بحث و جدال تنزل کی علامت ہے
Al-Risala, August 1981, p. 37
By Maulana Wahiduddin Khan
قال الاوزاعی بلغنی ان اللہ اذا اراد بقوم شرا الزمہم الجدل ومنعہم العمل ابن عبد البر، جامع بیان العلم و فضلہ جز ء ثانی، صفحہ ۹۳ ادارة الطباعۃ المنیریہ، مصر (اللہ جب کسی قوم کے شر کا ارادہ کرتا ہے تو اس تو جدال میں مبتلا کر دیتا ہے اور اس کو عمل سے روک دیتا ہے)
مومن کی لذت غصہ کو پی جانے میں ہے نہ کہ غصہ کو ظاہر کرنے میں عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کسی بندہ کے لئے دودھ یا شہد کا گھونٹ پینا اتنا شیریں نہیں جتنا غصہ کا گھونٹ پی لینا (ما تجرع عبد جرعۃ من لبن او عسل خیر من جرعة غیظ، رواہ احمد) مومن کی جنگ فتنہ کو ختم کرنے کے لئے نہ کہ فتنہ کو پیدا کرنے کے لئے نافع رضہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رض کے پاس عبداللہ بن زبیر رض کے فتنہ میں دو آدمی آئے اور کہا: لوگ تباہ ہو گئے۔ آپ عمر فاروق رض کے صاحبزادے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں۔ آپ کو نکلنے میں کیا چیز مانع ہے۔ عبداللہ بن عمر رض نے فرمایا: میرے لئے یہ چیز مانع ہے کہ اللہ نے میرے لئے میرے بھائی کے خون کو حرام کر دیا ہے۔ دونوں آدمیوں نے کہا : کیا اللہ نے اپنی کتاب میں نہیں فرمایا ہے وقاتلوهم حتی لا تكون فتنة (ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے) عبداللہ بن عمر رض نے جواب دیا: ہم لوگوں سے لڑے یہاں تک کہ فتنہ نہ رہا اور دین اللہ کے لئے ہو گیا۔ اور تم لوگ چاہتے ہو کہ تم لڑو یہاں تک کہ فتنہ پیدا ہو جائے اور دین غیر اللہ کے لئے ہو جائے (فانتتم تردیدون ان تقاتلوا حتی تكون فتنة ويكون الدين لغير اللہ ، بخاری)