Al-Risala · July 1981

معاملات میں صرف نیک نیت ہونا کافی نہیں

Al-Risala, July 1981, p. 45

By Maulana Wahiduddin Khan

جنگ جمل (۳۶ ھ) زوروں پر تھی۔ دونوں طرف مسلمانوں کی لاشیں میدان میں گر رہی تھیں۔ حضرت عائشہ رض اگرچہ جنگ جمل میں شریک تھیں مگر وہ مقام جنگ سے بہت دور تھیں۔ کعب بن سور مسلمانوں کے خون سے وہ حضرت عائشہ کے پاس آئے اور کہا کہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آپ اپنے اونٹ پر سوار ہو جائیں اور میدان جنگ کی طرف چلیں۔ ممکن ہے کہ آپ کی سواری کو دیکھ کر لوگ جنگ سے رک جائیں اور صلح کی صورت پیدا ہو جائے۔ حضرت عائشہ خود بھی باہمی کشت و خون سے پریشان تھیں وہ فوراً راضی ہوگئیں اور اپنے اونٹ پر سوار ہوگئیں۔ آپ کے ہودج کے چاروں طرف لوگوں نے احتیاط کی غرض سے زر ہیں پھیلا دیں۔ ان کے اونٹ کو لا کر ایسے مقام پر کھڑا کر دیا جہاں سے پورا لشکر ان کو دیکھ سکتا تھا۔ مگر نتیجہ امید کے بالکل خلاف لڑائی کم ہونے کے بجائے اور بڑھ گئی۔ لوگ سمجھے کہ ام المومنین نفس نفیس میدان جنگ میں آگئی ہیں اور ان کو بہادری کے ساتھ لڑنے کی ترغیب دے رہی ہیں۔ اس طرح ان کی موجودگی مزید اشتعال و اشتداد پیدا کرنے کا سبب بن گئی۔ حضرت عائشہ کا اونٹ مسلمانوں کے کشت و خون کا مرکز بن گیا۔ یہاں تک کہ حضرت علی نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اس اونٹ کو مار کر گرا دو۔ جب تک یہ اونٹ نہیں گرے گا جنگ نہیں رک سکتی۔ کبھی بولنے کے بجائے چپ رہنا ضروری ہوتا ہے احد کی جنگ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہو کر ایک گڑھے میں گر گئے۔ مشہور ہو گیا کہ آپ قتل ہو گئے (ان محمد اقتل) مسلمان کہنے لگے کہ جب آپ قتل ہو گئے تو اب ہم کس پر لڑیں (علام نقاتل اذا کان محمد قد قتل) اس دہشت میں سب سے پہلے جس نے آپ کو گڑھے میں دیکھا وہ کعب بن مالک انصاری تھے۔ اٹھے: اے مسلمانوں کے گروہ تم کو خوش خبری ہو دیا معشر المسلمین ابشروا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتھ انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ چپ رہو (فاشار اليه الرسول ان اصمت)

Printed page