Al-Risala · August 1981

ٹکراؤ کے باوجود ایک دوسرے کا احترام

Al-Risala, August 1981, p. 38

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام کے ابتدائی زمانہ میں مسلمانوں میں جو باہمی لڑائیاں ہوئیں وہ اگر چہ ایک ناپسندیدہ فعل تھا ۔ اونچے انسانوں کی لڑائیاں تھیں ، نہ کہ ذلیل طبیعت کے لوگوں کی ۔ عین جنگ کے وقت کے بہت سے قصے تاریخوں میں درج ہیں جو ان کی طبیعت کی بلندی اور بہادری کو بتاتے ہیں ۔ مثلاً حضرت علی اور امیر معاویہ کی جنگوں میں یہ حال تھا کہ دونوں فریق دن کے وقت ایک دوسرے سے لڑتے اور رات کے وقت ایک لشکر کے لوگ دوسرے لشکر میں جاکر مقتولین کی تجہیز و تکفین میں حصہ لیتے (البدایہ والنہایہ ، جلد ۷، صفحہ ۲۲۔ تاریخ ابن عساکر، جلدا، صفحہ ۷۴) اسی طرح حضرت حسین کی لڑائی جو یزید بن معاویہ کی فوجوں سے ہوئی ، اس میں یہ حال تھا کہ دونوں فوجیں جو ایک دوسرے کے خلاف بر سر جنگ تھیں ۔ جب نماز کا وقت آتا تو سب مل کر نماز پڑھتے ۔ ایک فوج کا سردار دوسری فوج کے سپاہیوں کی امامت کرتا ۔ اکثر ایسا ہوتا کہ حضرت حسین رض امام ہوتے اور فریق مخالف ان کے پیچھے صف باندھ کر نماز ادا کرتا دوستی میں بھی اعتدال ، دشمنی میں بھی اعتدال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے دوست سے اعتدال کے ساتھ دوستی کرو، ہو سکتا ہے کہ کسی دن وہ تمھارا دشمن بن جائے ۔ اور اپنے دشمن سے اعتدال کے ساتھ دشمنی کرو، ہو سکتا ہے کہ کسی دن وہ تمھارا دوست بن جائے (احبب حبيبك هونا ما عسى ان يكون بغيضك يوما ما ابغض بغيضك هونا ما عسى ان يكون حبيبك يوما ما)

Printed page