عقل سے کام نہ لینا
Al-Risala, January 1981, pp. 3–5
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک شخص پر دیس میں ہے۔ اس کے پاس گھر سے تار آتا ہے کہ لڑکا سخت بیمار ہے، فوراً تار کو پڑھتے ہی وہ تڑپ اٹھے گا اور خواہ اس کے پاس سفر نہ کرنے کے کتنے ہی عذر ہوں وہ تمام عذرات کو نظر انداز کر کے وطن کے لئے روانہ ہو جائے گا۔ وہ اپنے آرام کو چھوڑے گا، اپنے مال کو خرچ کرے گا، اپنے معاشی فائدہ کو خطرہ میں ڈالے گا۔ غرض ہر دوسری چیز کو ثانوی اہمیت دے کر جلد سے جلد اپنے بیٹے کے پاس پہنچے گا۔ وہ اپنے گھر سے آئے ہوئے پیغام کی لازماً پیروی کرے گا، خواہ اس کی وجہ سے اس کو تمام دوسرے تقاضے چھوڑ دینے پڑیں۔
مگر اسی شخص کے پاس ایک اور پیغام آتا ہے۔ یہ خدا کا پیغام ہے۔ اس پیغام میں بھی ایک بلاوا اس میں بھی اس کو کسی چیز کی طرف پکارا گیا ہے۔ مگر وہ اس کو پڑھ کر بے قرار نہیں ہوتا۔ وہ اس کا ساتھ دینے کے لئے نہیں اٹھتا۔ وہ طرح طرح کے سوالات میں الجھ کر اس کی طرف بڑھنے سے رک جاتا ہے۔ اس پیغام کو لانے والا تو ایک معمولی آدمی ہے، اکابر میں سے کسی کا اس کے اوپر دستخط نہیں۔ پیغام کو قبول کرنے میں بہت سے مفادات اور مصالح مجروح ہوتے ہیں۔ اگر میں اس کو مان لوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میری اب تک کی ساری زندگی غلط تھی۔ غرض گروہی عصبیت، مصلحت اندیشی، عزت نفس اور "میں" کا سوال اس کو اس پیغام کی طرف جانے سے روک دیتا ہے۔ کوئی سرے سے انکار کر دیتا ہے، کوئی اس کی صداقت کا اعتراف کرتے ہوئے ایک" مگر " لگا کر اپنے لئے جائز کر لیتا ہے کہ وہ اس کے لئے نہ اٹھے، وہ اس کا ساتھ نہ دے۔
یہی وہ صورت حال ہے جس کو قرآن میں ان لفظوں میں بیان کیا گیا ہے: اور نہیں ہو سکتا کہ کوئی شخص ایمان لائے مگر اللہ کے حکم سے اور اللہ ان لوگوں پر گندگی ڈال دیتا ہے جو عقل سے کام نہیں لیتے (یونس ۱۰۰) خدا نے عقل اسی لئے دی ہے کہ جو بات عقل سے صحیح ثابت ہو اس کو فوراً مان لیا جائے۔ جب آدمی عقل کی پیروی نہیں کرتا تو وہ خواہشات کا پیرو بن جاتا ہے اور خواہش آدمی کو بربادی کے سوا اور کہیں نہیں لے جاتی۔
امتحان کی اس دنیا میں آدمی کے سامنے ہمیشہ دو راستے ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ ایک بات جب واضح دلائل سے ثابت ہو رہی ہو تو اس کو مان لیا جائے۔ دلائل کے سامنے آنے کے بعد کسی دوسری چیز کو اہمیت نہ دی جائے۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ آدمی دلائل پر ٹھہرنے اور سوچنے کے لئے تیار نہ ہو، اس کے بجائے
