رہنما کی ضرورت
Al-Risala, August 1981, pp. 17–23
By Maulana Wahiduddin Khan
ہم کو بھوک لگتی ہے ۔ ہم اپنی بھوک مٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ ثابت ہوتا ہے کہ یہاں کھانا موجود تھا جو ہماری بھوک کو مٹائے۔ ہم کو پیاس لگتی ہے۔ ہم اپنی پیاس کو بجھانے کے لئے عمل یہاں تک کہ معلوم ہو جاتا ہے کہ یہاں پانی موجود تھا جو ہماری پیاس کو بجھائے۔ ایسا ہی معاملہ سچائی کا ہے۔ آدمی ہمیشہ سے سچائی کی تلاش میں ہے۔ یہ تلاش ہی اس بات کو ثابت کر رہی ہے کہ یہاں کوئی سچائی ہے جسے آدمی کو جاننا چاہئے۔ سچائی کھانے اور پینے سے زیادہ بڑی ہے ۔ پھر جب ہماری چھوٹی طلب کا جواب اس دنیا میں موجود ہے تو ہماری بڑی طلب کا جواب یہاں کیوں نہ موجود ہوگا۔ سچائی کا سوال اپنی حقیقت کو جاننے کا سوال ہے۔ آدمی اچانک ایک روز پیدا ہو جاتا ہے ۔ حالاں کہ اس نے خود کو پیدا نہیں کیا ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایک دنیا میں پاتا ہے جو اس سے الگ خود اپنے آپ قائم ہے۔ وہ پچاس سال یا سو سال اس دنیا میں رہ کر مر جاتا ہے۔ اس کو نہیں معلوم کہ وہ مرکر کہاں جاتا ہے۔ زندگی اور موت کی اسی حقیقت کو جاننے کا سوال سچائی کا سوال ہے۔
مگر ایک شخص جس طرح کھانا اور پانی کو جان لیتا ہے اسی طرح وہ سچائی کو نہیں جان سکتا۔ یقینی طور پر لامحدود اور ابدی ہے۔ سچائی اگر لامحدود اور ابدی نہ ہو تو وہ سچائی نہیں۔ مگر آدمی کی عقل اور اس کی عمر دونوں محدود ہیں۔ محدود عقل لامحدود سچائی تک نہیں پہنچ سکتی ، محدود عمر کا آدمی ابدی سچائی کو دریافت نہیں کر سکتا۔
آدمی کی یہی نارسائی یہ ثابت کرتی ہے کہ سچائی کو جاننے کے لئے اسے پیغمبر کی ضرورت ہے ۔ "پیغمبری" کیا ہے۔ پیغمبری کا مطلب یہ ہے کہ وہ سچائی جہاں تک آدمی اپنے آپ نہیں پہنچ سکتا تھا وہ خود آدمی تک پہنچ جائے۔ جس سچائی کو ہم اپنی کوششوں سے نہیں جان سکے ، وہ خود ظاہر ہو کر اپنے بارے میں ہمیں بتا دے۔
حقیقت سے لوگوں کو پیشگی طور پر باخبر کرنے کے لئے اس کو خدا نے پیغمبر کے ذریعہ کھولا ۔ موجودہ امتحان کی مدت ختم ہونے کے بعد اس کو براہ راست ہر آدمی پر کھول دیا جائے گا۔ پیغمبر نے بتایا کہ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ جس خدا کی اطاعت ساری کائنات جبر کے تحت کر رہی ہے اسی خدا کی اطاعت انسان ارادہ کے تحت کرنے لگے۔ وہ اپنے اختیار سے خود کو خدا کے آگے بے اختیار بنا لے۔ خدا کی دی ہوئی آزادی کے باوجود جو لوگ خدا کے محکوم بن جائیں ان کے لئے جنت ہے اور جو لوگ آزادی پا کر سرکش بن جائیں ان کے لئے جہنم۔
