Al-Risala · August 1981

بددعا سے بچنا اور ہمیشہ اچھی دعا کرنا

Al-Risala, August 1981, p. 35

By Maulana Wahiduddin Khan

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا کہ جب کوئی شخص آپ سے اپنے حق میں دعا کے لیے کہتا تو آپ فوراً انہیں الفاظ میں اس کے لیے دعائیہ کلمات کہتے جن الفاظ میں اس نے اپنے لیے دعا کی درخواست حضرت ابو ہریرہ رض نے اپنی مشرک ماں کے لیے دعا کی درخواست کرتے ہوئے کہا: اے خدا کے رسول ! اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ ابو ہریرہ کی ماں کو ہدایت دے (ادع اللہ ان يهدى ام ابی ھریرہ) آپ نے فوراً دعا کرتے ہوئے کہا: اے اللہ ابو ہریرہ کی ماں کو ہدایت دے (اللھم اھد ام ابی ھریرہ) نیز حسب موقع اس میں کچھ بہتر الفاظ کے ساتھ اضافہ فرما دیتے۔ ایک بار حضرت ابو ہریرہ نے آپ سے کہا کہ اے خدا کے رسول میرے لیے خدا سے دعا کر دیجیے کہ وہ مجھ کو اور میری ماں کو اپنے مومن بندوں میں محبوب بنا دے (اد رع الله ان يحببنى دامى الى عباده المومنين) آپ نے فرمایا : اے اللہ ابو ہریرہ اور ان کی ماں کو اپنے مومن بندوں میں محبوب بنا دے اور اپنے مومن بندوں کو ان دونوں کے لیے محبوب کر دے (اللھم حبب عبيدك ھذا و امہ الى عبادك المؤمنين وحببهم اليهما)

یہ طریقہ آپ کا اچھی دعا کے لیے تھا۔ لیکن اگر کوئی شخص بد دعا کے لیے کہتا تو اس صورت میں آپ کا طریقہ دوسرا ہوتا۔ اب آپ آدمی کی درخواست کے برعکس اس کے لیے بہتری کی دعا کرنے لگتے۔ طفیل بن عمرو الدوسی مکہ میں آپ کے ہاتھ پر اسلام لائے۔ اس کے بعد اپنے وطن واپس جا کر قبیلہ دوس میں تبلیغ کرنے لگے۔ مگر ان کی بیوی کے والد کے سوا کوئی ایمان نہ لایا۔ وہ دوبارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ اے خدا کے رسول ، قبیلہ دوس کے لیے بد دعا فرمائیے۔ آپ نے حضرت طفیل سے کوئی بحث نہ کی بلکہ ان الفاظ میں دعا کرنا شروع کر دیا: اے اللہ قبیلہ دوس کے لوگوں کو ہدایت دے (اللھم اھد دوسا) اس کے بعد حضرت طفیل نے دوبارہ اپنے قبیلہ میں واپس آکر تبلیغ کی تو سب کے سب مسلمان ہو گئے۔ انھیں میں سے ایک حضرت ابو ہریرہ بھی تھے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ واقعات میں جو طریقہ ملتا ہے یہی مومن کا اصل مزاج ہے۔ مومن کے دل میں دوسروں کے لیے خیر خواہی ہوتی ہے۔ اس لیے وہ بھی ایک مومن کے لیے وہی بہتر چیز چاہنے لگتا ہے جس کا وہ مومن خود خواہاں ہو۔ مومن دوسرے کی ہدایت کا حریص ہوتا ہے ، اس لیے جب وہ دیکھتا ہے کہ کوئی شخص صحیح راستہ اختیار کرنے پر آمادہ نہیں ہے تو وہ اس کے خلاف بد دعا نہیں کرتا ۔ بلکہ اس کے حق میں خدا سے یہ درخواست کرتا ہے کہ وہ اس کا سینہ ہدایت کے لیے کھول دے ۔

Printed page