حالات کا لحاظ ضروری
Al-Risala, July 1981, p. 44
By Maulana Wahiduddin Khan
خالد بن ولیدؓ اسلامی فوج کے سب سے بڑے سپہ سالار اور فاتح تھے۔ مگر شہؐ میں عین فتوحات کے زمانہ میں خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروقؓ رض نے ان کو معزول کر دیا۔ اس کی ایک خاص وجہ یہ تھی کہ خالد بن ولیدؓ اپنی۔ جرأت اور دلیری کی وجہ سے بعض اوقات ایسے اقدام کر دیتے تھے جس کے لیے پہلے سے پوری تیاری نہ کی گئی ہو ۔ چنانچہ محاصرہ حمص (سلسلہ) میں جب کہ ہرقل اہلِ جزائر سے متفق ہو کر حمص پر حملہ آور ہوا تو خالد بن ولید مرکز خلافت کی ممانعت کے باوجود قلعہ سے باہر نکل آئے اور فوری جنگ پر تیار ہو گئے ۔ اطراف و جوانب سے جو اسلامی کمک آنے والی تھی، اس کا انتظار نہیں کیا۔ حضرت عمرؓ کو معلوم ہوا تو انھوں نے اس اقدام کو سخت ناپسند فرمایا ۔ شاہ ولی اللہ صاحب اس واقعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں "اگر چہ اس لڑائی میں اللہ کا فضل شامل رہا اور تائید الہیٰ سے فتح حاصل ہوئی۔ (مگر) اس قسم کا اقدام احتیاط کے خلاف تھا) کیونکہ ایسی صورتوں میں بلا امداد لئے ہوئے جرأت کر کے جنگ میں کود پڑنا بعض اوقات شکست کا باعث ہوتا ہے، (ازالة الخفاء) معاملہ کے وقت راز داری کی قسم ہجرت کے سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ نے راستہ کی رہنمائی کے لئے قبیلہ بنو الدیل کے ایک مشرک کی خدمات اجرت پر حاصل کیں ۔ اس کا نام عبداللہ بن اریقط تھا اور وہ حجاز کے راستوں کا ماہر تھا۔ اس شخص نے عرب دستور کے مطابق پانی کے پیالے میں انگلیاں ڈال کر قسم کھائی کہ وہ راز داری کے ساتھ کام کرے گا۔ اس نے معروف شاہراہ کو چھوڑ کر ساحلی راستہ سے آپ کو مدینہ پہنچایا (قرة العینین فی تفضیل الشیخین)