اور ہم نے ان کو بارہ گھرانوں میں تقسیم کرکے انھیں الگ الگ گروہ بنادیا۔ اور جب موسیٰ کی قوم نے پانی مانگا تو ہم نے موسیٰ کو حکم بھیجا کہ فلاں چٹان پر اپنی لاٹھی مارو تو اس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔ ہرگروہ نے اپناپانی پینے کا مقام اور ہم نے ان پر بدلیوں کا سایہ کیا اور ان پر من وسلوٰی اتارا۔ کھاؤ پاکیزہ چیزوں میں سے جو ہم نے تم کو دی ہیں۔ اور انھوں نے ہمارا کچھ نہیں بگاڑا بلکہ خود اپناہی نقصان کرتے رہے۔ اور جب ان سے کہا گیا کہ اس بستی میں جاکر بس جاؤ۔ اس میں جہاں سے چاہو کھاؤ اور کہو ہم کو بخش دے اور دروازہ میں جھکے ہوئے داخل ہو، ہم تمھاری خطائیں معاف کردیں گے۔ ہم نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ دیتے ہیں۔ پھر ان میں سے ظالموں نے بدل ڈالا دوسرا لفظ اس کے سوا، جو ان سے کہا گیا تھا۔ پھر ہم نے ان پر آسمان سے عذاب بھیجا اس لئے کہ وہ ظلم کرتے تھے ۱۶۰-۱۴۲۔
مصر کی مشرکانہ فضا سے نکال کر خدا نے بنی اسرائیل کو صحرائے سینا میں پہنچایا۔ یہاں ان کی تنظیم قائم کی گئی۔ ان کو بارہ جماعتوں میں بانٹ دیا گیا۔ ہر جماعت کے اوپر ایک نگراں تھا اور حضرت موسیٰ سب کے اوپر نگراں تھے ۔ پھر بنی اسرائیل کو خصوصی طور پر تمام ضروریات زندگی عطا کی گئیں۔ پہاڑی چشمے نکال کر ان کے لئے پانی فراہم کھلے صحرا میں سایہ کے لئے ان پر مسلسل بدلیاں بھیجی گئیں۔ ان کی خوراک کے لئے من وسلویٰ اترا جو بآسانی انھیں اپنے خیموں کے سامنے مل جاتا تھا۔ ان کی باقاعدہ سکونت کے لئے ایک پورا شہر ایسا تھا (دادی یردن میں) ان کے حوالے کر دیا گیا۔
اللہ تعالیٰ نے ان سے کہا کہ تمھاری تمام ضروریات کا ہم نے انتظام کر دیا ہے۔ اب حرص اور لذت پرستی میں مبتلا ہو کر ناپاک چیزوں کی طرف نہ دوڑو۔ اس کے بجائے قناعت اور اللہ کے آگے شکر گزاری کا طریقہ اختیار کرو۔ "باب (دروازہ) میں جھکے ہوئے داخل ہو"، یہاں باب سے مراد بستی کا دروازہ نہیں ہے بلکہ ہیکل سلیمانی کا زمین میں اقتدار دینے کے بعد بنی اسرائیل سے کہا گیا کہ اپنی عبادت گاہ میں خاشع بن کر جاؤ اور گناہوں سے مغفرت مانگو۔ مسلمانوں کے یہاں جس طرح کعبہ کو بیت اللہ (خدا کا گھر) کہا جاتا ہے اسی طرح یہود کے یہاں ہیکل کو باب اللہ (خدا کا پھاٹک) کہا جاتا ہے۔ یہود کو حکم دیا گیا تھا کہ اپنے عبادت خانہ میں عجز و تواضع کے ساتھ داخل ہوکر اپنے رب کی عبادت کرو اور اللہ کے عظمت و جلال کو یاد کر کے اس کے آگے اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرتے مگر یہود خدا کی نصیحتوں کو بھول گئے۔ وہ خدا کی بتائی ہوئی راہ پر چلنے کے بجائے خدا کے نام پر خود ساختہ راہوں کی طرف چلنے لگے۔ انھوں نے عجز کے بجائے سرکشی کا طریقہ اپنایا۔ شکر کا کلمہ بولنے کے بجائے دہ بے صبری کے کلمات بولنے لگے۔
یہود جب بگاڑ کی اس حد کو پہنچ گئے تو خدا نے اپنی عنایات ان سے واپس لے لیں۔ رحمت کے بجائے ان کو مختلف قسم کے عذابوں نے گھیر لیا۔