اس کا ذہن دوسری دوسری سمتوں میں کام کرنے لگے ۔ وہ اس میں غیر ضروری موشگافیاں پیدا کرے ۔ وہ دنیوی مفادات اور گروہی مصلحتوں کو اہمیت دینے لگے۔ یہ دیکھے کہ بات اپنے ذوق کے مطابق ہے یا اپنے ذوق کے خلاف ۔ یہ احساس اس کو مغلوب کرلے کہ اگر میں نے اس کو مان لیا تو میں چھوٹا ہو جاؤں گا، ان دونوں راستوں میں سے پہلا راستہ عقل کا راستہ ہے اور دوسرا راستہ گندگی کا راستہ۔ جب کوئی شخص خدا کی دی ہوئی عقل سے کام نہیں لیتا تو گویا وہ شیطان کو اپنے اندر گھسنے کا موقع دے رہا ہے ۔ ایسے شخص کو شیطان اپنے قبضہ میں لے لیتا ہے۔ وہ دلائل سے ثابت شدہ بات کو اس کی نظر میں گھٹاتا ہے اور دوسری دوسری باتوں کو اسے اہم بنا کر دکھاتا ہے۔ شیطان اپنی تمام گندگیوں کے ساتھ اس کے دل و دماغ میں داخل ہوجاتا ہے۔ وہ اس کو فطرت کے سیدھے راستہ سے ہٹا کر خود اپنے بنائے ہوئے ٹیڑھے راستوں میں بھٹکا دیتا ہے ۔
خدا کی طرف سے ہدایت کی توفیق اسی شخص کو ملتی ہے جو خدا کے تخلیقی ڈھانچہ کی پیروی کرے ۔ خدا کا تخلیقی ڈھانچہ کیا ہے ۔ خدا نے ہر آدمی کے اندر ضمیر رکھ دیا ہے جو ہر معاملہ کے وقت اندر سے اشارہ کرتا رہتا ہے کہ کون سا راستہ فطرت کے مطابق ہے اور کون سا فطرت کے خلاف۔ اب خدا کے تخلیقی ڈھانچہ کی پیروی یہ ہوگی کہ جس چیز کے بارے میں آدمی کے ضمیر کے اندر کھٹک پیدا ہو اس کو وہ چھوڑ دے اور جس چیز پر اس کا ضمیر مطمئن ہو اس کو پکڑلے۔ اسی طرح ہر آدمی کے اندر عقل ہے جو اس بات کو سمجھنے کی خدا داد صلاحیت رکھتی ہے کہ کیا چیز ثابت شدہ ہے اور کیا چیز ہے جس کے حق میں کوئی حقیقی ثبوت اب خدا کے تخلیقی ڈھانچہ کی پیروی یہ ہوگی کہ آدمی ثابت ہونے والی بات کو لے لے اور جس بات کے حق میں ثبوت نہیں ہے اس کو چھوڑ دے۔ اسی طرح ہمارے گردو پیش خدا کی ایک پوری دنیا ہے جو کامل درجہ صحت کے ساتھ چل رہی ہے۔ جب بھی ہم کسی معاملہ میں کوئی رویہ اختیار کرنا چاہتے ہیں تو کائنات کا نظام خاموش زبان میں بتاتا ہے کہ یہ رویہ اس کے مقررہ نظام کے مطابق ہے یا اس کے خلاف ۔ اب خدا کے تخلیقی ڈھانچہ کی پیروی یہ ہوگی کہ آدمی جس رویہ کو خدا کی وسیع تر کائنات کے مطابق پائے اس کو اختیار کرلے اور جو رویہ اس کے خلاف ہو اس کو چھوڑ دے ۔
قرآن اسی حق پرستانہ زندگی کو پانے اور اس پر چلنے کے لئے ایک رہنما کتاب ہے۔ قرآن کارخانہ عالم کی گائیڈ بک ہے۔ اگر آدمی سنجیدہ ہو اور فطرت کی آواز پر دھیان دینے کے لئے تیار ہو تو وہ اس کتاب کی رہنمائی میں ضرور حقیقت کو پالے گا۔ اور جب آدمی سنجیدہ نہ ہو تو الفاظ کی زبان اس پر کام نہیں کرتی۔ شخص تو اسی وقت جاگتا ہے جب کہ حقیقت پردہ پھاڑ کر عیاناً اس کے سامنے آجائے۔
