الر - جلانی ۱۹۸۱
Al-Risala, July 1981, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
آدمی کی زندگی میں روزانہ جو واقعات پیش آتے ہیں انھیں کے درمیان یہ معلوم ہوتا ہے کہ کوئی آدمی کیا ہے۔ ہر واقعہ ہمارے اندر کسی نہ کسی قسم کی ہلچل پیدا کرتا ہے اور ہماری نفسیات کسی نہ کسی صورت میں اس کا جواب پیش کرتی ہے، جو آدمی خدا کو بھولا ہوا ہے، اس پر جب کوئی واقعہ گزرتا ہے تو اس کا جواب اس کی خواہشات اور اس کے مفادات کے تابع ہوتا ہے۔ مومن وہ ہے کہ جب اس کی زندگی میں کوئی واقعہ پیش آئے تو وہ خدا کو یاد کرے، وہ اس کے اندر نفسانیت کے جذبات کو نہ ابھارے بلکہ خدا پرستی کے جذبات کو ابھارے۔
زندگی میں طرح طرح کے اتار چڑھاؤ آتے ہیں۔ کبھی آرام ملتا ہے اور کبھی تکلیف۔ تعریف سنی ہوتی ہے اور کبھی تنقید۔ کبھی کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آتا ہے اور کبھی خوش گوار۔ یہ اتار چڑھاؤ سب امتحان کے پرچے ہیں۔ کامیابی یہ ہے کہ ان واقعات سے آدمی کے اندر نفسانیت نہ جاگے بلکہ خدا پرستی جاگے۔ خوشی اور آرام ہو تو اس کے اندر شکر کا جذبہ ابھرے۔ کسی سے کوئی تکلیف پہنچے تو اس کے اندر عجز اور عبدیت کی روح پیدا ہو۔ دنیا میں آدمی کا اصل امتحان یہی ہے کہ مختلف حالات کے درمیان وہ کس قسم کا جواب پیش دولت واقتدار کے ملنے پر آدمی کے اندر اگر بڑائی کا جذبہ پیدا ہو جائے تو وہ ناکام ہو گیا اور اگر تواضع کا جذبہ پیدا ہو تو وہ کامیاب ہوا۔ کسی سے اختلاف پیدا ہونے کی صورت میں ضد اور نفرت ابھر آئے تو وہ ناکام رہا اور اگر ہمدردی اور معافی کے احساسات ابھریں تو وہ کامیاب رہا۔ کسی سے معاملہ پیش آنے کی صورت میں اگر آدمی بے انصافی کرنے لگے تو وہ ناکام رہا اور اگر انصاف کے مطابق پورا پورا حق ادا کرے تو وہ کامیاب ہو گیا۔