ جھگڑا پہلے "مینڈ" کا تھا پھر وہ "ساکھ" کا مسئلہ بن گیا۔ ہر ایک کو دکھائی دینے لگا کہ مینڈ سے ہٹنا لوگوں کی نظر میں اپنے آپ کو بے عزت کرنا ہے۔ وہ یہاں تک بڑھا کہ دونوں طرف قتل ہوئے ، کھیت کاٹے گئے۔ دونوں نے ایک دوسرے کی اس کے بعد معاملہ اور بڑھا۔ وہ پولیس اور عدالت کا معاملہ بن گیا ۔ مقدمہ بازی کا لمبا سلسلہ یہ مقدمات ۲۰ سال بعد صرف اس وقت ختم ہوئے جب کہ ان کے کھیت، باغ، زیورات سب یک گئے۔ ایک معمولی مینڈ کو پانے کے لئے دونوں نے اپنا سب کچھ کھودیا۔
یہی مینڈ کا جھگڑا ایک اور کسان کے ساتھ پیدا ہوا۔ مگر اس نے فوری اشتعال کے تحت کارروائی کرنے کے بجائے اس پر غور کیا۔ سمجھ دار لوگوں سے مشورے کئے۔ آخر کار اس کی سمجھ میں یہ بات آئی کہ مینڈ کا جھگڑا مینڈ پر طے نہیں ہوتا۔ جھگڑے کو طے کرنے کی جگہ دوسری ہے۔ یہ سوچ کر اس نے جھگڑے کی مینڈ چھوڑ دی۔
اس نے یہ کیا کہ مسئلہ پر آج سے سوچنے کے بجائے پیچھے سے سوچنا شروع کیا۔ واقعہ سے اس کے دل کو بھی چوٹ لگی۔ اس کو بھی اپنے نقصان اور اپنی بے عزتی سے وہی تکلیف ہوئی جو ہر انسان کو ایسے وقت پر ہوتی ہے۔ مگر اس نے اپنے جذبات کو تھاما۔ فوری جوش کے تحت کارروائی کرنے کے بجائے سوچ سمجھ کر اقدام کرنے کا فیصلہ کیا۔
میرے حریف کو میری مینڈ پر قبضہ کرنے کی جرات ہی کیوں ہوئی، اس سوال پر غور کرتے کرتے وہ اس طے پر پہنچا کہ اس کی وجہ حریف کے مقابلہ میں میری کمزوری ہے۔ میرا اور حریف کا اصل معاملہ مینڈ کا معاملہ بلکہ اصل معاملہ یہ ہے کہ میری پوزیشن میرے حریف کے مقابلہ میں اتنی زیادہ نہیں کہ وہ مجھ سے دبے اور میرے حقوق پر ہاتھ ڈالنے کی جرات نہ کرے۔ ٹھنڈے ذہن سے سوچنے کے بعد اس کی سمجھ میں یہ بات آئی کہ اگر وہ اپنی طاقت اور حیثیت کو بڑھا لے تو وہ زیادہ بہتر طور پر اپنے حریف کے مقابلہ میں کامیاب ہوسکتا ہے۔ کیونکہ اس کے بعد اس کے حریف کو اس کے اوپر دست اندازی کی جرأت ہی نہ ہوگی۔
اب اس نے اپنے کھیتوں پر پہلے سے زیادہ محنت شروع کر دی ۔ جو طاقت وہ حریف کو برباد
کرنے کی کوششوں میں لگاتا اس طاقت کو اس نے خود اپنی تعمیر میں لگانا شروع کر دیا۔ اس نئی فکر نے اس کے اندر نیا حوصلہ جگا دیا۔ وہ نہ صرف اپنے کھیتوں میں زیادہ محنت کرنے لگا بلکہ کھیتی کے ساتھ کچھ اور قریبی کاروبار بھی شروع کر دیا۔ اس کے نئے شعور کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے اپنی زندگی کو ازسرنو منظم وہ خرچ کو کم کرنے اور آمدنی کو بڑھانے کے اصول پر سختی سے عمل کرنے لگا۔ اسی کے ساتھ اپنے بچوں کو تعلیم کی راہ پر لگا دیا۔ اس نے طے کر لیا کہ اپنے ہر بچہ کو اعلیٰ مرحلہ تک تعلیم دلائے گا۔ اس دوسرے شخص کو بھی اپنی کوششوں میں اسی طرح ۲۰ سال لگ گئے جس طرح پہلے شخص کو ۲۰ سال لگے تھے۔ مگر پہلے شخص کے لئے ۲۰ سال بربادی کے ہم معنی تھا، جب کہ دوسرے شخص کے لئے ۲۰ سال آبادی کے ہم معنی بن گیا۔ اس ۲۰ سال میں اس کے بچے پڑھ لکھ کر اچھے عہدوں پر پہنچ چکے تھے ۔ اس نے اپنی کھیتی اتنی بڑھالی تھی کہ اس کے یہاں ہل ہیں کے بجائے ٹریکٹر چلنے لگا تھا۔ جس کسان سے اس کا مینڈ کا جھگڑا ہوا تھا اس کا وہ پورا کھیت اس نے مینڈ سمیت خرید لیا۔
جس آدمی نے مینڈ کا جھگڑا اینڈ پرٹے کرنے کی کوشش کی وہ تباہ ہو گیا۔ اس کے برعکس جس نے مینڈ کو چھوڑ کر دوسرے میدان میں مقابلہ کی کوشش کی وہ آخر کار نہ صرف مینڈ کا مالک بنا بلکہ حریف کا پورا کھیت اس کے قبضہ میں آگیا۔
بجلی کا بلب جلتے جلتے بجھ جائے یا پنکھا چلتے چلتے رک جائے تو ہم بلب کو توڑ کر نہیں دیکھتے یا پنکھے سے نہیں الجھتے۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ بلب بجھنے اور پنکھا بند ہونے کی وجہ بلب اور پنکھے کے اندر نہیں ان کے باہر ہے۔ اور پھر جہاں سے فرق پڑا ہو وہاں درست کرکے اپنے بلب اور پنکھے کو دوبارہ چلا انسانی معاملات بھی اکثر اسی قسم کے ہوتے ہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ بلب اور پنکھے کے معاملہ میں جو بات آدمی کبھی نہیں بھولتا اسی بات کو انسانی معاملہ میں ہمیشہ بھول جاتا ہے۔ آدمی کی یہ عام کمزوری ہے کہ جب بھی اس کی زندگی میں کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو وہ اسی مقام پر اپنا سر ٹکرانے لگتا ہے جہاں مسئلہ پیدا ہوا ہے۔ حالانکہ اکثر حالات میں یہ ہوتا ہے کہ مسئلہ کہیں پیدا ہوتا ہے اور اس کی وجہ کہیں ہوتی ہے۔ "حال" کا ایک واقعہ اکثر "ماضی" کے کسی واقعہ کا نتیجہ ہوتا ہے ۔ ایک معاملہ میں کسی کی زیادتی اکثر حالات میں کسی اور معاملہ میں پائی جانے والی ایک صورت حال کے سبب سے وقوع میں آتی ہے۔ ایسی حالت میں بہترین عقل مندی یہ ہے کہ آدمی جائے وقوع پر سر نہ ٹکرائے۔ اصل سبب کو معلوم کرکے بات کو وہاں بنانے کی کوشش کرے جہاں بات بگڑ جانے کی وجہ سے اس کے ساتھ دہ حادثہ پیش آیا ہے جس میں وہ آج اپنے کو مبتلا پاتا ہے۔