تذکیر القرآن
Al-Risala, August 1981, pp. 28–32
By Maulana Wahiduddin Khan
کیا ان کے پاؤں ہیں کہ ان سے چلیں۔ کیا ان کے ہاتھ ہیں کہ ان سے پکڑیں۔ کیا ان کے آنکھیں ہیں کہ ان سے کیا ان کے کان ہیں کہ ان سے سنیں۔ کہو ، تم اپنے شریکوں کو بلاؤ۔ پھر تم لوگ میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے مہلت نہ دو۔ یقیناً میرا کارساز اللہ ہے جس نے کتاب اتاری ہے اور وہ کارسازی کرتا ہے نیک بندوں اور جن کو تم پکارتے ہو اس کے سوا وہ نہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں اور نہ اپنی ہی مدد کر سکتے ہیں۔ اور اگر تم ان کو راستہ کی طرف پکارو تو وہ تمھاری بات نہ سنیں گے اور تم کو نظر آتا ہے کہ وہ تمھاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر وہ کچھ نہیں دیکھتے ۱۹۸ - ۱۹۵ بت پرست لوگ پتھر یا دھات کی جو مورتیاں بناتے ہیں اس کا فلسفہ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ یہ خارجی مظاہر ہیں جن کے اندر ان کا مزعومہ دیوتا حلول کر آیا ہے۔ ان مظاہر کی پرستش ان کے نزدیک اُن معبودوں کی پرستش ہے جن کی وہ محسوس علامتیں ہیں۔ تا ہم عوام کی سطح پر عملاً بت پرستی جو شکل اختیار کرتی ہے وہ یہ کہ لوگ خود ان مورتیوں کو مقدس سمجھنے لگتے ہیں۔ اُن بتوں میں نہ چلنے کی طاقت ہوتی ، نہ پکڑنے کی ، نہ دیکھنے کی اور نہ سننے کی۔ مگر وہی انسان ان کی بابت یہ فرض کر لیتا ہے کہ وہ اس کے کام آئیں گے اور اس کی حاجتیں پوری
تاہم یہ معاملہ معروف قسم کے بتوں ہی کا نہیں ہے۔ ان کے سوا جن چیزوں کو انسان معبودیت کا درجہ دیتا ہے ان کا حال بھی یہی ہے ، وطن اور قوم سے لے کر زندہ یا مردہ شخصیتوں تک جن جن چیزوں سے بھی وہ جذبات وابستہ کئے جاتے ہیں جو صرف ایک خدا کا حق ہیں ، ان کی حقیقت کیا ہے۔ ان میں سے کسی کے پاس بھی کوئی ذاتی طاقت نہیں۔ کوئی بھی پاؤں یا ہاتھ یا آنکھ والا ایسا نہیں جس کے پاؤں اور ہاتھ اور آنکھ اس کے اپنے ہوں۔ ہر ”پاؤں “ والے کے پاس دیا ہوا پاؤں ہے اور اگر اس کا پاؤں چھن جائے تو وہ اس کو دوبارہ واپس نہیں لاسکتا۔ ہر ”ہاتھ “ والے کے پاس دیا ہوا ہاتھ ہے اور اگر اس کا ہاتھ باقی نہ رہے تو وہ دوبارہ اپنا ہاتھ نہیں بنا سکتا۔ ہر ”آنکھ “ والے کی آنکھ دی ہوئی آنکھ ہے اور اگر اس کی آنکھ جاتی رہے تو اس کے لئے ممکن نہیں کہ وہ دوبارہ اپنے لئے آنکھ تیار کر لے۔
غیر اللہ کی پرستش کرنے والے لوگ اپنے بتوں کے بھروسہ پر ہمیشہ ایک خدا کے پرستاروں پر ظلم کرتے رہے ہیں۔ مگر یہ لوگ بہت جلد جان لیں گے کہ خدا کی اس دنیا میں ان کا بھروسہ کس قدر بے بنیاد تھا۔ جس خدا کا ظہور موجودہ دنیا میں کتابی میزان کی صورت میں ہوا ہے ، اس کا ظہور عنقریب عدالتی میزان کی صورت میں ہونے والا ہے۔ اس وقت ہر آدمی دیکھ لے گا کہ کام بنانے والا صرف خدا تھا ، اگر چہ آدمی اپنی نادانی کی وجہ سے دوسروں کو اپنا کام بنانے والا سمجھتا رہا۔ شریکوں کے پاس تو سرے سے مدد کرنے کی کوئی طاقت ہی نہیں ، مگر خدا اپنے وفادار بندوں کی مدد دنیا میں بھی کرتا ہے اور آخرت میں بھی۔
