Al-Risala · August 1981

الاعراف ۷

Al-Risala, August 1981, pp. 24–27

By Maulana Wahiduddin Khan

اور ان کو اس شخص کا حال سناؤ جس کو ہم نے اپنی آیتیں دی تھیں تو وہ ان سے نکل بھاگا۔ پس شیطان اس کے پیچھے لگ گیا اور وہ گمراہوں میں سے ہوگیا۔ اور اگر ہم چاہتے تو اس کو ان آیتوں کے ذریعہ سے بلندی عطا کرتے مگر وہ تو زمین کا ہو رہا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کرنے لگا۔ پس اس کی مثال کتے کی سی ہے کہ اگر تو اس پر بوجھ لادے تب بھی ہانپے اور اگر چھوڑ دے تب بھی ہانپے۔ یہ مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا۔ تم یہ احوال ان کو سناؤ تاکہ وہ سوچیں۔ کیسی بری مثال ہے ان لوگوں کی جو ہماری نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں اور وہ اپنا ہی نقصان کرتے رہے۔ اللہ جس کو راہ دکھائے وہی راہ پانے والا ہوتا ہے اور جس کو وہ بے راہ کردے تو وہی گھاٹا اٹھانے والے ہیں۔ ۱۷۸ - ۱۷۵ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص امیہ بن ابی الصلت تھا۔ اعلیٰ انسانی اوصاف کے ساتھ وہ حکیمانہ کلام میں بھی ممتاز درجہ رکھتا تھا۔ اس کو جب معلوم ہوا کہ عیسائیوں اور یہودیوں کی کتابوں میں ایک پیغمبر کے آنے کی پیشین گوئیاں موجود ہیں تو اس کو گمان ہوا کہ شاید وہ پیغمبر میں ہی ہوں۔ بعد کو جب اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوائے نبوت کی خبر ملی اور اس نے آپ کا اعلیٰ کلام سنا تو اس کو سخت مایوسی ہوئی۔ اسلام کا مخالف بن گیا۔ امیہ بن ابی الصلت کو خدا نے جو اعلیٰ خصوصیات دی تھیں ان کا صحیح استعمال یہ تھا کہ وہ خدا کے پیغمبر کو پہچانے اور ان کا ساتھی بن جائے۔ مگر خدا کی نوازشوں سے اس نے اپنے اندر یہ ذہن بنایا کہ اب خدا کو میرے سوا کسی اور پر اپنا فضل نہ کرنا چاہئے۔ پیغمبر خدا کو نہ ماننے میں اسے دنیوی فائدہ نظر آتا تھا اس کے برعکس آپ کو ماننے میں اخروی فائدہ تھا۔ اس نے آخرت کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح دی۔ وہ اگر اعتراف کے رخ پر چلتا تو وہ فرشتوں کو اپنا ہم سفر بناتا۔ مگر جب وہ حسد اور گھمنڈ کے راستہ پر چل پڑا تو وہاں شیطان کے سوا کوئی اور جو اس کا ساتھ دے۔ یہ مثال ان تمام لوگوں پر صادق آتی ہے جو حسد اور کبر کی بنا پر سچائی کو نظر انداز کریں یا اس کو ماننے سے انکار کردیں۔

کسی آدمی کا ایسا بننا اپنے آپ کو انسانیت کے مقام سے گرا کر کتے کے مقام پر پہنچا دینا ہے۔ سلوک پر بھی ہانپتا ہے اور برے سلوک پر بھی۔ یہی حال ایسے آدمی کا ہے۔ خدا نے جب اس کو دیا تب بھی اس نے اس سے سرکشی کی غذا لی اور نہ دیا تب بھی وہ سرکش ہی بنا رہا۔ حالاں کہ چاہئے یہ تھا کہ جب خدا نے اس کو دیا تھا تو وہ اس کا احسان مند ہوتا اور جب خدا نے نہیں دیا تو وہ خدا کی تقسیم پر راضی رہ کر اس کی طرف رجوع کرتا۔ کسی کو راستہ دکھانے کے لئے خدا خود سامنے نہیں آتا بلکہ وہ نشانیوں (دلائل) کی صورت میں اپنا راستہ لوگوں کے اوپر کھولتا ہے۔ جن لوگوں کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ وہ دلائل اور نشانیوں کے روپ میں ظاہر ہونے والے حق کو پہچان لیں اور اپنے آپ کو اس کے حوالے کرنے پر راضی ہو جائیں وہی اس دنیا میں ہدایت یاب ہوتے ہیں۔ اور جو لوگ دلائل اور نشانیوں کو اہمیت نہ دیں ان کے لئے ابدی بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔

