Al-Risala · August 1981

داعیانہ اخلاق کی ضرورت

Al-Risala, August 1981, p. 34

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک شخص تاجر کی حیثیت سے زندگی گزارنے کا فیصلہ کرے، دوسرا شخص دادا گیری کو اپنا پیشہ بنائے ہوئے ہو تو دونوں کا اخلاق یکساں نہیں ہو سکتا۔ تاجر کا اخلاق اور ہوگا اور دادا گیری کرنے والے کا اور یہی معاملہ داعی کا ہے۔ جو شخص یا گروہ حق کا داعی بنے ضروری ہے کہ اس کی اخلاقیات بھی اس کے اگر وہ زبان سے داعی ہونے کا مدعی ہو مگر اس کا اخلاق غیر داعیانہ ہو تو وہ لوگوں کی نظر میں مسخرہ بن کر رہ جائے گا، وہ داعی کی حیثیت سے اپنا مقام حاصل نہیں کر سکتا۔

انتہائی لازمی طور پر ضروری ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان غیر دعوتی امور پر جھگڑے نہ کھڑے غیر دعوتی جھگڑے اس فضا ہی کو ختم کر دیتے ہیں جس میں داعی اپنی دعوت پیش کرے اور مدعو اس کو سنجیدگی اور ہمدردی کے ساتھ سنے۔

تاہم یہ دعوتی فضا داعی سے بہت بڑی قیمت مانگتی ہے۔ یہ قیمت صبر ہے۔ داعی کو ارادی اور شعوری طور پر یہ طے کرنا ہوتا ہے کہ وہ نقصانات اور تکلیفوں پر صبر کرے گا۔ حضرت مسیح کے تمثیلی الفاظ میں مدعو اگر اس کا کرتا چھینے تو وہ اس کو اپنا چغہ بھی دینے کے لئے تیار رہے۔ مدعو اگر ایک کوس بیگار چلنے کو کہے تو وہ دو کوس بیگار چلا جائے۔ تاکہ کوئی غیر متعلق جھگڑا کھڑا ہو کر دونوں کے درمیان ایسی صورت نہ پیدا کر دے کہ سننے اور سنانے کا ماحول ہی ختم ہو جائے۔

ماں اپنے بچہ کو دوا کھلانا چاہتی ہو اور اس وقت بچہ کوئی دوسری ضد شروع کر دے تو ماں بچے کی اس ضد کی راہ میں حائل نہیں ہوتی کیونکہ ایسا کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ دوا کھلانے کا کام رک جائے اور بچہ اور ماں کے درمیان ساری نزاع ایک غیر متعلق ضد پر ہونے لگے۔ اسی طرح داعی کو چاہئے کہ مدعو کے ہر وار کو اپنے اوپر سہتا رہے تاکہ دونوں کے درمیان اعتدال کی فضا قائم رہے اور وہ داعی اپنی اصل بات کو مدعو کے دل میں اتار مدعو گروہ سے دوسری دوسری شکایتوں پر کش مکش صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جن کے ذہنوں میں اپنے داعی ہونے کا شعور ختم ہو گیا ہو۔ جنہوں نے اپنی داعیانہ حیثیت کھودی ہو اور وہ دوسری قوموں کی طرح محض ایک قوم بن کر رہ گئے ہوں۔

موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے اندر سے داعیانہ شعور ختم ہو گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تمام سرگرمیاں بالکل قومی بن کر رہ گئی ہیں۔ اس روش نے مسلمانوں کو خدا کی نصرت سے محروم کر دیا ہے۔ کیونکہ خدا کی نصرت دعوت الی اللہ کے لئے اٹھنے والوں کو ملتی ہے نہ کہ قومی جھگڑا کرنے والوں کو۔

Printed page