درگزر کرو، نیکی کا حکم دو اور جاہلوں سے نہ الجھو۔ اور اگر تم کو کوئی وسوسہ شیطان کی طرف سے آئے تو اللہ کی بے شک وہ سننے والا جاننے والا ہے۔ جو لوگ ڈر رکھتے ہیں جب کبھی شیطان کے اثر سے کوئی براخیال انھیں چھو جاتا ہے تو وہ فوراً چونک پڑتے ہیں اور پھر اسی وقت ان کو سوجھ آ جاتی ہے۔ اور جو شیطان کے بھائی ہیں وہ ان کو گمراہی میں کھینچے چلے جاتے ہیں پھر وہ کمی نہیں کرتے ۲۰۲ - ۱۹۹ توحید اور آخرت، نیکی اور عدل کی طرف بلانا "عرف" کی طرف بلانا ہے۔ یعنی ان بھلائیوں کی طرف جو عقل و فطرت کے نزدیک جانی پہچانی ہیں۔ مگر یہ سادہ ترین کام ہر زمانہ میں مشکل ترین کام رہا ہے۔ انسان کی حب عاجلہ کا یہ نتیجہ ہے کہ ہر زمانہ میں لوگ اپنی زندگی کا نظام دنیوی مفاد اور ذاتی مصلحتوں کی بنیاد پر قائم کئے ہوئے وہ حق کا نام لے کر باطل پرستی کے مشغلہ میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں جب بھی سچائی کی یہ آمیز دعوت اٹھتی ہے تو ہر آدمی اپنے آپ پر اس کی زد پڑتے ہوئے محسوس کرتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہر آدمی اس کا مخالف بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔
ایسی حالت میں داعی کو کیا کرنا چاہئے۔ اس کا ایک ہی جواب ہے اور وہ ہے درگزر اور اعراض۔ لوگوں سے الجھے بغیر بالکل ٹھنڈے طور پر اپنا کام جاری رکھنا۔ داعی اگر لوگوں کے نکالے ہوئے نوشوتوں کا جواب دینے لگے تو حق کی دعوت مناظرہ کی صورت اختیار کرلے گی۔ داعی اگر لوگوں کی طرف سے چھیڑے ہوئے غیر ضروری سوالات میں اپنے کو مشغول کرے تو وہ صرف اپنے وقت اور اپنی طاقت کو ضائع کرے گا۔ لوگوں کی طرف سے آنے والی تکلیفوں پر ان سے جھگڑنے لگے تو دعوت حق دعوت حق نہ رہے گی بلکہ معاشی اور سیاسی لڑائی بن جائے گی۔ اس لئے حق کی دعوت کو اس کی اصلی صورت میں باقی رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ داعی جاہلوں اور معاندوں کی طرف سے پیش آنے والی ناخوش گواریوں پر صبر کرے اور ان سے الجھے بغیر اپنے مثبت کام کو جاری رکھے۔
تاہم موجودہ دنیا میں کوئی شخص نفس اور شیطان کے حملوں سے خالی نہیں رہ سکتا۔ ایسے موقع پر جو چیز آدمی کو بچاتی ہے وہ صرف اللہ کا ڈر ہے۔ اللہ کا ڈر آدمی کو بے حد حساس بنا دیتا ہے۔ یہی حساسیت موجودہ امتحان کی دنیا میں آدمی کی سب سے بڑی ڈھال ہے۔ جب بھی آدمی کے اندر کوئی غلط خیال آتا ہے یا کسی قسم کی منفی نفسیات ابھرتی ہے تو اس کی حساسیت فوراً اس کو بتا دیتی ہے کہ وہ پھسل گیا ہے۔ ایک لمحہ کی غفلت کے بعد اس کی آنکھ کھل جاتی ہے اور وہ اللہ سے معافی مانگتے ہوئے دوبارہ اپنے کو درست کر لیتا ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ اللہ کے ڈر سے خالی ہوتے ہیں ان کے اندر شیطان داخل ہو کر اپنا کام کرتا رہتا ہے اور ان کو محسوس بھی نہیں ہوتا کہ اس کے ساتھی بن کر وہ کس گڑھے کی طرف چلے جا رہے ہیں۔ حساسیت آدمی کی سب سے بڑی محافظ ہے جب کہ بے حسی آدمی کو شیطان کے مقابلہ میں غیر محفوظ بنا دیتی ہے۔