اور ہم نے جنات اور انسان میں سے بہتوں کو دوزخ کے لئے پیدا کیا ہے ۔ ان کے دل ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں، ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں، ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں۔ وہ ایسے ہیں جیسے چوپائے بلکہ ان سے بھی زیادہ بے راہ یہی لوگ ہیں غافل۔ اور اللہ کے لئے ہیں سب اچھے نام۔ پس انھیں سے پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو، جو اس کے ناموں میں کج روی کرتے ہیں۔ وہ بدلہ پا کر رہیں گے اپنے کاموں کا۔ نے جن کو پیدا کیا ہے ان میں سے ایک گروہ ایسا ہے جو حق کے مطابق فیصلہ کرتا ہے۔ اور جن لوگوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا ہم ان کو آہستہ آہستہ پکڑیں گے ایسی جگہ سے جہاں سے ان کو خبر بھی نہ ہوگی۔ اور میں ان کو ڈھیل دیتا ہوں، بے شک میرا داؤ بڑا مضبوط ہے ۱۸۳- ۱۷۹ سچائی ایک ایسی چیز ہے جس کو ہر آدمی خود پانا پڑتا ہے۔ خدا نے ہر آدمی کو دل اور آنکھ اور کان دئے آدمی انھیں صلاحیتوں کو استعمال کر کے سچائی کو پاتا ہے۔ اور جو شخص ان صلاحیتوں کو استعمال نہ کرے وہ یقیناً سچائی کو پانے سے محروم رہے گا، خواہ سچائی اس سے کتناہی زیادہ قریب موجود ہو۔ سچائی کو پانا ہر آدمی کا ایک شعوری اور ارادی فعل ہے۔ سچائی کو وہی شخص سمجھ سکتا ہے جس نے اپنے دل کے دروازے اس کے لئے کھلے رکھے ہوں۔ اس کو وہی دیکھ سکتا ہے جس نے اپنی آنکھوں پر مصنوعی پردے نہ ڈالے اس کی آواز اسی کو سنائی دے سکتی ہے جس نے اپنے کان میں کسی قسم کے ڈاٹ نہ لگا رکھے ہوں۔ سچائی کی آواز کو پہچان کر اس کے آگے اپنے کو ڈال دیں گے۔ اور جس شخص کا معاملہ اس کے برعکس ہو وہ چوپایوں کی طرح نا سمجھ بنا رہے گا۔ پہاڑ جیسے دلائل کا وزن محسوس کرنا بھی اس کے لئے ممکن نہ ہوگا۔ اس کے سامنے خدا کی تجلیاں ظاہر ہوں گی مگر وہ اس کو دیکھنے سے عاجز ہوگا۔ اس کے پاس خدا کا نغمہ چھیڑا جائے گا مگر وہ اس کو سننے سے محروم رہے گا۔ سچائی ہمیشہ بیدار لوگوں کو ملتی ہے۔ غافلوں کے لئے کوئی سچائی سچائی نہیں۔ خدا کے بارے میں انسان کے بے راہ ہونے کی وجہ اکثر یہ ہوتی ہے کہ وہ خدا کو مانتے ہوئے اپنے ذہن میں خدا کی غلط تصویر بنا لیتا ہے۔ وہ خدا کی طرف ایسی باتیں منسوب کر دیتا ہے جو اس کے شایان شان نہیں ہیں ۔ مثلاً انسانوں کے حالات پر قیاس کر کے خدا کے مقربین کا عقیدہ بنا لینا۔ بادشاہوں کو دیکھ کر یہ فرض کر لینا کہ جس طرح بادشاہوں کے نائب اور مددگار ہوتے ہیں اسی طرح خدا کے بھی نائب اور مددگار ہیں۔ خدائی فیصلہ کے بارے میں ایسا خیال قائم کر لینا جس میں آدمی کی اپنی خواہشیں تو پوری ہو رہی ہوں مگر وہ خدا وندی عدل سے مطابقت نہ یہ خدا کے ناموں میں کجی کرنا ہے کہ خدا کی طرف ایسی باتیں منسوب کی جائیں جو اس کی عظمت کے شایان شان نہ ہوں ۔

