اور میری آیتوں پر تھوڑی پونجی نہ خریدو
Al-Risala, August 1981, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
پروفیسر موصوف نے جو بات کہی تھی وہ یہ تھی کہ یونیورسٹی میں انتظام اور تعلیم کا معیار بہت گر گیا ہے ۔ اس کا صحیح جواب یہ تھا کہ خاموش تعمیری جدوجہد کے ذریعہ انتظام اور تعلیم کے معیار کو بلند کر دیا جاتا۔ یہ مذکورہ بیان کی نہایت کامیاب تردید ہوتی۔ اس کے برعکس شور وغل اور ہنگامہ مہ بازی شروع کر دی گئی۔ یہ قرآن کے الفاظ میں ایسے کام کا کریڈٹ لینا تھا جس کو آدمی نے کیا نہیں۔ یہ حضرات اپنے آپ کو یونیورسٹی کے خادم کی حیثیت سے پیش کر رہے حالانکہ یونیورسٹی کی جو اصل خدمت تھی اس کو انھوں نے انجام ہی نہیں دیا۔ ایسے لوگوں کو قرآن کے اس انتباہ سے ڈرنا چاہئے: لا تحسبن الذين يفرحون بما أتوا ويحبون ان جو لوگ اپنے کئے پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ انھوں نے جو یحمدوا بما لم يفعلوا فلا تحسبنهم بمفازة من العذاب کچھ نہیں کیا اس پر ان کی تعریف ہو تو ان کو تم عذاب سے ولهم عذاب اليم (آل عمران (۱۸۸) بچاؤ میں نہ سمجھو اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