الاعراف ، ۷ اور جب تم ان کے سامنے کوئی نشانی (معجزہ) نہیں لائے تو کہتے ہیں کہ کیوں نہ تم چھانٹ لائے کچھ اپنی طرف سے۔ میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے رب کی طرف سے مجھ پر وحی کی جاتی ہے۔ یہ سوجھ کی باتیں ہیں تمھارے رب کی طرف سے اور ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں۔ اور جب قرآن پڑھا جائے تو اس کو توجہ سے سنو اور خاموش رہو، تاکہ تم پر رحمت کی جائے۔ اور اپنے رب کو صبح و شام یاد کرو اپنے دل میں ، عاجزی اور خوف کے ساتھ اور پست آواز سے، اور غافلوں میں سے نہ بنو۔ جو (فرشتے) تیرے رب کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے۔ اور وہ اس کی پاک ذات کو یاد کرتے ہیں اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں مکہ کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے کہ اگر تم خدا کے پیغمبر ہو تو خدا کے یہاں سے کوئی معجزہ کیوں نہیں لائے۔ خدا کے لئے انتہائی آسان تھا کہ وہ آپ کو ایک معجزہ دے دیتا۔ مگر اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ اصل مقصد جاتا رہتا۔
مثلاً فرض کیجئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جدید طرز کی ایک موٹر کار انار دی جاتی جس میں لاؤڈ اسپیکر نصب ہوتا۔ آپ اس میں بیٹھ کر چلتے اور لوگوں کے درمیان تبلیغ کرتے۔ ڈیڑھ ہزار سال پہلے کے حالات میں ایسی ایک کار لوگوں کے لئے انتہائی حیرت ناک معجزہ ہوتی۔ مگر اس کا نقصان یہ ہوتا کہ لوگوں کی توجہ اصل بات سے ہٹ جاتی۔ اصل مقصد تو یہ تھا کہ خدا کا کلام لوگوں کے لئے بصیرت بنے۔ اس سے لوگوں کو سوچنے کا ڈھنگ اور عمل کرنے کا طریقہ معلوم ہو۔ اس سے روحوں کو خدائی ٹھنڈک ملے۔ مگر مذکورہ معجزہ کے بعد یہ سارا منصوبہ دھرارہ جاتا، اور لوگ بس طلسماتی سواری کے عجوبہ میں محو ہو کر رہ جاتے۔
کرشماتی چیزوں میں کھونے کا نام دین نہیں۔ دین یہ ہے کہ آدمی خدا کے کلام پر دھیان دے۔ اس کو غور کے ساتھ پڑھے اور توجہ کے ساتھ سنے۔ دین دار ہونے کی پہچان یہ ہے کہ خدا کے ساتھ آدمی کا گہرا تعلق قائم ہوجائے۔ اس کے دل میں گداز پیدا ہو۔ وہ خدا کی یاد کرلے والا بن جائے۔ خدا کی عظمت اس کے دل و دماغ پر اس طرح چھاجائے کہ وہ اس کے اندر تواضع اور خوف کی کیفیت پیدا کردے۔ خدا کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کی آواز پست وہ غفلت سے نکل کر بیداری کے عالم میں پہنچ جائے۔
آخر میں فرشتوں کا کردار بیان کیا گیا ہے۔ یہ اس لئے کہ تم بھی ایسا ہی کرو تا کہ تمہیں فرشتوں کی معیت جب آدمی اپنے آپ کو گھمنڈ سے پاک کرتا ہے۔ اور خدا کے کمالات سے اتنا سرشار ہوتا ہے کہ اس کے دل سے ہر وقت اس کی یاد ابلتی رہتی ہے تو وہ فرشتوں کا ہم سطح ہو جاتا ہے۔ اس دنیا میں کسی انسان کی ترقی کا اعلیٰ ترین مقام یہ ہے کہ وہ انسان ہوتے ہوئے ملکوتی کردار کا حامل بن جائے۔ وہ دنیا میں رہتے ہوئے فرشتوں کے پڑوس میں زندگی گزارنے لگے۔