اور ان سے اس بستی کا حال پوچھو جو دریا کے کنارے تھی۔ جب وہ سبت (سنیچر) کے بارے میں تجاوز کرتے تھے۔ جب ان کے سبت کے دن ان کی مچھلیاں پانی کے اوپر آتیں اور جس دن سبت نہ ہوتا تو نہ آئیں۔ ان کی آزمائش ہم نے اس طرح کی، اس لئے کہ وہ نافرمانی کر رہے تھے۔ اور جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا ہے یا ان کو سخت عذاب دینے والا ہے۔ انھوں نے کہا، تمھارے رب کے سامنے الزام اتارنے کے لئے اور اس لئے کہ شاید وہ ڈریں ۱۴۱۔ یہود کو یہ تلقین کی گئی تھی کہ وہ ہفتہ کا ایک دن (سنیچر) عبادت اور ذکر خدا کے لئے خاص رکھیں ۔ کوئی معاشی کام نہ کریں۔ بائبل کے مطابق حکم یہ تھا کہ جو شخص سبت کے قانون کی خلاف ورزی کرے وہ مار ڈالا جائے (خروج ۳۱) مگر جب یہود میں بگاڑ آیا تو وہ اس کی خلاف ورزی کرنے لگے ۔ ان کے مصلحین نے متوجہ کیا تو وہ نہ مانے تاہم مصلحین نے اپنی کوشش مسلسل جاری رکھی ۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسروں کی اصلاح کا کام اگر چہ بظاہر دوسروں کے لئے ہوتا ہے مگر وہ خود اپنے لئے کیا جاتا ہے، اس کا اصل محرک اپنے آپ کو اللہ کے یہاں بری الذمہ اگر یہ محرک زندہ نہ ہو تو آدمی درمیان میں ٹھہر جائے گا، وہ اپنے اصلاح اور تبلیغ کے عمل کو آخر وقت تک جاری نہیں رکھ سکتا۔
یہود کی سرکشی کا نتیجہ یہ ہوا کہ معاملہ کو ان کے لئے اور سخت کر دیا گیا۔ بحر قلزم کی مشرقی خلیج کے کنارے ایلہ شہر میں یہود کی آبادیاں تھیں ۔ ان کی معیشت کا انحصار زیادہ تر مچھلیوں کے شکار پر تھا۔ خدا کے حکم سے یہ ہوا کہ سنیچر کے دن ان کے ساحل پر مچھلیوں کی آمد بہت بڑھ گئی۔ بقیہ چھ دنوں میں مچھلیاں بہت کم آئیں ۔ مگر ممنوعہ دن (سنیچر) کو وہ کثرت سے پانی کی سطح کے اوپر تیرتی ہوئی دکھائی دیتیں۔
یہ یہود کے لئے بڑی سخت آزمائش تھی ۔ گو یا پہلے اگر یہ نوعیت تھی کہ سنیچر کے علاوہ چھ جائز دنوں میں شکار کرنے کا پورا موقع تھا تو اب صرف ایک حرام دن ہی شکار کرنے کا موقع ان کے لئے باقی رہ گیا ۔ اب یہود نے یہ کیا کہ وہ حیلہ کے ذریعہ حرام کو حلال کر لیں گے ۔ وہ سنیچر کے دن شکار نہ کرتے ۔ البتہ وہ سمندر کا پانی کاٹ کر باہر بنے ہوئے حوضوں میں لاتے۔ سنیچر کے دن مچھلیاں چڑھتیں تو وہ نالی کے راستہ سے ان کے بنائے ہوئے حوض میں اس کے بعد وہ حوض کا منہ بند کر کے مچھلیوں کے دریا میں لوٹنے کا راستہ روک دیتے ۔ پھر اگلے دن اتوار کو جا کر ان کو پکڑ لیتے ۔ اس طرح وہ ایک ناجائز فعل کو جواز کی صورت دینے کی کوشش کرتے تاکہ ان پر یہ حکم صادق نہ آئے کہ انھوں نے سنیچر کے دن شکار کیا ہے ۔
اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص جائز ذرائع سے اپنی ضروریات فراہم کرنے پر قناعت نہ کرے تو وہ اپنے آپ کو اس خطرہ میں ڈالتا ہے کہ اس کے لئے جائز ذرائع کا دروازہ سرے سے بند کر دیا جائے اور ناجائز ذریعہ کے سوا اس کے لئے حصول معاش کی کوئی صورت باقی نہ رہے۔
