Al-Risala · August 1981

موت نے وقت

Al-Risala, August 1981, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور سفر میں تھا کہ سخت بیمار پڑا اور راستہ میں ہی ۱۵۸ھ میں اس کا انتقال آخر وقت میں اس کی زبان پر یہ فقره تھا : بادشاہ وہ ہے جو نہ مرے۔

یزید بن معاویہ کے بعد معاویہ بن یزید بن معاویہ کو خلیفہ بنایا گیا۔ بہت تھوڑی مدت میں ۶۴ھ میں ان کا انتقال ہو گیا۔ وفات کے وقت ان سے کہا گیا " اپنے خاندان میں سے کسی کو خلیفہ نامزد کر دیجئے " اس کے جواب میں انھوں نے کہا " میں نے خلافت سے نہ زندگی میں فائدہ اٹھایا ہے اور نہ مرنے کے بعد اس کا بوجھ اٹھاؤں گا۔ یہ نمیں ہو سکتا کہ بنو امیہ اس کی شیرینی لیں اور میرے حصہ میں اس کی تلخی آئے۔

مامون الرشید بڑے جاہ و جلال کا بادشاہ تھا۔ ۲۱۸ھ میں جب وہ مرنے لگا تو آخری جملہ جو اس کی زبان سے نکلا وہ یہ تھا ۔ اے وہ جس کی سلطنت کبھی زائل نہ ہوگی ، اس پر رحم کر جس کی سلطنت زائل ہو رہی ہے ۔ اے وہ جو کبھی ن مرے گا ، اس پر رحم فرما جو مر رہا ہے ۔

خلیفہ واثق باللہ کی وفات ۲۳۲ ھ میں ہوئی۔ جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے حکم دیا کہ فرش اٹھا جب فرش ہٹا دیا گیا تو اس نے اپنا رخسار زمین پر رکھ دیا اور کہا : اے وہ جس کی بادشاہی لازوال ہے، اس پر رحم کر جس کی بادشاہی ختم ہو گئی۔ یہ کہتے ہی اس کا انتقال ہو گیا۔

خلیفہ معتضد باللہ عباسی کا انتقال ۲۸۹ ھ میں ہوا۔ اس کی وفات کا وقت آیا تو اس نے چند عربی شعر پڑھے جن کا مطلب یہ ہے : میں نے بڑے بڑے بہادر مارے ، ہیں نے کوئی دشمن نہ چھوڑا کسی کو بھی میں نے سرکشی پر باقی رہنے نہ دیا۔ میں نے دارالسلطنت کو تمام مخالفوں سے خالی کر دیا۔ ان کو پراگندہ کر کے انھیں مشرق و مغرب میں پھیلا دیا ۔ لیکن جب میں اپنی عزت و بلندی میں ستاروں تک پہنچ گیا اور تمام مخلوق کی گردنوں میں میری غلامی کا طوق پڑ گیا تو ایسا ہوا کہ موت نے مجھ پر ایک تیر چلایا اور میری آگ کو بجھا دیا۔ دیکھ لو ، اب میں جلد ہی اپنے گڑھے میں ڈالا جانے والا ہوں۔

حجاج بن یوسف کے گورنر بننے کے بعد عراق میں خطبہ دیا ؛ گر دنیں اونچی ہو رہی ہیں۔ سروں کی فصل پک چکی ہے اور کٹائی کا وقت آگیا ہے۔ میری نظریں وہ خون دیکھ رہی ہیں جو پگڑیوں اور داڑھیوں کے درمیان بہہ رہا ہے۔ یزید کے بعد بنو امیہ کی حکومت کو دوبارہ مستحکم کرنے کے نے اس نے لاکھوں آدمیوں کو قتل کر ڈالا۔ ۵۴ سال کی عمر میں وہ مرض الموت میں مبتلا ہوا تو اس کو بے حد سخت تکلیف تھی۔ ابو منذر ربعی نے لوگوں کی طرف سے اس پر لعنت کرتے ہوئے کہا کہ تو اس قوم کا فرعون تھا ، آج تیرے لئے نہ نجات ہے اور نہ فریاد۔ حجاج یہ سن کر بری طرح رو پڑا۔ اس لئے آسمان کی طرف نظر اٹھائی اور کہا : الہی مجھے بخش دے کیونکہ لوگ کہتے ہیں کہ تو مجھے نہیں بخشے گا۔ آہ میری ہلاکت ، آہ میری ہلاکت ، اگر اس جبار و قہار نے مجھ پر رحم نہ کیا۔

Printed page