آيتیں ۵ ، سورۃ الانفال مدنیۃ ۔ ۸ رکوعاتہا ۱۰ شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے وہ تم سے انفال (مال غنیمت) کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہو کہ انفال اللہ اور اس کے رسول کے ہیں۔ لوگ اللہ سے ڈرو اور اپنے آپس کے تعلقات کی اصلاح کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو ، اگر تم ایمان رکھتے ہو۔ ایمان والے تو وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل دہل جائیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کے سامنے پڑھی جائیں تو وہ ان کا ایمان بڑھا دیتی ہیں اور وہ اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ وہ نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انھیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ یہی لوگ حقیقی مومن ہیں ۔ ان کے لئے ان کے رب کے پاس درجے اور مغفرت اور ان کے لئے عزت کی روزی ہے ۴-۱ سورۂ انفال جنگ بدر ( ۲ھ) کے بعد اتری۔ اس جنگ میں مسلمانوں کو فتح ہوئی تھی اور اس کے بعد میدان جنگ سے کافی مال غنیمت حاصل ہوا تھا۔ مگر یہ اموال عملاً ایک گروہ کے قبضہ میں تھے۔ اس بنا پر جنگ کے بعد غنیمت کی تقسیم پر نزاع پیدا ہوگئی۔ جنگ میں کچھ لوگ پچھلی صف میں تھے۔ کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت میں لگے ہوئے تھے۔ کچھ لوگ آخری مرحلہ میں دشمن کا پیچھا کرتے ہوئے آگے نکل گئے۔ میدان جنگ سے مال غنیمت لوٹنے کا موقع ایک خاص فریق کو ملا۔ دوسرے لوگ جو اس وقت میدان جنگ سے دور تھے وہ دشمن کے چھوڑے ہوئے اموال کو حاصل نہ کر سکے۔
اب صورت حال یہ تھی کہ اصولی طور پر تو جنگ کے تمام شرکا ر اپنے کو مال غنیمت میں حصہ دار سمجھتے تھے۔ مگر مال غنیمت عملاً صرف ایک گروہ کے قبضہ میں تھا۔ ایک فریق کے پاس دلیل تھی اور دوسرے فریق کے پاس مال۔ ایک کے پاس اپنے حق کو ثابت کرنے کے لئے صرف الفاظ تھے۔ جبکہ دوسرے کا حق کسی دلیل و ثبوت کے بغیر خود قبضے کے زور پر قائم تھا۔
اس قسم کے تمام جھگڑے خدا کے خوف کے منافی ہیں۔ خدا کا خوف آدمی کے اندر ذمہ داری کی نفسیات ایسے آدمی کی توجہ فرائض پر ہوتی ہے نہ کہ حقوق پر۔ وہ اپنی طرف دیکھنے کے بجائے خدا کی طرف دیکھنے اس کا دل خدا اور رسول کی اطاعت کے لئے نرم پڑ جاتا ہے۔ وہ خدا کا عبادت گزار بندہ بن جاتا ہے ۔ لوگوں کو دے کر اسے تسکین ملتی ہے نہ کہ لوگوں سے چھین کر یہ اوصاف آدمی کے اندر حقیقت پسندی اور حق کے اعتراف کا مادہ پیدا کرتے ہیں۔ حقیقت پسندی اور اعتراف حق کی فضا کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آپس کے جھگڑے ختم اور اگر کبھی اتفاقاً ابھرتے ہیں تو ایک بار کی تنبیہہ ان کی اصلاح کے لئے کافی ہو جاتی ہے ۔ خدا کی پکڑ کا اندیشہ ہر ایک کو اس حد پر پہنچا دیتا ہے جس حد پر اس کو فی الواقع ہونا چاہئے تھا۔ اور جہاں ہر آدمی اپنی واقعی حد پر رکنے کے لئے راضی ہو جائے سو ہاں جھگڑے کا کوئی گزر نہیں۔