پھر جب انھوں نے بھلا دی وہ چیز جوان کو یاد دلائی گئی تھی تو ہم نے ان لوگوں کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے اور ان لوگوں کو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ایک سخت عذاب میں پکڑ لیا۔ اس لئے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔ وہ بڑھنے لگے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے تو ہم نے ان سے کہا کہ ذلیل بندر بن جاؤ 166 - 165 ایک کام جس سے خدا نے منع کیا ہو اس کو کرنا گناہ ہے اور حیلہ کے ذریعہ ناجائز کو جائز بنا کر کرنا گناہ پر سرکشی کا اضافہ ہے۔ قانون سبت کی خلاف ورزی کر کے یہود اسی قسم کے مجرم بن گئے۔ ایسے لوگ خدا کی لعنت کے مستحق ہو جاتے ہیں۔ یعنی وہ خدا کی ان عنایتوں سے محروم ہو جاتے ہیں جو اس نے اس دنیا میں صرف انسان کے لئے مخصوص کی ہیں۔ ایسے لوگ انسانیت کی سطح سے گر کر حیوانیت کی سطح پر آ جاتے ہیں۔ قانون سبت کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ یہی معاملہ کیا گیا۔ "اللہ نے ان کو بندر بنا دیا" کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کی صورت بندروں کی صورت ہو گئی ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا اخلاق بندروں جیسا ان کا دل اور ان کی سوچ انسانوں کے بجائے بندر جیسے ہو گئے (قیل بل جعل اخلا فہم کا خلاقھا وان لم تکن صورتہم كصورتھا، مفردات امام راغب ۔ روى عن مجاهد انه إنما مسخت قلوبهم و ردت افهامهم کا فہام القردة ، تفسیر قرطبی)
انسان ایک ایسی مخلوق ہے جس کے اندر اس کے خالق نے عقل اور ضمیر رکھ دیا ہے۔ اس کے اندر جب کوئی خواہش اٹھتی ہے تو اس کی عقل و ضمیر متحرک ہو کر فوراً اس کے سامنے یہ سوال کھڑا کر دیتے ہیں کہ ایسا کرنا تمھارے لئے درست ہے یا نہیں۔ اس کے برعکس بندر کا حال یہ ہے کہ اس کی خواہش اور اس کے عمل کے درمیان کوئی تیسری چیز حائل نہیں۔ جو بات بھی اس کے جی میں آجائے وہ فوراً اس کو کر ڈالتا ہے۔ اس کو نہ اپنی خواہش کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہوتی اور نہ اس پر عمل کرنے کے بعد اس پر شرمندہ ہونے کی۔ اب انسان کا بندر ہو جانا یہ ہے کہ وہ اپنی عقل اور اپنی ضمیر کے خلاف عمل کرتے کرتے اتنا بے حس ہو جائے کہ اس قسم کے نازک احساسات اس کے اندر سے جاتے رہیں ۔ اس کے دل میں جو بھی خواہش پیدا ہو اس کو وہ کر گزرے۔ جب بھی کوئی شخص اس کی زد میں آجائے تو وہ اس کی عزت اور اس کے مال پر حملہ کر دے، کسی سے شکایت پیدا ہو تو فوراً اس کو ذلیل کرنے کے لئے کھڑا ہو جائے۔ کسی سے اختلاف ہو جائے تو اس پر غرانے لگے۔ کوئی اس کو اپنی راہ میں رکاوٹ نظر آئے تو فوراً اس سے لڑنا شروع کر دے ۔ وہ ہے جو اپنے آپ پر خدا کی لگام لگائے۔ اور بندر انسان وہ ہے جو بے قید ہو کر وہ سب کچھ کرنے لگے جو اس کا نفس اس سے کرنے کے لئے کہے۔
برائی سے روکنا ایک قسم کا اعلان برأت ہے۔ اس لئے کسی گروہ پر جب خدا کی یہ سزا آتی ہے تو اس کی زد میں آنے سے وہ لوگ بچائے جاتے ہیں جو برائی سے اس حد تک بیزار ہوں کہ وہ اس کے روکنے والے بن جائیں ۔
