Al-Risala · August 1981

۲۔ کیا کوئی ژڈ ذرہ ہے

Al-Risala, August 1981, pp. 41–42

By Maulana Wahiduddin Khan

عبدالسلام ، پروفیسر نظری طبیعیات ، امپیریل کالج ، لندن: اگلے دس برسوں میں ہمیں یا تو ژڈ ذرہ کا وجود تسلیم کرنا ہے یا یہ ثابت کرنا ہے کہ اس کا کوئی وجود نہیں۔ اگر اس کا وجود ثابت ہو گیا جیسا کہ موجودہ نظریہ کی پیشین گوئی ہے تو اس کے بعد عالم فطرت کی چار طاقتیں جن کا ہمیں علم ہے ان میں سے دو طاقتوں کا ایک ہونا ثابت ہو جائے گا۔ یہ چار طاقتیں یہ ہیں: کشش، برقی مقناطیسیت، طاقت ڈرنیو کلیئر فورس جو کہ ایٹم کے نیوکلیس کو آپس میں باندھے رہتی ہے، اور کمزور نیوکلیئر فورس جور یڈیائی لہروں سے متعلق ہے)۔ عبد السلام اور دوسرے سائنس دانوں نے حال میں کمزور نیوکلیئر فورس اور برقی مقناطیسیت کو ایک ثابت کرنے میں کچھ کامیابی حاصل کی ہے۔ ژڈ ذرہ کی دریافت سے قوی تجرباتی تائید حاصل ہوگی۔ ڈی این اے سے پہلے کیا تھا ڈاکٹر گر کیرنس سمتھ، لکچرر کیمسٹری ، گلاسگو یونیورسٹی : ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم ایک نیا

جینیٹک مادہ دریافت کریں جو ڈی این اے سے بالکل مختلف ہو۔ (ڈی این اے کا دہر اغولہ نما ڈھانچہ کیمبرج میں ۱۹۵۳ء میں فرانسس کریک اور جیمیں واٹسن نے دریافت کیا تھا مجھے یقین نہیں کہ ڈی این اے ابتدائی جین پر بن سکتا تھا۔ ضروری ہے کہ زندگی کسی اور چیز سے شروع ہوئی ہو اور ڈی این اے کا ارتقا بعد کو ہوا ہو۔

Printed page