جیسا کہ تمھارے رب نے تم کو حق کے ساتھ تمھارے گھر سے نکالا۔ اور مسلمانوں میں سے ایک گروہ کو یہ ناگوار تھا۔ وہ اس حق کے معاملے میں تم سے جھگڑ رہ جائے تھے باوجودیکہ وہ ظاہر ہو چکا تھا، گویا کہ وہ موت کی طرف ہانکے جا رہے ہیں آنکھوں دیکھتے۔ اور جب خدا تم سے وعدہ کر رہا تھا کہ دو جماعتوں میں سے ایک تم کو مل جائے گی۔ چاہتے تھے کہ جس میں کانٹا نہ لگے وہ تم کو ملے۔ اور اللہ چاہتا تھا کہ وہ حق کا حق ہونا ثابت کر دے اپنے کلمات سے اور منکروں کی جڑ کاٹ دے تاکہ حق حق ہو کر رہے اور باطل باطل ہو کر رہے خواہ مجرموں کو وہ کتنا ہی ناگوار ہو ۵-۸ شعبان ۲ھ میں معلوم ہوا کہ قریش کا ایک تجارتی قافلہ شام سے مکہ کی طرف واپس جا رہا ہے، اس قافلہ کے ساتھ تقریباً ۵۰ ہزار اشرفی کا سامان تھا۔ اس کا راستہ مدینہ کے قریب سے گزرنا تھا۔ تھا کہ مسلمان اپنے دشمنوں کے قافلہ تجارت پر حملہ کریں۔ چنانچہ قافلہ کے سردار ابو سفیان بن حرب نے تیز رفتار اونٹنی کے ذریعہ مکہ والوں کے پاس یہ خبر بھیجی کہ مدد کے لئے دوڑو ورنہ مسلمان تجارتی قافلہ کو لوٹ لیں گے۔ مکہ میں اس خبر سے بڑا جوش پیدا ہو گیا۔ چنانچہ ۹۵۰ سوار جن میں ۱۰۰ زرہ پوش تھے مکہ سے نکل کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تمام خبریں مل رہی تھیں ۔ اب مدینہ کے مسلمان دو گروہوں کے ایک شام سے آنے والا تجارتی قافلہ۔ دوسرا مکہ سے مدینہ کی طرف بڑھنے والا جنگی لشکر۔ مسلمانوں کے ایک طبقہ میں یہ ذہن پیدا ہوا کہ تجارتی قافلہ کی طرف بڑھا جائے ۔ اس قافلہ کے ساتھ بمشکل ۴۰ محافظ تھے۔ اس کو با آسانی مغلوب کر کے اس کے سامان پر قبضہ کیا جا سکتا تھا۔ مگر خدا کا منصوبہ دوسرا تھا۔ خدا کو دراصل منکرین حق کا زور توڑنا تھا نہ کہ کچھ اقتصادی فائدہ حاصل کرنا۔ خدا نے مخصوص حالات پیدا کر کے ایسا کیا کہ تمام مخالف سرداروں کو مکہ سے نکالا اور ان کو مدینہ سے ۲۰ میل کے فاصلہ پر بدر کے مقام پر پہنچا دیا تاکہ مسلمانوں کو ان سے ٹکرا کر ہمیشہ کے لئے ان کا خاتمہ کر دیا جائے۔ اللہ کے رسول نے جب مسلمانوں کو خدا کے اس منصوبہ سے مطلع کیا تو سب کے سب نفق ہو کر بدر کی طرف بڑھے۔ ان کی تعداد اگرچہ صرف ۳۱۳ تھی۔ ان کے پاس ہتھیار بھی کم تھے۔ مگر اللہ نے ان کی خصوصی مدد فرمائی۔ انھوں نے قریش کے لشکر کو بری طرح شکست دی۔ ستر سردار قتل ہوئے اور ستر گرفتار کر لئے گئے۔ بدر کا میدان کفر کے مقابلہ میں اسلام کی فتح کا میدان بن گیا۔ جب بھی ایسا ہو کہ ایک طرف مادی فائدہ ہو اور دوسری طرف دینی فائدہ تو یہ تقسیم خود اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا کی مرضی دینی فائدہ کی طرف ہے نہ کہ مادی فائدہ کی طرف۔
اسلامی جدوجہد کا نشانہ کبھی معاشی مفاد حاصل کرنا نہیں ہوتا۔ اسلامی جدوجہد کا نشانہ ہمیشہ باطل کا زور توڑنا ہوتا ہے ۔ خواہ وہ نظریاتی طاقت کے ذریعہ ہو یا حالات کے اعتبار سے مادی طاقت کے ذریعہ۔