اپنے خلاف تنقید سن کر پھر ناخلاف ایمان ہے
Al-Risala, August 1981, pp. 37–38
By Maulana Wahiduddin Khan
عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانہ میں خوش حالی بڑھی تو لوگ شادیوں میں بڑی بڑی مہریں باندھنے لگے۔ رضی اللہ عنہ نے خلیفہ کی حیثیت سے یہ طے کیا کہ مہر کی مقدار چار سو درہم سے زیادہ نہ ہونی چاہئے۔ خطبہ میں آپ نے اس کا اعلان فرمایا اور کہا کہ جو شخص چار سو درہم سے زیادہ مہر باندھے گا تو زائد رقم کو ضبط کر کے بیت المال میں داخل کر دیا جائے گا۔ آپ اس اعلان کے بعد ممبر سے اترے کو ایک دراز قد، چپٹی ناک والی بوڑھی عورت کھڑی ہو گئی۔ اس نے کہا: عمر کو مہر کی حد بندی کا کوئی حق نہیں، جب کہ قرآن نے اس معاملہ میں رخصت دی ہے۔ پھر اس نے یہ آیت پڑھی وان اردتم استبدال زوج مكان زوج و آتیتم احدا هن قنطارا فلا تاخذوا منه شيئا (نساء) یعنی اگر تم ایک عورت کی جگہ دوسری عورت بدلنا چاہو اور
تم نے اس کو بہت سامال دے رکھا ہو تو اس سے کچھ واپس نہ لو ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے سنا تو فوراً کہہ اٹھے : امرأة خاصمت عمر فخصمته ، ایک عورت عمر سے جھگڑ پڑی اور غالب ہو گئی (مصنف عبد الرزاق) دوسری روایت میں ہے : اللهم عفوا ، كل الناس أفقه من عمر حتى البہنائز (خدایا مجھے معاف فرما ۔ تمام لوگ عمر سے زیادہ جانتے ہیں حتیٰ کہ بڑھیاں بھی) اس کے بعد عمر رضی اللہ عنہ دوبارہ منبر پر چڑھے اور اعلان کیا کہ میں اپنا فیصلہ واپس لیتا ہوں ۔ جو شخص جتنا چاہے مہر دے ۔ اس کو اپنے معاملہ کا اختیار ہے (فتح الباری) البتہ بطور نصیحت فرمایا کہ زیادہ مہر اگر کرامت و شرافت کی علامت ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے زیادہ حق دار تھے ۔ حالاں کہ آپ نے عام طور پر مہریں چار سو درہم تک رکھی ہیں (مسند احمد، ترمذی) آپس کی لڑائی اسلام کے خلاف ہے من حمل علينا السلاح فليس منا (حدیث) جس نے ہمارے اوپر ہتھیار اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں ۔ اللہ کے حوالے کر کے صبر کر لینا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں ہیں جنہوں نے امیر معاویہ کے بعد یزید کی خلافت پر بیعت کی تھی ۔ بیعت کے وقت انھوں نے فرمایا : اگر یہ خیر ہے تو ہم اس سے راضی ہیں ۔ اور اگر یہ شر ہے تو ہم نے اس پر صبر کیا ۔