اور جب تمھارے رب نے اعلان کر دیا کہ وہ یہود پر قیامت کے دن تک ضرور ایسے لوگ بھیجتا رہے گا جوان کو نہایت برا عتاب دے۔ بے شک تیرا رب جلد سزا دینے والا ہے اور بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اور ہم نے ان کو گروہ گروہ کر کے زمین میں متفرق کر دیا ۔ ان میں کچھ نیک ہیں اور ان میں کچھ اس سے مختلف۔ اور ہم نے ان کی آزمائش کی اچھے حالات سے اور برے حالات سے تاکہ وہ باز آئیں ۱۶۷ ان آیات میں یہود کے لئے جس سزا کا اعلان ہے اس کے ساتھ الی یوم القیامہ (قیامت کے دن تک) کی شرط لگی ہوئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سزا وہ ہے جس کا تعلق دنیا سے ہے۔ آخرت کے انجام کا معاملہ اس سے الگ ہے جس کا ذکر دوسرے مقامات پر آیا ہے۔
کسی کام کے کرنے پر جب بڑا انعام رکھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کام کو نہ کرنے پر اتنی ہی بڑی سزا بھی ہوگی ۔ یہی معاملہ اس قوم کا ہے جو کتاب آسمانی کی حامل بنائی گئی۔ یہود کو خدا نے اسی منصب پر فائز چنانچہ آخرت کے وعدہ کے علاوہ دنیا میں بھی ان کو غیر معمولی انعامات دئے گئے۔ مگر یہود نے مسلسل وہ دین کے نام پر بے دینی کرتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خدا نے ان کو منصب فضیلت سے ہٹا دیا ۔ ان کے لئے یہ فیصلہ ہوا کہ جب تک دنیا قائم ہے وہ خدا کی سزا کا مزہ چکھتے رہیں گے۔ اور آخرت میں جو کچھ ہونا ہے وہ اس کے علاوہ ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اب قیامت تک ان پر کبھی اچھے حالات نہیں آئیں گے۔ جیسا کہ خود ان آیات میں صراحت ہے، ان پر ”حسنات‘‘ کے وقفے بھی پڑیں گے۔ مگر یہ حسنہ کا وقفہ بھی ان کے لئے ایک قسم کا عذاب ہوگا تاکہ وہ مزید سرکشی کرکے اور زیادہ سزا کے مستحق بنیں۔
ان آیات میں یہود کے لئے دو سزاؤں کا ذکر ہے۔ ایک یہ کہ ان پر ایسی قومیں مسلط کی جائیں گی جو ان کو اپنے ظلم کا نشانہ بنائیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ یہود کبھی بخت نصر اور کبھی تیتس رومی کے شدائد کا نشانہ بنے۔ مسلمانوں کی ماتحتی میں دئے گئے۔ موجودہ زمانہ میں انھوں نے مشرقی یورپ میں اپنا زبردست اقتصادی جال پھیلایا تو ہٹلر نے انھیں تباہ و برباد کر ڈالا۔ اب ارض مقدس میں ان کا اجتماع بظاہر اس کی علامت ہے کہ ان کی پوری قوت شاید اجتماعی طور پر ہلاک کی جانے والی ہے۔
دوسری سزا جس کا یہاں ذکر ہے وہ ”تقطیع “ ہے۔ یعنی ان کی جمعیت کو مختلف حصوں میں بانٹ کر منتشر یہ دوسرا واقعہ بھی تاریخ میں بار باران کے ساتھ ہوتا رہا ہے ۔
اللہ کا یہ قانون صرف یہود کے لئے نہیں تھا۔ وہ بعد کے اس گروہ کے لئے بھی ہے جس کو یہود کی معزولی کے بعد خدا کی گواہی کے منصب پر فائز کیا گیا ہے۔ مسلمان اگر اپنے کو اس حال میں پائیں کہ کفار و مشرکین نے ان پر غلبہ پا لیا ہو اور ان کی جمعیت چھوٹے چھوٹے جغرافیوں میں بٹ کر متفرق ہوگئی ہو تو ان کو خدا کی طرف لوٹنا چاہئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ احتساب الہیٰ کی زد میں آگئے ہیں۔