حضرت مسیح کے وعظوں میں سے ایک وعظ میں داعی اور مدعو کی تمثیل ہے۔ یہاں ہم اس تمثیل کا عربی اور اردو ترجمہ نقل کرتے ہیں:
ومن أشبه ھذا الجيل - یُشبَّه اولاداً پس اس زمانہ کے لوگوں کو میں کس سے تشبیہہ دوں جالسين فى الأسواق ينادون الى اصحابھم وہ ان لڑکوں کی مانند ہیں جو بازاروں میں بیٹھے ہوئے ویقولون : زمورنا لكم فما رقصتم وندبنا اپنے ساتھیوں کو پکار کر کہتے ہیں۔ ہم نے تمہارے لیے لكم فما بكيتُم (متی ۱۱: ۱۶) بانسری بجائی اور تم نہ ناچے۔ ہم نے ماتم کیا اور تم نہیں روئے خدا کا داعی خدا کے سمندر میں نہاتا ہے۔ اس طرح اس کے لیے ممکن ہوتا ہے کہ وہ خدا کی دنیا میں خدا کے گیت وہ فطرت کے ساز پر خدا کے ابدی نغمے چھیڑے۔ ان نغمات میں ایک طرف خدا کے حسن و کمال کی تجلیاں ہوتی ہیں جن کا تقاضا ہوتا ہے کہ ان کو سن کر آدمی رقص کراٹھے۔ دوسری طرف ان نغمات میں خدا کی تبیہات ہوتی ہیں جو ایک حساس انسان کو تڑپا کر اسے رلا دیں۔ داعی خدا کے جمال و جلال کا مظہر ہوتا ہے۔ اتنا غافل ہے کہ وہ ان چیزوں سے کوئی اثر نہیں لیتا۔ داعی کے کلام کی صورت میں خدا بالکل اس کے قریب مگر اس وقت بھی وہ خدا کو نہیں پاتا۔ اس میں نہ حمد خدا وندی کی کیفیات جاگتیں اور نہ خوف خدا سے اس کی آنکھیں تر ہوتیں ۔ وہ نازک ترین پیغامات کو بھی پتھر کی طرح سنتا ہے نہ کہ اس انسان کی طرح جس کو خدا نے وہ عقل دی ہے جو باتوں کی گہرائی کو پالے اور وہ دل دیا ہے جو درد سے تڑپ اٹھے۔ خدا کی طرف سے ایک پکار نے والے کا وجود میں آنا کسی مشین پر بجنے والے ریکارڈ کا وجود میں آنا نہیں یہ روح انسانی میں ایک ایسے انقلاب کا برپا ہونا ہے جس کی شدت آتش فشاں پہاڑوں سے بھی زیادہ سخت داعی کا بولنا اپنے جگر کے ٹکڑوں کو باہر لانا ہوتا ہے۔ اس کا لکھنا اپنے خون کو سیاہی بنانے کے بعد وجود میں آتا ہے۔ اس کے نغمہ محض نغمے نہیں ہوتے بلکہ روح انسانی میں ایک خدائی بھونچال کی آواز ہوتے ہیں۔ مگر اس دنیا کا شاید یہ سب سے زیادہ عجیب واقعہ ہے کہ ایسے ربانی کلمات بھی انسان کو متاثر نہیں کرتے۔ پورے وجود کے ساتھ اس کے سامنے "نذیر عرياں" بن جاتا ہے ، اس کے باوجود وہ اندھا بہرا بنا رہتا ہے۔ کے سامنے جنت کی کھڑکیاں کھولی جاتی ہیں پھر بھی وہ وجد میں نہیں آتا۔ اس کو بھڑکتے ہوئے جہنم کا نقشہ دکھایا جاتا ہے پھر بھی اس پر گریہ طاری نہیں ہوتا۔ اس کے سامنے خدا خود آکر کھڑا ہو جاتا ہے پھر بھی وہ سجدہ میں نہیں گرتا۔ انسان سے زیادہ نازک مخلوق خدا نے کوئی نہیں بنائی مگر انسان سے زیادہ بے حسی کا ثبوت بھی کوئی نہیں دیتا۔