Al-Risala · August 1981

تولے جانے سے پہلے تول لو

Al-Risala, August 1981, p. 3

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ دنیا میں چیزوں کے دو روپ ہیں۔ ایک ظاہر اور دوسرا باطن۔ یہاں ہر آدمی کے لئے یہ ممکن ہے کہ وہ اپنے باطنی وجود میں برائی لئے ہوئے ہو مگر زبان سے خوبصورت الفاظ بول کر اپنے کو اچھی صورت میں ظاہر کرے۔ قیامت اس لئے آئے گی کہ ظاہر و باطن کے اس فرق کو مٹادے۔ زلزلہ تمام ظاہری پردوں کو پھاڑ دے گا تاکہ ہر انسان کے اوپر سے اس کا خول اتر جائے اور وہ اپنی اصلی اور حقیقی صورت میں سامنے آجائے۔

وہ دن بھی کیسا عجیب ہوگا جب حقیقتوں سے پردہ اٹھایا جائے گا۔ کتنے لوگ جو آج انصاف کی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ہیں اس دن وہ مجرموں کے کٹہرے میں نظر آئیں گے۔ کتنے لوگ جو آج اہم ترین شخصیت سمجھے جاتے ہیں اس دن وہ کیڑوں مکوڑوں سے بھی زیادہ حقیر دکھائی دیں گے۔ کتنے لوگ جن کے پاس آج ہر بات کا شان دار جواب موجود ہوتا ہے اس دن وہ ایسے بے جواب ہو جائیں گے جیسے کہ ان کے منھ میں الفاظ ہی نہیں۔

آج ایک شخص کے لئے یہ ممکن ہے کہ وہ اپنے پڑوسی کو ستائے اس کے باوجود اس کو دینداری کے اسٹیج پر بیٹھنے کے لئے نمایاں جگہ مل ہوئی ہو۔ ایک شخص اپنی شان و شوکت دکھانے کے لئے سرگرم ہو پھر بھی وہ مجاہدِ اسلام کے نام سے شہرت پائے۔ ایک شخص اپنے اہل معاملہ سے بے انصافی کا طریقہ اختیار کرے اس کے باوجود امن وانصاف کے اجلاس میں اس کو صدارت کرنے کے لئے بلایا جائے۔ ایک شخص کی خلوتیں اللہ کی یاد سے خالی ہوں مگر اجتماعی مقامات پر وہ اللہ کے نام کا جھنڈا اٹھانے والا سمجھا جاتا ہو۔ ایک شخص کے اندر مظلوم کی حمایت کا کوئی جذبہ نہ ہو اس کے باوجود اخبارات کے صفحہ پر اس کو مظلوموں کے حامی کی حیثیت سے نمایاں کیا جارہا ہو۔

ہر آدمی کی حقیقت خدا کے علم میں ہے مگر دنیا میں خدا لوگوں کی حقیقت چھپائے ہوئے ہے۔ آخرت میں وہ ہر ایک کی حقیقت کھول دے گا۔ وہ وقت آنے والا ہے جب کہ خدا کی ترازو کھڑی ہو اور ہر آدمی کو تول کر دکھا دیا جائے کہ کون کیا تھا اور کون کیا نہیں تھا۔ اس وقت کا آنا مقدر ہے۔ شخص نہ اس کو ٹال سکتا اور نہ کوئی شخص اپنے آپ کو اس سے بچا سکتا ۔ کامیاب صرف وہ ہے، جو آج ہی اپنے کو خدا کی ترازو میں کھڑا کرے۔ کیونکہ جو شخص کل خدا کی ترازو میں کھڑا کیا جائے اس کے لئے بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔

Printed page