پھر ان کے پیچھے ناخلف لوگ آئے جو کتاب کے وارث بنے ، وہ اسی دنیا کی متاع لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم یقیناً بخش دیئے جائیں گے ۔ اور اگر ایسی ہی متاع ان کے سامنے پھر آئے تو اس کو لے لیں گے۔ کیا ان سے کتاب میں اس کا عہد نہیں لیا گیا ہے کہ اللہ کے نام پر حق کے سوا کوئی اور بات نہ کہیں۔ اور انھوں نے پڑھا ہے جو کچھ اس میں لکھا ہے ۔ اور آخرت کا گھر بہتر ہے ڈرنے والوں کے لئے ، کیا تم سمجھتے نہیں۔ اور جو لوگ خدا کی کتاب کو مضبوطی سے پکڑتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں، بے شک ہم مصلحین کا اجر ضائع نہیں کریں گے۔ اور جب ہم نے پہاڑ کو ان کے اوپر اٹھایا گویا کہ وہ سائبان ہے ۔ اور انھوں نے گمان کیا کہ وہ ان پر آپڑے گا۔ پکڑ و اس چیز کو جو ہم نے تم کو دی ہے مضبوطی سے، اور یاد رکھو جو اس میں ہے تاکہ تم ۱۷۱ - ۱۶۹ حضرت موسیٰ کے زمانہ میں یہود کو جب خدائی احکام دئے گئے تو اس کی کارروائی پہاڑ کے دامن میں ہوئی تھی۔ اس وقت ایسے حالات پیدا کئے گئے کہ یہود کو محسوس ہوا کہ پہاڑ ان کے اوپر گرا چاہتا ہے۔ یہ اس بات کا اظہار تھا کہ خدا سے عہد باندھنے کا معاملہ بے حد سنگین معاملہ ہے۔ اگر تم نے اس کے تقاضوں کو پورا نہ کیا تو یاد رکھو کہ اس عہد کا دوسرا فریق وہ عظیم ہستی ہے جو چاہے تو پہاڑ کو تمھارے اوپر گرا کر تمھیں ہلاک کر دے۔ اس وقت یہود میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی تھی جو اللہ سے ڈرنے والے اور نیک عمل کرنے والے تھے۔ بعد کو دھیرے دھیرے انھوں نے دنیا کو اپنا مقصود بنا لیا۔ وہ جائز نا جائز کا فرق کئے بغیر مال جمع کرنے میں لگ گئے۔ آسمانی کتاب کو اب بھی وہ پڑھتے تھے مگر اس کی تعلیمات کی خود ساختہ تاویلیں کرکے اس کو انھوں نے ایسا بنا لیا کہ خدا بھی ان کو اپنی باغیانہ زندگی کا حامی نظر آنے لگا۔ ان کی بے حسی یہاں تک بڑھی کہ وہ یہ کہہ کر مطمئن ہو گئے کہ ہم برگزیدہ ہم نبیوں کی اولاد ہیں۔ خدا اپنے محبوب بندوں کے صدقے میں ہم کو ضرور بخش دے گا۔ یہی واقعہ ہر نبی کی امت کے ساتھ پیش آتا ہے۔ ابتدائی دور میں اس کے افراد خدا سے ڈرنے والے اور نیک عمل کرنے والے ہوتے ہیں۔ مگر اگلی نسلوں میں یہ روح نکل جاتی ہے۔ وہ دوسرے دنیا دار لوگوں کی طرح ہو جاتے ہیں۔ ان کے درمیان اب بھی دین موجود ہوتا ہے۔ خدا کی کتاب اب بھی ان کے یہاں پڑھی پڑھائی جاتی ہے۔ مگر یہ سب قومی وراثت کے طور پر ہوتا ہے نہ حقیقت عہد خداوندی کے طور پر۔ وہ عملاً آخرت کو بھول کر دنیا پرستی کی راہ پر چل پڑتے ہیں۔ صحیح اور غلط سے بے نیاز ہو کر اپنی خواہشوں کو اپنا مذہب بنا لیتے ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ ان کو یہ بھی فخر ہوتا ہے کہ وہ افضل الامم ہیں۔ وہ محبوب خدا کے امتی ہیں۔ وہ آسمانی کتاب کے وارث ہیں۔ کلمہ توحید کی برکت سے وہ ضرور بخش دئے جائیں گے ۔
مگر اصل چیز یہ ہے کہ آدمی خدا کی کتاب کو مضبوطی سے پکڑے ، وہ نماز کو قائم کرے۔ اور کتاب الٰہی کو پکڑنے اور نماز کو قائم کرنے کا معیار یہ ہے کہ آدمی "مصلح" بن گیا ہو۔ خدا کی کتاب سے تعلق اور خدا کی عبادت کرنا آدمی کو مصلح بناتا ہے نہ کہ مفسد۔
