Al-Risala · July 1981

جواب نہ دینا بہادری کے خلاف نہیں

Al-Risala, July 1981, pp. 44–45

By Maulana Wahiduddin Khan

عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ غزوہ احد کے بعد جب مسلمانوں کی جماعت منتشر ہو گئی تو قریش کے سردار ابوسفیان نے قریب آ کر آواز دی: کیا تم میں محمد موجود ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا جواب مت دو" اس کے بعد ابو سفیان نے آواز دی "کیا تم میں ابن ابی قحافہ موجود ہیں‘‘، آپ نے فرمایا ’’چپ رہو‘‘ پھر ابو سفیان نے پکار کر کہا ’’کیا تم میں ابن خطاب موجود ہیں‘‘۔ آپ نے فرمایا چپ رہو، کوئی جواب مت دو۔ جب تین بار جواب نہیں ملا تو ابوسفیان نے کہا "بلا شبہ یہ سب مارے گئے، اگر وہ زندہ ہوتے تو ضرور جواب دیتے ۔ عمر رضی اللہ عنہ یہ سن کر ضبط نہ کر سکے اور فرمایا "اے اللہ کے دشمن تو نے جھوٹ کہا۔ اللہ تجھ کو ذلیل ہونے کے لئے زندہ رکھے (بخاری) سوال بدل کر حقیقت معلوم کرنی مسلمان جنگ بدر کے لئے کوچ کر رہے تھے۔ راستہ میں مکہ کے دو آدمی نظر آئے۔ ایک قریشی اور دوسرا غلام مسلمانوں نے پکڑنے کی کوشش کی۔ قریشی بھاگ گیا اور غلام کو گرفتار کر لیا گیا۔ لوگوں نے غلام سے مکہ کی فوج کی تعداد پوچھی جو مدینہ پر حملہ کرنے کے لئے بڑھ رہی تھی۔ اس نے جواب میں کہا: ان کی تعداد بہت ہے اور ان کی طاقت بڑی ہے"

سختی کرنے پر بھی اس نے اس سے زیادہ کچھ نہیں بتایا۔ اس کے بعد اس غلام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ آپ کے سوال پر بھی اس نے اپنے اسی سابقہ جملہ کو دہرایا: ”ان کی تعداد بہت ہے اور ان کی طاقت “ آپ نے کوشش کی کہ وہ دشمن کی صحیح تعداد بتائے، مگر وہ راضی نہ ہوا۔ آخر آپ نے اپنے سوال کو آپ نے اس سے پوچھا: ”وہ لوگ روزانہ کتنے اونٹ ذبح کرتے ہیں؟ “ غلام نے کہا ”دس اونٹ“ آپ نے فوراً کہا: اس حساب سے دشمن کی فوج کی تعداد ایک ہزار ہے۔ کیونکہ ایک اونٹ ایک سو آدمیوں کی خوراک کے لئے کافی ہوتا ہے۔

Printed page