آہ یہ بے شعوری
Al-Risala, August 1981, pp. 29–40
By Maulana Wahiduddin Khan
مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے ایک مارکسی پروفیسر پر یونیورسٹی کے کچھ مسلمان لڑکوں نے حملہ کیا۔ بعد دہلی کا ایک اخباری رپورٹر علی گڑھ پہنچا اور اس نے مذکورہ مارکسی پروفیسر کا انٹرویو لیا جو انگریزی روزنامہ انڈین ایکسپریس (۱۳ جنوری ۱۹۸۱) میں چھپا۔ اس انٹرویو میں مذکورہ پروفیسر نے یونیورسٹی کے اندرونی نظام کی بعض خرابیوں کا ذکر کیا جس کے نتیجہ میں وہاں ہنگامہ پسند لڑکوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور تعلیمی معیار مسلسل گر رہا ہے۔ یہ انٹرویو چھپا تو یونیورسٹی کے مسلمان طلبہ مشتعل ہوگئے اور یونیورسٹی کیمپس میں توڑ پھوڑ اور دھم بازی شروع کر دی۔ حالاں کہ ان کا یہ پرتشدد ردِ عمل صرف یہ ثابت کر رہا تھا کہ پروفیسر کا یہ کہنا صحیح ہے کہ یونیورسٹی کیمپس میں مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے عناصر موجود ہیں۔
مسلم صحافت اور قیادت نے حسبِ معمول اس معاملہ میں طلبہ کا ساتھ دیا۔ مسلم اخبارات نے اس انٹرویو کو انتہائی قابلِ اعتراض (۱۶ مئی ۱۹۸۱) قرار دے کر اس کے خلاف پر شور مضامین لکھے۔ مگر اردو یا انگریزی کے کسی بھی اسلام پسند اخبار نے انٹرویو کے اصل الفاظ شائع نہیں کئے جن لوگوں نے اصل انٹرویو کو انڈین ایکسپریس میں پڑھا ہے وہ اتفاق کریں گے کہ اس یک طرفہ لفظی طوفان کی وجہ یہ تھی کہ اگر یہ مسلم اخبارات اصل انٹرویو شائع کر دیتے تو قارئین پر یہ حقیقت کھل جاتی کہ وہ یقینی طور پر انتہائی قابلِ اعتراض نہیں تھا۔ وہ بس ایسا ہی تھا کہ یا تو اس کو نظر انداز کر دیا جاتا یا اس کے جواب میں ایک وضاحتی مضمون مرتب کرکے شائع کر دیا جاتا۔ یہ ہے ہماری وہ غیر عادلانہ سیاست جس پر ہم یقین کئے بیٹھے ہیں کہ خدائے عادل ہمارے اوپر اپنی نصرتوں کی بارش
اس قسم کے لایعنی ہنگاموں کا فائدہ کچھ بھی نہیں۔ مگر ان کے نقصانات اتنے زیادہ ہیں جن کو شمار نہیں کیا مثال کے طور پر علی گڑھ کے طلبہ کے یہ ہنگامے جو اسلام کے نام پر کئے گئے ان پر دہلی کے انگریزی روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نے تین قسطوں میں ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ ڈی سنگھ نے اپنی اس رپورٹ میں جو باتیں کہی ہیں ان میں سے ایک بات ان کے الفاظ میں یہ ہے ۔
Why do the AMU students raise the cry of 'Islam in danger' at the slightest pretext.? Is [slam which has withstood major onslaughts on it in the past, become so fragile as to be seen to crumble before a mere newspaper article by a marxist. ایسا کیوں ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ انتہائی معمولی باتوں کو لے کر " اسلام خطرہ میں ،، کی چیخ پکار بلند کرنے اسلام جو ماضی میں اپنے اوپر بڑے بڑے حملوں کے مقابلہ میں قائم رہا کیا اب اتنا کمزور ہوگیا ہے کہ ایک اخبار میں کسی مارکسٹ کا محض ایک مضمون چھپ جانے سے وہ منہدم ہوتا ہوا نظر آنے لگے (ٹائمز آف انڈیا ۳۰ مئی ۱۹۸۱) اس سے اندازہ کیجئے کہ موجودہ زمانہ میں اسلام کے علم بردار کس طرح اسلام کے نادان دوست ثابت ہوئے ہیں
مسلم یونیورسٹی کا یہ واقعہ ایک علامتی واقعہ ہے جس میں ان تمام سرگرمیوں کی تصویر دیکھی جاسکتی ہے جو ہمارے یہاں ملت کے نام پر جاری ہیں۔ نیز اسی مثال سے یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ ہماری ملی سرگرمیاں اپنی ساری دھوم کے باوجود اس قدر نا کام کیوں ہیں ۔
مسلم یونیورسٹی کا یہ ایجی ٹیشن پروفیسر عرفان حبیب کے ایک انٹرویو کے نام پر شروع کیا گیا۔ اس ایجی ٹیشن میں حصہ لینے اور اس کی حمایت کرنے والوں کی تعداد لاکھوں سے بھی زیادہ ہے۔ مگر آپ جائزہ لیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ یونیورسٹی کے اندر اور یونیورسٹی کے باہر بہت ہی تم ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اس انٹرویو کو انگریزی میں مکمل طور پر پڑھا ہے۔ زیادہ تر لوگ بس سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر اس کے خلاف مجاہد بنے ہوئے ہیں۔ یہ قرآن کے اس حکم کی کھلی ہوئی خلاف ورزی ہے کہ :
یا ایھا الذین آمنوا ان جاء کم فاسق بنبا اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمھارے پاس خبر لے کر آئے فتبینوا ان تصیبوا قوما بجھالۃ فتصبحوا تو اس کی تحقیق کر لو۔ ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم پر نادانی سے علی ما فعلتم نادمین (حجرات (۶)