خدا کسی آدمی کی کج روی پر فوراً اس کو نہیں پکڑتا۔ اس طرح اس کو موقع دیا جاتا ہے کہ وہ یا تو خدا کی تنبیہات کو دیکھ کر سنبھل جائے یا مزید ڈھیٹ ہو کر اپنے جرم کو پوری طرح ثابت شدہ بنا دے۔

ان لوگوں نے غور نہیں کیا کہ ان کے ساتھی کو کوئی جنون نہیں ہے۔ وہ تو ایک صاف ڈرانے والا ہے۔ نے آسمانوں اور زمین کے نظام پر نظر نہیں کی اور جو کچھ اللہ نے پیدا کیا ہے ہر چیز سے اور اس بات پر کہ شاید ان کی مدت قریب آگئی ہو۔ پس اس کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔ جس کو اللہ بے راہ کر دے اس کو کوئی راہ دکھانے والا نہیں۔ اور وہ ان کو سرکشی ہی میں بھٹکتا ہوا چھوڑ دیتا ہے۔ وہ تم سے قیامت کی بابت پوچھتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا۔ کہو اس کا علم تو میرے رب ہی کے پاس ہے۔ وہی اس کے وقت پر اس کو ظاہر کرے گا۔ بھاری ہو رہی ہے آسمانوں اور زمین میں۔ وہ جب تم پر آئے گی تو اچانک آ جائے گی۔ وہ تم سے پوچھتے ہیں گویا کہ تم اس کی تحقیق کر چکے ہو۔ کہو اس کا علم تو بس اللہ ہی کے پاس ہے۔ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ مالک نہیں اپنی جان کے بھلے کا اور نہ برے کا مگر جو اللہ چاہے۔ اور اگر میں غیب کو جانتا تو میں بہت سے فائدے اپنے لئے حاصل کر لیتا اور مجھے کوئی نقصان نہ پہنچتا۔ میں تو محض ایک ڈرانے والا اور خوش خبری سنانے والا ہوں ان لوگوں کے لئے جو میری بات مانیں ۱۸۸ - ۱۸۴ با مقصد آدمی کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ غیر مصلحت پسند انسان ہوتا ہے۔ وہ وقت کے رواج سے اوپر اٹھ کر سوچتا ہے۔ وہ ماحول میں چھپے ہوئے مصالح سے بے پروا ہو کر اپنا کام کرتا ہے۔ ایسے نشانہ کی خاطر اپنا جان و مال سب کچھ قربان کر دیتا ہے جس کا کوئی نتیجہ بظاہر اس دنیا میں ملنے والا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بامقصد آدمی کو اکثر اپنے معاصرین کی طرف سے جو سب سے بڑا خطاب ملتا ہے وہ ”مجنون“ ہے۔ خدا کا پیغمبر اپنے وقت کا سب سے بڑا بامقصد انسان ہوتا ہے۔ اس لئے خدا کے پیغمبروں کو ہر زمانہ کے لوگوں، نے یہی کہا کہ یہ مجنون ہو گئے ہیں۔

خدا کے دین کے داعی کو مجنون کہنا تمام ظلموں میں سب سے بڑا ظلم ہے۔ کیونکہ وہ جس پیغام کو لے کر اٹھتا ہے وہ ایک ایسا پیغام ہے جس کی تصدیق تمام زمین و آسمان کر رہے ہیں۔ وہ ایسے خدا کی طرف بلاتا ہے جو اپنی کائناتی تخلیقات میں ہر طرف انتہائی حد تک نمایاں ہے۔ وہ ایسی آخرت کی خبر دیتا ہے جو زمین و آسمان میں اسی طرح سنگین حقیقت بنی ہوئی ہے جس طرح کسی ماں کے پیٹ میں پورا حمل۔ لوگ حق کے بارے میں سنجیدہ نہیں، اس لئے حق کی خاطر جان کھپانے والا انھیں مجنون دکھائی دیتا ہے۔ اگر وہ حق کی قدر و قیمت کو جانتے تو کبھی ایسا

”قیامت کس تاریخ کو آئے گی“ اس قسم کے سوالات غیر سنجیدہ ذہن سے نکلے ہوئے سوالات ہیں۔ قیامت کو ماننے کا انحصار قیامت کے حق میں اصولی دلیل پر ہے نہ کہ اس بات پر کہ قیامت کی تاریخ متعین صورت میں بتادی جائے ۔ جب یہ دنیا دار الامتحان ہے تو یہاں قیامت کو تنبیہ کی زبان میں بتایا جائے گانہ کہ حسابی تعینات کی زبان میں۔

وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا ایک جان سے اور اسی سے بنایا اس کا جوڑا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے ۔ پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانپ لیا تو اس کو ایک ہلکا سا حمل رہ گیا ۔ پھر وہ اس کو لئے پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہو گئی تو دونوں نے مل کر اللہ اپنے رب سے دعا کی ، اگر تو نے ہمیں تندرست اولاد دی تو ہم تیرے شکر گزار مگر جب اللہ نے ان کو تندرست اولاد دے دی تو وہ اس کی بخشی ہوئی چیز میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرانے لگے۔ اللہ برتر ہے ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ کیا وہ شریک بناتے ہیں ایسوں کو جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ وہ خود مخلوق ہیں۔ اور وہ نہ ان کی کسی قسم کی مدد کر سکتے ہیں اور نہ اپنی ہی مدد کر سکتے ہیں ۔ اور اگر تم ان کو رہنمائی کے لئے پکارو تو وہ تمھاری پکار پر نہ چلیں گے۔ برابر ہے خواہ تم ان کو پکارو یا تم خاموش رہو۔ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تمھارے ہی جیسے بندے ہیں۔ پس تم ان کو پکارو، وہ تمھیں جواب دیں اگر تم سچے ہو ۱۴ ۱۹ - ۱۸۹ کائنات اپنے خالق کا جو تعارف کراتی ہے وہ ایسا تعارف ہے جو کسی حال میں شرک کے تصور کو قبول کائنات میں بے شمار اجزا ر الگ الگ پائے جاتے ہیں۔ مگر تمام اجزاء مل کر ایک ہم آہنگ کل بن جاتے ان میں کسی قسم کا تضاد یا ٹکراؤ نہیں۔ یہ کامل ہم آہنگی اس کے بغیر ممکن نہیں کہ اس دنیا کا خالق و مالک ایک ہو اور وہی تنہا اس کو چلا رہا ہو۔

مرد اور عورت کے معاملہ کو دیکھئے ۔ ایک مرد اور ایک عورت میں جو کامل مطابقت ہوتی ہے وہ شاید موجودہ کائنات کا سب سے زیادہ عجیب واقعہ ہے جس کا تجربہ ایک شخص کرتا ہے۔ مرد ایک منفرد اور مستقل وجود ہے اور عورت اس سے الگ ایک مستقل وجود ۔ مگر یہ مرد اور عورت جب میاں اور بیوی کی حیثیت سے ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو دونوں کا وجود اس طرح ایک دوسرے میں شامل ہو جاتا ہے کہ ان میں کوئی دوئی باقی نہیں رہتی۔ ہر ایک کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں اُس کے لئے پیدا کیا گیا ہوں اور وہ میرے لئے۔ دونوں کے درمیان یہ گہری سازگاری اس بات کا کھلا ہوا ثبوت ہے کہ ایک ہی ارادہ نے اپنے پیشگی منصوبہ کے تحت دونوں کو ایک خاص ڈھنگ پر بنایا ہے۔ کائنات میں اگر ایک سے زیادہ ہستیوں کی کارفرمائی ہوتی تو دو مختلف اور متضاد چیزوں کے درمیان یہ کامل ہم آہنگی ممکن نہ ہوتی۔

مگر کیسی عجیب بات ہے کہ جس کائنات میں توحید کے اتنے زیادہ دلائل موجود ہیں وہاں آدمی شرک کو اپنا مذہب بناتا ہے۔ دو انسانوں میں " وحدت" کے کرشمہ سے ایک تیسرے بچہ نے جنم لیا مگر جب وہ پیدا ہو گیا تو کسی نے یہ عقیدہ بنا لیا کہ یہ اولاد فلاں زندہ یا مردہ بزرگ کی برکت سے ہوئی ہے۔ کسی نے اس کو مفروضہ دیوتاؤں کی طرف منسوب کر دیا۔ کسی نے کہا کہ یہ مادہ کی اندھی طاقتوں کے عمل اور رد عمل کا نتیجہ ہے۔ کسی نے یہ سمجھا کہ یہ خود اس کی اپنی کمائی ہے جو ایک خوبصورت بچہ کی صورت میں اس کو حاصل ہوئی ہے۔

Printed page