اور جب تیرے رب نے بنی آدم کی پیٹھوں سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان کو گواہ ٹھہرایا خود ان کے اوپر ۔ تمہارا رب نہیں ہوں۔ انھوں نے کہا ہاں، ہم اقرار کرتے ہیں۔ یہ اس لئے ہوا کہ کہیں تم قیامت کے دن کہنے لگو کہ ہم کو تو اس کی خبر نہ تھی۔ یا کہو کہ ہمارے باپ دادا نے پہلے سے شرک کیا تھا اور ہم ان کے بعد ان کی نسل میں تو کیا تو ہم کو ہلاک کر دے گا اس کام پر جو غلط کار لوگوں نے کیا۔ اور اس طرح ہم اپنی نشانیاں کھول کر بیان کرتے ہیں تاکہ وہ رجوع کریں۔ ایک جانور کو اس کے ماں باپ سے الگ کر دیا جائے اور اس کی پرورش بالکل علیحدہ ماحول میں کی جائے تب بھی بڑا ہو کر وہ مکمل طور پر اپنی نسلی خصوصیات پر قائم رہتا ہے۔ وہ اپنے تمام معاملات میں عین وہی طریقہ اختیار کرتا ہے جو اس کی جبلت (Instinct) میں پیوست ہے۔ یہی معاملہ انسان کا "شعور رب" کے بارہ انسان کی روح میں ایک خالق و مالک کا شعور اتنی گہرائی کے ساتھ جما دیا گیا ہے کہ وہ کسی حال میں اس سے جدا نہیں ہوتا۔ موجودہ زمانہ میں ایک اعتبار سے روس اور دوسرے اعتبار سے ترکی کا تجربہ بتاتا ہے کہ مکمل طور پر مخالف مذہب ماحول میں تربیت پانے کے باوجود انسان کی فطرت عین وہی باقی رہتی ہے جو اقرارِ مذہب کے ماحول میں ہمیشہ پائی جاتی رہی ہے۔
تاہم جانور اور انسان میں ایک فرق ہے۔ جانور اپنی فطرت کی خلاف ورزی پر قادر نہیں۔ وہ مجبور ہیں کہ عملاً وہی کریں جو ان کے اندر کی فطرت انہیں سبق دے رہی ہے۔ اس کے برعکس انسان کا حال یہ ہے کہ شعور فطرت کی حد تک پابند ہونے کے باوجود عمل کے معاملہ میں وہ پوری طرح آزاد ہے۔ جب بھی کوئی بات سامنے آتی ہے تو اس کی عقل اور اس کا ضمیر اندر سے اشارہ کرتے ہیں کہ کیا ہے اور غلط کیا۔ مگر اس کے باوجود انسان کو اختیار ہے کہ وہ چاہے اپنی اندرونی آواز کی پیروی کرے، چاہے اس کو نظر انداز کر کے من مانی کارروائی
یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کا امتحان ہو رہا ہے اور اسی پر جنت اور جہنم کا فیصلہ ہونا ہے۔ خدائی آواز پر کان لگائے اور وہی کرے جو خدا فطرت کی خاموش زبان میں اس سے کہہ رہا ہے، وہ امتحان میں پورا اس کے مرنے کے بعد اس کے لئے جنت کے دروازے کھول دئے جائیں گے۔ اور جو شخص فطرت کی سطح پر نشر ہونے والی خدائی آواز کو نظر انداز کر دے وہ خدا کی نظر میں مجرم ہے۔ اس کو مرنے کے بعد جہنم میں ڈالا جائے گا۔ اس کو نظر انداز کرے گا جس طرح اس نے خدا کی آواز کو نظر انداز کیا تھا۔
فطرت کی یہ آواز ہر آدمی کے اوپر خدا کی دلیل ہے۔ اب کسی کے پاس نہ تو بے خبری کا عذر ہے اور نہ کوئی یہ کہہ سکتا کہ ماضی سے جو ہوتا چلا آرہا تھا وہی ہم بھی کرنے لگے۔ جب انسان پیدائش ہی سے خدا کا شعور لے کر آتا ہے اور ماحول کے علی الرغم اس کو ہمیشہ باقی رکھتا ہے تو اب کسی شخص کے پاس بے راہ ہونے کا کیا عذر ہے۔